Get engaged in the biggest community of Pakistan
Let people know about you worldwide
Public Feed
جب اس صدی نے ہی فکری و عملی انتہا پسندی سے جنم لیا ہے تو پھر زبان و بیان کے بارے میں اعتدالئے کی توقع کرنا نرا حمق ہے ۔یہ ’آپ جناب، حضور قبلہ‘ جیسے آداب ِگفتگو نبھانے کا... see more نہیں ’ابے تو کیا چیز کتے‘ کا دبنگ دور ہے۔
گئے وہ دن جب حضرتِ اقبال ’جعفر از بنگال صادق از دکن‘" کو ’ننگ ِ ملت ننگِ دیں ننگِ وطن ‘ کی گالی دے کر مطمئن سو جاتے تھے۔ جناح صاحب نے سب سے بڑی گالی بھلا دی بھی تو کیا ؟ ’ابوالکلام آزاد شو بوائے آف کانگریس ہیں۔‘
کیا زمانہ تھا کہ عطا اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری بھی دشنام کو ادبی چاکلیٹ میں ڈبو کے پیش کرتے تھے۔ بھٹو کا زخیرہِ دشنام چوہے اور ڈبل بیرل خان اور سور کے بچو سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ضیا الحق کی گالی ’سیاستدان میرے پیچھے دم ہلاتے آئیں گے‘ پر ختم ہوگئی۔ پرویز مشرف نے قاضی حسین احمد کو نفسیاتی مریض اور ریپ زدہ خواتین کو مغربی ممالک کی شہریت کا لالچی قرار دینے پر ہی بس کر دی۔
لیکن آج کی سیاسی نسل کی قوتِ برداشت اور شائستگی کا امتحان یہ ہے کہ کس کی گالی زیادہ جاندار اور کس کی پھسپھسی ہے۔ جتنی زو معنی اور فحش گفتگو اتنی ہی جاندار لیڈری۔
جدید سیاسی بیانیے اور انشا پردازی کے سیموئیل جانسن، کیٹس، محمد حسین آزاد اور مولوی عبدالحق دراصل ڈونلڈ ٹرمپ، مودی، یوگی آدتیا ناتھ، ایمن الزواہری، الطاف حسین، خواجہ آصف، شیخ رشید، عمران خان اور خادم حسین رضوی وغیرہ وغیرہ ہیں۔ جس کو ڈانس نہیں کرنا ہے جا کے اپنی بھینس چرائے۔
یہ اکابرینِ دشنام ایسی پاپولر ہستیاں ہیں جو لاکھوں کے لیے رول ماڈل اور ان کا ہر لفظ ، ٹویٹ، تقریر اور پریس کانفرنس مشعلِ راہ ہے۔ اگر وہ ایک گالی دیتے ہیں تو بے شمار تقلید پسند اسے مثالیہ جان کر سوشل میڈیا سکرینز کو دس گنا زیادہ جدت آمیز تھوکیلی مغلظات سے بھر دیتے ہیں۔
ن رہنماؤں کے دشنامی جملوں اور فرمودات کو تبرک سمجھ کے مدلل دفاع کیا جاتا ہے۔ لسانی موتی جان کے شاعری اور گیتوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ ایڈیٹنگ کا زیور پہنا کر اور پر کشش بنایا جاتا ہے۔
اگر ثبوت درکار ہو تو سوشل میڈیا پے مقبولیت کے پائیدان پر سب سے اوپر علامہ خادم حسین رضوی کی شہرہِ آفاق ’پین دی سری‘ سے تخلیق ہونے والے نثری ، بصری و نغماتی شاہکار دیکھ لیں۔ گجرات کے دنگوں میں مرنے والے مسلمانوں پر افسوس کا اندازِ مودی ملاحظہ کر لیں۔ فرماتے ہیں ’اگر گاڑی کے نیچے ایک کتے کا پلہ آجائے تو مجھے اس کا بھی دکھ ہوگا۔‘
یوگی آدتیا ناتھ کے اس جملے پر تالیوں کی والہانہ مجمع وار گونج سن لیں کہ ’اگر انھوں نے (مسلمانوں نے) لو جہاد کا دھوکہ دے کر ایک اور ہندو لڑکی نکالی تو ہم ان کی دس لڑکیاں نکالیں گے۔‘ اس کے بعد اگر یوگی کا کوئی بھگت یہ بھی کہہ دے کہ ہم انھیں قبر سے نکال کر ریپ کریں گے تو تالیاں کیوں نہیں بجیں؟
دوسری جانب افریقی ممالک کو ’بول و براز‘ قرار دینے والی ٹرمپیانہ ٹویٹ نگاری پڑھ لیں، ترک صدر اردوغان اور اماراتی وزیرِ خارجہ کے درمیان لٹیرے اور بزدل کا ٹویٹری ملاکھڑا چیک کر لیں۔
اپنے پاکستان میں جاتی عمرہ (شریف برادران کی نجی رہائش گاہ ) کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دعوت اور بلاول بھٹو کو بلو رانی کا خطاب دینے والے میڈیا ڈارلنگ شیخ رشید یا پارلیمنٹ اور اس کے ارکان پر بے شمار عمرانی لعنت اور اس کی مزید وضاحت کے لیے پریس کانفرنس اور اس سے بھی پہلے ریلو کٹے، چور، ڈاکو، بے شرم، بے غیرت کے القابات کے روزمرہ پر غور فرما لیں۔
زرداری کا پیٹ چیر کر دولت نکالنے کی شہبازی بڑک یاد کر لیں، خواجہ آصف کی ٹریکٹر ٹرالی اور ’یہ عورتیں‘ کا حقارت ناک اندازِ تخاطب ملاحظہ کر لیں۔ ہر تیسرے عالم، مذہبی سیاستداں اور اینکر کے منہ میں نصب کافر ساز فیکٹری کا معائنہ کر لیں۔
مصالحہ اتنا تیز اور مقابلہ اس قدر گلا کاٹ کہ اب تو آنر ایبل چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی تقریب میں کہنا پڑتا ہے کہ ’مجھے ہمیشہ بتایا گیا ہے کہ تقریر عورت کے سکرٹ کی طرح ہونی چاہیے۔ اتنی لمبی بھی نہیں کہ بوریت ہو جائے اور اتنی مختصر بھی نہیں کہ موضوع تشنہ رہ جائے ۔‘ توجہ دلانے پر بعد میں وضاحت بھی کرنا پڑتی ہے کہ یہ دراصل چرچل نے کہا تھا۔
اور ان سب افکار کا تیزابی ست ہر شام انڈیا اور پاکستان کے بیسیوں ٹی وی چینلز کروڑوں گھروں کے نونہالوں کے کانوں میں ٹاک شوز کی قیف لگا کے ٹنوں کے حساب سے انڈیل رہے ہیں۔
ایسے میں کمزور دل اور کرتا پاجامہ شیروانی ٹوپی یافتہ مس فٹ شرفا جو آج بھی تمیز تہذیب، سعادت مندی، گھر کی تربیت، اچھی صحبت جیسی فضولیات اور گنوار کی گالی ہنس کے ٹالی جیسے پھٹیچر محاوروں کے اسیر ہیں۔ ان کے لیے خوشخبری ہے کہ بس کچھ ہی دنوں کی زحمت ہے۔ ابدی سکون اگلے موڑ پر کھڑا ہے اور ان کی طرف آیا ہی چاہتا ہے۔
مگر اب آزادی اور انفرادی و اجتماعی حقوق کے نام پر ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ اپنے جوہر میں غلام سازی و غلام پسندی کا دور ہے۔ کل تک میری جواب دہی کا حق بیوی یا والدین یا عدلیہ... see more کے پاس تھا۔ آج مجھے بطور فرد ہر ہر قدم پر قائم سوالیہ پولیس چوکیوں سے گذر کے وضاحتوں کی پل صراط کا سامنا ہے ۔ خاموشی کا حق بھی جرم بن چکا ہے۔
مثلاً محض ایک دو یا تین بار یہ کہہ دینے یا لکھنے سے جاں بخشی نہیں ہو سکتی کہ میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا اور فلاں فقہ کو مانتا ہوں۔اب مجھ پر لازم ہے کہ سوشل میڈیا کے منبر پر براجمان دارلعلوم فیس بک اور جامعہ ٹویٹریہ کے فاضل ڈیجیٹل علماِ کرام کی تسلی کے لیے ہر کچھ کچھ عرصے بعد اعلان کرتا رہوں کہ میں ختمِ نبوت پر کامل ایمان رکھتا ہوں۔ ایسی کسی بھی اجنبی یا شناسا پوسٹ پر لازماً لائیک کا بٹن دباتا رہوں کہ الحمداللہ میں پکا مسلمان ہوں کیا آپ بھی ہیں؟
مگر یہ سب کرنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔اب اگر اسلامی جہوریہ پاکستان میں کوئی بھی راہ چلتا شخص، تنظیم ، گروہ یا ٹی وی اینکر آپ سے مطالبہ کرے کہ اس کے روبرو کلمہ پڑھ کے اپنے مشکوک ایمان کی تجدید کریں تو سوائے تعمیل کے کوئی راستہ نہیں۔ ہچکچاہٹ، بحث یا تاخیر کا خمیازہ مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔
میرا کام بس اتنا ہے کہ آپ کو انڈین، یہودی یا امریکی ایجنٹ کہہ دوں۔ اب یہ ثابت کرنا میری نہیں آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ وہ نہیں جو میں کہہ رہا ہوں۔
کیا کہا ؟ ہتکِ عزت کا قانون اور دعوی؟ یہاں تو عدالتیں ہی اپنی ہتک کے آگے بند نہیں باندھ پا رہیں تو آپ کی کیا سنیں گی ، سن بھی لیا تو فیصلہ کیا دیں گی ، دے بھی دیا تو عمل کیسے ہوگا۔ چلئے کوئی ایک مثال دے دیں جب پاکستان میں کسی فرد نے کسی شہری کے خلاف ہتک کا مقدمہ ہار کر ہرجانہ بھرا یا سزا بھگتی ہو۔
