Get engaged in the biggest community of Pakistan
Let people know about you worldwide
Public Feed

وہ دونوں یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ لاٹوک ون پر ایسا موسم نہیں ہے کہ اُسے سر کیا جا سکے لہٰذا وہ نیچے اُتر رہے تھے۔ اُنھیں ہیلی کاپٹر نظر بھی آیا جو اُن ہی کی مدد کو آیا تھا لیکن اُنھوں نے خود نیچے اُترنا مناسب سمجھا۔ اُنھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اِس فیصلے کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

روسی کوہ پیما سرگئے گوزونوف آج زندہ ہوتے اور اپنے ساتھی الیگزینڈر گوکوف کے ساتھ ماسکو میں ہوتے۔ لیکن یہ سب اُس وقت ہوتا جب وہ پہاڑی چوٹی لاٹوک ون پر لڑکھڑا کر گرنے سے صرف دو گھنٹے پہلے پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے کا فیصلہ کر لیتے۔ کیونکہ اگلے دو گھنٹوں کے دوران وہ ہونے والا تھا جس کا تصور ہی ہولناک تھا۔

ساتھ نکلے تھے لیکن الگ الگ راستوں پر

یہ سب باتیں بتانے والے ایک اور کوہ پیما وکٹر کوبول ہیں جو لاٹوک ون سر کرنے کی مہم پر تو نکلے تھے لیکن ان کا راستہ قدرے مختلف تھا اور وہ خود بھی کچھ زیادہ محتاط تھے۔

'ہم دونوں بیس کیمپ سے ساتھ نکلے تھے لیکن الگ الگ راستوں پر۔ ہم نے آٹھ دن کوہ پیمائی کی لیکن پھر ہمیں احساس ہوا کہ یہ موسم اِس کام کے لیے بہت خطرناک ہے۔ وہاں ہر پانچ منٹ پر بہت سارے ایوالانچ آ رہے تھے اور پتھر گر رہے تھے۔ پھر ہم نے واپس جانے کا فیصلہ کیا اور ہم واپس بیس کیمپ آگئے۔'

جبکہ الیگزینڈر اور اُن کے 26 سالہ ساتھی سرگے نیچے اپنے ساتھیوں کے خدشات سے بے خبر تھے اور اُنھیں منزل صرف سو ڈیڑھ سو میٹر دور نظر آ رہی تھی۔ وہ لاٹوک ون سر کرنے والے تھے۔ پھر موسم خراب ہونا شروع ہوگیا اور اُنھوں نے بھی نیچے جانا مناسب سمجھا۔

چار کوہ پیماؤں میں سے دو تو بیس کیمپ واپس پہنچ گئے لیکن دو ابھی لاٹوک ون پر ہی تھے۔ دو دن کے انتظار کے باوجود اُن کی کوئی خیر خبر نہ ملی تو وکٹر کوبول نے روس پیغام بھیجا کہ اُن کے ساتھی کو بچایا جائے۔

سفارتکاروں کا رابطہ اور پاکستانی فوج کو ریسکیو آپریشن

پاکستان اور روس کے سفارتخانوں کا آپس میں رابطہ ہوا اور پاکستانی فوج کو ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا کہا گیا۔

ہیلی کاپٹر آیا جسے تجربہ کار پائلٹس اُڑا رہے تھے۔ وکٹر نے آکسیجن اور خوراک کا ایک بیگ تیارکیا ہوا تھا کہ شاید اُن کے ساتھیوں کو ضرورت ہو۔

وکٹر نے بتایا کہ 'ہم نے پہاڑوں میں اپنے ساتھیوں کی تلاش میں ساڑھے چھ ہزار میٹرز کی بلندی پر پرواز کی اور کوہ پیماؤں الیگزینڈر اور سرگے کو دیکھا جو نیچے اتر رہے تھے لیکن بہت آہستہ۔ میں نے اُن کے لیے تیار کیا ہوا بیگ پھینک دیا۔ اُنھوں نے ہمیں اشارہ کیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لہذا ہم واپس بیس کیمپ چلے گئے۔'

جس موسم کے آگے وکٹر اور اُن کے ساتھی نے کافی پہلے ہار مان لی تھی اُس موسم کے آگے الیگزینڈر اور سرگئے ہار ماننے کو تیار نہیں تھے اور اُنھوں نے ہیلی کاپٹر کے بجائے خود اُترنے کو ترجیح دی۔ لیکن اُنھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اگلے دو گھنٹے اُن کی زندگیوں میں کتنی تکلیفیں لانے والے ہیں۔

لیکن دو گھنٹے بعد اُنھیں پیغام ملا

وکٹر ساتھیوں کو لاٹوک ون سے نیچے اترتے دیکھ کر واپس ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ پہنچ گئے۔

'مجھے الیگزینڈر کا پیغام ملا کہ سرگے گوزو نوف گر گیا ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ مر گیا ہے۔ اور الیگزینڈر وہیں موجود رہا جس کے پاس نیچے اترنے کا کوئی اوزار نہیں تھا۔'

الیگزینڈر کہتے ہیں کہ وہ جب 6200 میٹرز کی بلندی پر پہنچے تو اُنھیں محسوس ہوا کہ اُن کا ساتھی سرگئے اُن کے ساتھ نہیں ہے۔ 'میں نے چیخ چیخ کر اسے آواز دی لیکن اُس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ میں مذید نیچے کی جانب اُترا تو رسی کے آخر میں بھی وہ مجھے نہیں ملا شاید وہ اپنے وزن کی وجہ سے نیچے گر گیا تھا۔'

سات دن تک برفانی تودے، برفانی تودے اور برفانی تودے‘

اب صورتحال یہ تھی کہ وکٹر بیس کیمپ میں تھے۔ اُن کے ساتھی چھ ہزار میٹرز سے ذیادہ بلندی پر لاٹوک ون پر کہیں پھنسے ہوئے تھے۔ وکٹر اُن تک پہنچ نہیں سکتے تھے کیونکہ اِس کام میں آٹھ دن لگ جاتے اور اِس بات کا بھی خدشہ تھا کہ بچانے والا خود بھی موسم کی خرابی کی نذر نہ ہوجائے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہو رہا تھا۔ پھر چھ دن موسم اتنا خراب رہا کہ ہیلی کاپٹر ریسکیو نہیں کر سکا۔ اب لاٹوک ون پر الیگزینڈر کو خود ہی اپنی جان بچانے کے لیے کچھ کرنا تھا۔

الیگزینڈر کی زندگی اور موت کے درمیان بس آکسیجن کا سلینڈر اور خوراک کی معمولی مقدار حائل تھی جسے اُن کو نجانے کتنے دن چلانا تھا۔ اُنھوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنے گرد برف کی ایک دیوار بنائی تاکہ اُن پر موسم کا اثر کم سے کم ہو اور جسم کی حرارت برقرار رہے۔ پانچ دن ایسے ہی گزرے جو شاید الیگزینڈر کےلیے صدیوں سے طویل ہوں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موت قریب دکھائی دینے لگی ہو۔ لیکن وہاں 6200 میٹرز کی بلندی پر تو سما ہی کچھ اور تھا۔

الیگزینڈر کو تو خواب آ رہے تھے کہ وہ باکل ٹھیک ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔

الیگزینڈر کہتے ہیں 'ایسا موسم میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ سات دن تک برفانی تودے، برفانی تودے اور برفانی تودے۔'

نیچے بیس کیمپ میں وکٹر کی جان پر بنی تھی۔ اُنھیں نہیں معلوم تھا کہ اُن کا ساتھی اب بھی زندہ ہوگا یا موسم کے آگے ہار گیا ہوگا۔

میٹرز6200 کی بلندی پر ریسکیو آپریشن نہیں کیا جا سکتا اور یہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنے کی بلندی نہیں تھی۔ مستقل برفباری ہو رہی تھی اور بادل چھائے ہوئے تھے۔

وکٹر نے بتایا 'ایسا پانچ دن ہوتا رہا اور میں ہر دن اور رات موسم کی صورتحال دیکھتا تھا اور ہر گھنٹے میں پہاڑوں کو دیکھتا تھا کہ کیا ہم ہیلی کاپٹروں میں وہاں جا سکتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ پہاڑ بادلوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔'

اِس دوران پائلٹس نے کئی بار نچلی فلائٹ کی تاکہ سرگئی کی لاش تلاش کی جا سکے لیکن وہ بھی نہیں مل سکی۔

ہیلی کاپٹرز کے دروازے اتار دیے

ساتویں دن حیرت انگیز طور پر موسم اچھا ہوگیا۔ ہیلی کاپڑوں کے پائلٹس کو پیغام بھیجا گیا وہ ایک گھنٹے میں پہنچ گئے۔ ہیلی کاپٹرز کے دروازے اتار دیے کیونکہ وہ بہت بھاری تھے۔ آئل اور دیگر وزنی اشیا وہیں اتار دیں۔ اور ایک لمبی رسی ہیلی کاپٹر سے باندھ دی گئی کیونکہ سطح ہموار نہیں تھی اور ہیلی کاپٹر کا لینڈ کرنا دشوار تھا۔

وکٹر ریسکیو پائلٹس کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔

'ہیلی کاپٹر اُس بلندی پر پہنچا اور ایلیگزینڈر کو تلاش کر لیا۔ وہ بہت تھک چکا تھا اور نڈھال تھا۔ لیکن اُس نے اپنی زندگی بچانے کی آخری کوشش کرتے ہوئے رسی اپنے گرد باندھ لی۔ دو سے تین منٹ کے اندر وہ ہیلی کاپٹر میں تھا اور خطرے سے باہر تھا۔ میں نے اُسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اور اُس کے بعد ہم سکردو کے ملٹری ہسپتال کے لیے نکل گئے۔'

ابتدائی ایک گھنٹے الیگزینڈر گنگ رہے اُنھیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جو خواب اُنھوں نے دیکھا تھا اب وہ شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا تھا۔

الیگزینڈر کو پہلے سکردو اور بعد میں سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچایا گیا۔

شکریہ میرے دوست کو بچایا‘

اُنھوں نے لاٹوک ون پر اپنا ساتھی کھویا اور شاید اُسے سر کرنے کی ہمت بھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ اب کبھی ایسا نہیں سوچیں گے۔ لگتا ہے الیگزینڈر کو اب زندگی سے پیار ہوگیا ہے۔ اُس کی وجہ اُن کا شادی کا ارداہ ہے۔

'میں اپنی گرل فرینڈ سے محبت کرتا ہوں۔ ہمارے دو بچے ہیں، ہم ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم نے اب تک شادی نہیں کی البتہ میں سوچ رہا تھا کہ اب میں واپس جاؤں گا تو اب میں اُس سے ضرور شادی کرلوں گا۔'

اب الیگزینڈر گوکوف ماسکو کے ہسپتال میں ہیں اور سب ٹھیک ہے۔ اور یہ کہانی سنانے والے وکٹر کوبولٹ سینٹ پیٹرزبرگ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ہیں۔ وہ پاکستانی فوج کے تجربہ کار پائلیٹس سے کہنا چاہتے ہیں کہ یہ سب اُن کی وجہ سے ممکن ہوا۔

'اُن کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ میں اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اُنھوں نے میرے دوست کو بچایا۔'

حال ہی میں پاکستان میں پہلی بار کیلاش سے تعلق رکھنے والی دو طالبات نے گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں موجود کیلاشی قبیلے کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ آریانہ اور امرینہ کا تعلق اسی قبیلے سے ہے۔ بی بی سی کی حمیرا کنول نے ان سے کیلاش کی وادی بمبوریت میں ملاقات کی۔ دونوں نے ان سے اپنی کہانی شیئر کی ہے۔

سبق بھی گا گا کر پڑھتی تھی'

میرا نام آریانہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں نے پہلی بار کب گانا گایا تھا۔ مجھے بس یہ یاد ہے کہ میں تو نجانے کیوں سکول کی کتابوں میں لکھے سبق اور ہوم ورک کو بھی گا گا کر پڑھتی تھی۔ مجھے اچھا لگتا تھا بہت مزہ آتا تھا۔ گانا اور ڈانس تو ویسے بھی کیلاش کی ثقافت اور ہمارے مذہب کا حصہ ہے۔ میری پیدائش کیلاش کی سب سے بڑی وادی بمبوریت کے گاٶں کراکال میں ہوٸی۔

ہم اپنے ارد گرد شادی، فیسٹیول اور کسی کے مرنے پر گاتے ہیں اور یوں گانا ہماری خوشی اور غم دونوں میں ہمارے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔

مجھے اردو، پشتو، کیلاشی، گلگتی اور فارسی ان سب زبانوں کے گانے سننے ہمیشہ سے پسند رہے ہیں۔ میں جب تیسری کلاس میں تھی جب ایک بار ٹیچر نے آ کر ہم سب سے پوچھا کہ کون کون ملی نغمہ گانا چاہتا ہے تو میں نے جلدی سے ہاتھ کھڑا کیا۔

یوں میں نے گانے کا شوق پورا کرنا شروع کیا۔ پھر جب چھٹی جماعت میں جاتے وقت میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں دوسرے بچوں کی طرح پڑھنے کے لیے لاہور جانا چاہتی ہوں تو ان کی اجازت مل گئی اور میں نے لاہور کے ایک نجی سکول لوسی گرلز ہائی سکول میں داخلہ لے لیا۔

’لاہور میں دل نہیں لگا

آٹھویں کلاس میں میں ایم ٹی انٹرنیشنل گرلز ہاٸی سکول میں چلی گٸی لیکن تین سال گزر جانے کے باوجود لاہور میں میرا دل نہیں لگتا تھا۔ وہاں ہم سب کیلاشی بچوں کے رہنے کے لیے ہماری ہی کمیونٹی کا ہوسٹل بھی تھا۔ لیکن وہاں مجھے کوٸی پسند نہیں کرتا تھا کوٸی دوست نہیں تھی۔ میں نے گھر واپسی کے لیے کہنا شروع کر دیا کہ مجھے یہاں رہنا ہی نہیں ہے۔ والدہ نے کہا کہ فاٸنل پیپر دے کر آؤ مگر میں نے بات نہیں مانی اور دسمبر کی چھٹیوں میں ہی ہمیشہ کے لیے گھر واپس آگٸی۔

ڈانٹ تو پڑی لیکن پھر بمبوریت کے ہاٸی سکول کے پرنسپل جاوید حیات نے مجھے کہا کہ آپ ہماری بہت اچھی بچی ہو ہر سال ہمارے سکول میں 14 اگست کو مقابلے میں حصہ لے کر ہمارے پروگرام کو پر رونق بناتی رہی ہو۔ پھر انھوں نے ہی بمبوریت کے ہائی سکول میں داخلہ لینے میں میری مدد کی۔

ہم نے پاریک سنا تو دیا لیکن پھر انتظار

پھر جب فروری کا مہینہ آیا تو ہمارے پڑوس سے آنٹی آٸیں اور امی سے کہا کہ میرے بیٹے کے کچھ دوست آئے ہوٸے ہیں۔ تم گھر آنا۔ میری بہن جو امی کے ساتھ گٸی ہوٸی تھیں جب واپس آئیں تو پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہاں کچھ لوگ آٸے ہوئے تھے اور عورتوں سے گانے سن رہے تھے۔

میں نے اپنی بہن سے کہا کہ تم نے انھیں بتانا تھا نا کہ مجھے بھی گانے کا بہت شوق ہے اور میں گانا چاہتی ہوں۔ مگر میری بہن نے انکار کر دیا۔ رات میں یہ سوچ کر سوٸی کہ کاش وہ صبح مجھے بھی بلا لیں۔

پھر جب صبح ہوٸی تو ہماری آنٹی دوبارہ آٸیں اور امی سے کہا کہ ساتھ کی وادی رمبور میں فوتگی ہو گٸی ہے۔ ایسے سوگ کے موقع پر اگر ہم گانا گانے گٸے تو اچھا نہیں لگے گا۔ ایسا کرتے ہیں بچیوں کو بھجوا دیتے ہیں۔ یہ سن کر میں بہت خوش ہوئی کیونکہ میں نے تو ویسے بھی ضرور ہی جانا تھا۔

میں جلدی سے امرینہ کے گھر گٸی اور اس سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ آؤ۔ ہم وہاں گٸے اور وہاں ہم نے اپنی زبان میں 'پاریک' گانا سنایا۔ پاریک ہمارا روایتی گانا ہے جو ممی کو بھی آتا ہے۔

وہیں ہمیں یہ پتہ چلا کہ یہ تو کوک سٹوڈیو والے لوگ ہیں۔ انھیں تو ہمارا گانا پسند آگیا اور پھر دوسرے ہی دن ہم نے وادی میں شوٹنگ بھی کی۔

یوں میرا بہت بڑا خواب پورا ہوا۔ میں جب بھی اپنی دوستوں سے کہا کرتی تھی کہ میں ایک دن سنگر بنوں گی تو سب ہنستی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہو گا ہر گانا گانے والا سنگر نہیں بن سکتا۔ مما بھی میری اس خواہش پر کبھی چپ کر جاتی تھیں اور کبھی کہتی تھیں پڑھاٸی پر توجہ دو۔ وہ تو خود بہت اچھا گاتی ہیں لیکن ہماری کیلاش کمیونٹی میں کبھی کسی نے اسے پیشے کے طور پر نہیں اپنایا۔

لاہور کے ہوسٹل میں گزرے تین سال کے دوران بھی میں یہ اکثر سوچا کرتی تھی کہ میں کیسے کسی سٹوڈیو تک پہنچوں۔ میں ادھر کام کرنے والے ایک انکل سے پوچھتی رہتی تھی کہ جہاں گانا گاتے ہیں وہ سٹوڈیو کہاں ہوتے ہیں کیسے ہوتے ہیں۔ کوک کی بوتل کے ڈھکن پر لکھا نمبر تو بہت بار میں نے بھی پڑھا تھا میں اس پر میسج بھیجا کرتی رہتی تھی لیکن کبھی نہ جواب ملا اور نہ بلایا گیا۔

میں نے سوچا کہ شاید مجھ سے ہی رابطہ کرنے میں کوئی غلطی ہو رہی ہے۔ پھر میں نے کوشش کرنا بھی چھوڑ دی۔

لیکن سب جانتے تھے کہ گانا میرا سب سے پسندیدہ کام ہے اور ایکٹر بننا میرے بھائی کا خواب ہے۔ میں کچھ ہی دیر میں گانا لکھ کر اسے گا سکتی ہوں۔ ملی نغمے بھی لکھے کیلاشی گیت بھی اور سکول میں نعتیں بھی پڑھتی تھی مگر کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔

کوک سٹوڈیو کا گانا گانے کے بعد میں اس انتظار میں رہتی تھی کہ کب گانا ریلیز ہو گا۔ اسی دوران امتحان دیے اور نویں کلاس میں چلی گٸی۔

اور آخر انتظار ختم ہوا

وہ جولائی کا ایک دن تھا میں امرینہ کے بھائی کے ساتھ بیٹھی اسے یہی بتا رہی تھی کہ ہم نے گانا گایا ہے کہ اتنے میں میرے بھاٸی نے آواز دی کہ آریانہ ادھر آؤ تمھارا گانا ریلیز ہو گیا ہے۔ میں دوڑ کر امرینہ کے ماموں کے گھر گٸی جہاں وہ بیٹھی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ جلدی آؤ ہمارا گانا ریلیز ہو گیا ہے۔ وہ بھی دوڑی چلی آئی اور گاؤں کے گھروں میں جس جس نے میری آواز سنی تھی بھاگ کر چلا آیا۔ ہم سب نے گانا سنا اور جس جس کے پاس موبائل فون تھا اس نے فیس بک پر کمنٹس کیے اور لائیک کیا۔

پھر اگلے کئی دن تک میں یہی دیکھتی رہی کہ میرے گانے پر کتنے لاٸیکس اور کمنٹس آ چکے ہیں۔ ایک عجیب سی خوشی تھی جو میں بیان ہی نہیں کر سکتی تھی۔

بہت لوگوں نے پسند بھی کیا لیکن کمینٹس میں کچھ لوگ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ میں نے اپنا نام گانا گانے کے لیے فارسی گل سے بدل کر آریانہ رکھ دیا جو مجھے برا لگا کیونکہ نام تو میں دو سال پہلے ہی بدل چکی تھی۔ نام بدلنے کی وجہ یہ تھی کہ بچے مجھے فارسی فارسی کے نام سے چھیڑتے تھے اور میں خود بھی کوٸی اور نام رکھنا چاہتی تھی۔