اگر حساس ایجنسیوں کے لوگ ٹکراتے ہیں تو وہ بھی ابتدائی تعریف و توصیف کے بعد حرفِ مدعا زبان پر لے آتے ہیں ۔سر کبھی ہمارے اچھے کاموں کی بھی تعریف کر دیا کریں ، کبھی لکھتے اور بولتے وقت ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بھی سوچ لیا کریں ، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ خدانخواستہ آپ محبِ وطن نہیں مگر پھر بھی ۔۔۔۔
بات اگر یہاں تک بھی رہتی تو کوئی بات نہ تھی۔اب تو میرے دوست بھی مجھ سے غیر جانبداری کی توقع نہیں رکھتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو مسائل ان کے دل کے قریب ہیں بس انہی پر انہی کے لہجے میں بات کروں، جو سیاستداں ، بیوروکریٹ ، کارپوریٹ باسز ، سوشل ورکرز ان کی گڈ بک میں ہیں بس انہی کا ڈھنڈورا پیٹوں، جس مسئلے یا فرد کے بارے میں وہ تحقیقی رپورٹ کی توقع رکھتے ہیں بس اسی کے بارے میں انویسٹی گیٹ کروں اور نتائج بھی وہی اخذ کروں جو انہوں نے پہلے سے طے کر رکھے ہیں۔
اب میرے دوست ہی طے کرنا چاہتے ہیں کہ مجھے کہاں جانا ہے ، کس سے ملنا ہے ، کیا بات کرنی ہے ، کس کے ساتھ تصویر کھچوانی ہے اور کسے منع کر دینا ہے ۔اور اگر میں ان کی سنی ان سنی کر کے اپنے دل اور دماغ سے کام لینا چاہوں تو پھر ایسے تبصرے سننے کو ملتے ہیں ۔وسعت صاحب آپ بھی بک گئے ، آپ کی فلاں کے ساتھ تصویر دیکھ کر صدمہ ہوا ، آخر آپ نے ایک کرپٹ وزیرِ اعلی سے کانووکیشن میں سند کیسے وصول کر لی ؟ کیا آپ نے بھی پیسے پکڑ لیے ؟ آپ فوج کے ایجنٹ کیوں بن گئے ہیں ، آپ انگریزوں سے کتنے پیسے لے رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔
اگر میں ان سب باتوں کے جواب میں خاموشی اختیار کروں تو پھر تو پکا پکا مجرم "سچا ہے تو بولتا کیوں نہیں ، کیسے جواب دے گا ؟ جواب پلے ہوتا تو دیتا ۔آیا بڑا اصول پسند اور غیر جانبدار صحافی۔ مائی فٹ "۔
اب تو سنی دیول کا یہ ڈائلاگ اکثر یاد آتا رہتا ہے " پنجرے میں آ کر شیر بھی کتا بن جاتا ہے کاتیا۔ تو کہے تو بھونکوں ، تو کہے تو کاٹوں ۔یہ مجھ سے نہ ہوگا کاتیا"۔( فلم گھاتک )۔
سوشلستان میں جہاں پشتون قومی جرگے کے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دیے گئے دھرنے کے بارے میں پاکستانی میڈیا پر بلیک آؤٹ کی بات ہو رہی ہے وہیں مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی کی... see more توہینِ عدالت کے جرم میں سزا اور گرفتاری بھی موضوعِ بحث ہے۔ اور شاہ زیب قتل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تعریف اور امید کی باتیں بھی ہیں۔ انہی موضوعات پر ہم آج سوشلستان میں بات کریں گے۔
’توہینِ عدالت کے قانون کا امتیازی استعمال‘
سپریم کورٹ نے گذشتہ روز دو کیسز میں گرفتاریوں کا حکم دیا جن میں سے ایک شاہ زیب قتل کیس کے مجرم اور دوسرا نہال ہاشمی کی گرفتاری کے احکامات جنہیں عدالت سے ہی گرفتار کر کے لے جایا گیا۔
نہالی ہاشمی کی گرفتاری پر صحافی عمر ضیا نے لکھا 'نہال ہاشمی کی توہینِ عدالت کے جرم میں نااہلی اور ایک مہینے کی سزا خوش آئند ہے۔ یہ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک وارننگ ہونی چاہیے جو ججز کے وقار کے خلاف مہم چلاتے ہیں اور عدلیہ کی توہین کرتے ہیں۔'
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے لکھا 'میں پارلیمنٹیرینز کی نااہلی پر خوش نہیں ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نے نہال ہاشمی کو ججز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا اور اب وہ اور اُن کی بیٹی اسی ادارے کے خلاف عوام کو اُکسا رہے ہیں۔'
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گذشتہ روز فیصلے کے بعد نہال ہاشمی کی تصویر ٹوئٹر پر اپنی پروفائل پکچر کے طور پر لگائی ہے۔
تاہم ایم کیو ایم کے رہنما سید علی رضا عابدی نے ٹویٹ کی کہ 'پی ایم ایل این کی لیڈرشپ نے نہال ہاشمی کو اس دن سے تنہا چھوڑ دیا تھا جس دن سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ انہوں نے قانونی جنگ پارٹی کی کسی بھی قسم کی مدد کے بغیر لڑی۔ بہت سارے تو ان کی نشست کے چکروں میں تھے۔'
سید ثمر عباس نے ٹویٹ کی کہ 'مریم نواز نے نہال ہاشمی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی پروفائل پر لگا لی۔ مگر وہ میاں نواز شریف جن کی محبت میں یہ جیل گئے، پانچ سال کے لیے نااہل ہوئے ان کے منہ سے ہاشمی کے لیے ایک جملہ تک نہ نکلا۔'
تاہم اس فیصلے کے حوالے سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ صحافی عمر چیمہ نے لکھا 'نہال ہاشمی نے غیر مشروط معافی نامہ پیش کیا اور کہا میں اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔ عدالت نے اس تحریری معافی میں دو دفعہ تصحیح کرائی اور اگلی پیشی پر اس تصحیح شدہ معافی کو بھی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا۔'
معروف وکیل اور سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے لکھا 'نہال ہاشمی کے لہجے اور الفاظ کا دفاع ممکن نہیں مگر توہین کے قانون کا امتیازی استعمال انصاف کے نظام پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔'
اسی فیصلے پر تنقید کرنے والوں نے لکھا کہ اس سے قبل بھی مختلف توہین عدالت کے مقدمات میں عدالت کی جانب سے برتا جانے والے رویہ اتنا سخت نہیں تھا جس میں مختلف ٹوئٹر اکاؤنٹس تحریکِ لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی کی ایک تقریر کی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں جس میں وہ عدلیہ کے اعلیٰ ججز کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔
اسی طرح مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر لکھا جا رہے کہ سپریم کورٹ کو انہیں بھی نوٹس جاری کرنے چاہیئں جن میں سے دو وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کو سپریم کورٹ توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر کے سماعت کے لیے دن مقرر کر چکی ہے۔
تاہم عدالت عظمیٰ کو یہ بات یاد دلانے والوں کی کمی نہیں جیسا کہ عثمان منظور نے لکھا کہ 'پی سی او ججز کے خلاف عدالت نے توہین کے نوٹس گذشتہ مہینے میں ہی واپس لے لیے تھے جنہوں نے نہ ہی معذرت کی اور نہ ہی اپنے کیے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ اور ان کے خلاف آئین کی پامالی جیسے سنگین الزامات تھے۔'
اسلام آباد میں 2013 میں علامہ طاہرالقادری کی قیادت میں 'انقلاب دھرنے' میں، میں نے 20 مختلف افراد سے پوچھا کہ وہ کون سا انقلاب لانے کے لیے جمع ہیں۔ پندرہ اس سے لاعلم تھے، جبکہ... see more تین کو انقلاب کا مطلب نہیں پتہ تھا اور ایک خاتون مجھ ہی سے الجھ پڑیں کہ میں اس قسم کے 'گمراہ کن' سوال کیوں پوچھ رہی ہوں۔ تاہم دھرنا ختم ہونے کے بعد ان سب نے جشن منایا تھا کہ کوئی انقلاب آ گیا ہے۔