پہلا گانا گانے پر ملنے والا بیس ہزار کا چیک میں نے امی کو دے دیا۔

’تم سب دوزخ میں جاٶ گے‘

اب مجھے آگے پڑھنا ہے۔ سنگر بننا تو میرا خواب ہے جو میں پورا کرنا چاہتی ہوں اس سب کے لیے میرا خاندان میرے ساتھ ہے لیکن میں چاہتی ہوں کہ اپنی کمیونٹی کے لیے بھی کچھ کروں۔ یہاں ابھی میرے گاٶں کے سکول میں وہ تمام سہویات موجود نہیں ہیں جو شہر میں ہیں جیسے ساٸنس کی لیب اور کمپیوٹر اور سپورٹس کی سہولیات۔

پھر ہمارا کلچر ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں آنے والے سیاح میں ہر ملک کے لوگ ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں سے ہمیں شکایت ہے۔ وہ ہمارے گھروں کے پاس سے گزرتے ہوٸے ہماری پرائیویسی کا خیال نہیں کرتے اور کبھی کچھ لوگ ہمارے مذہب کے بارے میں بولتے ہیں اور کہتے ہیں تم سب دوزخ میں جاؤ گے۔

یہ سب سن کر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔ میں سوچتی ہوں لوگ تو کیلاش کو پسند بھی کرتے ہیں تو پھر وہ ہمیں ایسے کیوں کہتے ہیں؟ میں اپنے کلچر کو محفوظ کرنا چاہتی ہوں۔

گانا گانا تو بچپن سے آتا تھا لیکن ۔۔۔'

میرا نام امرینہ ہے۔ بمبوریت میں لوگ، میری سکول کی دوستیں سب مجھے کہتے ہیں کہ تم خوش قسمت ہو جو تمھیں گانا گانے کا موقع ملا۔ میں کہتی ہوں ہاں بالکل ہم خوش قسمت ہی تو ہیں۔

گانا گانا تو بچپن سے آتا تھا سب کے ساتھ مل کر تو خوب گایا ہے لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں اس طرح گا سکوں گی۔ میں کبھی چترال سے آگے پاکستان کے کسی علاقے میں نہیں گٸی۔ ہاں ٹی وی پر سب کچھ دیکھا ہے۔

میں نے جب امی کو بتایا کہ کوک سٹوڈیو والے میرا گانا ریکارڈ کریں گے تو امی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ جب میرے کزن پروانہ جان نے امی کو ان کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو وہ مان گٸیں۔ پہلے پہلے مجھے عجیب لگا شرم آ رہی تھی میں نے کبھی ایسے گایا نہیں تھا۔

آریانہ نے کہا گھبراٶ نہیں میں آپ کے ساتھ ہوں۔ مگر میں نے تب ہی سوچا تھا کہ گانا تو بہت مشہور ہو جاٸے گا۔

جب آریانہ نے مجھے بتایا کہ گانا ریلیز ہو گیا ہے تو میں خوشی سے بھاگ کر آٸی اور راستے میں گر بھی گٸی۔ سبھی کیلاشی بہت خوش ہو گٸے۔ ہم دو بہنیں اور تین بھاٸی ہیں۔ میرا بڑا بھاٸی کہنے لگا امرینہ تم تو مشہور ہو گٸی ہو۔ پھر فیسٹیول پر کچھ لوگ آٸے جنھوں نے ہم سے بات کی مگر امی کہتی ہیں کہ کسی سے بات نہیں کرو انھیں ڈر لگتا ہے۔

’ہم ویلکم کرتے ہیں لیکن رسم و رواج کا خیال رکھیں‘

یہاں ہمارے بمبوریت تو ایسا نہیں ہوا لیکن اوپر ایک گاٶں شخہ نندے ہے جہاں میں پڑھتی تھی وہاں سکول کے لڑکے اور لڑکیاں ہمیں کہتے تھے تم مسلمان ہو جاٶ۔ اور ایک بار انھوں نے ہمیں پتھر مارے تھے۔ ہم روتے ہوٸے گھر آ ٸے جس کے بعد ہم نے سکول ہی بدل لیا۔

یہاں وادی میں ہمیں اب سب بچے' پاریک پاریک' کہہ کر بلاتے ہیں اور ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں سیر کے لیے آنے والے کچھ لوگ بہت عجیب ہوتے ہیں کبھی فوٹو بناتے ہیں اور کبھی آوازیں دیتے ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں۔

آپ سب یہاں آئیں ہم ویلکم کرتے ہیں لیکن یہاں کے رسم و رواج کا خیال ضرور رکھیں کیونکہ جب ہم آپ کے علاقے میں جاتے ہیں تو آپ کے ماحول کے مطابق ہی رہتے ہیں۔

اینا رومانیہ سے لندن پڑھائی کی نیت سے پہنچیں لیکن اس سے پہلے انھیں کچھ رقم جمع کرنی تھی۔ تو اس کے لیے اینا نے عارضی نوکری شروع کر دی جس میں صفائی، ویٹرس اور ریاضی کی ٹیوشن دینا وغیرہ شامل تھا۔

پھر ایک دن مارچ 2011 میں ان کو گلی سے اٹھا لیا گیا اور وہاں سے آئرلینڈ پہنچایا گیا جہاں انھوں نے 11 ماہ جیسے جہنم میں گزارے۔

اینا اپنے گھر کے بالکل قریب تھیں اور ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ گھر جا کر دوپہر کا کھانا پکا سکیں اور پھر وہاں سے صفائی کرنے اپنی نوکری پر چلی جائیں۔ اینا نے ہیڈ فونز پہن رکھے تھے اور بیونسے کا نغمہ سن رہی تھیں کہ اور اس وقت شمالی لندن کے علاقے وڈ گرین میں واقع اپنے مکان کے بالکل قریب تھیں۔

اسی دوران انھوں نے اپنی بیگ کو کھولا تاکہ گھر کی تالے کی چابیاں نکال سکیں کہ اچانک عقب سے کسی نے انھیں گردن سے دبوچ لیا اور ان کے منہ کو ڈھانپ دیا اور گھیسٹتے ہوئے سرخ کار میں لے گئے جہاں دو مرد اور ایک عورت موجود تھی اور انھوں نے تھپڑ مارنے شروع کر دیے اور رومانیہ کی زبان میں دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون نے ان سے بیگ چھین لیا اور اپنے چہرے سے عینک ہٹاتے ہوئے کہا کہ’ اگر وہ اسے جو بتاتے ہیں وہ نہیں کرتی تو رومانیہ میں اس کے خاندان کو گولی مار دی جائے‘۔

اینا کے مطابق وہ بالکل نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے اور انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ میں ہر ممکن چیز کے بارے میں سوچ رہی تھی جس میں انسانی اعضا اور جسم فروشی، مار دینا شامل تھا ۔۔۔ خدا بہتر جانتا ہے۔

’اس خاتون نے میرے بیگ کی تلاشی شروع کر دی تاکہ بٹوا لیا جا سکے۔ اس نے میرے موبائل فون پر تھوڑی دیر پہلے کی گئی فون کالز کو دیکھنا شروع کیا اور اس کے بعد فیس بک فرینڈز کی فہرست دیکھی۔ بیگ میں میرا پاسپورٹ بھی تھا۔‘

اینا دیکھ سکتی تھیں کہ کار سے نکل کر بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں لیکن جب وہ ایک ایئر پورٹ پہنچے تو کار میں صرف ایک آدمی رہا گیا اور انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ یہ موقع ہے فرار ہونے کا۔۔ کیا وہ ایئر پورٹ سٹاف سے مدد کی درخواست کریں۔ جب آپ بہت زیادہ خوفزدہ ہوں تو آپ کے لیے چیخنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے پاس میرے پیپرز تھے اور وہ جانتے تھے کہ میری ماں کہاں ہیں۔ وہ میرے بارے میں ہر چیز جانتے تھے اور یہ خطرہ تھا جو وہ مول نہیں لینا چاہتی تھیں۔

چیکنگ کے کاؤنٹر وہ رو رہی تھیں اور ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا لیکن کاؤنٹر کے پیھچے بیٹھی خاتون نے اس کا نوٹس نہیں لیا، ’جب ایک شخص نے میرا پاسپورٹ اسے دکھایا اور اس نے صرف مسکرا کر بورڈنگ پاس تھما دیے۔‘

’اس شخص نے جوڑا ہونے کا دکھاوا کیا اور اس میں ہم سکیورٹی سے گزرتے ہوئے بورڈنگ گیٹ تک پہنچ گئے اور جہاز کے عقبی حصے میں اپنی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔ اس شخص نے کہا کہ رونے اور چیخنے کی کوشش نہ کرنا اور ایسا کرنے کی صورت میں جان سے مار دوں گا۔‘

اینا نے جہاز کے کپتان کا اعلان سنا کہ وہ آئرلینڈ کے ایک ایئر پورٹ پر جا رہے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ لینڈ کرنے پر جہاز سے اترتے وقت آنسوؤں سے ان کا چہرہ تر ہو گیا تھا لیکن کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون کی طرح فضائی میزبانوں نے بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

اس موقعے پر اینا نے طے کیا کہ وہ ایئر پورٹ کے اندر پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ جائیں گی لیکن ایئر پورٹ کسی بس سٹینڈ سے بڑا نہیں تھا اور وہاں رومانیہ کے دو مزید افراد انھیں لینے کے لیے کھڑے تھے۔

ان میں سے ایک موٹے شخص نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا کہ’ بالآخر یہ زیادہ پرکشش لگتی ہے ۔۔۔ اس وقت اسے اندازہ ہوا کہ اسے کس مقصد کے لیے اغوا کیا گیا ہے اور ’مجھے اس وقت معلوم ہو چکا تھا کہ مجھے فروخت کیا جانا ہے۔‘

’وہ آدمی مجھے ایک گندے سے فلیٹ میں لے گئے جہاں اندر پردے پوری طرح سے بند تھے اور شراب، سگریٹ اور پسینے کی کی بو آ رہی تھی۔‘

لیونگ روم میں وہ آدمی سگریٹ پیتے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ ایک ٹیبل پر درجن کے قریب موبائل فون پڑے تھے جو کالز اور میسجز آنے کی وجہ سے مسلسل تھرتھرا رہے تھے۔ نیم برہنہ اور برہنہ لڑکیاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آ جا رہی تھیں۔

ایک خاتون نے وہاں موجود دوسرے مردوں کی مدد سے اینا کے کپڑے پھاڑ پھینکے اور پھر یہاں سے اسے درندگی کا نشانہ شروع کیا گیا۔

دیوار کے ساتھ داغ دار سرخ چادر لگائی گئی اور زیر جامہ میں ان کی تصاویر لی گئیں تاکہ ان کی تصاویر کی انٹرنیٹ پر تشہیر کی جا سکے۔ انھیں مختلف نام دیے گئے جن میں سے کئی یاد بھی نہیں ہیں۔ وہ کبھی لارا، روبی اور ریچل تھیں اور ان کی عمر اور ملک تبدیل کر دیا جاتا تھا جس میں کبھی وہ 18 برس، کبھی 19 سے 20 برس کی ہوتی اور ان کا تعلق لیٹویا اور پولینڈ سے ہوتا۔

اس کے بعد ہزاروں مردوں کے ساتھ انھیں سیکس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے مہینوں دن کی روشنی نہیں دیکھی۔ ان کو صرف اس وقت سونے کی اجازت ہوتی تھی جب کوئی گاہک نہیں ہوتا تھا۔ لیکن گاہک ہر وقت آتے رہتے تھے جس میں دن میں 20 تک بھی آتے تھے۔ بعض دنوں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا اور دوسرے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا مل جائے یا کسی نے اگر کسی کا کوئی بچا ہوا ہے۔

نیند اور کھانے کی کمی اور مسلسل جنسی استحصال کی وجہ سے میرا وزن کم ہو گیا اور دماغ نے پوری طرح سے کام کرنا چھوڑ دیا۔

گاہک نصف گھنٹے کے لیے 80 سے 100 جبکہ گھنٹے کے لیے 160 سے 200 یورو ادا کرتے تھے۔ بعض گاہکوں کی وجہ سے اینا کو خون آنا شروع ہو جاتا جس کی وجہ سے وہ کھڑی بھی نہیں ہو پاتی تھیں یا اتنی زیادہ درد ہوتی کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ مرنے والی ہیں۔

جولائی میں اینا کو یرغمال بنائے گئے چار ماہ گزر چکے تھے اور ایک دن پولیس نے ان کے فلیٹ پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تمام لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر اس فلیٹ کو چلانے والے تمام مرد اور عورت پہلے سے ہی غائب تھے اور وہ اپنے ساتھ لیپ ٹاپ اور زیادہ تر نقدی بھی لے گئے۔

اینا کو حیرت تھی کہ ان لوگوں کو کیسے معلوم ہوا کہ پولیس آنے والی ہے۔

پولیس نے فلیٹ کی تصاویر لیں اور استمعال شدہ کونڈومز اور زیر جامہ کی بھی تصاویر لیں اور وہاں اینا اور دیگر تین اغوا کر کے لائی گئی خواتین سے کہا کہ وہ کپڑے پہن لیں۔ تو اینا نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ ان کے پاس کپڑے نہیں ہیں اور انھیں یہاں اپنی مرضی کے بغیر رکھا گیا۔

’وہ واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ ہمارے پاس یہاں کسی قسم کا اختیار نہیں تھا ۔۔۔ نہ ملبوسات، نہ شناختی دستاویزات ۔۔۔ میں نے انھیں بتانے کی کوشش کی لیکن کسی نے کچھ نہیں سنا۔

اینا کو گرفتار ہونے پر خوشی تھی اور اسے محسوس ہوا کہ پولیس بالآخر اسے رہا کر دے گی کیونکہ وہ متاثرہ ہے لیکن انھوں نے نہیں سنا۔

چاروں خواتین نے رات تھانے کے سیل میں گزاری اور اگلے دن انھیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایک وکیل نے بتایا کہ سماعت مختصر ہو گی اور ان پر قحبہ خانہ چلانے کا الزام عائد کیا جائے گا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا اور کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا جائے گا۔

وکیل کے مطابق یہ کوئی بڑی چیز نہیں بس معمول کی کارروائی ہے۔ جب اینا عدالت سے باہر نکلی تو ان کی جان میں جان آئی اگرچہ انھیں معلوم تھا کہ کہیں بھی نہیں جا سکتی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی رقم تھی۔ اینا کو موقع نہیں ملا اور ان کو پکڑنے والے باہر انتظار میں تھے اور گاڑی کے دروازے کھلے تھے۔

رومانیہ میں ان کی والدہ نے خبریں دیکھیں کہ آئرلینڈ میں خواتین قحبہ خانے چلاتے ہوئے پکڑی گئی ہیں اور ان کی بیٹی بھی اس میں شامل ہے۔

ایک موقعے پر اینا نے خود تصاویر دیکھی تھیں جو مردوں نے ان کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی تھیں جس میں کئی میں وہ برہنہ تھیں اور بعض میں ان کے جسم پر خراشوں کے نشانات تھے۔ اس کے ساتھ میں لکھا گیا تھا کہ کس طرح اینا نے اپنی زندگی کو بہتر کیا اور آئرلینڈ میں سیکس ورکر کے طور پر کام کرتے ہوئے رقم بنائی۔ اس طرح کے کئی جھوٹ لکھے گئے۔

نہ صرف ان کی والدہ نے وہ تصاویر دیکھی تھیں بلکہ ہمسایوں نے انھیں دیکھا تھا اور اینا کے دوستوں نے بھی دیکھا تھا۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کو اٹھایا گیا اور مرضی کے بغیر رکھا جا رہا تھا۔

پہلے تو ان کی والدہ نے کچھ کرنے کی کوشش کی لیکن جب ان کی والدہ نے فون کیا تو اینا کی طرف سے کبھی بھی کوئی جواب نہیں آیا۔

’میری والدہ رومانیہ میں پولیس کے پاس گئیں لیکن پولیس نے کہا کہ وہ اس عمر میں ہے جہاں اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتی ہے اور وہ جو چاہے کر سکتی ہے۔‘

آخر کار فیس بک نے غیر مناسب تصاویر پر ان کا اکاؤنٹ حذف کر دیا جس کے بعد اگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کو تلاش یا دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ سے ان کا وجود ختم ہو چکا تھا۔

پولیس کے چھاپے کے بعد چاروں لڑکیوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں مختلف فلیٹس اور ہوٹلوں میں رکھا جانے لگا لیکن ان کی زندگیاں ویسے ہی بدتر ہی رہیں۔ ان کا ہر وقت دن رات استحصال ہوتا رہا۔

اینا نے سوچا نہیں تھا کہ ان کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے جب تک انھوں نے سوچا کہ انھیں مشرق وسطیٰ بھیجے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس پر اینا کو اب یہاں سے نکلنا تھا۔

اینا کے بقول انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس جگہ پر موجود ہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ مشرق وسطیٰ سے اچھا موقع یہاں بیلفاسٹ، ڈبلن یا کسی اور جگہ سے بھاگنے کا ہو گا۔

تو اینا نے خاتون کی چپل پہنی اور دروازہ کھولا اور وہ جانتی تھی کہ انھیں جلدی جلدی اور بہت خاموشی سے باہر نکلنا ہے کیونکہ کئی ماہ سے انھوں نے کبھی دوڑ نہیں لگائی تھی اور نہ ہی اپنی ٹانگوں کے پٹھوں پر زیادہ زور ڈالا تھا لیکن اب انھیں جلدی سب کرنا تھا۔

جس چیز نے انھیں بچایا وہ یہ تھا کہ کبھی کبھار مرد فلیٹ پر آنے کی بجائے کہتے کہ انھیں اپنی جگہ پر پہنچایا جائے اور اینا کے لیے اس طرح کی فون کالز بہت خوفزدہ کر دینے والی ہوتی تھیں۔

اینا کے بقول آپ نہیں جانتے تھے کہ کس مزاج کا شخص آپ کا منتظر ہے اور آپ کے ساتھ کیا کرے گا لیکن جب بھی میں فلیٹ سے باہر دوسری جگہ جانے کے لیے نکلتی تو ذہن میں نقشہ بنانے کی کوشش کرتی کہ اس وقت کہاں ہوں۔ جس میں عمارتوں، سڑکوں کے نشانات اور پاس سے گزرتی والی چیزوں کو ذہن نشین کرتی۔

وہاں ایک اور شخص اینڈی بھی موجود تھا جسے منشیات فروخت کرنے کے الزام میں سزا بھی ہو چکی تھی جو کبھی بھی سیکس نہیں کرنا چاہتا تھا اور صرف باتیں کرتا تھا۔ اس کا ایک دوست قحبہ خانہ چلانے کے کاروبار میں آنا چاہتا تھا اور وہ اس کے بارے میں معلومات چاہتا تھا۔

تو میں نے اس چیز پر جوا کھیلنے کی ٹھانی۔ مجھے اس پر اعتماد نہیں تھا لیکن اس نے مجھے ایک جگہ کی پیشکش کی جہاں میں چھپ سکتی تھی۔

اینا ذہن میں بنائے گئے ادھورے نقشے پر انحصار کرتے ہوئے اینڈی کے پتے پر پہنچ گئی۔ وہاں اور کچھ کرنے کو نہیں تھا سوائے اس امید کہ قحبہ خانے کو چلانے والے انھیں تلاش نہ کر سکیں۔

اینا کے داؤ نے کام کیا۔ اینڈی کو منشیات کی وجہ سے رات گئے واپس آنا تھا اور اس نے اینا کو اپنے ہاں رہنے کی اجازت دے دی۔

اینا نے پہلا کام اپنی والدہ کو فون کرنے کا کیا۔

اینا کی والدہ کے ساتھی نے فون اٹھایا اور معلوم ہونے پر اس بات پر زور دیا کہ وہ دوبارہ فون نہ کرے اور نہ ہی یہاں کبھی آئے کیونکہ سیکس ورکرز کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچانے والے قحبہ خانے چلانے والوں کی جانب سے کئی دھمکی آمیز فون آئے ہیں اور ان کی والدہ خوفزدہ ہیں۔

اس موقعے پر اینا نے پولیس سے رابطہ کرنے کا سوچا اور اس بار خوش قسمتی سے پولیس نے ان کی بات سنی۔

پولیس نے انھیں ملزمان کے نام ایک پیپر پر لکھنے کو کہا اور جب یہ نام لکھے تو معلوم ہوا کہ پولیس کو ان لوگوں کی عرصے سے تلاش تھی۔

دو برس کی تحقیقات کے بعد اینا کو پکڑنے والے گرفتار ہو گئے اور اینا کو اپنی اور اپنی والدہ کی سلامتی کی اتنی فکر تھی کہ ان کے خلاف عدالت میں کبھی جا کر گواہی نہیں دی۔

بعد میں اینا نے یونینسٹ رہنما لارڈ مورو کے سامنے بیان دیا اور انھیں اس نوعیت کی بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہوئی اور 2015 میں شمالی آئرلینڈ میں انسانی ٹریفکنگ اور استحصال کے خلاف قانون پاس ہوا۔

اینا نے برطانیہ میں ڈگری کورس شروع کیا لیکن اسے ادھورا چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ فیس ادا نہیں کر سکتی تھیں اور نہ ہی فنڈنگ حاصل کر سکتی تھیں۔

اب وہ نوکری کر رہی ہیں جو ٹھیک چل رہی ہے۔ اینا کے مطابق زندگی کے کسی موڑ پر وہ دوبارہ پڑھائی کرنا چاہیں گی لیکن اس وقت کام اور صرف کام کرنا ہے اور اس پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے شہر دھابیجی کے غریب آباد محلے میں 17 جولائی کی رات کی تاریکی میں پولیس گھیراؤ کرتی ہے اور ایک دروازہ زور سے کھٹکٹاتی ہے۔ سامنے سے ایک 60 سالہ شخص نکلتا ہےجس سے اہلکار معلوم کرتے ہیں کہ حفیظ نواز کون ہے؟

وہ بتاتا ہے کہ اس کا بیٹا ہے۔ دوسرا سوال ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے؟ وہ بلا ججھک کہتا ہے کہ افغانستان جہاد کے لیے گیا ہے۔

اور ان دو سادہ سوالوں کی مدد سے سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو حفیظ نواز کی شناخت کرنے میں کامیابی نصیب ہو جاتی ہے اور یہ تفصیلات بتانے والا خود اس کا والد محمد نواز ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 13 جولائی کو خودکش بم حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوگئے تھے اور شدت پسند تنظیم، نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ مستونگ دھماکے کے بعد وہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایہ سے رابطے میں تھے، جنھوں نے انہیں بتایا کہ نامعلوم لاشوں کے فنگر پرنٹ سے ایک نوجوان کی شناخت سندھ کے ضلعہ ٹھٹہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے اس لڑکے کی تفصیلات طلب کیں اور تفتیش کے لیے جب دھابیجی پہنچے تو حفیظ کے والد نے تصدیق کی کہ وہ افغانستان منتقل ہوچکا ہے۔

'جب اس کے والد کو اس نوجوان کی تصویر دکھائی گئی تو اس نے تصدیق کی کہ یہ اسی کا بیٹا ہے۔'

ایبٹ آباد سے دھابیجی منتقلی

محمد نواز کا تعلق ایبٹ آباد شہر کے محلے مولیا سے ہے مگر وہ تقریباً 30 سال قبل دھابیجی منتقل ہوگئے تھے، جہاں وہ دودھ فروخت کرتے ہیں۔ حفیظ کے علاوہ ان کے دیگر بچوں کی پیدائش بھی یہاں ہی ہوئی۔

کراچی کا مشکوک مدرسہ

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی تفیش کے دوران کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں واقع ایک مدرسے کا مشکوک کردار سامنے آیا ہے۔ حفیظ نواز اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا تھا اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی عزیز نواز بھی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا جو بعد میں افغانستان جہاد کے لیے چلا گیا اور پھر اس نے تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کرلی۔

ایس ایس پی پرویز چانڈیو کے مطابق اس مدرسے کا ریکارڈ تحویل میں لیا گیا اور جو طالب علم حفیظ کے ساتھ پڑھتے تھے ان سے تفتیش کی گئی جس کی مدد سے حفیظ کا ٹیلیفون نمبر مل گیا۔ اس نمبر کی مدد سے حفیظ کے ہینڈلر تک رسائی ہوئی اور کوئٹہ سی ٹی ڈی سے مقابلے میں ہینڈلر مفتی ہدیت اللہ قلعہ سیف میں مارا گیا۔

حفیظ کی خاندان سمیت افغانستان منتقلی

ایس ایس پی پرویز چانڈیو کا کہنا ہے کہ حفیظ کے بڑے بھائی عزیز کی ٹی ٹی پی میں شمولیت کے بعد پورا خاندان افغانستان منتقل ہوگیا جس میں حفیظ کے علاوہ عزیز ایک اور بھائی شکور، تین بہنیں اور والدہ شامل تھیں جو اس وقت سپن بولدک میں موجود ہیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کا خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور کمانڈر حاجی داؤد محسود میں اختلافات اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد حاجی داؤد نے داعش کے ساتھ رجوع کیا۔

واضح رہے کہ حاجی داؤد کراچی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھا لیکن بعد میں افغانستان منتقل ہو گیا۔

ایس ایس پی پرویز کے مطابق حفیظ کے بڑے بھائی عزیز نواز نے بھی حاجی داؤد کے ساتھ داعش میں شمولیت اختیار کرلی اور پورے خاندان کو یہ کہہ کر افغانستان طلب کرلیا کہ داعش خلافت کے قیام کے لیے لڑ رہی ہے اور دوسری زمین ان کے لیے دارلحرب ہے۔ خاندان کے منتقل ہونے کے بعد عزیز اپنے والد پر بھی دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ بھی افغانستان آجائیں۔

امریکہ میں سفید فام طلبہ کے مقابلے میں ایشیائی طالب علموں میں خودکشی کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایشیا اینڈ پیسفیک آئی لینڈر کے ایک سروے کے مطابق اپنی جان لینے والوں میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی خواتین کی ہے۔ ان ہلا دینے والے اعداد و ُشمار کے باوجود امریکہ میں بسنے والی جنوبی ایشیائی برادری ذہنی امراض سے جڑی شرم کی وجہ سے سیاہ فام آبادی کے مقابلے مین تین گناہ کم مدد حاصل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

پریانکا کے والدین دو دہائی قبل چنائی سے امریکہ آۓ لیکن اس کے باوجود انہیں کافی وقت لگا کہ وہ اپنی بیٹی کی ذہنی بیماری کو ایک حقیقت تسلیم کر سکیں۔

پچیس سالہ پریانکا امریکی ریاست ٹیکساس میں پیدا ہوئیں۔ پڑھائی کے بعد نوکری کے لیے وہ کیلیفورنیا منتقل ہو گئیں جہاں ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میں وہ کام کرنے لگیں۔ پیسے اچھے تھے مگر سکون نہ تھا۔

نوکری کے چند برس بعد ہی انہیں ڈیپریشن ہوگیا ۔ بے ایریا کی تیز زندگی نے انہیں ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا لیکن والدین کو اس بارے میں سمجھنا آسان نہ تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: 'جب میں نے اپنے ابو کو بتایا کہ میں اپنی نوکری سے خوش نہیں تو مجھے دیکھنے لگے اور بولے میں بھی انڈیا سے امریکہ ایک ڈالر جیب میں لے کر آیا تھا۔ مجھے بھی میری پہلی نوکری بالکل پسند نہیں تھی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور چپ کر کہ لگا رہا۔ پہلے مجھے لگا وہ صحیح کہہ رہے ہیں اور شاید مسئلہ مجھ میں ہے اور میں ہی کام چور ہوں مگر ایسا نہیں تھا۔ میں ذہنی دباؤ میں تھی۔ مجھے دفتر جانے سے ڈر لگنے لگا اور میں مسلسل خوف کی کیفیت میں رہنے لگی۔ میں نے دوست چھوڑ دیے اور خود کو تنہا کر لیا۔ میر ے دوست میرے لیے پریشان تھے۔ مجھے مدد کی ضرورت تھی۔'

پریانکا اب ذہنی امراض کے ڈاکٹر کے پاس جا رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی اور اب انہوں نے نوکری چھوڑ دی ہے اور وہ شکاگو میں طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب پچیس سالہ نبیر شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ وہ دو سال پہلے بھارتی ریاست آسام سے امریکہ آئے۔ جب میں ان سے ملی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ اپنی کارکردگی سے خاصے مطمئن نظر آئے۔ لیکن گزشتہ برس وہ پڑھائی کی وجہ سے اتنے ذہنی دباو کا شکار ہو گئے کہ اپنی جان لینے کے بارے میں سوچنے لگے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوے بولے، 'میں انڈیا میں سکول میں ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا آیا ہوں۔ خاندان اور محلے والے پچپن سے ہی کہتے آئے ہیں کہ میں بڑا ہو کر ضرور کچھ خاص کروں گا مگر جب میں امریکہ میں پی ایچ ڈی کے لیے آیا تو مجھے لگا میں تو ایک عام سا طالب علم ہوں۔ میں سب سے پیچھے رہ جاؤں گا اور بس یہی سوچ سوچ کر میں پاگل ہو گیا۔'

نبیر کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ وہ 2017 میں وہ پڑھائی روک کر تین ماہ کے لیے واپس انڈیا چلے گئے مگر کوئی آفاقہ نہ ہوا۔ انہوں نے بتایا 'جب میں نے اپنے والدین کو بتایا تو ان کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ آخر ڈیپریشن یا اینگزائٹی ہوتا کیا ہے۔

کیونکہ ایشیائی والدین ہیں تو انہیں اس بارے میں معلوم ہی نہ تھا۔ لیکن اکلوتی اولاد کے لیے وہ بہت گھبرا گیے۔ لیکن بھگوان کا شکر ہے کہ اب ٹھیک ہوں۔'

مدد حاصل کرنے کے بعد اب نبیر زندگی سے سرشار ہیں اور پڑھائی پر بھی مکمل توجہ دے رہے ہیں۔ وہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد واپس بھارت جائیں گے تاکہ اپنے والدین کا خیال رکھ سکیں۔

ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے ذہنی امراض سے متعلق جنوبی ایشیائی برادری میں جڑے معاشرتی تعصب سے نمٹنے کے لیے پریانکا نےآئی ایم شکتی کے نام سے ایک تنظیم شروع کی ہے جو سیمینار اور ورک شاپس کے ذریعے والدین اور نوجوانوں میں آگاہی پھیلا رہی ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے پریانکا نے کہا کہ 'میں نہیں چاہتی کہ جس قرب سے میں گزری ہوں، میرے باقی ساتھی بھی گزریں۔ آج کے دور میں کئی جنوبی ایشیائی والدین ذہنی امراض کی حقیقت کو مان رہے ہیں مگر اب بھی کافی کام باقی ہے۔ اسی لیے ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ لوگ مدد حاصل کرنے سے نہ شرمائیں، ہماری اس ویب سائٹ پر خفیہ طریقہ سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

انڈیا میں ڈاکٹروں نے ایک آٹھ سال کی بچی کے دماغ میں کیڑے کے سو سے زیادہ انڈے پائے ہیں۔

بچی کے والدین کے لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہو رہا تھا کہ ان کی بیٹی کو ہر روز سر میں درد کیوں رہتا ہے اور دورے کیوں پڑتے ہیں۔ تقریباً چھ مہینوں تک اس کی حالت ایسی ہی رہی۔ یکن جب والدین کو اس کی وجہ پتا چلی تو انہیں یقین نہیں ہوا۔

بچی کے دماغ میں سو سے زیادہ ٹیپ ورم کے انڈے تھے جو سکین ہونے پر دماغ میں خون کے لوتھڑوں کی صورت میں نظر آ رہے تھے۔

انڈین ریاست ہریانا کے گڑگاؤں شہر میں قائم فارٹس ہسپتال میں محکمہ نیورالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹڑ پروین گپتا اس بچی کا علاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے پاس آنے سے پہلے یہ بچی دماغ میں سوجن اور دورے پڑنے کا علاج کروا رہی تھی۔‘

بچی کے دماغ میں سوجن کم کرنے کے لیے اسے صٹیرائڈز دیے جانے گے تھے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آٹھ برس کی بچی کا وزن چالیس کلو سے بڑھ کر ساٹھ کلو ہو گیا۔

وزن بڑھنے سے اس کی تکلیف میں بھی اضافہ ہو گیا۔ بچی جب ڈاکٹر گپتا کے پاس آئی تو اس کا سی ٹی سکین کیا گیا اور اسے نیورو سسٹی سیرکوسس نامی مرض سے متاثر پایا گیا۔

ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ ’جس وقت بچی ہسپتال لائی گئی وہ ہوش میں نہیں تھی۔ سکین میں اس کے دماغ میں صفید رنگ کے دھبے نظر آ رہے تھے۔ یہ دھبے کیڑے کے انڈے تھے۔ وہ بھی ایک یا دو نہیں، سو سے زیادہ انڈے۔‘

بچی کو ایسی دوا دی جا رہی ہے جس سے ان انڈوں کو ختم کیا جا سکے، لیکن ابھی سارے انڈے ختم نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کیڑے ایک بار دماغ میں پہنچ جائیں تو انڈوں کی تعداد لگاتار بڑھتی رہتی ہے اور ان انڈوں کے دباؤ سے سوجن ہو جاتی ہے اور دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔

دماغ تک کیسے پہنچے یہ انڈے

ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ کوئی بھی چیز اگر ٹھیک سے نہیں پکائی جاتی ہے تو اسے کھانے سے اس میں موجود کیڑے پیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد خون کے ذریعے یہ کیڑے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

انڈیا میں مرگی کے دورے سے متاثر افراد میں بھی بڑی وجہ یہی کیڑے ہیں۔

ٹیپ ورم کیسے پھیلتا ہے

ٹیپ ورم ربن جیسے دکھنے والے کیڑے ہوتے ہیں۔ اگر ان کا انڈا جسم میں داخل ہو جاتا ہے تہ وہ آنتوں میں اپنا گر بنا لیتا ہے۔ اور وہاں سے یہ انڈے خون کے ذریعہ جسم بھر میں پہنچ سکتے ہیں۔

یہ جگر اور آنکھوں میں بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے دماغ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

کہاں سے آتا ہے ٹیپ ورم

  • ٹھیک سے نہیں پکا ہوا گوشت، خاص طور پر پورک، مچلی اور بیف ٹیپ ورم کو ہمارے جسم میں پہنچانے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

  • گندے پانی کے ذریعہ بھی ٹیپ ورم جسم میں پہنچ سکتا ہے۔

  • بند گوبھی اور پالک کو اگر ٹھیک طرح نہ پکایا جائے تو ٹیپ ورم جسم تک پہنچ سکتے ہیں۔

  • پکانے اور کھانے سے پہے ان سبزیوں کو بہت اچھی طرح دھونا چاہیے جن پر پانی یا مٹی لگی ہو۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حالیہ عام انتخابات میں جن جن حلقوں کے بارے میں الزامات لگائے جائیں گے کہ وہاں دھاندلی ہوئی ہے وہاں وہ ان کے ساتھ تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کسی حلقے میں آپ کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہم آپ کی پوری مدد کریں گے اور جس حلقے کو کہیں گے اس کو کھولیں گے۔'

خیال رہے کہ 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں‌ اکثریت حاصل ہے۔

عمران خان نے دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے کہا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا بنایا ہوا نہیں تھا اور نگران حکومت بھی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنائی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جن جن حلقوں کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہاں دھاندلی ہوئی وہاں ہم آپ کے ساتھ تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔'

’دھاندلی‘ کی تحقیقات

عمران خان نے کہا کہ 'ہماری طرف سے جو حلقہ آپ کہتے ہیں جو آپ کہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہم آپ کے ساتھ تحقیقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے صاف اور شفاف الیکشن ہوا ہے اور جو بھی اپوزیشن کے دھاندلی کے حوالے سے خدشات ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر تحقیقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔'

اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ 'احتساب کا عمل مجھ سے شروع کیا جائے گا۔ قانون کی بالا دستی ہو گی۔ ان نے ملک کی اقتصادی حالت کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ اس وقت ایک بڑا چیلنج ہے اور اداروں کی غیر فعالیت کی وجہ سے ایسا ہے۔'

عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کو پیغمبر اسلام کے دور میں بنائی جانے والی مدینہ کی فلاحی ریاست جیسا بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس دور کے نظام سے متاثر ہوئے ہیں۔

عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو پیغام دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس موقع پر ملک متحد ہو۔ 'ہمارا مقصد میری ذات سے بہت بڑا ہے۔ ہماری حکومت میں سیاسی انتقام نہیں لیا جائے گا۔'

انھوں نے اپنی متوقع حکومت کی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اب تک جو حکمران آئے انھوں نے خود پر پیسہ خرچ کیا۔ بڑے بڑے محلات پر اور غیر ملکی دوروں پر لیکن ان کے دور حکومت میں سادگی قائم کی جائے گی۔

'میں سب سے پہلے آپ کے سامنے وعدہ کرتا ہوں کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا۔'

عمران خان نے کہا کہ 'انھیں شرم آئے گی کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں جا کر رہیں۔'

'ہماری حکومت فیصلہ کرے گی کہ وزیراعظم ہاؤس کا کیا کرنا ہے۔ تعلمی ادارے کے طور پر استعمال کریں گے۔ گورنر ہاؤسز کو بھی عوامی مقامات کے طور پر استعمال کریں گے۔'

خارجہ پالیسی

عمران خان نے خطاب میں کہا کہ ملک کا بڑا چیلینج ملک کی خارجہ پالیسی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات قائم کریں گے۔ انھوں نے سی پیک کا ذکر کیا اور کہا کہ چین سے سیکھنا چاہتے ہیں کہ کیسے انھوں نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں ایران اور سعودی کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کا ذکر کیا۔

سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ مشرق وسطیٰ میں مختلف ممالک کے درمیان اختلافات میں ثالث کا کردار ادا کریں۔

خارجہ پالسی میں عمران خان نے افغانستان کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ افغانستان کے لوگوں کو امن کی ضرورت ہے۔

'ہماری حکومت کی پوری کوشش ہو گی کہ ہر طرح افغانستان میں امن لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو چاہیں گے کہ پاکستان اور افغانستان کا اوپن بارڈر ہو جیسے یورپی ممالک میں ہوتا ہے۔'

عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ تجارت کی جائے۔ تاہم انھوں نے گذشتہ دنوں کے دوران انڈین میڈیا پر اپنے بارے میں کی جانے والی کوریج کے بارے میں کہا کہ مجھے ایسے لگا جیسے میں بالی وڈ کا ولن ہوں۔

عمران خان نے انڈیا کے نام پیغام میں کہا کہ اگر غربت کم کرنا چاہتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کریں ۔۔۔ ہمارے ایشو میں سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے۔

'کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔ ہمیں چاہیے کہ میز پر بیٹھ کر مسئلے کو حل کریں۔ یہی الزام تراشیاں چلتی رہیں تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ تعلقات بہتر کریں۔ آپ ایک قدم اٹھائیں ہم دو قدم اٹھائیں گے۔ آپ قدم تو لیں۔'

احتساب سب کا

عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت میں احتساب کے اداروں کو مضبوط کیا جائے گا۔ 'احتساب میرے سے شروع ہوگا اور پھر میرے سے نیچے جائے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ اینٹی کرپشن کے اداروں اور نیب کو مضبوط کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آج سے پہلے احتساب صرف اپوزیشن کا ہوتا تھا لیکن ہم ثابت کریں گے کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہی سب سے بڑا اصول ہوگا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایسے ادارے قائم کیے جائیں گے جو اس ملک کا گورننس سسٹم ٹھیک کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم ہاؤس، ایک شاہانہ محل ہے اور مجھے شرم آئے گی کہ میں وہاں جا کر رہوں گا۔۔ میری حکومت فیصلہ کرے گی کہ اس کو کیا کریں گے تعلمی ادارے کے طور پر استعمال کریں گے۔ گورنرز ہاؤسز کو بھی عوامی مقامات کے طور پر استعمال کریں گے۔'