لیکن اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے قبائلیوں کا دھرنا مختلف نوعیت کا ہے۔ اس میں قبائلی علاقوں کے نوجوان، بزرگ، بچے سبھی شامل ہیں اور ماضی میں ہونے والے دیگر کئی دھرنوں کے برعکس یہاں لگ بھگ سبھی جانتے ہیں کہ آخر یہ دھرنا اور احتجاج ہو کیوں رہا ہے؟
یہ سینکڑوں افراد جمعرات کو ریلیوں کی شکل میں اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان سب کا ایک ہی مطالبہ ہے 'نقیب اللہ محسود کے قاتل ایس ایس پی راؤ انوار کو گرفتار کرو' اور 'خون کا بدلہ خون ہے'۔
پریس کلب کے سامنے میدان میں ایک خیمہ لگا ہے، جس میں قالین اور چٹائیاں بچھائی گئی ہیں۔ جگہ جگہ بینرز لگے ہیں، جن پر نقیب اللہ محسود کی تصاویر اور مبینہ قاتل کی گرفتاری اور سزا کے مطالبے درج ہیں۔
دھرنے کے شرکا سے بات کر کے اندازہ ہوتا ہے کہ نقیب اللہ محسود کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر قبائلی علاقوں کی عوام میں کس قدر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ کسی طور احتجاج ختم کرتے دکھائی نہیں دیتے۔
ان مظاہرین میں شمائل محسود شامل ہیں جن کی عمر لگ بھگ 14 سال ہے۔ ان کے بارہا اپنی جانب متوجہ کرنے کے بعد انھوں نے کہا 'ہمارا مطالبہ چیف جسٹس سے ہے کہ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور ان کی ٹیم کو گرفتار کر کے پھانسی دی جائے، یہ شخص 440 جانوں کا مقروض ہے'۔
یہیں ایک بزرگ نور خان بھی ملے جو بتا رہے تھے کہ قبائل اب تک صبر و تحمل سے کام لیتے رہے ہیں مگر اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، 'یہ صرف قبائل کی جنگ نہیں، ہم اس ملک کے ہر مظلوم کے آواز بن رہے ہیں'۔
وہ کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کے عوام کو ملک میں ہر جگہ نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔
مطالبات میں انصاف بھی اور حقوق بھی
یہ مظاہرین صرف نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کی گرفتاری کا ہی مطالبہ لے کر جمع نہیں ہوئے، بلکہ اپنے حقوق بھی مانگ رہے ہیں۔
اکبر محسود (فرضی نام) قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نالاں ہیں اور شکوہ کر رہے ہیں کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق تک میسر نہیں۔
'کہیں چیک پوسٹ پر دھماکہ ہو جائے تو پورا گاؤں چیک کیا جاتا ہے، تضحیک کی جاتی ہے، جگہ جگہ ہمیں ہمارے ہی علاقوں میں روکا جاتا ہے، ہر دس قدم پر ہمیں اپنی شناخت کرانا پڑتی ہے۔ کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں'۔
مظاہرین کے دیگر مطالبات میں قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کا صفایا اور لاپتہ افراد کی بازیابی بھی شامل ہیں۔
یہاں موجود عتیق الرحمان نامی شہری نے کہا کہ ' نقیب اللہ کی طرح ہمارے علاقوں کے بہت سے نوجوان قتل یا غائب ہوئے ہیں جن کی بازیابی اور تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے'۔
اس دھرنے میں شرکا یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ انہیں مقامی میڈیا میں مناسب کوریج نہیں دی جا رہی لیکن فاٹا کے نوجوانوں نے بظاہر اس مسئلے کا حل بھی نکال لیا ہے۔
موبائل فون سے ویڈیو بناتے ہوئے ایک نوجوان اعظم داوڑ کہتے ہیں 'ہمارے پاس سوشل میڈیا موجود ہے، اور ہم اسی کے ذریعے اپنی آواز عدلیہ تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں'۔
پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی کے بعد جہاں شہریوں نے سینیما گھروں کا رخ کیا ہے، وہیں اب دوسرے ممالک کے اداکار بھی یہاں کام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان میں ایرانی... see more نژاد اداکارہ ناز نوروزی بھی شامل ہیں۔
ناز نوروزی نے بالی وڈ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ پاکستان میں ان کی پہلی فلم ’مان جاؤ نہ‘ جمعے کو ریلیز ہو رہی ہے، جس میں ان کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے جو شادی نہیں کرنا چاہتی۔ بقول ناز کے یہ ایک مزاحیہ اور فیملی فلم ہے۔
’عام زندگی میں یہ سارے مسائل ہیں۔ میں بھی ایسا ہی سوچتی ہوں ابھی مجھے شادی نہیں کرنی بلکہ ابھی کام کرنا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اگر شادی کروں گی تو زندگی ختم ہو جائے گی۔ فلم کا مرکزی کردار رانیہ بھی یہی سوچتی ہے۔‘
ناز نوروزی کو جب پاکستان میں فلم کی پیشکش ہوئی تو اسے قبول کرنا ان کے لیے ایک امتحان بن گیا۔
ناز بتاتی ہیں کہ کئی لوگ کہہ رہے تھے کہ پاکستان کیوں جا رہی ہو، وہاں تو جنگ جاری ہے لیکن فلم کے ڈائریکٹر اور فلم کے ہیرو عدیل چوہدری مجھے روز فون کرکے ہمت بندھاتے رہے اور آخر کار میں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔
ناز کہتی ہیں ’یہاں آکر دیکھا تو حالات بہت مختلف لگے کراچی کافی حد تک ممبئی جیسا ہے۔‘
ناز نوروزی کی پیدائش ایران کے شہر تہران میں ہوئی جس کے بعد ان کا خاندان جرمنی منتقل ہوگیا، جہاں ان کی پرورش ہوئی۔
ناز کے مطابق انہیں بچپن سے ہی فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا۔ ’جب میں نے بالی وڈ کی فلمیں دیکھنا شروع کیں تو میں نے سوچا مجھے وہاں ہی جانا ہے اور یہی کام کرنا ہے۔ یہاں کی محبت بھری کہانیاں اور ڈانس مجھے پسند ہیں اور یہ ایرانی کلچر کے بھی قریب ہیں۔‘
ناز نوروزی فارسی کے علاوہ جرمن، انگریزی، فرینچ، ہندی اور اردو جانتی ہیں جبکہ پنجابی سیکھ رہی ہیں، لیکن ہندی ان کے لیے چیلنج تھی۔
ان کا کہنا تھا ’جب میں ممبئی آئی تو سوچا کہ مجھے ہندی نہیں سیکھنی۔ فلم انگریزی میں کروں گی وہ ڈبنگ کر لیں گے، لیکن پھر مجھے پتہ چلا کہ ایسا نہیں ہوتا ہندی سیکھنی پڑے گی۔‘
’پہلے میں نے اپنے طور پر سیکھنی شروع کی پھر ٹیونش کلاسیں لیں، ایک ایسا بھی وقت آیا کہ مجھے رونا آگیا کہ مجھ سے نہیں ہو رہا ہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ اگر فلم میں کام کرنا ہے اور یہی کام کرنا ہے تو ہندی تو سیکھنی ہی ہو گی بالآخر دو سال میں ہندی سیکھ ہی لی۔‘
ہندی کے علاوہ ناز نوروزی کے لیے دوسرا چیلنج ڈانس تھا۔ بقول ان کے انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ڈانس اتنا اہم ہے۔
’مجھے ایک سال تک ڈانس کی کلاسیں لینا پڑیں کیونکہ مجھے سب سے بہتر ہونا تھا۔ بالی وڈ کی کئی اداکارائیں ہیں جو بہت اچھا ڈانس کرتی ہیں۔‘
ایران کی فلم اور بالی وڈ میں سے ناز نوروزی نے بالی وڈ کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے مطابق ’اگر آپ باہر کام کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو پھر ایران میں نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں حجاب اور دوسرے معاملات آڑے آ جاتے ہیں۔‘