'احتساب کا عمل اپنے وزیروں اور ارکان پارلیمان سے شروع کروں گا۔'

امریکہ میں اگر آپ پاکستان یا انڈیا سے آئے ہیں یا کسی بھی اقلیتی گروہ سے تعلق ہے تو امکان ہے کہ آپ شناخت کے بحران سے گزر رہے ہوں گے۔

والدین کو یہ فکر ہے کہ بچے اپنی خاندانی اقدار بھول کر کہیں امریکی نہ ہو جائیں تو یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو یہ مشکل کہ وہ کتنے امریکی ہیں اور کتنا اپنے آبائی ملک کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔

یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن شکاگو گئی تو اس کا ظہور قدرے پریشان کن انداز میں ہوا۔

واشنگٹن سے صبح کے پانچ بجے ہوائی اڈے کے لیے نکلی۔ صبح کا سفر پسندیدہ نہیں لیکن وقت کم اور کام بہت زیادہ تھا۔ سورج ابھی نکلا ہی تھا کہ ایئر پورٹ پہنچ گی۔

آپ واشنگٹن سے جلد از جلد شکاگو جہاز کے ذریعے لگ بھگ دو گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔ مشیگن جھیل کے گرد آباد یہ شہر معیشت، تجارت، ٹیلی کمیونیکشن کے ملک کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔

آبادی کے لحاظ سے یہ امریکہ کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں سالانہ لگ بھگ تین کروڑ سیاح سیر کے لیے آتے۔ خوبصورت بڑی بڑی سڑکوں کے گرد بہتی ہوئی جھیل آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔

شکاگو دریا کے گرد بیشتر ریستوراں ہیں جو لوگوں سے بھرے تھے۔ نہ صرف آرٹ بلکہ یہاں کا میوزک کلچر بھی شہرت کا حامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جیز موسیقی شکاگو کی ہی پیداوار ہے۔

شکاگو پہلے سیاہ فام امریکی صدر بننے والے براک اوباما کا گھر تو ہے ہی مگر پہلی امریکی خاتون جین ایڈمز، جنھوں نے نوبیل انعام جیتا، ان کا تعلق بھی شکاگو سے ہے۔ پہلا سیل فون ایجاد کرنے والے مارٹن کوپر بھی اسی شہر سے ہیں۔

شکاگو ریاست الینوا میں واقع ہے۔ سنہ 2010 کی مردم شماری کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں اس ریاست میں جنوبی ایشیائی برادری کی آبادی میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان میں پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلہ دیش سمیت دیگر جنوبی ایشیائی باشندے شامل ہیں۔

میں یہاں ان انڈین طالبات سے ملنے آئی جو ذہنی امراض کے بارے میں آگاہی پھیلا رہی ہیں۔ بیشتر خود بھی مختلف امراض کا شکار رہیں۔ اس معاملے پر والدین کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے انھیں علاج حاصل کرنے میں دقّت کا سامنا رہا۔

بعض طالبات کے والدین نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ 'یہ مغربی امریکی لوگوں کے چونچلے ہیں۔ اچھا سوچو سب اچھا ہوگا۔' لیکن یہ لڑکیاں نہیں چاہتی کہ کمیونٹی کے باقی لوگ بھی اس کرب سے گزریں۔ اسی لیے وہ ان کی مدد کر رہی ہیں۔

ہم کام ختم کرکے کھانا کھانے ڈن ور سٹریٹ پر واقع پاکستانی ریستوراں خان بی بی کیو گئے۔ یہ علاقہ پاکستانی اور ہندوستانی دکانوں سے بھرا ہوا ہے۔ انڈین گانے ہر دوسری دکان پر بج رہے ہیں۔

یہ علاقہ شکاگو کے مرکز سے لگ بھگ 40 منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ جیسے ہی ریستوراں میں داخل ہوئے ایسا لگا جیسے راولپنڈی کے کسی ڈھابےمیں داخل ہو گے ہوں۔ 'یاسر دو نان لگا'۔۔۔ 'ٹیبل نمبر چھ کو لسّی بھیج' کی پکاروں سے استقبال ہوا۔

ہمارے ویٹر کا نام رضوی تھا۔ اس تعلق حیدرآباد دکن سے ہے۔ دس سال پہلے شکاگو آئے تھے۔ بیوی بچے ہندوستان میں ہی ہیں۔ ماتھے پر نمایاں نشان بتا رہا تھا کہ پکے نمازی ہیں۔ میں نے اپنے آسٹریلوی ساتھی سے معذرت کر کے جب اردو میں بات شروع کی تو انھیں یقین ہو گیا کہ وہ دل کی بات کر سکتے ہیں۔

کہنے لگے 'میری بیوی اور بیٹی تو چاہتی ہیں کہ یہاں آئیں میرے ساتھ رہیں لیکن میں نہیں چاہتا کہ وہ امریکیوں کی طرح سوچنے یا کپڑے پہننے لگیں۔ ہم شریف لوگ ہیں اور یہاں بیٹیوں کو بہت آزادی حاصل ہے۔ وہ خراب ہو جاتی ہیں۔'

میں نے کہاں آپ نہیں چاہتے کہ وہ آپ کے ساتھ رہیں؟ کہنے لگے: 'دیکھے میں ان سے دور رہ کر تکلیف تو کاٹ سکتا ہوں مگر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ بیٹی ہماری قدریں بھول جائے'

اس کی مثال دیتے ہوے انھوں نے کہا: 'آپ کو پتہ ہے بغل میں ایک کپڑے کی دکان ہے۔ مالک پاکستانی ہے۔ ان کا بیٹا کچھ مہینے پہلے ہی گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اپنے گھر والوں سے کہنے لگا کہ وہ گے (ہم جنس پرست) ہے۔ اسے لڑکے پسند ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں یہ بھلا کوئی کرنے والی بات ہے۔ ایک بچے کہ وجہ سے پورے محلے میں ان کی بدنامی ہو گئی ہے۔'

کم ہی غم دل ٹوٹنے سے بڑے ہوتے ہیں۔ جن پر گزرتی ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ ریئلٹی شو 'لو آئیلینڈ' کی جورجیا سٹیل پر پچھلے ہفتے گزرا جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے سابق دوست ایک نئی گرل فرینڈ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے میرا دل بھی ٹوٹا، لیکن اس کی نوعیت جورجیا کے دل ٹوٹنے سے مختلف تھی کیونکہ یہ ٹی وی کے لاکھوں ناظرین کی آنکھوں کے سامنے نہیں ٹوٹا تھا۔

میری امیدوں بھری محبت اچانک ختم ہو گئی تھی۔ میں جس شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کی متمنی تھی، اس نے اپنا ارادہ بدل لیا تھا۔ یہ میرے لیے زبردست صدمہ تھا اور مجھے لگتا تھا کہ اب زندگی وہ نہیں رہے گی جو پہلے تھی۔

میں نے اس غم سے نمٹنے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔ میں لندن، جہاں میری 32 سالہ زندگی کے 27 برس گزرے تھے، چھوڑ کر ایک دیہی علاقے میں منتقل ہو گئی۔

اس کی وجہ یہ تھی مجھے لگتا تھا کہ اگر کبھی میرا اس سے آمنا سامنا ہوا، بس میں، ٹرین میں، کسی شاپنگ مال میں، تو میں برداشت نہیں کر پاؤں گی۔

اگلے آٹھ ماہ تک میں نے دل بہلانے کی بڑی کوششیں کی، سمندر میں تیراکی، میلوں تک چہل قدمی، پہروں رونا، ایک پروجیکٹ پر کام۔ لیکن اداسی کی دھند چھٹنا تھی نہ چھٹی۔

مجھے احساس ہوا کہ میری جیسی شہری خاتون کے لیے دیہی زندگی مزید تنہا کر دینے والی ہے۔ میرے خاندان والے میرے قریب تھے لیکن مجھے دوستوں کی ضرورت تھی۔ فون پر ان سے رابطہ کچھ عرصے رہا، پھر انھوں نے بھی فون کرنا چھوڑ دیا۔

میرے پاس گاؤں آنے کے وعدے بھی کبھی وفا نہیں ہو سکے۔ زندگی کب کسی کے لیے رکتی ہے؟ میں خود کو پہلے سے زیادہ تنہا محسوس کرنے لگی۔

میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا دل ٹوٹنے کا کوئی مثبت طریقہ بھی ہو سکتا ہے؟ اس وقت مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملا لیکن ایک سال بعد میں خود ہی اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرنے رہی ہوں۔

دل ٹوٹنا ہوتا کیا ہے؟

ماہرِ نفسیات جو ہیمنگز کہتے ہیں:'یہ دراصل زبردست جذباتی نقصان کی کیفیت ہے۔ یہ حالت ہر انسان پر مختلف طریقے سے گزرتی ہے لیکن اس میں دکھ، غم اور غم کی حالت سے کبھی باہر نہ آ پانے کا احساس شامل ہوتا ہے۔

'اگر دماغ کے اندر دیکھا جائے تو وہی حصے ان جذبات کے ذمہ دار ہوتے ہیں جو اصل جسمانی درد کی صورت میں فعال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ایسی ہی علامات پائی جاتی ہیں جو نشے کے عادی افراد نشہ ٹوٹنے کے بعد محسوس کرتے ہیں۔'

میرے لیے یہ کیفیت ایسی تھی جیسے جسم اندر سے جل رہا ہو۔

ان علامات پر قابو پانا اصل مشکل ہے۔ اس دوران آپ پر ناقابلِ برداشت غلبہ طاری ہو جاتا ہے کہ آپ اپنے کھوئے ہوئے محبوب کو دوبارہ فون کریں، اس کی منت سماجت کریں، اسے سمجھانے کی کوشش کریں کہ آپ کون ہیں۔'

جو کہتے ہیں: 'جذباتی اعتبار سے تعلق ٹوٹنے سے آپ غم کے پانچ مراحل سے گزرتے ہیں: نفی، غصہ، سودا بازی، پژمردگی، اور بالآخر قبولیت۔'

دل ٹوٹنے سے کس طرح نمٹا جائے؟

یہ ایک آرٹ ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سائنس سے مدد نہیں لے سکتے۔ سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کر رکھی ہے کہ اس دوران جسم پر کیا گزرتی ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

مثال کے طور پر نفسیات کے ایک رسالے میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق تین طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ اپنے سابق ساتھی کی بری باتیں سوچنا، اس کے بارے میں اپنے محبت کو قبول کر لینا، اور اپنے ذہن کسی اور طرف الجھا لینا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تینوں طریقے تعلق ٹوٹنے کا غم غلط کرنے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

ان تینوں حکمتِ عملیوں کی مثالیں

  1. اس کے منھ سے بدبو آتی تھی، اسے خود اپنی آواز بہت پسند تھی۔
  2. پیار کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، چاہے اب وہ نہیں بھی رہا
  3. آج کیا شاندار موسم ہے

تعلقات کی ماہر ڈی ہومز کہتی ہیں: 'خود کو کچھ وقت دیں۔ اپنے دوستوں سے بات کریں اور ڈائری میں لکھیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ اس چیز کو اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں۔ اندھادھند فیصلے نہ کریں۔'

جو کہتی ہیں کہ اپنے سابق ساتھی کو سوشل میڈیا پر ان فالو کر دیں۔ 'ایسی تصویریں یا پیغامات ڈیلیٹ کر دیں جو آپ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اس سے آپ کے زخم مندمل ہونے میں مدد ملتی ہے۔'

غم کے مختلف مراحل میں غصے کا اپنا کردار ہے۔ میرا اپنا غصہ آتش فشانی تھا۔ غصے کے اپنے فائدے ہیں، کیوں کہ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ اس شخص کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ تاہم بعض دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ آپ خود کو یقین دلانے کی کوشش کریں کہ آپ نے کبھی ان سے محبت کی ہی نہیں تھی۔

آپ غور کریں کہ آپ کے ساتھی میں کیا خوبیاں تھیں، پھر ان خوبیوں کو کسی اور میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ میرا ساتھی بہت ہمدرد تھا۔ کیا دنیا میں اور ہمدرد لوگ موجود ہیں؟ ظاہر ہے، موجود ہیں۔

مجھے احساس ہوا کہ اس طرح سے اپنے تعلق کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔ شروع شروع میں نہیں۔ 'سمندر میں مچھلیوں کی کمی نہیں،' شروع میں یہ سوچ کسی کام کی نہیں ہوتی۔

لیکن رفتہ رفتہ اس احساس نے کام دکھانا شروع کر دیا کہ میرا ساتھی بےعیب نہیں تھا اور اس میں جو خوبیاں تھیں وہ اور لوگوں میں بھی ہیں۔

ان نکات کو اکٹھے کر دیں اور پھر ایک منصوبے کے خدوخال ابھرنے لگتے ہیں: اپنی صورتِ حال کو قبول کریں اور اپنے آپ کو غم اٹھانے کی اجازت دیں۔ اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں سے بات کریں۔ ڈائری لکھیں، سوشل میڈیا سے پرہیز کریں، تکلیف دہ چیزیں ڈیلیٹ کر دیں۔ اپنے توجہ بٹانے کی کوشش کریں۔

ساتھی سے رابطے کا خیال دل سے نکال دیں۔ اس کی خامیوں کے بارے میں سوچیں۔ اس پر توجہ مرکوز کریں کہ اس کی خوبیاں دوسرے لوگوں میں بھی پائی جا سکتی ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، وقت گزرنے دیں، جو سب سے بڑا مرہم ہے۔

اس عمل میں کتنا وقت لگتا ہے؟

آپ جلد بازی نہیں کر سکتے۔ ایک تحقیق کے مطابق تعلق کے بارے میں مثبت انداز سے سوچنے میں تین مہینے (11 ہفتے) لگتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے کہا، یہ کوئی سائنس نہیں ہے۔ خود مجھے اس پر قابو پانے میں چھ مہینے لگے۔ اس کے بعد سے میں نے اپنے سابق ساتھی کے لیے ایک آنسو بھی نہیں بہایا۔

دل ٹوٹنے کے بارے میں میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ اس سے نمٹنا اتنا آسان ہے کہ اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔ اصل گر یہ ہے کہ آپ سمجھیں کہ آپ اس قابل ہیں کہ آپ سے محبت کی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو کوئی اور مل جائے گا۔

ایو گبنی میرسی سائیڈ میں این ایچ ایس کی ایک نرس ہیں وہ 17 سال تک ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی گزارتی رہیں لیکن پھر ان کے شوہر نے ان سے عجیب برتاؤ شروع کر دیا۔ وہ بتا رہی ہیں کہ کس طرح وہ ایک جاسوس بن گئیں اور معلوم کیا کہ ان کے شوہر کی ایک اور زندگی بھی ہے۔

ہم سنہ 1995 میں نائیجیریا کے علاقے لاگوس میں جمعے کی رات کی ایک سوشل کلب میں ملے۔ میں وہاں نرسنگ آفیسر کے طور پر کام کرنے گئی تھی اور وہ ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

ہم فوراً ہی ایک دوسرے کی جانب کشش محسوس کرنے لگے۔

میں نے انھیں اپنا فون نمبر دیا لیکن غلطی سے دوسرا نمبر دے دیا۔ اس لیے کئی ہفتوں تک میں ان سے ملی اور نہ بات ہو سکی۔ پھر ہم ایک دن دوبارہ ٹکرا گئے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے مجھے فون کرنے کی کوشش کی۔

میں جلد ہی ان سے متاثر ہو گئی۔ ہم نے تین ماہ بعد شادی کر لی۔ ہم ایک لمبے عرصے تک ایک بندھن میں رہے۔ سب ٹھیک چل رہا تھا۔

دو سال بعد ہمارا بیٹا پیدا ہوا لیکن میرا اس سے پہلے بھی ایک بڑا بیٹا تھا۔ اس کے امتحانات کے وقت میں برطانیہ آئی اور اس کی مدد کی۔ تب بھی مجھے لگا ہماری شادی اچھی جا رہی ہے۔

ہمارا رشتہ چل رہا تھا کیونکہ یہ ہمارے لیے ہر طرح سے مناسب تھا۔ شاید یہ روایتی شادی نہیں تھی کہ جس میں آپ ہر وقت ساتھ رہتے ہیں لیکن یہ ہمارے لیے ٹھیک جا رہی تھی۔

ہم مسلسل رابطے میں تھے۔ ہم روزانہ ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے۔ ہمارے دوست کہتے تھے کہ شاید تم لوگ ساتھ رہنے والوں سے زیادہ رابطے میں رہتے ہو۔

سنہ 2011 میں وہ کام کرنے اومان گئے۔ اس دوران میں برطانیہ میں رہی تاہم ان کا رویہ بدلنے لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے وہ پہلے کی طرح باقاعدگی سے گھر نہیں آ سکتے۔ وہ کم کم گھر آنے لگے اور دو یا تین ہفتوں کے لیے آنے کی مخالفت کرنے لگے۔

مجھے اس بات پر تو شک نہیں ہوا لیکن اس سے ہمارے رشتے پر اثر پڑنے لگا۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ذہنی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ انھیں اومان میں رہنے کی پریشانی ہے اور اسی ذہنی دباؤ کے باعث وہ باقاعدگی سے گھر نہیں آ سکتے۔

اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ کا بہانہ کر کے ہمدردی حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس طرح وہ ان چیزوں سے بھی بچ جاتے جنھیں میں آسانی سے نہ جانے دیتی۔

انھیں سنہ 2012 میں کرسمس کے موقع پر گھر آنا تھا۔ 22 دسمبر کو انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا ’مجھے لینے ایئر پورٹ مت آنا، میں نہیں آ رہا، میں بہت ذہنی دباؤ ہوں۔ میں کونسلر سے ملا ہوں اس نے مجھے کہا ہے کہ گھر مت جاؤ۔‘

وہ جنوری میں گھر آئے اور اپنے ڈپریشن کے بارے میں بات کرنے سے صاف انکار کر دیا اس کی وجہ سے ہماری تکرار ہو گئی۔ وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ عدالت کے باہر یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔

انھوں نے ایک گاڑی کرائے پر لی تھی اور اسی میں چلے گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ واپس آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے اور نہ فون کا جواب دیا۔

میں کافی پریشان ہوئی اور کار کمپنی سے پوچھ گچھ کی تو وہاں خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ گاڑی واپس کر گئے ہیں۔

تب اس نے کہا ’میں انھیں اس وقت سے جانتی ہوں جب انھوں نے پچھلی بار کرسمس کے لیے گاڑی کرائے پر لی۔‘ میں نے بہانے سے مزید سوال کیے تو پتا چلا کہ انھوں نے اس وقت مہنگی گاڑی لی تھی اور اس مرتبہ سب سے سستی۔

تب اس نے کہا ’میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں، انھوں نے وہ گاڑی ویسٹ مڈ لینڈ میں ایک پتے پر رجسٹر کروائی تھی۔` اس نے مجھے وہ پتا دے دیا کیونکہ میں نے اپنے شوہر کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس خاتون کے بغیر تو شاید مجھے اس دوغلے شخص کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ مجھے اس کا شکریہ ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔

میں نے اس پتے کو دیکھا اور اس نمبر پر فون کیا تو یہ وائس میل پر گیا۔

کچھ دوستوں کی مدد سے پتہ چلا کہ اس پتے پر رہنے والا شخص مسقط میں کسی کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہے۔

میں نے سوچا یہ یقیناً اومان میں ان کے دوست ہوں گے اور واپس آنے پر ڈپریشن کی وجہ سے وہ گھر آنے کے بجائے یہاں رہ گئے ہوں گے۔

میں نے سوچا ’وہ اتنے ذہنی دباؤ میں ہیں اور کوئی افیئر چلانے اور اسے راز میں رکھنے کی حالت میں نہیں۔‘ میں نے اس بات کو جانے دیا۔

بلآخر میں نے مورس سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر تم گھر میں موجود اپنے بیٹے کو الوداع کیے بنا ہی جا سکتے ہو تو تم اس خاندان کے قابل نہیں ہو۔ اس لیے میں نے طلاق کے لیے کوشش شروع کر دی۔