’ایران میں کئی پابندیاں ہیں لیکن آپ دیکھیں کہ ہمیں بہت سارے آسکرز مل چکے ہیں۔ ہم اچھی فلمیں بنا رہے ہیں لیکن عالمی سیاسی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ہم کوئی بڑا نام نہیں بن سکے۔‘
ناز نوروزی کو دیپیکا اور کنگنا پسند ہیں جبکہ سلمان خان کو وہ ’ایوری بڈیز ڈارلنگ‘ جبکہ فواد خان کو ’ہاٹ ہیرو‘ قرار دیتی ہیں۔
ناز نوروزی اداکاری کے ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی ہیں۔
چین پاکستان راہداری منصوبے کے تحت بلوچستان کے گوادر شہر میں برسوں سے چلی آ رہی پانی کی شدید قلت کے خاتمے کے لیے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی نے پانی کی صفائی کا ڈیسیلینیشن... see more پلانٹ نصب تو کر دیا ہے لیکن اس ساحلی شہر کے باسی اس سے زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔
سرکاری اعلان تو یہ ہے کہ یہ پلانٹ 80 پیسے فی گیلن پر یومیہ ڈھائی لاکھ گیلن پانی گوادر کو فراہم کرے گا جس سے صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے ڈیمز پر انحصار کم ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے بندرگاہ اور جہاز رانی میر حاصل بزنجو نے پہلی جنوری کو بڑے اہتمام کے ساتھ اس نئے پلانٹ کا افتتاح تو کر دیا لیکن پراجیکٹ مکمل ہونے کے باوجود تاحال اس سے مقامی آبادی مستفید نہیں ہو پائی ہے۔
معاملہ صوبائی حکومت اور پورٹ اتھارٹی کے درمیان معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔
اس تاخیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرپرسن دوستین خان جمالدینی نے بی بی سی کو بتایا کہ پانی کی سپلائی کا انحصار اس وقت صوبائی حکومت اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان معاہدے سے مشروط ہے۔
حکومت بلوچستان اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے مطابق فری زون میں نصب پلانٹ سے گوادر کے شہریوں کو پانی دیا جائے گا۔ اس تجویز کے نکات صوبائی حکومت کے پاس دستخط کے لیے بھیجے گئے ہیں جس پر غور تاحال جاری ہے۔
دوستین جمالدینی کا کہنا ہے کہ ’اگر دیکھا جائے تو گوادر میں پینے کے پانی کی طلب اتنی نہیں ہے۔ یومیہ ایک لاکھ کی آبادی کے لیے تین لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ اس صورت میں کافی ہے اگر پینے کا پانی صرف پینے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘
گوادر کی تقدیر یہاں پانی کی دستیابی سے جڑی ہے لیکن اس وقت اس شہر پر واٹر ٹینکرز کا راج ہے۔ ٹینکروں کے ذریعے یومیہ ڈھائی لاکھ گیلن پانی لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
اس وقت 413 ٹینکرز دشت اور گوادر کے درمیان پانی کی ترسیل کرتے ہیں۔ ان ٹینکرز کا حال بھی کوئی اچھا نہیں اور اطلاعات کے مطابق اس وقت ٹینکرز چلانے والوں کی چھ ماہ کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں۔ گوادر کے لوگوں کو فی ٹینکر پندرہ ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ گذشتہ برس کی لیبارٹری رپورٹس نے اس پانی کو انسانی استعمال کے لیے مضر قرار دیا ہے۔
ٹینکرز یہ پانی 400 کلومیٹر دور واقع میرانی ڈیم سے لے کر آتے ہیں۔
مقامی رہائشی زاہدہ گلزار ہر روز چھ گھنٹے ٹینکرز کے ذریعے پانی کا انتظار کرتی ہیں۔
زاہدہ کو نئے ڈیسیلینیشن پلانٹ کے مکمل ہونے کے بارے میں معلوم ہے لیکن وہ اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’پانی لوگوں تک بروقت پہنچا دیں یہی بہت ہوگا۔ پانی اکثر گندا اور بدبودار ملتا ہے۔ یہ پانی ہم اپنے جانوروں کو بھی نہیں دے سکتے اس لیے پھینک دیتے ہیں۔‘
گوادر میں ہونے والا صنعتی کام اور آکڑا ڈیم میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی شہر میں اس کی عدم دستیابی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
لیکن کیا یہ ڈیسیلینیشن پلانٹ پانی کی کمی کو پورا کرسکے گا جیسا کہ حکومت اور پورٹ اتھارٹی عوام کو یقین دلانا چاہتی ہے؟ اس بارے میں گوادر کی عوام کی رائے حکومتی ارکان اور پورٹ اتھارٹی کے ممبران سے بالکل مختلف ہے۔
لیکن گوادر کے بعض باسیوں نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے یہ نیا پلانٹ محض چینیوں اور پاکستانی اداروں کے استعمال میں ہی آئے۔ ’ہمیں اس سے کچھ ملنے کی فی الحال امید نہیں ہے۔‘
حاجی گنگزار کا کہنا ہے کہ ’حکومت اکثر ایسے معاہدے کرتی ہے جو بعد میں نہیں چل پاتے لیکن اگر پانی کی فراہمی بروقت کی جائے اور پانی کے منصوبوں کو لوگوں کے لیے یقینی بنایا جائے تو پھر اس طرح کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔‘
دوسری طرف دوستین جمالدینی نے یاد دلایا کہ ’دشت میں موجود میرانی ڈیم آبپاشی کے مقصد کے لیے بنایا گیا تھا جس کا زیادہ تر استعمال اب پینے کے لیے کیا جا رہا ہےـ‘
ماضی میں بھی ڈیسیلینیشن پلانٹس کی بات ہوئی لیکن مقامی آبادی کو اس سے کچھ نہیں مل سکا۔ آس پاس کے علاقوں میں لگائے گئے یہ پلانٹ آج بھی غیر فعال ہیں۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مکران کے مہتمم عمران آلیانی نے بتایا کہ یومیہ دو لاکھ گیلن پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 2006 میں بلوچستان کے علاقے کارواٹ میں بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت ایک منصوبے کا آغاز ہوا تھا جو 2016 میں پی ایچ ای کے زیرِانتظام کیا گیاـ
’لیکن اس وقت وہ پراجیکٹ انجینئرنگ نقص کی بنا پر بند کیا گیا ہے کیونکہ اس میں سلٹ بن رہی تھی۔ اس نقص کو صحیح ہونے کے لیے ایک مہینہ درکار ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر بوجھ ڈیمز اور پرائیوٹ ٹینکرز پر ہے۔‘
اس کے علاوہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان نئے پلانٹ لگانے پر اختلافات سال 2006 سے چلے آ رہے ہیں۔ اس بابت رقوم بھی جاری ہوئی لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق زمین پر کوئی کام نہیں ہوا۔
پی ایچ ای اس وقت گوادر ڈسٹرکٹ میں پندرہ سے بیس لاکھ گیلن پانی تقسیم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے جو پینے کے ساتھ ساتھ نہانے دھونے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ پانی بھی آکڑا ڈیم سے ہی آتا ہے۔
دوستین جمالدینی نے کہا کہ گوادر میں زیرِزمین پانی نہ ہونے کے باعث زیادہ تر انحصار ڈیسیلینیشن پلانٹ پر کرنا چاہئیےـ ’حالانکہ یہ ایک مہنگی تجویز ہے لیکن حکومت کو اس پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس وقت یہی طویل المعیاد حل ہے۔‘
لیکن بڑے سرکاری ادارے جس طرح سے گوادر میں اپنی ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کر رہے ہیں مستقبل میں چینی پلانٹ بھی مقامی آبادی کی پیاس نہیں بجھا سکے گی۔
پاکستان میں فیشن شوٹس کا انعقاد عام طور پر بند جگہوں اور سٹوڈیوز میں ہوتا ہے لیکن ایک فیشن ڈیزائنر اب فیشن کو سڑکوں پر لانے کا جرات مند کام کر رہے ہیں۔