میں نے اپریل سنہ 2013 میں فیس بک پر ان کی بہنوں کی مسقط میں بنی ایک تصویر بھی دیکھی تھی جن میں ایک بہن نے فیسینیٹر پہن رکھا تھا۔ یہ وہ چیز تھی جس نے مجھے شک میں مبتلا کیا۔

میں نے اپنی دوست سے کہا ’تمہیں نہیں لگتا انھوں نے شادی کر لی ہے۔‘ میں جانتی تھی کہ یہ کتنا مضحکہ خیز لگا تھا اور میری دوست سے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ تم ہمیشہ مضحکہ خیز باتیں کرتی ہو۔

مجھے مزید اگلے ایک سال تک کچھ پتہ نہیں چلا۔

میں نے اس نمبر پر دوبارہ کال کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے خود کو کار کمپنی کی اہلکار ظاہر کیا۔ پھر میں نے کہا ’آپ اپنا نام اور ان سے رشتہ بتا سکتے ہیں۔‘

دوسری طرف سے آدمی نے کہا ’میں ان کا برادر نسبتی ہوں۔‘

میں نے دوبارہ فون کیا اب کی بار میں نے اپنی شناخت نہیں بدلی ایک خاتون نے فون اٹھایا۔

میں نے کہا ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس آدمی نے یہ کیوں کہا کہ وہ مورس کا برادرِ نسبتی ہے۔‘ اس خاتون نے کہا ’کیونکہ اس کی شادی میری بہن سے ہوئی ہے۔‘

مجھے یاد ہے جب وہ یہ کہہ رہی تھی تو میں بری طرح کانپ رہی تھی۔ مجھے دوسرے ہاتھ سے فون والے ہاتھ کو تھامنا پڑا۔

میں نے کہا ’کیا یہ مورس گبنی ہی ہیں لیور پول سے؟ میں نے ان کا حلیہ بتایا تو اس نے جواب دیا ہاں وہی ہیں۔ لیکن آپ کون ہیں؟‘

میں نے کہا ’اس کی بیوی۔‘ اور فون کی دوسری جانب مکمل خاموشی چھا گئی۔

میں نہیں جانتی کہ میں کیا محسوس کر رہی تھی، انتہا درجے کی بے یقینی سی تھی، وہ میرا شوہر ہوتے ہوئے کسی اور سے کیسے شادی کر سکتا ہے‘۔

تاہم ایک عورت اور ایک ماں ہونے کے ناطے آپ آگے بڑھ جاتے ہیں۔

یقیناً اس مرحلے پر میں یہ نہیں جانتی تھے کہ یہ کیسا تعلق ہے اور وہ کتنے عرصے سے شادی شدہ ہیں اس لیے میں نے اپنے وکیل کو مطلع کیا۔

مورس نے اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ ہماری بہت عرصے پہلے طلاق ہو چکی ہے ہے اور میں پاگل عورت ہوں اور ایسی حرکتیں اس لیے کر رہی ہوں کہ مجھے علم ہوا ہے کہ وہ دوسری شادی کر رہا ہے۔

کچھ دن بعد ایک رات میں سو نہیں پا رہی تھی تو میں نے سوچا مجھے اس بارے میں مزید معلومات کرنے چاہئیں۔

میں فیس بک پر گئی وہاں اس عورت کا فیس بک پیج دیکھا۔ وہاں اس کی شادی کی تصاویر تھیں جس میں وہ عروسی لباس میں میرے شوہر کو چوم رہی تھی۔ تب مجھے پتا چلا کہ ان کی شادی مارچ سنہ 2013 میں ہوئی۔

یہ سب دیکھ کر مجھے کیسا لگا یہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں صدمے میں تھی۔ میں یہ دیکھ رہی تھی اور میں جاتنی تھی کہ یہ وہی ہے۔

ہم عدالت گئے اور میں نے جج سے کہا کہ وہ مورس کو بگمی (دو بیویاں رکھنے والا شخص) قرار دیں اور طلاق کے مقدمے کو معطل کر دیں۔ جج نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے لگتا ہے کہ میرے شوہر نے ایسا کیا ہے تو میں پولیس میں رپورٹ کروں۔ اگلے دن میں نے ایسا ہی کیا۔

انھیں اس جرم میں دو سال کی معطل اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

اس کی دوسری بیوی بھی اس کی متاثرہ تھی کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ ایک طلاق یافتہ مرد ہیں۔

میں نے انھیں عدالتی دستاویزات کے ساتھ ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا ’میں معذرت چاہتی ہوں کہ تم نہ میرے شوہر کے ساتھ شادی کی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ جتنا یہ میرے لیے لکھنا مشکل ہے تمہاری لیے پڑھنا بھی اتنا ہی مشکل ہوگا۔‘

وہ کہانی گڑھنے اور حقائق کو بگاڑ کر پیش کرنے کا ماہر تھا اس لیے اس نے اسے قائل کر دیا ہو گا کہ میں ایک پاگل سابقہ بیوی ہوں۔

اس نے اپنا خاندان کیوں تباہ کیا؟ اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چھ سال سے نہیں دیکھا۔

میں نہیں جانتی کہ اس نے سیدھا سیدھا آ کر یہ کیوں نہیں کہا کہ میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔ اس نے تباہی اور خاندان کو تکلیف دینے کا راستہ کیوں چنا۔ مجھے یہ کبھی پتا نہیں چلے گا۔

طلاق کے حتمی فیصلے کے دن ضلعی جج کو معلوم ہوا کہ عدالت کے ساتھ 56 معاملات میں دھوکہ دہی کی گئی جسے عدالت نے بددیانتی قرار دیا۔

مورس اپنے بینک اکاؤنٹس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دے پائے۔ انھوں نے اپنی وراثت کی معلومات بھی چھپائیں۔ جو بینک سٹیٹمنٹ انھوں نے دی وہ بھی ان کی نہیں تھیں اور نہ ہی وہ اکاؤنٹ ان کے تھے۔

انھوں نے اپنی تنخواہ کے بارے میں بھی جھوٹ بولا، انھوں نے بار بار جھوٹ بولا۔

اسی کی وجہ سے میں دوبارہ عدالت گئی اور ثابت کیا کہ ہمارے درمیان طے پانے والا سمجھوتہ دھوکہ دہی پر مبنی معلومات پر کیا گیا جس کے بعد جج نے مجھے ہمارے خاندانی گھر میں اس کا حصہ بھی دے دیا۔

عدالتی قوانین میں انصاف کا نظام تو ہے لیکن اسے لاگو کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ عدالت میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی کے تمام معاملات کی سزا نہیں دی گئی۔ عدالت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جو کہ بہت غلط ہے۔

اس دوسرے مقدمے کی وجہ سے مجھ پر 58 ہزار پاؤنڈ کا قرض چڑھ گیا۔ میں این ایچ ایس کے ساتھ نرس ہوں۔ میرے پاس اتنی رقم نہیں۔ میری تمام قانونی فیس کریڈٹ کارڈز پر ادا ہوئی ہے۔ ضلعی جج نے فیصلے کیا کہ مورس یہ رقم چار دن میں ادا کرے۔ انھوں نے یہ رقم ابھی تک ادا نہیں کی۔

مجھے خوشی ہے کہ وہ ہماری زندگی سے چلا گیا۔ اس شخص سے میں نے پیار کیا اور میرے بچوں نے اسے باپ سمجھ کر محبت کی۔ انھوں نے ہمیں ہر مقام پر دھوکا دیا۔

اب میں اس کے بارے میں کچھ بھی محسوس نہیں کرنا چاہتی۔ میں جھوٹ کہوں گی اگر میں کہوں کہ میں اسے ناپسند نہیں کرتی لیکن میں اس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی۔

میں اب ایسے شخص سے ملی ہوں جو میرے بیٹوں سے اچھے سے گھل مل گیا ہے۔ وہ بہت اچا انسان ہے اور مجھے خوش رکھتا ہے۔

سوشل میڈیا حالیہ عرصے میں جہاں عوامی رابطوں کا موثر ذریعہ بنا ہے وہیں پاکستان میں اب عام انتخابات سے قبل عوام کے ان مسائل کو سامنے لانے کا سبب بنا ہے جو پہلے کم ہی منظر عام پر آتے تھے۔

حالیہ دنوں میں جہاں صوبہ سندھ کے پسماندہ ضلع کشمور میں پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار سردار سلیم جان کا راستہ روک کر نوجوان ان سے علاقے میں گذشتہ دس برس اور بلخصوص پانچ برس کے دوران ہونے والی ترقیاتی کاموں کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں نوجوان سردار سلیم جان مزاری سے تعلیم کو نظر انداز کرنے اور تعلیم کے حق پر احتجاج کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور ساتھ میں علاقے میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس ویڈیو میں بظاہر سردار سلیم جان مزاری احتجاج کرنے والوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ نوجوانوں کو قائل نہیں کر پاتے۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد جمعرات کو ایک اور ویڈیو سامنے آتی ہے جس میں صوبہ پنجاب کے پسماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ نون کے رہنما سرادر جمال لغاری کے قافلے کا نوجوان راستہ روکتے ہیں اور ان سے علاقے کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں ایک نوجوان اپنے مسائل کے بارے میں بار بار بات کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن سرادر جمال لغاری کہتے ہیں کہ وہ تعزیت کے لیے جا رہے ہیں جس پر ہجوم میں آواز آتی ہے وہاں پانچ برس تاخیر سے کیوں جا رہے ہیں۔

بات زیادہ بڑھتی ہے تو اس پر سرادر جمال لغاری پہلے کہتے ہیں کہ آپ پہلے میرے سوالات کا جواب دیں کہ یہ 42 کلومیٹر طویل پکی سڑک کس نے آپ کو دی ہے۔۔۔ یہ کیا جمہوریت جمہوریت۔۔۔ مجھے پتہ ہے جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ یہ سڑک میں نے دی ہے۔۔۔

اس پر نوجوان سوال پوچھتا کہ سوال کا جواب دیں کہ کتنے عرصے سے آپ کو ووٹ دیے رہے ہیں۔۔۔ اس پر سرادر جمال لغاری کہتے ہیں کہ’ ایک ووٹ کی پرچی۔۔۔وہ بھی اپنے قبیلے کے سربراہ کو دے رہے ہو اور اس پر اتنا ناز۔۔۔آپ اپنے سوال کا جواب لینا بیٹا ۔۔۔ 25 جولائی کو۔۔۔‘

اس پر سرادر جمال لغاری وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں اور وہاں کھڑے نوجوان اپنے سوالات کا جواب نہ ملنے پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ان ویڈیوز کے سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد جہاں ملک میں دہائیوں سے انتخابات میں جیتنے والے سرداروں اور جاگیرداروں کے بارے میں بات کی جا رہی ہے تو وہیں ان نوجوانوں کی ہمت کو بھی داد دی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر پر طیبہ چوہدری نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ووٹ کو عزت دو یا ووٹ کی عزت لوٹو،‘، جمال لغاری کا رویہ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔اگر ویڈیو نہ بن رہی ہوتی تو شاید وہ نوجوان زندہ نہ بچتے.‘

اس پر رافی نے ٹویٹ کی کہ ’مسلم لیگ نون جمال لغاری کو ووٹ کی عزت بتائے تو آج اپنے حلقے کے ایک ووٹر سے پوچھ رہا تھا کہ ایک ووٹ کی پرچی پر اتنا ناز؟‘

ندیم احمد نہار نے اخباری تراشے کے ساتھ ٹویٹ کہ ’ن لیگی رہنما سردار جمال لغاری 5 سال بعد اپنے حلقہ میں آئے تو نوجوانوں نے راستہ روک کر سوال کرنے اور آئینہ دیکھانے پر سردار جمال لغاری نے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔‘

سوشل میڈیا پر زیادہ تر بیانات میں سردار جمال لغاری کی مذمت کی گئی لیکن ان کے دفاع میں بھی ٹویٹس کی گئی جس میں محمد رمضان علیانی نے ٹویٹ کی کہ ’جمال لغاری سے مجھے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ایسا بلکل نہیں ہونا چائیے اور ایسے غیر اخلاقی رویہ کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے۔‘

اسی طرح سردار سلیم جان کی ویڈیو پر سندھی ثنا نے ٹویٹ کی کہ’ جمال لغاری کے بعد ایک اور شہنشاہ وقت سردار سلیم جان مزاری کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی گئی۔۔۔ کاش سیاسی جماعتیں ڈکٹیٹروں اور چھاؤنیوں کے لاڈلے موقع پرست الیکٹبلز کے بجائے حقیقی عوامی نمائندوں کو آگے لانے کی کوشش کریں۔‘

پاکستان میں نوجوان مجموعی آبادی کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں نوجوان بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں تو اس طرح کی ویڈیوز سامنے آنے سے نوجوانوں کی مایوسی کی جھلک آئندہ عام انتخابات میں نظر آئے گی؟

اس پر صحافی اور تجزیہ کار ضرار کھوڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ویڈیوز پہلے بھی منظر عام پر آ چکی ہیں لیکن چونکہ اب انتخابات ہیں اور جس کے ہاتھ میں فون ہے اور فون میں کیمرہ ہے تو وہ ویڈیوز تو بنائے گا۔

اس میں آنے والے دنوں میں سوچ سمجھ کر ایسی ویڈیوز بنائی جائیں گی جس میں سیاسی مخالفین ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گے۔

ایسی ویڈیوز کے سامنے آنے کے حوالے ایک سوال کے جواب میں ضرار کھوڑو نے کہا کہ ایک ویڈیو کے سامنے آنے سے کسی کی کارکردگی ثابت یا رد نہیں ہوتی لیکن ظاہر ہے کہ وہ عوام کی آواز ہوتی ہے جو سامنے آتی ہے۔

ضرار کھوڑو نے کہا کہ’ اب سیاسی دانوں کو بھی محتاط ہونا چاہیے کہ وہ جہاں بھی ہیں اور وہاں کیمرے ہیں اور ایسا صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر ایک لیے ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کی گئی ہیں۔‘

پاکستانی سینما گھروں میں عید کے موقعے پر انڈین فلموں کی نمائش پر سرکاری پابندی کے فیصلے کے بعد ایک ہفتے تک تو پاکستانی فلمیں آپس میں ہی مدمقابل ہوں گی لیکن اس کے بعد بالی وڈ سٹار سلمان خان کی فلم ریس تھری بھی اس ریس میں شامل ہو سکتی ہے۔

عید کے موقع پر پاکستان کے سینما گھروں میں چار پاکستانی فلمیں سات دن محبت اِن، آزادی، وجود اور نہ بینڈ نہ باراتی نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔

عید کے موقع پر دو ہفتے کے لیے انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی کا فیصلہ گذشتہ ماہ سامنے آیا تھا اور اس کا مقصد مقامی فلمی صنعت کو بزنس کا موقع دے کر مضبوط بنانا تھا۔

بعدازاں اس پابندی کو ایک ہفتے تک محدود کر دیا گیا۔

اس پابندی کے اثرات پر بی بی سی اردو کے موسیٰ یاوری سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فلمساز سید نور نے کہا کہ پاکستان میں سینما گھروں کی تعداد کم ہونے کے باعث فلمیں اتنا بزنس نہیں کر پاتیں جتنا کرنا چاہیے۔ ان کے خیال میں عید کے دوران دو ہفتے تک انڈین فلمز پر پابندی کا فیصلہ زیادہ موثر ہوتا۔

ڈر یہ ہوتا ہے چونکہ سینما کم ہیں تو فلمیں بزنس اتنا نہیں کر پائیں گی جتنا انھیں کرنا چاہیے اور اتنا مضبوط نہیں بن پائے گی جتنا انھیں بننا چاہیے کیونکہ انڈین فلمیں بہرطور بڑی انڈسٹری کی فلمیں ہیں، بڑے ایکٹرز کی فلمیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بات نہیں ہے کہ ہم کسی خوف سے کہہ رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بزنس کرنے کا موقع ملنا چاہیے، کم از کم عید پر دو ہفتے مل جاتے تو لوگوں کی اپنی فلموں کے پیسے پورے ہو جاتے۔'

انڈین فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی پاکستان میں کچھ عرصے سے زیر بحث ہے۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ محدود بجٹ میں بنائی ہوئی پاکستانی فلمیں بڑے بجٹ کی انڈین فلموں کے سامنے بزنس نہیں کر پاتیں جبکہ سینما مالکان کا موقف ہے کہ فلم بین اگرانڈین فلموں کی نمائش کی بدولت سینما آتے ہیں تو انھیں ضرور چلنا چاہیے۔

ملٹی پلیکس برینڈ سنے پیکس کی سی ای او مریم ایل باچا کہتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستانی عوام بالی وڈ کی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سچ ہے اور اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم مکمل طور پر پاکستانی فلم انڈسٹری اور پاکستانی فلموں کی حمایت کرتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ عید کے دوران بالی وڈ کی فلموں پر پابندی کافی ہے۔‘

مریم باچا کا یہ بھی کہنا تھا کہ سنیما مالکان پاکستان کی فلم انڈسٹری کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں لیکن انھیں لوگوں کو سینما تک لانے کے لیے بالی وڈ کی فلموں کی بھی ضرورت ہے۔

’ہم جانتے ہیں کہ اتنے سارے لوگ اگر بالی وڈ کی فلموں کے لیے سینما آ رہے ہیں، تو یہ پاکستانی فلموں کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔‘

فلمی نقاد عمیر علوی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی فلم بینوں کے ساتھ زیادتی ہے کہ انھیں عید پر صرف پاکستانی فلمیں دیکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ’ان کے پاس چوائس ہونی چاہیے کہ وہ چاہے تو انڈین فلم دیکھیں، چاہے پاکستانی یا پھر انگریزی ۔ آپ انھیں صرف چار فلمیں دیکھنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری فلمی صنعت ابھی پنپ رہی ہے اور اسے جو مدد چاہیے وہ اسے سنیما میں انڈین فلموں سے ہی ملتی ہے۔

انڈین فلم جب ساتھ لگی ہوتی ہے تو وہ پاکستانی فلم کی بالواسطہ طور پر مدد کرتی ہے۔ وہ لوگ جو انڈین فلم دیکھنے جاتے ہیں ہاؤس فل ملنے کی صورت میں واپس نہیں چلے جاتے بلکہ ساتھ لگی کوئی نہ کوئی پاکستانی فلم دیکھ کر ہی جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کی مثال بجرنگی بھائی جان کے ساتھ لگنے والی دو پاکستانی فلمیں بن روئے اور رانگ نمبر ہیں جنھوں نے اس بڑی فلم کے ساتھ لگنے کے باوجود بہت اچھا بزنس کیا تھا۔ ’لوگ بجرنگی بھائی جان دیکھنے آتے تھے اور جگہ نہ ملنے پر ان میں سے کوئی ایک فلم دیکھ لیتے تھے۔‘

پاکستانی فلمیں اب آہستہ آہستہ عوام میں مقبول تو ہو رہی ہیں مگر پھر بھی بہت ساری فلمیں سینما ہال میں دیر تک ٹک نہیں پاتیں۔

اس بارے میں عمیر علوی نے کہا کہ شائقین کو متوجہ کرنے کے لیے اہم چیز تنوع ہے۔ ’ورائٹی ہو گی تو لوگ آئیں گے۔ ایک جیسی چار فلمیں لگا کر آپ شائقین کو متوجہ نہیں کر سکتے۔‘

بھارتی فلموں پر عارضی پابندی کے بعد عید کا چاند پاکستانی فلموں کے لیے کتنا مبارک ثابت ہو گا اس کا دارومدار شائقین پر ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ عید کے موقع پر پاکستانی فلمیں ان کی پہلی پسند بنتی ہیں یا پھر وہ بالی وڈ کی بلاک بسٹر کا انتظار کرتے ہیں۔

فیس بک پر دوستوں یاروں کو عید کی مبارک باد دینا تو عام سی بات ہے مگر واشنگٹن میں اگر آپ مسجد نہیں گئے تو عید کی نماز آپ تک برہ راست فیس بک لائیو کے ذریعے پہنچائی جائے گی۔ مساجد کا یہ جدید چہرہ آپ نے کیا کبھی پہلے دیکھا؟

امریکہ میں بسنے والے 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے جمعے کو عید منائی اور جیسے ہی عید کی صبح فیس بک کھولا تو مختلف مساجد، عید گاہ سے نماز باقاعدہ لائیو براڈکاسٹ کر رہی تھیں۔