ان میں سے ایک محسن... see more سعید ہیں جنھوں نے حال ہی میں ہار سنگار کے نام سے لاہور کی وال سٹی یعنی شہر کے قدیمی علاقوں کی سڑکوں پر فیشن شوٹ کا انعقاد کیا۔
پاکستان میں فیشن کے بارے میں پائی جانے والی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں عام طور پر فیشن کو صرف کپڑے ملبوس کرنے کی حد تک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے اور یہ ایک عوامی چیز ہے جس سے نہ صرف آپ اپنے تاثرات کو بیان کر سکتے ہیں بلکہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا بھی ہے۔
کیا پاکستان میں یہ عوامی مقامات پر فیشن شوٹس کرنے کا تجربہ نیا ہے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسّی اور نوے کی دہائی میں فیشن شوٹس کو عوامی جگہوں پر اور سڑکوں پر کرنا شروع کیا کیونکہ اس کے ذریعے آپ عام ماحول، خوبصورت عمارتوں کو دکھا سکتے تھے۔
’عوامی فیشن کلچر اور عوامی طرز زندگی کی عکاسی کر سکتے ہیں جس میں شوٹ کا پس منظر بھی ایک کہانی بیان کرتا تھا۔‘
’اس وقت لوگوں کا رویہ بہت مثبت ہوتا تھا اور وہ ان سے تعاون کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے عوامی مقامات پر لوگوں نے کھلے عام فیشن شوٹ میں مداخلت کرنا شروع کر دی۔ چھ برس قبل کراچی میں ایک فیشن شوٹ کے دوران ایک شخص غصے میں میرے پاس آیا اور چلاتے ہوئے کہا کہ ’بند کرو یہ فحاشی‘۔
محسن سعید کے مطابق وہ اس رویے پر حیران رہ گئے لیکن اس کے ساتھ انھوں نے سوچا کہ آؤٹ ڈور فیشن شوٹس کو جاری رکھیں گے۔
’پاکستان میں شادی بیاہ اور دیگر تقتریبات میں سجنے سنورنے کے عنوان سے انھوں نے ہار سنگار کے عنوان سے فیشن شوٹ کو لاہور کے قدیم حصے میں کیا کیونکہ یہ اس علاقے کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہاں خوبصورت عمارتیں ہیں۔‘
حالیہ فیشن شوٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ’اس کے پیھچے ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کی عوامی جگہوں پر نمائندگی یا ان کے دن بہ دن کم ہوتے تناسب اور اچھے ملبوسات میں عوامی مقامات پر جانے کی حوصلہ شکنی اور وہاں لوگوں کے رویے کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔‘
’آج کل کے ماحول میں خواتین آپ کو عوامی جگہوں پر کم نظر آتی ہیں لیکن اس طرح کے فیشن شوٹس سے ان کو اعتماد دینا اور حوصلہ دینا ہے کہ وہ بھی عوامی مقامات پر تیار ہو کر جا سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ہار سنگار کے شوٹ کے دوران لوگوں نے شوٹ میں حصہ لینے والے خواتین کو گھورا اور ہجوم کی شکل میں کھڑے ہو کر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی لیکن کسی نے پاس آ کر تنگ نہیں کیا اور شوٹ میں خلل نہیں ڈالا۔
فیشن شو کا مقصد تھا کہ’ ایسی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو عادت ڈالی جائے کہ ایک خاتون تیار ہو کر ایسی جگہوں پر آ سکتی ہے اور اس کا حق ہے۔ اور ایک معمول سے اس نوعیت کی مثبت کوششیں جاری رہتی ہیں تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب لوگوں کو عادات ہو جائے اور وہ حیرانگی، گھورنے اور ناپسندگی کے اظہار کی بجائے اس کو ایک معمول کے طور پر لینا شروع کر دیے۔
’میں اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ بند کمروں، سٹوڈیوز کی بجائے عوامی مقامات پر فیشن شوٹ کریں کیونکہ اس سے نہ صرف خواتین می تحفظ کا احساس پیدا ہو گا بلکہ ملک کا عالمی سطح پر محفوظ ہونے کا پیغام جائے گا۔‘
فیشن ڈیزائنرز کے بقول اگرچہ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اکثریت ابھی فیشن کو پسند کرتی ہے چاہے اس کو برا بھلا کہیں لیکن پسند ضرور کرتے ہیں۔
محسن سعید نے کہا کہ اسی وجہ سے اس فیشن شوٹ کا پیغام بالی وڈ کے مشہور گانے کی صورت میں تھا کہ’آج پھر جینے کی تمنا ہے، آج پھر مرنے کا ادارہ ہے‘۔
’جب تک ہم خود کچھ نہیں کریں گے اور دوسری لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی عوامی سطح پر لوگوں کو اس کی عادت ہو گی کہ خاتون سج سنور کر عوامی جگہوں پر آ سکتی ہے۔‘
 
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ابراہیم حیدری تک جانے کے لیے گاڑی میں تقریباً ایک گھنٹہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
ابراہیم حیدری کبھی مچھیروں کا ماڈل گاؤں ہوتا تھا لیکن... see more اب یہ سب سے زیادہ بدبو دار جگہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
آپ جیسے ہی سمندر کے قریب ہوتے جاتے ہیں یہاں کا ماحول، بو، مقامات اور آوازیں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔ جس دن میں نے وہاں کا دورہ کیا وہاں درجنوں بچے اپنی اپنی جھونپڑیوں کے باہر کھیل رہے تھے۔
کئی برسوں کے دوران متعدد آبادیوں جن میں بنگالی بھی شامل ہیں نے یہاں اپنے گھر بنا لیے۔ ان میں سے تقریباً 15 لاکھ بنگالی تقسیم کے بعد سے یہاں رہتے تھے۔
سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی جانب سے آزادی کے اعلان اور بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد دیگر بنگالی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے۔
لیکن پاکستان نے انھیں اپنا شہری تسلیم نہیں کیا۔ یہ بظاہر ان کی قومیت کے لیے کچھ بھی نہیں ہے تاہم ایک پیچیدہ تاریخ کا خمار ہے۔
زین العابدین پاکستانی بنگالی ایکشن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ وہ ایک نوجوان اور سرگرم سیاست دان ہیں۔ اپنی شلوار قمیض اور واسکٹ سے وہ ایک باقاعدہ پاکستانی آدمی دکھائی دیتے ہیں تاہم ان کے چہرے پر بنگالی جھلک بھی ہے۔
زین ہمارے میزبان اور گائیڈ بھی ہیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہاں کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ’یہ ہماری تیسری نسل ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہے۔‘
زین نے تنگ گلیوں میں میری رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آبادی اپنا وجود کیسے برقرار رکھتی ہے؟
زین کے بقول ’سب ٹھیک چل رہا تھا۔ ہم حکام کو رشوت کی مد میں تھوڑی سی رقم دے کر قومی شناختی کارڈ حاصل کر لیتے تھے۔ زندگی آسان تھی۔‘
لیکن شدت پسندی اور دہشت گردی بڑھنے سے سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈ کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
حکومت نے اپنے شہریوں کی ڈیٹا بیس رجسٹریشن کے لیے بے پناہ وسائل استمعال کیے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں رہنے والی بنگالیوں کے لیے قانون یا ضابطے سے بچنے کے تمام راستے اب بند ہو چکے ہیں۔
عمارہ یوسف اس کالونی میں واقع اپنے گھر میں ایک عارضی سکول چلاتی ہیں۔ انھیں دو سال قبل انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اپنی پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ انھیں شناختی کارڈ کے بغیر کسی کالج میں داخلہ نہیں مل سکتا۔
عمارہ کا کہنا ہے ’کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟ میں پاکستان میں پیدا ہوئی، میرے والدین یہاں پیدا ہوئے، وہ ہمیں شناختی کارڈز دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں اور ہمیں بنگالی کیوں بلاتے ہیں؟ مجھے اس حوالے سے بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ لیکن ہم بے بس ہیں اور اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘
کسی کو تعلیم تک رسائی نہ دینے کا مطلب اسے اس کے سب سے اہم بنیادی حق سے محروم کرنا ہے۔
عمارہ کو یقین ہے کہ پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی قسمت میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ غربت اور استحصال کی زندگی گزارتے رہیں۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں بنگالی بچے کالج چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے درجنوں بچوں کو سبزی فروخت کرتے، چائے کے سٹالوں پر کام کرتے اور کریانے کی دکانوں پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں کسی بھی شہری کے لیے شناختی کارڈ ایک بہت ضروری دستاویز ہے۔ آپ کو نوکری یا پڑھائی کے لیے شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ درکار ہوتا ہے۔ ووٹ ڈالنے، جائیداد خریدنے یا بیچنے کے علاوہ اندورن ملک سفر کے لیے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہاں سے چند گلیوں دور نسیما اپنے گھر کے چھوٹے صحن میں قالین بنا رہی ہیں۔ ان کے گھر کے دوسرے کونے کے فرش پر ایک چھوٹا چولہا اور چند گندے برتن پڑے ہوئے ہیں۔
ایک دیوار کے قریب قالین بنانے کا ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کی جگہ اتنی تنگ ہے کہ اس پر کوئی شخض آرام سے بیٹھ کر کام نہیں کر سکتا۔
میں پہلی نظر میں نسیما کو دیکھ نہیں پائی، اس کی جگہ ایک تیز چاقو اور چند انگلیاں اون میں چلتی دکھائی دیں۔ نسیما قالین بنانے کا کام بند کر کے میرے پاس بات کرنی آئیں۔
نسیما کا چہرہ تھکا ہوا لگتا ہے، وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ انھیں قالین بنانے میں چار سے چھ ہفتے لگتے ہیں۔ انھیں ایک قالین بنانے کے لیے چھ ہزار پاکستانی روپے ملتے ہیں۔
انھوں نے مجھے بتایا ’میرا بھائی شناختی کاڈر کے بغیر نوکری حاصل نہں کر سکتا۔ میرے والد اپنی پینشن حاصل نہیں کر سکتے تو ہمارے پاس اور کیا آپشن ہے؟ ہم قالین بنا کر زندہ رہ رہے ہیں۔
نسیما میرے ساتھ بات کرتے ہوئے مسلسل اپنے ہاتھوں کو سہلا رہی تھیں۔
انھوں نے کہا ’میرے ہاتھوں کو دیکھیں، میری انگلیوں پر زخموں کے نشان واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اون میرے گوشت سے گزرتی ہے، سردیوں کے موسم میں میرے ہاتھوں میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘
نسیما کے والد اور بھائی پولیس کی جانب سے روکے جانے کے خوف سے اس جگہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ وہ شناختی کارڈ نہ ہونے سے بڑی مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔
ان چھوٹے صعنتی یونٹس میں کام کرنے والے تمام افراد کو استحصال اور بدسلوکی کا خطرے ہے ۔
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک عام ورکر 12 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تنخواہ لے رہا ہے جبکہ ایک بنگالی ورکر اس کا نصف وصول کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے ’خواتین فیکٹریوں اور گھروں میں کام کرتی ہیں۔ انھیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ انھیں ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسا کچی آبادی کے باہر ہوتا ہے۔
بنگالی کراچی کی مچھلی کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کمیونٹی ایکٹوسٹ زین العابدین کو یقین ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ وہ سستے مزدور ہیں تاہم انھیں پاکستان کی شہریت دینے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔
زین العابدین کے مطابق پاکستان میں رہنے والے بنگالی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
ان لوگوں کے مطابق ’یہ وہ ملک ہے جہاں ہمارے باپ دادا نے اپنی جان قربانی کی اور ہم نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا۔‘
اس کے بعد کیا ہوا؟ ایچ آر سی پی کے اسد بٹ اس کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
’پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ بنگہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد نفرت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کچھ الگ ہو چکے ہیں اور جو پیچھے بچے ہیں انھیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور غدار سمجھا جاتا ہے۔
یہ فرق واضح طور پر بتاتا ہے کہ کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت نے ان لوگوں کی حمایت کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کیونکہ یہ لوگ ان کے ووٹر نہیں ہیں۔
تاہم زین العابدین اپنی کوششیں ترک کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ہمیں یہاں سے جانے پر مجبور کرے اور ہم جائیں گے بھی نہیں، ہم یہاں ہی رہیں گے اور یہاں ہی مریں گے۔
بلوچستان میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے مچھ۔ شاید آپ نے نام سُنا ہو۔ وہاں کی جیل بہت مشہور ہے۔ میرا باپ اُس جیل میں سرکاری ملازم تھا۔ جنریٹر آپریٹر تھا۔ ساتھ بازار میں ٹائر پنکچر... see more کی دُکان تھی۔ پہلی جنوری 2013 کو اُسے شہید کر دیا۔ سال کا پہلا دِن تھا۔
کیا شکایت کریں؟ جو لوگ ملک کے بارڈر کی حفاظت نہیں کر سکتے وہ بلوچستان کے چھوٹے قصبے میں ایک غریب آدمی کی حفاظت کیا کریں گے۔
میرا باپ ہزارہ تھا، میری ماں پنجابن۔ ہم 2012 کی آخری رات کو لاہور میں تھے رشتے داروں کے ہاں۔ باپ مچھ میں اکیلا تھا۔ رات کو فون کیا بچوں سے حال احوال کیا۔ سُنا تھا کچھ مقامی چھوکرے ہیں۔ تبلیغ کے نام پر جہاد کرنے آئے۔ دھمکی دی تھی کہ تمہارے پاس گھنٹے ہیں۔ شہر چھوڑ دو یا اُلٹی گنتی گننا شروع کر دو۔
مچھ میں ایک ہی امام بارگاہ ہے اُس کا اِنتظام ہم سنبھالتے تھے۔ چھوکروں کو اِس پر اعتراض تھا۔
ہم نے لاہور میں سما ٹی وی پر پٹی دیکھی کہ مچھ میں کسی کا ٹارگٹ ہو گیا ہے۔ باپ کو فون کر رہے ہیں، فون نہیں لگ رہا۔ پھر ایک دوست کا فون آیا۔ اُس نے کہا حادثہ ہوگیا ہے لیکن بتا نہیں سکتا۔ یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ پھر دوسرے دوست کا فون آیا تمہارے والد کا ٹارگٹ ہو گیا حوصلے سے سُنو۔
اب لاہور سے پورے خاندان کے ساتھ مچھ کیسے پہنچتے۔ غریب کے پاس تو اِتنے پیسے نہیں ہوتے۔ قرضہ لے کر ٹکٹ لیے اور والد کی لاش لینے پہنچے۔