واشنگٹن میں عید کو پر مسرت بنانے کے لیے چاند اور عید رات میلے بھی لگے ہیں۔ ورجنیا واشنگٹن ڈی سی سے لگ بھگ ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں واشنگٹن کے مقابلے میں زیادہ جنوبی ایشیائی آبادی رہتی ہے۔ جس کی وجہ بچوں کے لیے بہتر سکول کے مواقع ہے۔

کپڑے جوتے اور زیورات تو تھے ہی لیکن گھر کے پکے ہوئے کھانوں کے سٹال میری دلچسپی کا مرکز رہے۔ کیونکہ واشنگٹن ڈی سی میں ملنے والا دیسی کھانا صرف گورے ہی کھا سکتے ہیں۔

سالہ55 ہما خان ایک سٹال پر حلیم بیچ رہی تھیں۔ حلیم کا وہی ذائقہ جو کراچی والوں کو مغرور بناتا ہے، دس ڈالر کی ایک پلیٹ نے عید کا مزہ دُگنا کر دیا۔

کراچی سے سات سال پہلے یہاں آنے والی حما بڑے فخر سے اپنا سٹال اپنے بیٹے کے ساتھ چلا رہی تھیں، لیکن کراچی میں وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔

ہما کا کہنا ہے ’نہیں نہیں کراچی میں تو میں نے کام کبھی نہیں کیا، لیکن یہاں اپنی مرضی اور شوق سے کام کرنا آسان ہے۔ پچھلے سال عید سے پہلے ہم نے کم سے کم دس ہزار کمائے تھے۔‘

امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیا کے بیشتر لوگ کچھ رسومات کو توڑ رہے ہیں۔ اس مرکز میں 90 فیصد دکانداری خواتین کر رہی تھیں۔ مردوں کے چند ہی سٹال تھے۔

ممبئی سے 20 سال پہلے امریکہ آنے والی شروتی مالک شادی کے کپڑے بناتی ہیں۔ ان کے سامنے والا سٹال لاہور کی عائشہ خان کا تھا جو ہاتھ سے بنے کشمیری کپڑے پیچ رہی تھیں۔

دونوں کو جب خریداروں سے فرست ملتی تو سر جوڑ کر باتیں کرنے لگتیں۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی نفرت انگیز سیاست کا ان کی دوستی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

اسی مرکز میں موجود مرتضیٰ شیخ سے ملاقات ہوئی تو کچھ برہم معلوم ہوئے۔ ان کے بچے بھی ان کے ساتھ چنے، چاول بیچنے میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

وہ کہنے لگے ’میرے بچوں کی عمر کھیلنے کودنے کی ہی مگر وہ یہاں میرے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ زندگی اتنی مشکل ہوتی جا رہی کہ اخراجات پورے ہی نہیں ہوتے۔ اپنے ملک کی کیا ہی بات ہے مگر بچوں کے لیے یہاں آئے ہیں۔‘

مرتضی کے تین بیٹے ہیں جن کی عمریں سات، دس اور 15 برس ہے۔ وہ عید پاکستان کے ساتھ سنیچر کو منا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ماں کے ہاتھ کی سوئیاں نہ سہی کم سے کم میں عید تو ان کے ساتھ ایک ہی دن منا سکتا ہوں ناں!‘

پرینکا چوپڑہ جنھیں انڈیا میں کبھی دیسی تو کبھی پردیسی گرل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور لوگ انھیں ہالی وڈ میں انڈیا کی شان کہا کرتے تھے اچانک لوگوں کے عتاب کا نشانہ بن گئیں۔

دراصل پرینکا امریکی جاسوسی ٹی وی شو کوانٹیکو میں لیڈ کردار میں ہیں۔ یکم جون کو براڈکاسٹ ہونے والے شو میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہندو قوم پرست مسلمان بن کر حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پرینکا اس سازش کا پردہ فاش کرتی ہیں۔

اس کے بعد سے بھکت لوگ پرینکا کو پاکستان بھیجنے کا مشورہ نہیں بلکہ دھمکی دے رہے ہیں۔ ابھی تک تو بالی وڈ کے دو سپر سٹارز کو پاکستان بھیجنے کی سفارش ہو رہی تھی لو اب پرینکا بھی پاکستان کی ہوئیں۔

یہ تو پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے خوش خبری ہے اب بالی وڈ کی فلمیں پاکستان میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ بنائی بھی جا سکیں گی۔

ان دنوں پرینکا دوسری وجوہات کی وجہ سے بھی خبروں میں ہیں۔ امریکی سنگر، نغمہ نگار اور اداکار نِک جونز کے ساتھ پرینکا کی گہری دوستی کی خبروں نے اب افواہوں کا روپ دھار لیا ہے۔

ہالی وڈ میں آجکل پرینکا تقریباً ہر تقریب میں نِک جونز کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں نک کے بھائی کی شادی میں پرینکا اور جونز کی اینٹری نے کئی طرح کے سوالوں کو جنم دیا کہ 'کیا پرینکا کو اپنا مسٹر رائٹ مل گیا ہے؟'

ک نے اپنا کریئر محض سات سال کی عمر میں تھیئٹر سے شروع کیا تھا اور ابھی وہ محض 25 سال کے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کی شروعات گذشتہ سال میٹ گالا میں ہوئی تھی جہاں ان دونوں نے ایک ہی ڈیزائنر کے لیے ریمپ پر واک کی تھی۔

اس کے بعد سے ہی دونوں گاہے بگاہے ملتے نظر آئے اور کئی تقریب میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دکھائی دیئے۔ اب ان دونوں کے درمیان یہ رشتہ صرف دوستی تک محدود ہے یا پھر بات کچھ اور ہے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

انتخابات سے پہلے پاکستان شدید معاشی بحران کی سمت جاتا نظرآ رہا ہے۔

پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جمعرات کے روز ایک امریکی ڈالر کی قیمت 118 پاکستانی روپے سات پیسے تھی۔

اگر ڈالر کی کسوٹی پر بھارت سے پاکستانی روپے کا موازنہ کیا جائے تو بھارت کی اٹھنّی پاکستان کے ایک روپے کے برابر ہو گئی ہے۔

ایک ڈالر کی قیمت 67 بھارتی روپے ہے۔

پاکستان کا سینٹرل بینک گذشتہ سات ماہ میں تین مرتبہ روپے کی قدر میں کمی کر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کا اثر دکھائی نہیں دے رہا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی سینٹرل بینک بیلنس آف پیمنٹ کے بحران سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔

عید سے پہلے پاکستان کی معاشی بدحالی لوگوں کو مایوس کرنے والی ہے۔

پاکستان میں 25 جولائی کو عام انتخابات ہونے والے ہیں اور اس سے پہلے کمزور معاشی حالت کسی بھی ملک کے مستقبل کے لیے باعثِ تشویش ہوتی ہے۔

روپے کی قدر میں بھاری کمی سے یہ بات واضح ہے کہ تقریباً تیو سو ارب ڈالر کی پاکستانی معیشت شدید بحران سے گزر رہی ہے۔

غیر ملکی زرِ مبادلہ میں مسلسل کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں مسلسل گھاٹا پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور اسے ایک بار پھر عالمی مانیٹرِنگ فنڈ کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان اگر آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے تو یہ پانچ سال میں دوسری مرتبہ ہوگا۔ اس سے پہلے پاکستان 2013 میں آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔

روپے کی قدر میں کمی کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ یہ بازار میں اتھل پتھل کا نتیجہ ہے اور ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں نیشنل انٹسی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اقتصادی ماہر اشفاق حسن خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا ہے کہ ابھی پاکستان میں عبوری حکومت ہے اور الیکشن کے وقت وہ آئی ایم ایف جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

خان کا کہنا ہے تھا کہ پاکستان کی عبوری حکومت کو خود فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے تحت برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکومت مناسب اقدامات نہیں کر رہی۔

خان کا کہنا ہے کہ اگر ہم سوچتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی سے بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو ختم کیا جا سکتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ الیکشن میں اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو پٹری پر لانا ہے تو اسے پھر سے اقتدار میں لانا ہوگا۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا غیر ملکی زر مبادلہ اتنا کم ہو چکا ہے کہ صرف دو ماہ کی درآمدات میں ہی ختم ہو جائے گا۔

دسمبر سے اب تک پاکستانی روپے کی قدر میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔

پاکستان کے اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کہتے ہیں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے دو اسباب ہیں پہلی تو یہ کہ پاکستان کی درآمدات کی قیمت برآمدات سے دو گنا زیادہ ہے۔ ہم اگر سو ڈالر کی برآمدات کر رہے ہیں تو دو سو ڈالر کی درآمد کر رہے ہیں اتنا فرق ہے تو اس کا اثر تو پڑے گا ہی۔

دوسرا یہ کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں پاکستان میں جو نجنکاری ہوئی ہے اس میں ڈالر تو آیا ہے لیکن آمدنی وہ اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ڈالر ملک سے باہر زیادہ جا رہا ہے اندر کم آرہا ہے۔

ڈالر کی مانگ زیادہ ہے اور جس چیز کی مانگ زیادہ ہو وہ مہنگی ہوجاتی ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب ڈالر کی قیمت سٹیٹ بینک طے کرتا تھا اب یہ قیمت بازار طے کرتا ہے۔ جب حکومت کو لگتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے تو وہ اپنے ڈالر بازار میں فروخت کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ قیمت پر قابو پایا جا سکے۔

پاکستان بہت سی چیزیں باہر سے منگواتا ہے جیسے پیٹرولیم ، تیل اور انڈسٹریل ساز و سامان وغیرہ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اسے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ چین ہمیشہ پاکستان کو قرضہ نہیں دیگا اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینا بھی آسان نہیں ہے۔ پہلے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس دس سے بارہ سال میں جاتا تھا لیکن اب پانچ سال میں ہی جا رہا ہے۔

پاکستان کی ایکسحینج کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عام لوگ ڈالر نہیں بیچ رہے صرف ضرورت مند لوگ ہی مجبوری میں ڈالر کے عوض پاکستانی روپے خرید رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی عید ہے جب روپے کو کوئی نہیں پوچھ رہا۔

اس سے پہلے یہ ہوتا رپا ہے کہ بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی رمضان کے مہینے میں خرچ کے لیے اپنے عزیزوں کو رقم بھیجتے تھے۔ اور بازار میں رونق رہتی تھی۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’فیمنسٹ‘ وہ لڑکیاں ہیں جو چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں، شراب سگریٹ پیتی ہیں اور رات بھر پارٹی کرتی ہیں۔ جو دستیاب ہوتی ہیں اور جنھیں بغیر ذمہ داری والے رشتے بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور لڑکوں کو خود سے کم تر سمجھتی ہیں۔ جو برابری کے نام پر وہ سب کرنے کی ضد کرتی ہیں جو لڑکے کرتے ہیں۔ مثلا گالی دینا وغیرہ۔

لیکن ’فیمنسٹ‘ ہوتی کون ہیں؟

فلم 'ویرے دی ویڈنگ‘ کی ہیروئنز بھی میڈیا سے ہونے والی ہر بات چیت میں یہی کہتی رہیں کہ یہ فلم چار آزاد خیال لڑکیوں کی کہانی ہے 'فیمنسٹس' کی نہیں۔

یہ اور بات ہے کہ اس فلم میں چار ہیروئنز چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں، شراب سیگریٹ پیتی ہیں، رات رات بھر پارٹی کرتی ہیں اور ان میں سے ایک ہیروئن کو ایک مرد دستیاب سمجھتا ہے اور شراب کے نشے میں دونوں میں جسمانی رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے جس کے بعد بھی ہیروئن اس مرد کو خود سے کمتر سمجھتی ہے۔

فلم میں گالیاں تو جیسے دعا سلام کی طرح استعمال ہوئی ہیں۔

ایک ہیروئن تو اپنے شوہر کی تعریف ہی اس کے سیکس کرنے کی قابلیت پر کرتی ہے۔ اب ایسے میں عام خیال میں تو وہ فیمنسٹ ہی ہوئیں۔

فلم چار عورتوں کے ارد گرد بنائی گئی ہے جس میں کوئی مرد مرکزی کردار میں نہیں ہے اور یہ کہانی کسی مرد کے گرد نہیں گھومتی۔

جب میں فلم دیکھنے گئی تو سوچا کے بدلتی دنیا کی بدلتی عورت کی کہانی ملے گی جس کی کہانی صرف محبت اور اس کے بعد شادی نہیں ہو گی۔لیکن پردے پر عام خیال والی فیمنسٹ عورتیں ہی ملیں۔

فلم میں شادی کی اپنی جگہ ہے اور باقی رشتوں کی اپنی جگہ جس میں سہیلیوں کی وہ گہری سمجھ ہے جو عورتیں بھی ویسی ہی بنا لیتی ہی جیسے مرد۔۔

الگ الگ زندگیوں کو گوندنے والی وہ پہچان جو ہمارا معاشرہ ہماری جنس کی بنیاد پر ہمیں دیتا ہے۔

عورتوں میں اکثر شادی کرنے کا دباؤ، کریئر بنانے کی خواہش، بچے دیر سے پیدا کرنے کی لڑائی ہوتی ہے کہانی میں وہ سب ہو سکتا تھا لیکن کہانی ایک سطح پر ہی سمٹ کر رہ گئی اور کچھ حد تک عام خیال والی فیمنسٹ عورتیں ہی ملیں۔

یہ فلم عام سے اصل کا سفر طے نہیں کر پائی۔ فلم نے ایک قدم آگے بڑھایا تو تین قدم پیچھے رہ گئی۔

اب اصل فیمنسٹ عورتوں کی بات کی جائے تو وہ اپنی بات شراب سگریٹ اور گالی کے بغیر بھی بےباک طریقے سے کہہ سکتی ہیں۔ انھیں مرد کو ملنے والی ہر آزادی حق کے طور پر چاہیے۔ محض مردوں کی طرح برتاؤ کرنا آزادی کی علامت نہیں ہے۔

فیمنِسٹ ہونا بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ وہ مردوں کو نیچا دکھانا یا ان کے خلاف ہونا نہیں ان کے ساتھ چلنا ہے۔

وہ خوبصورتی ہے جو ہوٹل میں بِل چکانے کی چھوٹی سی ضد میں ہے۔ نوکری کرنے یا گھر سنبھالنے کی آمادگی میں ہے۔ اور یہ جانتے ہوئے آوارہ گردی کرنے میں ہے جب دل میں یہ سکون ہو کہ مجھے محض ایک استعمال کی چیز نہیں سمجھا جائے گا۔

صحیح کہا تھا اس فلم کی ہیروئنز نے کہ یہ فیمنِسٹ فلم نہیں ہے۔

انتظار رہے گا اس فلم کا جسے فیمنزم کی اصل سمجھ کے ساتھ بنایا گیا ہو اور جسے بنانے والوں کو خود کو فیمنِسٹ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہ ہو۔

انڈیا کے شہر ممبئی کی تنگ گلیوں کی بھول بھلیوں میں ایک چھوٹے سے مکان میں سراج اور ساجدہ اپنے تین بچوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے۔ سراج ایک باروچی تھے اور ساجدہ نے اپنی 13 سالہ ازواجی زندگی میں زیادہ تر وقت خاتون خانہ طور پر گزارا۔

لیکن چند ماہ قبل اُن کی مثالی زندگی میں بھونچال اُس وقت آیا، جب انڈین حکام نے سراج پر غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں پاکستان بھیج دیا۔

یہ 24 سال پہلے کا واقعہ ہے، جب سراج کی عمر 10 سال تھی۔ امتحانات میں خراب نتیجہ آنے پر وہ پاکستان کے جنوب میں اپنے آبائی علاقے شرکول سے یہ سوچ کر باہر نکلے تھے کہ کراچی جا رہے ہیں۔ لیکن لاہور ریلوے سٹیشن پہنچ کر وہ غلط ٹرین میں سوار ہو کر انڈیا پہنچ گئے۔

سراج کہتے ہیں کہ جب وہ اٹاری پر اترے تو انھیں کچھ سمجھ نہیں آیا اور انھوں نے رونا شروع کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ 'میرا قریب آ کر ایک شخص نے مجھے چپ کروایا اور کہا کہ خاموش رہو۔'

سراج کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کے ساتھ رہے جو انھیں لے کر اپنے گھر پرانی دہلی آ گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں نے اُس کا نام نہیں پوچھا تھا۔ مجھے صرف یہی یاد ہے کہ اُس کے سامان میں بہت سی جناح کیپ تھیں۔ میں سوچا کہ یہ اُس کا کاروبار ہے۔'

سراج کو یاد ہے کہ اُس شحض کے خاندان کو سراج کا آنا بہت زیادہ ناگوار گزرا تھا اور اُس شخص کی بیوی نے تو اُس پر اور سراج پر غصہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ 'ایک دن وہ شخص انھیں ریلوے سٹیشن لایا اور ٹرین پر سوار کر دیا۔ اُس نے کہا کہ ٹرین مجھے گھر چھوڑ دے گی لیکن ٹرین مجھے ممبئی لے آئی۔'

سراج نے مجھے بتایا کہ'کچھ دن تک تو میں یہی سمجھا کہ یہ کراچی ہے پھر مجھے پتہ چلا یہ تو انڈیا ہے۔'

سراج اپنے پیچھے پر موجود پہاڑوں کی طرح کافی مطمئن ہیں لیکن بہت اداس اور سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'دو سال کے بعد جب میری عمر 12 سال تھی تو میں خود سے حکام کے سامنے پیش ہوا۔ پولیس کو شبہ تھا کہ میں کشمیری ہوں وہ مجھے دس دن کے لیے کشیمر لے گئے۔ اس امید کے ساتھ کہ گھر مل جائے گا مجھے مختلف مقامات پر لے جایا گیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔'

'حکام مجھے گجرات لے آئے اور مجھے بچوں کی جیل میں ڈال دیا۔ میں نے احمد آباد جیل میں تین سال گزارے اور رہائی کے بعد میں ممبئی آ گیا، جہاں میں نے رفتہ رفتہ اپنی زندگی کو کھڑا کیا۔'

سراج نے اپنی عمر کے ابتدائی سال ممبئی میں گزاریے جہاں کئی مرتبہ انھیں سڑکوں پر بھوکا سونا پڑتا لیکن بعد میں وہ ماہر باورچی بن گئے۔

سنہ 2005 میں اپنی ہونے والی بیوی سے ملاقات سے قبل وہ اچھا کماتے تھے۔ اپنے ہمسایوں کی مدد سے اُن کی ملاقات ساجدہ سے ہوئی اور انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ساجدہ رو پڑیں۔ 'انھوں (حکام) نے میری دنیا تباہ کر دی ہے۔ میرے بچے اپنے باپ کو دیکھنے کو بے تاب ہیں۔ انڈیا میں ایک شخص کی جگہ نہیں تھی؟ میں اب حکام سے گذارش کرتی ہوں کہ مجھے اور میرے بچوں کو پاسپورٹ دیں تاکہ ہم سراج سے پاکستان میں جا ملیں۔'

مسائل شروع اس وقت ہوئے جب 2009 میں سراج نے خود کو ایک پاکستانی کے طور پر انڈین حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ تاکہ وہ اپنے والدین سے جا کر مل سکیں جو کہ ان کی تلاش میں تھے۔

سراج کا کہنا ہے کہ '2006 میں اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد مجھے اپنے والدین یاد آنا شروع ہوگئے۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے ساتھ سختی میرے بھلے کے لیے کر رہے تھے۔'

سراج کا کہنا ہے کہ ممبئی کی سی آئی ڈی نے ان کے کیس میں تفتیش شروع کی تو انھیں پتا چلا کہ اس کا خاندان پاکستان میں ہے۔ انھیں پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کی بجائے انھوں نے سراج کو انڈیا میں غیرملکیوں کے قانون کے تحت گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا۔

پانچ سال تک سراج نے قانونی جنگ لڑی مگر آخر میں وہ کامیاب نہ ہو سکے اور انھیں پاکستان بھیج دیا گیا۔