امام بارگاہ کے ساتھ درزیوں کی دُکانیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ والد نماز پڑھ کر نکلے۔ حال احوال کیا اور بولے کہ گھر والے لاہور گئے ہوئے ہیں، تندور سے روٹیاں لے کر گھر جاؤں گا۔
اِتنی دیر میں موٹر سائیکل پر چھوکرے آئے۔ والد صاحب کو اندر سے پتہ چل گیا کہ اُن کے لیے آ رہے ہیں۔ وہ بھاگ کر گلی میں گُھسے لیکن اُنھوں نے پکڑ لیا۔ ایک نے بالوں سے پکڑا دوسرے نے سر کے پیچھے سے تین گولیاں ماریں۔ درزیوں نے یہ سارا کچھ دیکھا۔ پھر اُنہوں نے اعلان کیا کہ جو اِس لاش کو اُٹھانے کی کوشش کرے گا اگلی باری اُس کی ہے۔
مچھ میں ہوا چلتی ہے۔ کوئلوں والی راکھ ہوتی ہے اُس میں جب ہمیں والد کی لاش ملی تو اُن کے دانت میں کوئلہ پھنسا ہوا تھا۔ پورے تین گھنٹے اُن کی لاش گلی میں پڑی رہی کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔
رات کو شہید کو دفنایا۔ سب نے سر پر ہاتھ رکھا ، سوئم تک سب نے تسلی دی۔ چوتھے دن پتہ چل گیا کہ کوئی برادری کوئی حکومت نہیں۔ کہنے لگے اکیلا تمہارا والد ہی تو شہید نہیں ہوا، یہاں اور بھی بڑے شہید ہیں۔
بےگھر ہوئے، ایسا وقت بھی آیا کہ رات چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ قبرستان میں گزارنی پڑی۔
پتہ چلا کے شہیدوں کے فنڈ سے 20 لاکھ روپے ملیں گے۔ دفتروں کے چکر لگانے شروع کیے۔ ایک بڑے بیوروکریٹ نے مجھ سے کہا کہ صرف ہزارے ہی شہید نہیں ہوئے سکیورٹی والے بھی شہید ہوتے ہیں، ہمیں اُن کے بچوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ پانچ لاکھ مجھے دو تو 20 لاکھ دلواتا ہوں۔ میں نے کہا یہ پیسے شہید کے بچوں کی امانت ہیں اِن میں سے ایک پیسہ بھی تمہیں نہیں دوں گا۔ میرا دِل بہت خراب ہوا۔
میں دفتر کے باہر کھڑا گالیاں دے رہا تھا کہ اپنے ایک چنگیزی صاحب گزرے۔ دفتر میں بلایا، تسلی دی کہ تمہارا کام میں کراؤں گا۔ تین چار مہینے اور عدالتوں کے چکر لگے، آخر کام ہو گیا۔ 20 لاکھ مِل گئے۔
اِس دوران اِتنے پیسے نہیں تھے کہ گھر کا کرایہ دیں۔ مال مکان اپنی بکریوں کے لیے ٹوکری میں روٹیاں رکھتا تھا ہم کبھی کبھی وہاں سے روٹی چُرا کر پیاز کے ساتھ کھاتے تھے۔
والدہ کا دل کمزور تھا، اُنھوں نے کہا تم نکل جاؤ۔ ساتھ یہ بھی وعدہ لیا کہ ڈائریکٹ جاؤ ، کشتی پر نہیں جانا۔
جنھیں آپ اِنسانی سمگلر کہتے ہیں اُس سے مِلا، اُس نے نو ہزار ڈالر مانگے۔ اُن دِنوں ڈالر 107 روپے کا تھا۔ اُسے بولا شہید کا بیٹا ہوں کچھ تو کم کرو۔ وہ آٹھ ہزار ڈالر میں تیار ہوا۔ پھر وہی کہانی، تھائی لینڈ، جنگل کے راستے ملائیشیا اور اب تین سال سے انڈونیشیا میں۔
والدہ کو چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ ساہیوال بھیج دیا۔ شہید باپ کی تنخواہ آتی ہے 25 ہزار روپے، اُس میں وہ گزارا کرتے ہیں۔ یہاں پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کچھ کماؤں تو اُن کو بھیجوں۔ یہاں ایک انڈونیشن گرل فرینڈ ہے وہ تھوڑا سہارا دیتی ہے۔
لیکن تین سال سے اِدھر بیٹھا ہوں۔ یہ جو یو این والے، ریفیوجی والے ہیں اصلی انسانی سمگلر تو یہ ہیں۔ خود موٹی موٹی تنخواہیں لیتے ہیں۔ ہمارا کوئی کام نہیں کرتے۔
آپ بھی کیا کرو گے؟ ہماری کہانی لِکھو گے بیچو گے۔ آپ کا فائدہ ہوگا لیکن ہمارا کیا ہوگا۔
نام لیاقت ہے شاید آپ نے ٹی وی پر دیکھا ہو۔ ساری زندگی میڈیا میں کام کیا۔ تھیٹر کیا، ڈاکومینٹری بنائیں، کوئٹہ ٹی وی پر ایکٹنگ کی پھر افغانستان میں ٹی وی شروع ہوا تو وہاں... see more جاب کی۔ بچے بڑے ہونے لگے اور کوئٹہ میں حالات بھی خراب۔
دوست ایک ایک کر کے شہید ہونے لگے۔ عابد نازش ٹی وی ایکٹر تھا وہ گیا۔ فاران ہوٹل میں دوست بیٹھے تھے محمد انور اور ولایت حسین تھیٹر کے زمانے کے ساتھی تھے وُہ بھی ٹارگٹ ہو گئے۔ پھر کام پھیلنا شروع ہو گیا کراچی میں ’آغا جوس‘ والے تھے والد کو بھی مارا بیٹے کو بھی۔
دو بڑی بچیاں سکول میں تھیں۔ سکول والے کہنے لگے کہ بچوں کو سکول نہ بھیجو تو بہتر ہے اِن کی وجہ سے دوسرے بچوں کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ امتحان آئے تو کہنے لگے سکیورٹی نہیں دے سکتے کراچی جا کر امتحان دو۔ بڑی مشکل سے کینٹ میں اِمتحان کا سینٹر بنوایا۔
میرے کام کے حالات بھی خراب ہو گئے۔ میرا باپ سندھ پولیس میں سپاہی تھا میں نے بھی ساری عمر مزدوری کی تعلیم بھی سکول کے بعد زیادہ تر پرائیویٹ اِمتحان دے کر حاصل کی۔ اب کام سے فارغ اور پھر علمدار روڈ والا پہلا بڑا دھماکہ ہوا۔
پی ٹی وی کوئٹہ میرا اڈا تھا وہیں پہ سارے میڈیا والے دوست بیٹھتے تھے اُنہوں نے کہا یہاں نہ آیا کرو ہمیں بھی مرواؤ گے میں نے جنرل مینجر سے کہا مجھے لِکھ کر دو۔ اُس نے خط لِکھ کر دیا کہ تم سیکورٹی کی وجہ سے ٹی وی سینٹر نہیں آ سکتے۔
کراچی میں لاہور میں دوستوں سے مشورہ کیا، مدد مانگی کچھ بھی نہیں بنا۔ سب نے کہا نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔
ساری زندگی کی جمع پونجی سے ایک گھر بنایا تھا بڑے شوق کے ساتھ اُسے بیچا۔ سنگاپور کا ویزا مل گیا۔ وہاں سے میرا خیال تھا اِنڈونیشیا پہنچ کر ریفیوجی ہو جائیں گے لیکن کشتی لینے کے لیے جنگل میں سے گزرنا پڑا۔ ایک بچہ گود میں ایک بیٹی کا ہاتھ پکڑا ہوا۔ گھٹنے گھٹنے تک کیچڑ بڑی مشکل سے کشتی تک پہنچے۔ کُھلے پانی میں ٹھنڈ بہت تھی۔
یہاں پہنچ گئے، اب ساڑھے تین سال ہو گئے۔ ریفیوجی ہیں کام کرنے کی اجازت نہیں۔ بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے اب اپنی مدد آپ کے تحت ریفیوجی بچوں کے لیے سکول بنایا ہے۔ اُس میں دونوں بڑی بیٹیاں پڑھاتی ہیں۔ مدیحہ اور ملیحہ۔
مدیحہ علی چنگیزی
ماں باپ نے ہم سے مشورہ نہیں کیا صِرف بتایا کہ ہم جا رہے ہیں دوسرے لوگ بھی جا رہے تھے۔ میرا خیال تھا باہر جائیں گے، نیا تجربہ ہو گا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ کہاں جا رہے ہیں۔ میرے کوئٹہ میں پشتون، بلوچ بھی دوست تھے لیکن سکول تک۔ گھر آنا جانا نہیں ہوتا تھا۔ شادی سالگرہ وغیرہ پہ نہیں بلاتے تھے۔
جب ہم آ رہے تھے تو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ہمیں جنگل سے گزرنا پڑے گا۔ گھپ اندھیرا تھا اور مجھے سانپوں کے پھنکارنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے سوچا یہ ہمارے ساتھ والدین نے کیا کر دیا۔
جب تک ہم کشتی پر پہنچے ہم سب بھیگ چکے تھے سخت سردی تھی اوپر سے یہ بھی خطرہ تھا کہ پانی میں شارک مچھلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
یہاں پہنچ کر پہلا مہینہ تو روتی رہی کہ یہ کیا جگہ ہے ہم اپنا گھر چھوڑ کر یہاں کیوں آ گئے ہیں۔ میں اب وہ لڑکی نہیں رہی جو پاکستان سے چلی تھی۔
اب میں ہر چیز کو اور نظر سے دیکھتی ہوں، اپنے عقیدے کے بارے میں سوال پوچھتی ہوں کہ کیا میرا عقیدہ مجھے یہ سکھاتا ہے جو ہمیں مارنا چاہتے تھے اُن کا عقیدہ کیا ہے۔