ساجدہ واضح طور پر پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں 'حکومت کی جانب سے کسی نے ہمیں نہیں پوچھا۔ کیا صرف اس لیے کہ ہم مسلمان ہیں؟ میں حکام سے التجا کرتی ہوں کہ مجھ پر اور میرے بچوں پر رحم کریں اور پاسپورٹ حاصل کرنے میں ہماری مدد کریں۔'

ساجدہ کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے مالکِ مکان کی طرف سے این او سی چاہیے اور ساجدہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔

سراج نے اپنے پاکستانی شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی ہے مگر عملی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہیں۔ یہ دونوں ہی قانونی مسائل میں پھنسے اور ایک سرحد کی وجہ سے بٹے ہوئے ہیں۔

سراج پریشان اس لیے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ '25 سال پہلے میں اپنے والدین سے علیحدہ ہو گیا تھا اور اب میں اپنے بچوں سے۔ میں نہیں چاہتا کہ دو دہائیوں قبل میں جس چیز سے گزرا تھا میرے بچے بھی وہی درد سہیں۔'

سراج کہتے ہیں کہ ان کے لیے انڈیا اور پاکستان ایک جیسے ہیں۔ وہ پیدا ایک ملک میں ہوئے اور انھوں نے اپنی زندگی دوسرے ملک میں بنائی۔ مگر بہ اپنے خاندان کو سب سے زیادہ یاد کرتے ہیں۔

اپنے آبائی گاؤں میں بھی سراج کی زندگی پیچیدہ ہے۔ انھیں پشتون ثقافت اپنانے میں سب سے زیادہ مشکل پیش آ رہی ہے۔ اگرچہ ان کا تعلق اسی ثقافت سے ہے مگر وہ اتنی کم عمری میں گئے تھے کہ اب انھیں یہ اپنا معلوم نہیں ہوتا۔

ادھر ساجدہ کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں۔ جب سے سراج گئے ہیں، وہ اکیلی ہیں۔ انھوں نے بطور باورچی کام کرنا شروع کر دیا ہے اور گھر کے خرچے پورے کرنے کے لیے وہ مصنوعی زیور بھی بنا رہی ہیں۔

'میں اپنے بچوں کی تمام تر ضروریات پوری کر بھی لوں، چاہے انھیں دنیا کی ہر آسائش دے دوں، میں باپ نہیں بن سکتی۔ انھوں (حکام) نے میرے بچوں کو باپ کے پیار اور شفقت سے محروم کر دیا ہے۔'

انھوں نے انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو بھی مدد کے لیے اپیل کی ہے۔ سشما سوراج کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سرحد پار مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔

انٹرویو کے دوران سشما سوراج کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'میں بھی اس ملک کی بیٹی ہوں۔ خدارا میری اپنے شوہر سے ملنے میں مدد کریں۔'

اسلام آباد میں مقیم ایک خاتون نے اپنے بھائی کے خلاف قانون کا در کھٹکھٹایا ہے اور اُن کا الزام ہے کہ اُن کے بھائی نے اُن کی دو بیٹیوں کو ریپ کیا تھا۔ ان خاتون نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے اپنی کہانی بیان کی اور بتایا کہ جب اُن کی آٹھ اور بارہ برس کی بیٹیوں نے اُن سے اپنے ماموں کے بارے میں شکایت کی تو وہ یہ معاملہ سمجھ نہیں سکیں کیوں کے وہ اپنے بھائی پر اندھا اعتماد کرتی تھیں۔

میں پچھلے کئی ہفتوں سے کبھی پشاور کبھی لاہور اور کبھی اسلام آباد میں گائنا کالوجسٹ کے کلینک کے چکر لگا رہی ہوں اور اپنی دونوں کم سن بچیوں کی سرجری کی منتظر ہوں، جو میرے اندھے اعتبار کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی اذیت اور ناقابل بیان تکلیف کا شکار ہوئی ہیں۔

اب انھیں سکول سے بھی نکالا جا رہا ہے کیونکہ سکول انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ ان کے ادارے کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہیں۔

جس دن میری بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی میرے علم میں آئی اس دن میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں لیکن پھر میں نے اس بات کو چھپانے کے بجائے پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہی ہے کہ سب والدین بیدار ہو جائیں۔ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ کیسا ہے۔ آپ اپنے بھائی باپ اور والد پر یقین کریں ضرور کریں لیکن اپنی آنکھیں بند نہ رکھیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔

میرے کام کی نوعیت ایسی تھی کہ مجھے کبھی شہر سے باہر بھی جانا پڑتا تھا لیکن بچھلے دو سال سے جب بھی میں گھر سے نکلنے کے لیے تیاری پکڑتی میرے بڑی بیٹی کانپنے لگتی اور کہتی امی آپ ہمیں بھی ساتھ لے جایا کریں وہ بہت روتی اور فریاد کرتی تھی لیکن میں اس کی وجہ یہی سمجھتی رہی کہ وہ پڑھائی میں دل نہیں لگا رہی۔

میں چاہتی تھی کہ وہ پڑھیں لکھیں اور میرے کام میں دلچسپی نہ لے۔

میں نے ان 14 برسوں میں کبھی بھی کسی مرد کو ملازم نہیں رکھا تھا یا خود کام کرتی تھی یا خاتون ملازمہ کی مدد لیتی۔ جب میرا بھائی تھوڑا سمجھدار ہوا اور میں دوسرے شہر منتقل ہوئی، تو میں نے بھائی کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔ اسی عرصے میں میرے شوہر نے بیرون ملک کاروبار شروع کر دیا۔

میرا 19 سالہ بھائی مجھے سودا سلف لانے اور بچوں کو سکول لانے لے جانے اور میری مدد کرتا۔

میرے گھر سے نکلنے پر بچیاں روتی تھیں لیکن کبھی انھوں نے ایسا کچھ نہیں بتایا کہ مجھے شک ہوتا یا میں کچھ جانچنے کی کوشش کرتی۔

ان دو سالوں میں کچھ غیر معمولی نہیں ہوا ہاں یہ تھا کہ مجھے ہر دوسرے دن بچیوں کو پیٹ میں درد کی شکایت پر معدے کے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتی تھی۔

ہر وقت درد رہتا تھا اور ڈاکٹر کو کیا معلوم کہ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ مجھے یہی کہتے تھے کہ باہر کی چیزیں مت کھلائیں چپس وغیرہ۔

چند ہفتے قبل وہ ایک معمول کی صبح تھی میرے تین سالہ بیٹے نے مجھے کہا کہ اُسے ناشتا کرنا ہے میں رات دیر سے کام سے لوٹی تھی سوچا کہ اپنے چھوٹے بھائی سے کہتی ہوں وہ ناشتا بازار سے لے آئے۔ کمرے سے نکلی تو آٹھ سالہ بیٹی کے رونے کی آواز سنائی دی۔

میں سمجھی کہ بچے آپس میں کسی بات پر لڑ رہے ہیں میں بھائی کے کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے اسے اپنی بیٹی کے ساتھ ایسی حالت میں دیکھا کہ میں بیان نہیں کر سکتی، میں ایسی ہو گئی جیسے مر گئی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم میں کیسے گری کیسے میں نے خود کو مارا اور کیسے اُسے پیٹا۔

میرا بھائی وہاں سے فرار ہو گیا پھر میں پولیس کے پاس جانے کے بجائے اپنی ماں کے پاس گئی۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں بچیوں کو گائنا کالوجسٹ کے پاس لے کر گئی ہوں اور اس نے بتایا ہے کہ تمھاری بچیاں ٹھیک نہیں ہیں۔

لیکن میری ماں مجھ سے ایسے ملی جیسے میری بیٹوں نے ان کے بیٹے کے ساتھ کچھ ایسا کیا ہے۔ نہ مجھے پانی کا پوچھا اور نہ ہی میرا دکھ بانٹا۔

میری ماں اب تک اپنے بیٹے کا ساتھ دے رہی ہیں ہاں لیکن وہ ڈی این اے پر اصرار کر رہی ہیں۔

پھر میں نے رپورٹ درج کروائی میرا بھائی گرفتار ہو گیا۔

میرے خاندان والے میرے ساتھ نہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ سب چھپا دیتی شور نہ مچاتی لیکن میں سوچتی ہوں کہ میری بیٹیاں جو ابھی تو نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن کل جب وہ بڑی ہوں گی تو اور انھیں پتہ چلے گا خود پر گزری زیادتی کا تو کیا وہ مجھ سے سوال نہیں کریں گی کہ ماں نے انھیں انصاف کیوں نہیں دلایا؟

میری بیٹیاں اسی کا نام لیتی ہیں۔ وہ سوتے میں چیخنے چلانے لگتی تھیں اور مجھے انھوں نے بتایا کہ یو ٹیوب پر ماموں ہمیں قتل کرنے والی ویڈیو دکھاتے تھے۔ کبھی پنکھے سے لٹکتی لاشیں کہ اگر تم نے ماما کو بتایا تو تمھیں مار دوں گا۔

بھائی کی گرفتاری کے بعد جب بیٹیوں نے مجھے یہ سب بتایا تو میں نے ان کی تسلی کے لیے دو تین بار انھیں ہتھکڑی لگے ہوئے بھائی کو دکھایا تو وہ پر سکون اور خوش ہوئیں۔

میرے شوہر اس بات کو منظر عام پر لانے میں میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے سوشل میڈیا پر لوگوں کے پیغامات ملتے ہیں جن میں زیادہ تر افراد میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں بہت کم ہیں جو تنقید کر رہے ہیں۔

اپنے بچوں کے سامنے تو نہیں لیکن چھپ چھپ کر روتی ہوں میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں چپ رہوں سب کے بچے میرے بچے ہیں میں اس امید کے ساتھ کھڑی ہوں کہ مجھے حکومت اور قانون انصاف دے گا۔

والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے، جب وہ سکول سے لوٹیں تو ان سے پوچھیں کہ دن کیسا گزرا کیا کھایا دوستوں کے ساتھ کیا کھیلا؟ انھیں اعتماد دیں تاکہ وہ خوف اور دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

سکول میں بھی بچوں کو اپنے تحفظ اور اپنے والدین سے ہر بات شیئر کرنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ بالکل ایسے جیسے آپ اسلامیات، انگریری اور اردو پڑھاتے ہیں یہ بھی سکھائیں کہ ’گڈ ٹچ‘ اور ’بیٹڈ ٹچ‘ کیا ہوتا ہے اور یہ کہ اگر کوئی آپ کو چھوئے تو اپنی امی کو بتائیں۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے مطابق سنہ 2017 میں پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کم از کم 3445 واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں 60 فیصد کیسز میں بچے کو ہراساں کرنے والے اُن کے قریبی لوگ یا خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔

یہ 1984 کی بات ہے جب میں ابھی کالج میں ہی تھا۔ اتنے زیادہ ٹی وی چینل نہیں تھے جتنے اب ہیں بلکہ پی ٹی وی کے علاوہ صرف امرتسر ٹی وی ہی لاہور میں دیکھا جا سکتا تھا اور وہ بھی اس وقت جب موسم صاف ہو۔ نہ ہی خبر حاصل کرنے کے لیے کوئی سوشل میڈیا تھا اس لیے اچھی اور بری خبریں دھیرے دھیرے ہی کانوں تک پہنچا کرتی تھیں۔

گھر میں امرتسر ٹی وی آتا تھا لیکن یہ خبر وہاں سے نہیں ملی۔ یہ خبر ملی پاکستانی اخباروں، پی ٹی وی اور ریڈیو سے کہ سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر تین جون 1984 کو بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہے اور اس میں کئی سکھ مارے گئے ہیں۔ اس وقت یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت ایک ہی عمارت کا نام ہے یا یہ دو الگ الگ عمارتیں ہیں۔ اس فوجی آپریشن کو ’آپریشن بلیو سٹار‘ کا نام دیا گیا۔

بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں سکھ برادری کے ایک رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ نے وہاں کئی برسوں سے ڈیرے جمائے ہوئے تھے اور وہ پہلے اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے علیحدہ ملک کا نعرہ لگایا تو دوستی دشمنی میں تبدیل ہو گئی۔

بھنڈراوالہ بس گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں بیٹھے کسی ایسے دن کا انتظار کر رہے تھے جب بھارتی فوج غلطی کرے۔ اور تین جون کو اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی سے غلطی ہو گئی۔ فوج کو حملے کا حکم ہوا اور پھر بھارتی توپخانے اور ٹینکوں سے حملہ کر دیا۔ بڑا خون خرابہ ہوا۔ اگرچہ انڈیا نے پنجاب میں کرفیو لگایا لیکن بین الاقوامی میڈیا خصوصاً بی بی سی گولڈن ٹیمپل پر حملے کی رپورٹیں مسلسل نشر کر رہا تھا۔ مارک ٹلی اس رپورٹنگ میں سرِ فہرست تھے۔

اگر میں آج سوچوں تو یاد آتا ہے کہ اس دور میں انڈیا اتنے زیادہ قریب نہیں تھا جتنا اب میڈیا اور 'ایکسپوژر' کی وجہ سے ہو گیا ہے۔ 'دشمن' بہت دور تھا اور اس کے متعلق زیادہ خبر بھی نہیں تھی۔

مجھے یاد ہے کہ میری اور میرے جیسے بیشتر پاکستانیوں کی ہمدردیاں فوراً سکھ برادری سے ہو گئیں اور کم از کم پاکستان میں یہ سمجھا جانے لگا کہ کیونکہ اب بھارتی فوج نے سکھوں کے 'مکہ' پر حملہ کیا ہے اس لیے سکھ اسے کبھی نہیں بھولیں گے اور اب وہ ہندوستان سے تو کم از کم الگ ہو جائیں۔ ہم ناتجربہ کار اور نادان نوجوان تھے۔

گولڈن ٹیمپل میں مزید پانچ دن خون خرابہ ہوتا رہا اور جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ اور ان کے بہت سے ساتھی مارے گئے۔

سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد چار سو سکھ اور تراسی فوجی بتائی گئی لیکن سکھ یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں۔

اگرچہ گولڈن ٹیمپل کو اکا دکا گولیوں کے نشانات کے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا لیکن اکال تخت اور اس سے ملحق عمارتوں کو بموں اور بھاری اسلحہ سے کیے گئے حملے کی وجہ سے بھاری نقصان پہنچا۔

ہلاکتوں کے بعد سوگ تھا، ہر طرف سوگ۔ جنھوں نے قبضہ کیا اور مارے گئے ان میں بھی سوگ اور جنہوں نے حملہ کیا اور قبضہ چھڑایا ان میں بھی سوگ۔ لیکن سب سے زیادہ سوگ عام سکھ برادری میں تھا جسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس کی طرف داری کرے۔ ایک غصہ تھا جو دبا ہوا تھا۔ یہ غصہ چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنھیں ان کی ہی سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اور گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کا بدلہ لیا۔ لیکن اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً دلی میں سکھ مخالف مظاہرے ہوئے جس میں کم از کم تین ہزار سکھ ہلاک کر دیے گئے۔

سنہ 2012 میں اس آپریشن کی بازگشت ایک مرتبہ پھر لندن میں سنی گئی جب چند سکھ نوجوانوں نے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی، انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر چاقو سے اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل واپس آ رہے تھے۔ کلدیپ سنگھ برار آپریشن بلیو سٹار کے کمانڈنگ آفیسر تھے اور انھیں اس آپریشن کا آرکیٹکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ جنرل (ر) برار کی گردن پر ایک گہرا زخم آیا لیکن وہ جان لیوا نہیں تھا۔ وہ جلد ہی صحت یاب ہو گئے۔ اس حملے کے سلسلے میں برطانیہ میں درجن بھر سکھوں کو گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں پانچ کو جن میں ایک عورت بھی شامل تھی حملہ اور اس کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں سزائیں سنائی گئیں۔

میں جب 1997 میں اپنی بیوی کے ساتھ امرتسر گیا تو میرا ایک سکھ دوست ہمیں گولڈن ٹیمپل دکھانے لے گیا۔ جب وہ اکال تخت کی عمارت کے سامنے آیا تو اس نے سر جھکا کر کہا یہ ہے ہماری شرمندگی کی نشانی۔ کم از کم اس وقت تک تو وہ عمارت اسی طرح ٹوٹی ہوئی موجود تھی اور ہر آنے والے سکھ کو یہ یاد دلاتی تھی کہ جون 1984 میں کیا ہوا تھا۔

 

سما شبیر عام کشمیری لڑکیوں سے محض اس لیے مختلف نہیں ہیں کہ انھوں نے انڈیا بھر میں منعقدہ بارہویں جماعت کے وفاقی امتحانات میں کشمیر سے ٹاپ کیا۔

وہ اس لیے بھی مختلف ہیں کہ ان کے والد شبیر احمد شاہ سینیئر علیحدگی پسند رہنما ہیں جنھوں نے کُل ملا کر اب تک 31 سال مختلف جیلوں میں گزارے ہیں۔

بارہویں جماعت میں داخلہ لیتے ہی سما کے والد شبیر شاہ کو قانون نافذ کرنے والے سرکاری ادارے (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے خفیہ ذرائع سے رقوم لے کر مسلح شورش کو فنڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔

امتحانات کی تیاری کے دوران جب سما دلی کی تہاڑ جیل میں والد سے ملنے جاتیں تو انھیں پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا، لیکن وہ یہ وقت جیل کے باہر پڑھائی میں صرف کرتی تھیں۔

سما کہتی ہیں: ’ویسے بھی کشمیر میں اگر آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہوا پھر بھی حالات کا اثر آپ کے دل و دماغ پر پڑتا ہے، لیکن میں ذاتی طور پریشان تھی، میرے بابا جیل میں تھے اور ملاقات اس قدر مشکل تھی کہ ایک دن جیل کے باہر انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن میں کتابیں ساتھ لے جاتی تھی اور انتظار کے دوران جیل کے باہر پڑھتی تھی۔‘

سما کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد سے متاثر ہوئیں کہ وہ سالہاسال سے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اپنے مقصد کے لیے کوشاں ہیں، اس لیے انھوں نے بھی طے کر لیا کہ وہ اُن کے لیے فخر کا باعث بن کر دکھائیں گی۔

سما شاہ کی والدہ سرکاری ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر ہیں اور وہ خود انصاف کی لڑائی لڑنے کے لیے وکالت کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔

یہ پوچھنے پر کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مظاہروں میں حصہ لیتے ہیں لیکن انھوں نے سارا وقت امتحان کی تیاری میں صرف کیا۔ سما کہتی ہیں کہ انھوں نے بچپن سے اپنوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کا طویل سلسلہ دیکھا ہے۔

’میری لڑائی قانونی ہو گی، اسی لیے میں نے ڈاکٹر یا انجنیئر بننا نہیں چاہا، میں وکیل بنوں گی، اور کشمیر ہو یا کوئی اور جگہ میں ناانصافیوں کے خلاف اپنی تعلیم اور اپنا ہنر بھرپور استعمال کروں گی۔‘

سما کی والدہ ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ خاوند کے جیل میں قید ہونے کے بعد انھوں نے بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ’جیل کے اندر شبیر شاہ کا سر فخر سے اونچا ہو۔‘

سما کو دکھ ہے کہ وہ اپنی شاندار کامیابی کی خبر سب سے پہلے اپنے والد کو نہیں سنا پائیں۔

’انھوں نے اخبار میں پڑھا ہوگا، لیکن میں انہیں اس اہم موقع پر دیکھنا چاہتی تھی، وہ بہت خوش ہو جاتے۔ ہمیں تو جیل میں بھی انہیں شیشے کی آڑ سے دیکھنا ہوتا ہے اور بات بھی مائیکرو فون کے ذریعے ہوتی ہے۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکثر علیحدگی پسند رہنماؤں کے بچوں نے تعلیم کے میدان میں اہم کارنامے کیے ہیں۔

سید علی گیلانی کے ایک فرزند ڈاکٹر اور چھوٹے بیٹے زرعی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، مسلح رہنما سید صلاح الدین کے چھوٹے بیٹے بھی ڈاکڑ ہیں، آسیہ انداربی کے فرزند ملیشیا میں اعلیٰ تعلیم میں مصروف ہیں۔ البتہ سید گیلانی کے دست راست اشرف صحرائی کے بیٹے جنید خان حالیہ دنوں تعلیم ادھوری چھوڑ کر مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شریک ہوگئے۔

علیحدگی پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نوجوان خود اپنا راستہ چنتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منگل کو ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے سکھوں کے مذہبی رہنما چرن جیت سنگھ اکثر اوقات مذہبی رواداری اور امن کے فروغ کے لیے ہونے والے پروگراموں میں سرگرم اور پیش پیش رہا کرتے تھے۔

پشاور میں سکھ برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ چرن جیت سنگھ کو منگل کو پشاور کے علاقے سکیم چوک میں اپنے دوکان میں مسلح حملہ آور نے پستول سے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

انھوں نے کہا پولیس کے مطابق واردات میں سائلنسر والے پستول کا استعمال کیا گیا ہے کیونکہ قریبی دکانوں میں کسی کو فائرنگ کی آوازسنائی نہیں دی۔ انھیں اس وقت واقعے کا علم اس وقت ہوا جب سکھ رہنما کی موت ہو چکی تھی۔

مقتول پشاور میں سکھوں کے سرگرم مذہبی رہنما تھے اور ان کے میڈیا کے نمائندوں سے بھی بڑے اچھے اور قریبی مراسم تھے۔

اپریل 2014 میں خیبرپختونخوا میں سکھوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا تو میں اس ضمن میں ایک رپورٹ بنانے کے لیے پشاور میں سکھ برادری کے مرکز محلہ جوگن شاہ کے گوردوارہ پہنچ گیا۔ یہاں مجھے چرن جیت سنگھ ملے جس نے گوردوارے میں ہمارا استقبال کیا۔ میں نے ان کا ٹی وی اور ریڈیو کے لیے مفصل انٹرویو بھی کیا۔ اس انٹرویو کے کچھ حصے اس وقت میرے سامنے موجود ہیں۔

چرن جیت سنگھ نے اس وقت کہا تھا کہ ’پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمارے آبا و اجداد یہاں رہتے آئے ہیں، پھر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے تو ہمارے اپنے گھر ہیں، یہاں ہم پلے بڑھے ہیں یہ ہماری اپنی مٹی ہے لیکن افسوس یہاں ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا اگر سکھ باشندے اپنی پیدائش کے مقامات میں بھی محفوظ نہ ہوں تو پھر وہ کہاں جائیں یہ ملک چھوڑ دیں یا کیا کریں۔

'ہم پہلے بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک سے ہجرت کر کے نہیں آئے بلکہ ہم اسی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارا جینا مرنا بھی یہاں ہے۔'

بنیادی طورپر چرن جیت سنگھ کا تعلق قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے تھا لیکن وہ گذشتہ 27 برسوں سے خاندان سمیت پشاور میں مقیم تھے۔ وہ سکھوں کے مذہبی مبلغ بھی تھے۔

پشاور کی سکھ برادری مذہبی بھائی چارے کے فروغ کے لیے پشاور میں رمضان کے مہینے میں غریب اور نادار مسلمانوں کے لیے مفت افطاری کا اہتمام کرتی آئی ہے اور یہ سلسلہ گذشتہ تین سالوں سے جاری ہے۔

مقتول چرن جیت سنگھ اکثر اوقات اس مہم میں پیش پیش ہوتے تھے۔ سکھوں کے مخیر افراد شہر کے مختلف علاقوں میں دستر خوان لگا کر ہر رمضان کے دوران چار سے پانچ مرتبہ مفت افطاری کا انتظام کیا کرتے تھے جس میں شہر بھر کے غریب مزدور شرکت کرتے تھے۔

تاہم سکھوں کے نمائندوں کے مطابق اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافے کے باعث اس سال ان افطاریوں کی ذرائع ابلاغ پر زیادہ تشہیر نہیں کی گئی۔

پشاور میں سکھوں کے ایک نوجوان رہنما باباجی گورپال سنگھ کا کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے افراد ہر وقت گھر کے اندر، باہر یا کام کی جگہ پر ڈر اور خوف کی حالت میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

انھوں نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا کہ سکھوں کے خلاف جاری تشدد کے واقعات کا فوری طورپر نوٹس لیا جائے اور انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چرن جیت سنگھ کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے اور صارفین کی طرف سے سکھ برادری کے ساتھ اظہار تعزیت کیا جارہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ رخشندہ ناز نے فیس بک پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’چرن جیت سنگھ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کرنی چاہیے تھیں کیونکہ مذہبی راوداری اور امن کے فروغ کے لیے ان کی خدمات گراں قدر رہی ہیں۔‘

ایک اور صارف سید حسن علی شاہ نے لکھا ہے کہ ’چرن جیت سنگھ کو مسلمانوں کےلیے افطاری کا انتظام کرنے کی سزا دی گئی اور کسی مذہبی رہنما نے اس انسان دوست شخص کو قتل کرنے کی مذمت تک نہیں کی۔‘

سماجی کارکن ثنا اعجاز نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’چند دن پہلے ہم نے سنا کہ انڈیا میں ایک سکھ فوجی نے ایک مسلمان کو مشتعل ہجوم سے بچایا اور کل ہم نے پشاور کے مضافات میں دیکھا کہ ایک سکھ رہنما کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔‘

انگلینڈ میں ناٹنگھم شہر کے کمیونٹی سینٹر اور باکسنگ سکول میں اپنے شاگردوں کی کوچنگ کرتی ہوئی زہرا بٹ اپنے حجاب کی وجہ سے کافی منفرد دکھائی دیتی ہیں۔

زہرا بٹ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون ہیں۔ وہ برطانوی امیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کی لیول ون باکسنگ کوچ ہیں۔

’میں بیٹی کی پیدائش کے بعد اپنا وزن کم کرنے کے لیے جمنازیم گئی تھی لیکن پھر ورزش کے لیے کی جانے والی یہ باکسنگ میری زندگی کا حصہ بن گئی۔ میں چاہتی تھی کہ ناٹنگھم کے کمیونٹی سینٹر میں خواتین کے لیے باکسنگ کلاسز ہوں لیکن وہاں کوئی خاتون کوچ موجود نہیں تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مجھ سے ہی کہا گیا کہ میں برطانوی امیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کا لیول ون کورس کروں جو میں نے کیا اور اب میں دوسروں کو باکسنگ سیکھا رہی ہوں۔‘

زہرا بٹ کے لیے باکسنگ کوچ بننے کا یہ سفر ہرگز آسان نہیں رہا کیونکہ انھیں لوگوں کی طرح طرح کی باتیں بھی سننی پڑی تھیں۔

’عام طور پر ہماری خواتین اور بچیوں کے بارے میں فیصلے فیملی کے بڑے بزرگ کرتے ہیں۔ میری زندگی کے بھی تمام فیصلے میری فیملی نے مل جل کر کیے لیکن باکسنگ کو اپنانے کا فیصلہ میں نے خود کیا تھا۔ لوگوں نے میرے گھر والوں کو کہا کہ یہ کیا کر رہی ہے۔ آپ نے اسے باکسنگ کی اجازت کیوں دی ہے؟ یہ اچھی بھلی درس و تدریس کے معزز شعبے میں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان باتوں سے میری والدہ بہت پریشان ہوتی تھیں۔ انھیں میرا فیس بک پر تصاویر پوسٹ کرنا بھی پسند نہ تھا اور وہ ناراض ہو کر کہتی تھیں کہ سب کو کیوں بتاتی ہو کہ تم باکسنگ کوچ ہو۔ میں انھیں کہتی تھی کہ اگر لوگوں کو یہ پسند نہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے میرا نہیں۔ میں جو کچھ کررہی ہوں وہ کرتی رہوں گی۔‘

زہرا بٹ اپنے حجاب کو خوش قسمتی اور انفرادیت کی علامت سمجھتی ہیں۔

’میں نے پندرہ سال پہلے یہ حجاب اپنی مرضی سے پہنا تھا اور یہ میری طاقت اور ہمت ہے۔ میں نے اپنی ٹریننگ کے دوران اسے کبھی نہیں اتارا۔ میرے لیے حجاب خوش قسمت ثابت ہوا ہے اور اب یہ میری پہچان بھی بن چکا ہے کیونکہ اگر میں یہ نہ پہنتی تو کوئی میرے کام میں دلچسپی نہیں لیتا۔ غیرمسلم لڑکیاں اسی کی وجہ سے میری طرف متوجہ ہوتی ہیں۔‘

زہرا بٹ نے اگرچہ رِنگ میں باقاعدہ کوئی باؤٹ نہیں لڑی لیکن وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جس نے خود باکسنگ نہیں لڑی وہ اچھا کوچ نہیں بن سکتا۔

آپ کی نظر باہر سے جس طرح دیکھ سکتی ہے وہ چیز آپ رِنگ کے اندر سے نہیں دیکھ سکتے۔ میں نے اگرچہ کوئی فائٹ نہیں لڑی ہے لیکن میں اپنے کوچ اور ساتھیوں کے ساتھ باقاعدگی سے سپارنگ (باکسنگ کی تربیت) کرتی ہوں، میں اپنی ٹریننگ بڑھانا چاہتی ہوں اور خود کو اس لیول تک لانا چاہتی ہوں کہ باؤٹ کر سکوں۔‘

زہرا بٹ کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی اب ان کے کام سے بہت خوش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے یہ سفر تنہا شروع کیا تھا لیکن مجھے اپنے ساتھ رہنے والی خواتین کا بہت ساتھ رہا۔ انگریز لوگوں نے میری ہمت بڑھائی اب میری فیملی بھی میری حوصلہ افزائی کر رہی ہے لیکن خاندان میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو میرے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ میں گھر میں بیٹھ کر پارلر کا کام کیوں نہیں کر رہی ہوں۔ میں انھیں یہی کہتی ہوں کہ اگر ہر عورت گھر میں بیٹھ کر پارلر کا کام کرتی تو یہ کام کون کرتا جو میں کررہی ہوں۔‘

کراچی کی ایک مقامی مسجد پر نگرانی کے لیے نصب کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجن کے قریب مسلح افراد 30 سالہ نعیم حیدر کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض نے چہروں پر نقاب پہن رکھے تھے جبکہ دیگر پولیس وردی میں تھے۔

یہ 16 نومبر 2016 کی رات تھی۔ اس کے بعد سے آج تک نعیم حیدر کو نہیں دیکھا گیا۔ بطور ثبوت سی سی ٹی وی ویڈیو موجود ہونے کے باوجود پولیس اور خفیہ اداروں نے عدالت میں انکار کر دیا کہ وہ ان کی حراست میں ہیں۔

شیعہ افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق نعیم حیدر ان 140 پاکستانی شیعہ افراد میں شامل ہیں جو گذشتہ دو سال کے دوران ’لاپتہ‘ ہوئے۔ ان افراد کے خاندان والوں کے خیال میں یہ تمام افراد خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔

ان لاپتہ افراد میں جن میں نعیم حیدر بھی شامل ہیں، 25 سے زیادہ کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہے۔

نعیم حیدر کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ حراست میں لیے جانے سے دو روز قبل ہی اپنی حاملہ بیوی کے ہمراہ عراق میں زیارات کے بعد کراچی پہنچے تھے۔

ان کی اہلیہ عظمیٰ حیدر کے ہاں بیٹے کا جنم ہوا جس نے آج تک اپنے والد کو نہیں دیکھا ہے۔ عظمیٰ نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے بچے ہر وقت مجھ سے پوچھتے ہیں، ہمارے والد کب گھر آئیں گے؟‘

وہ کہتی ہیں ’میں انھیں کیا جواب دوں۔ مجھے کوئی نہیں بتاتا کہ وہ کہاں ہیں۔ کم از کم یہی بتا دیں کہ ان پر الزام کیا ہے۔‘

لاپتہ ہونے والے دیگر شیعہ افراد کے اہلخانہ کے پاس بھی بتانے کو کچھ ایسی ہی کہانی ہے کہ ان کے پیاروں کو رات کی تاریکی میں سکیورٹی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

کراچی کے ہی ایک متوسط علاقے میں ایک مکان میں جمع شیعہ خواتین نے مجھے بتایا کہ انھیں حکام کی جانب سے ان کے گمشدہ رشتہ داروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا کہ آیا انھیں کہاں رکھا گیا ہے یا ان کے خلاف الزامات کیا ہیں۔

شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ ان افراد پر شام میں سرگرم ایک مسلح ملیشیا زینبیون بریگیڈ سے رابطوں کا شک ہے۔

زینبیون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ملیشیا ایک ہزار کے قریب شیعہ پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو شام میں صدر بشارِالاسد کی جانب سے برسرِپیکار ہے تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف شام میں مقاماتِ مقدسہ کا تحفظ ہے جنھیں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے خطرہ لاحق رہا ہے۔

تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے اس تنظیم کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی لاپتہ ہونے والی کسی بھی فرد کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

راشد رضوی کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے بیشتر مقاماتِ مقدسہ کی زیارات سے واپسی کے بعد غائب ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ریاستی اداروں کے کچھ نمائندے میرے پاس آئے تھے۔ انھوں نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم احتجاج ختم کریں مگر میں نے ان سے پوچھا آپ نے ان لوگوں کو کیوں اٹھایا تو ان کا جواب تھا ہمارے خیال میں یہ شام میں داعش اور القاعدہ سے لڑنے گئے ہیں۔‘

راشد رضوی کا کہنا تھا کہ ’اس پر میں نے ان سے سوال کیا اگر ایسا ہے تو انھیں عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کرتے۔‘

اس بارے میں جب پاکستانی ریاستی اداروں سے سوال کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ تاہم پاکستانی حکام اکثر یہ کہتے ہیں کہ ملک میں سکیورٹی اداروں کو غیرمنصفانہ طور پر لوگوں کو لاپتہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور یہ کہ ملک میں لاپتہ افراد کی تعداد بھی بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔

لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستان میں حساس ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اس وقت 1500 ایسے افراد ہیں جنھیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان میں مشتبہ سنّی جہادی، قوم پرست کارکن اور فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقدین بھی شامل ہیں۔

لاپتہ ہونے والے شیعہ افراد میں سے کچھ واپس بھی آئے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص نے جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے، بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’ایک چھوٹے اور تاریک کمرے‘ میں رکھا گیا تھا جہاں انھیں ’شدید تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا اور ’بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان سے بار بار زینبیون کے بارے میں ہی سوال کیے جاتے رہے اور پوچھا جاتا رہا کہ وہ اس تنظیم میں کس کو جانتے ہیں اور انھیں کہاں سے مالی مدد ملتی ہے۔

واپس آنے والوں میں ثمر عباس بھی ہیں جو 14 ماہ کے طویل عرصے تک لاپتہ رہنے کے بعد رواں برس مارچ میں گھر لوٹے ہیں جبکہ ان کے برادرِ نسبتی آج بھی لاپتہ ہیں۔

ثمر کا کہنا ہے کہ انھیں حراست میں رکھنے والوں نے انھیں یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ وہ بےقصور ہیں اور اپنی زندگی جیسے چاہیں گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ تاہم ان کے مطابق دورانِ تفتیش ان سے بھی زینبیون کے بارے میں سوال کیے جاتے رہے۔

’انھوں نے مجھ سے کہا تم لوگوں کو لڑائی کے لیے شام بھیجنے میں ملوث ہو۔ ہمیں ان کے نام بتاؤ۔ میں نے انھیں کہا، میں تو خود آج تک شام نہیں گیا۔‘

زینبیون بریگیڈ شام میں سرگرم ان شیعہ ملیشیاز کا حصہ ہے جن کا تعلق ایران سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں زینبیون کے علاوہ لبنانی حزب اللہ اور افغانی جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ بھی شامل ہے۔

زینبیون ان میں سب سے کم منظرِ عام پر آنے والا گروپ ہے تاہم اس کے ارکان کی جانب سے تنظیم کے جنگ میں مارے جانے والے کچھ ارکان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں۔ ان میں سے کئی کا تعلق بظاہر پاکستان کے قبائلی علاقے کرّم ایجنسی سے ہے جہاں شیعہ آبادی پائی جاتی ہے۔

محققین کا یہ بھی اندازہ ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں اب تک 100 سے زیادہ پاکستانی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں پاکستانی خفیہ اداروں کو خدشہ ہے کہ زینبیون کے پاکستان واپس آنے والے ارکان ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں تاہم وہ خود اس سے متفق نہیں۔

لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ دار کسی مسلح گروہ سے منسلک نہیں اور وہ بس ان کی واپسی چاہتے ہیں۔

 سالہ65 شمیم آرا جب اس دن کا ذکر کرتی ہیں جب ان کے سب سے چھوٹے بیٹے عارف حسین کو مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے تو ان کے آنسو نہیں تھمتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے تو کہا تھا ہم اس سے کچھ سوال پوچھ کر اسے چھوڑ دیں گے۔ ڈیڑھ برس بیت گیا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں۔ اگر انھوں نے اسے مار دیا ہے یا وہ زندہ ہے مجھے کچھ تو بتا دو۔ میں سارے شہر میں اسے ڈھونڈتی پھری ہوں۔‘

شمیم آرا کا کہنا تھا کہ ’میں رو رو کر تھک گئی ہوں۔ میں دعائیں مانگ مانگ کر تھگ گئی ہوں۔ خدا کے واسطے مجھے بتا دو میرا بیٹا کہاں ہے۔‘

اٹلی میں زیرِتعلیم پاکستانی طالبہ جس نے اپنے گھر والوں پر پاکستان لے جا کر دھوکے سے اسقاطِ حمل کروانے کا الزام عائد کیا تھا بازیابی کے بعد واپس اٹلی پہنچ گئی ہے۔

سالہ19 فرح نامی طالبہ اٹلی کے شہر ویرونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چند ماہ قبل وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔

فروری میں ان کے گھر والے انھیں مبینہ طور پر زبردستی واپس پاکستان لے گئے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف ان کا بچہ گرایا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھیں اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے ریسکیو کیا۔

کچھ روز تک اطالوی سفیر کے گھر پر رہنے کے بعد فرح جمعرات کی صبح میلان کے میلپینسا ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ اب اطالوی پولیس ان کا بیان لے گی جس کے بعد قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اطالوی میڈیا میں شائع ہونے والے فرح کے بیانات کے مطابق انھوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ انھوں نے فرح کو ’نشہ آور ادویات دے کر بستر سے باندھ کر اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔‘

یاد رہے کہ فرح کی کہانی منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے قبل ہی ایک اطالوی خاتون کی پاکستان میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی جنھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

 سالہ26 اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت 18 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ وہ بیمار تھیں۔ جس روز وہ ہلاک ہوئیں اس کے ایک دن بعد انھیں اٹلی واپس جانا تھا۔ تاہم ان کی پر اسرار حالات میں موت پر اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد مقامی پولیس نے جانچ پڑتال شروع کی تھی۔

اطالوی وزیرِ خارجہ اینجلو الفانو نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ’فرح آخرکار اٹلی لوٹ آئی ہیں اور اب محفوظ جگہ پر ہیں۔‘ اینجلو الفانو نے پاکستانی حکام کے تعاون کی تعریف بھی کی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق فرح کا خاندان 2008 میں ویرونا منتقل ہوا تھا۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کی ملاقات ان کے موجودہ منگیتر سے ہوئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔

فرح نے پہلی بار حکام سے ستمبر میں رابطہ کیا تھا اور انھیں خواتین کے مقامی شیلٹر نے تحفظ دیا ہوا تھا۔ ان کے والد کو برے سلوک کے حوالے سے مقامی حکام کے پاس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم بعد میں ان کی اپنے خاندان کے ساتھ صلح ہو گئی تھی اور وہ اس خیال سے ان کے ساتھ پاکستان گئی تھیں کہ ان کے بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔

جب ویرونا میں ان کی ساتھی طلبا نے اپنی ٹیچرز سے رابطہ کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سماجی امور کی ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے دستاویزات چوری کر لیے گئے تھے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ فرح اطالوی شہری نہیں ہیں اس لیے اٹلی کی وزارتِ خارجہ اور ویرونا پولیس نے پاکستانی حکام سے مدد مانگی جنھوں نے اسلام آباد میں فرح کا گھر تلاش کیا۔