کبھی کبھی یہ بھی سوچتی ہوں کہ میری زندگی ضائع ہو رہی ہے میں جب پاکستان سے چلی تو او لیول کر رہی تھی اور اب تین سال سے سکول نہیں گئی۔ یہ وہ سال ہیں جب میرے سارے دوست پڑھ رہے ہیں یہ ہمارے پڑھنے کے دِن ہیں۔
اِس تجربے نے مجھے ایک چیز سکھائی ہے کہ ہمیں زندگی کو ’فار گرانٹڈ‘ نہیں لینا چاہیے۔ یہ کِسی وقت بھی بدل سکتی ہے ایک دِن آپ گھر بیٹھے ہیں اور اگلے دِن پردیس میں۔
میرے دِل میں پاکستان کے لیے اب بھی بہت محبت ہے ہمیشہ رہے گی۔ جیسا اپنے گھر میں آرام ہوتا ہے ویسا تو کہیں نہیں ملتا۔ جب وہاں ہمارے لوگ مر بھی رہے تھے اُس وقت بھی مجھے لگتا تھا کہ ہم آزاد ہیں، ہم اِس ملک کے شہری ہیں۔
میرے جو دوست ہزارہ نہیں ہیں کوئٹہ میں اُن سے رابطہ رہتا ہے فیس بک پر۔ دوست تو نہیں بھولتے لیکن وُہ اب بھی پوچھتے ہیں تم ہزارہ لوگ پاکستان سے بھاگ کیوں رہے ہو؟
ملیحہ علی چنگیزی
میں چونکہ فیملی میں بڑی تھی اِس لیے ماں باپ نے میرے ساتھ ڈسکس کیا تھا لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ زندگی کیسی ہو گی یہ تو بالکل نہیں پتہ تھا کہ ایک اصلی جنگل میں سے گزرنا پڑے گا۔ گھٹنوں تک دلدل ہو گی لیکن اب پیچھے دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کہ اِس سفر نے مجھے کافی بدل دیا ہے۔
جب میں کوئٹہ میں بستی تھی تو معصوم سی سیدھی سادی لڑکی تھی۔ اب مجھ میں کافی اعتماد آ گیا ہے اور میں کافی شیطان ہو گئی ہوں۔ پہلے سال تو بہت پریشان تھی لیکن اب ٹھیک ہوں۔
کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ یہ عمر تو میری خود سکول پڑھنے کی ہے اور میں ٹیچر بن گئی ہوں بچوں کو پڑھاتی ہوں۔ ورکشاپس کرتی ہوں۔ والنٹیئر کام ہے لیکن اِس سے وقت گزر جاتا ہے اور دوسرے لوگوں سے بھی مِل لیتے ہیں۔
پاکستان میرے خون میں ہے اور میں جہاں بھی جاؤں رہے گا۔ عید اور محرم پر کوئٹہ بہت یاد آتا ہے۔ لیکن ایک بات ہے پاکستان میں بھی لوگ محرم سے ڈرتے تھے یہاں بھی ڈرتے ہیں یہاں پر ہم محرم نہیں منا سکتے۔
ویسے زندگی کوئٹہ سے بہت مختلف ہے کوئٹہ میں تو بازار نہیں جا سکتے تھے باہر نہیں گھوم سکتے تھے کہ پتہ نہیں کب حملہ ہو جائے۔ فٹ بال کھیلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا یہاں پر ہم خوب فٹ بال کھیلتے ہیں۔
لیاقت چنگیزی
بس اِس بات کا شکر ہے کہ بچوں کو ساتھ لے آیا۔ جو لوگ بچوں کو پیچھے چھوڑ آئے اُن کی زندگی بہت مشکل ہے۔ خود اِدھر پھنسے ہیں ، بچے اُدھر بڑے ہو رہے ہیں۔
پاکستانی دوستوں سے اِنٹرنیٹ پر گپ شپ رہتی ہے وُہ اب بھی کہتے ہیں اوئے پھینے تو پاکستان سے بھاگ گیا۔ ہم ہنس دیتے ہیں۔
نام حاجی شبیر ہے۔ علمدار روڈ پر موٹر سائیکلوں کا اپنا شوروم تھا۔ بڑا اچھا کاروبار تھا۔
سارا کزن پولیس میں تھا۔ دو کزن 2006 میں جو پولیس کیڈٹوں پر حملہ ہوا تھا اُس میں شہید... see more ہوئے۔ پھر ایک چھوٹا بھائی پولیس میں اے ایس آئی تھا مقبول حسین اُس نے بھی یہ حالات دیکھے تو نوکری چھوڑ کر نکلا، کشتی میں بیٹھ کر آسٹریلیا پہنچ گیا۔
پھر ایک ہی سال میں بڑا بڑا دھماکہ ہوا لیکن میں نے کوئٹہ نہیں چھوڑا۔ آپ کو یاد ہوگا سنوکر کلب والا دھماکہ۔ وہ سنوکر کلب میرا اڈا تھا۔ اُس دِن میرے گھر والوں کی طبیعت خراب تھی تو میں کلب نہیں گیا۔
میرا سارا دوست اُس دھماکے میں چلا گیا۔ جعفر حسین، کیشیئر محمد حسین، وہاں کا چوکیدار سب میرے دوست تھے۔ سب چلے گئے میں نے لندن سے ایک سنوکر کا سٹک منگوایا ہوا تھا وہ سٹک بھی دھماکے میں جل گیا۔
وُہ سستا زمانہ تھا چار ہزار ڈالر دیا اور یہاں پہنچ گیا شوروم کا سامان سب کچھ سستا بیچ دیا۔ علمدار روڈ پہ جِتنی ہزارہ کی دُکانیں تھیں سب نے بند کیں، گھروں میں بیٹھ گئے یا بھاگ گئے۔
میں جب یہاں آیا تو آسٹریلیا جانے والی کشتی چلتی تھی۔ کوئٹہ کے پاکستانی لوگ تھے نام بدل کر کام کرتے تھے۔ بلنگ یہاں پہ ہوتی اور جب آسٹریلیا پہنچا دیتے تو پھر کوئٹہ میں اُن کو گھر والے پیسے دیتے۔
میں نے چھ دفعہ کشتی ٹرائی کی۔ ایک دفعہ کوئی 40 گھنٹے کشتی میں گزارے۔ لگتا تھا ابھی پہنچنے والی ہے آسٹریلیا۔ پھر اِنجن خراب ہو گیا۔ ایجنٹ نے ہمیں سیٹلائٹ فون دیا تھا۔ اُس سے ریسیکو والوں کو بتایا اُنہوں نے پکڑ کر واپس جکارتہ پہنچایا۔ وہاں پولیس نے ہمیں ہوٹل میں بند کیا مگر ہم سب بھاگ گئے۔
میں نے تین دِن بعد پھر کشتی ٹرائی کیا۔ اُس کا اِنجن آٹھ گھنٹے بعد خراب ہو گیا۔ پھر واپس۔ ایک دفعہ ایک ٹرائی گیا تو ٹریفک میں پھنس گیا، کشتی نکل گئی اور وہ کشتی آسٹریلیا پہنچ بھی گیا۔
پھر نئی پالیسی کا اعلان ہو گیا کہ ریفیوجی رجسٹر کراؤ اور یہیں بیٹھو۔ 2013 میں ریفیوجی ڈیکلیئر ہوگیا تھا تب سے یہیں بیٹھا ہوں۔ اب تو لگتا ہے یو این والے ہمارا نمبر بھی بھول گئے۔ میرے بعد فیملی والے آئے، چلے گئے، انڈر ایج آئے چلے گئے میں یہیں بیٹھا ہوں۔
کوئٹہ میں دو بیٹے، دو بیٹیاں ہیں۔ بس اللہ پر چھوڑا ہوا ہے۔ شوروم کا سارا پیسہ ختم ہوگیا۔ اب اُدھار پہ گزارہ چل رہا ہے۔ کبھی سوچتا ہوں یہاں آ کے غلطی کیا لیکن کرتا بھی کیا۔ اُدھر ہر گلی پر لوگوں کو مارتے تھے۔ ہمارے ساتھ علمدار روڈ پہ ایک الیکٹرانک والا تھا اُس کو مارا ، ڈاکٹر کو مارا، انجینئر مارا۔ اولمپئین باکسر تھا سید ابرار حسین اُس کو مارا۔ جب بڑے ختم ہو گئے تو سبزی والے کو، موچی کو بھی مارنے لگا۔
تین چار مہینے پہلے خیال آیا کہ بس بہت ہو گیا اگر موت کوئٹہ میں لِکھی ہے تو وہیں جا کر مریں گے۔ یو این والوں کو بتا دیا کہ بس اب میں واپس جاؤں گا، وہ ریکارڈ چیک کرتے ہیں، ٹکٹ وغیرہ کا بندوبست بھی کر دیتے ہیں۔
سب اِنتظام ہو گیا۔گھر والوں کو بتایا تو اُنھوں نے رو رو کر کہا کہ محرم کا مہینہ ہے لوگ کوئٹہ سے بھاگنے کی فکر میں ہیں، تم واپس آ رہے ہو۔ کیسے بد بخت اِنسان ہو۔ میں نے کہا نہیں میں آ رہا ہوں۔ پھر میری فلائٹ سے چند دِن پہلے ایک بس سے چار ہزارہ لیڈیز کو اُتار کر مارا عین محرم کے مہینے میں۔ پھر فلائٹ کینسل کی، اب یہیں ہوں۔ پھر ریفیوجی۔
یہاں پر اگر بندہ مر جائے تو اُسے واپس کوئٹہ بھیجنے میں تیرہ چودہ ہزار ڈالر لگتے ہیں۔ ایک فیملی کے ساتھ یہ ہوا اُن کا باپ مر گیا یہیں پہ دفنایا۔ بعد میں اُن کا کیس آسٹریلیا لگ گیا، چلے گئے۔ لیکن ساری عمر روئیں گے کہ باپ کو کہاں دفنا آئے کہ اُس کی قبر پر بھی نہیں جا سکتے۔
میرے ساتھ کچھ تھے جو باہر جاتے جاتے مچھلی کی خوارک بن گئے۔
بس آپ دُعا کرو کہ یہ وقت کِسی پر نہ آئے۔
پاکستان میں گذشتہ دہائی کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کا متواتر نشانہ بننے والی ہزارہ برادری کے سينکڑوں خاندان ہجرت کر کے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کے متلاشی... see more ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد انڈونیشیا میں بھی موجود ہے۔
انڈونیشیا نے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں اور یہاں پناہ گزینوں کو تعلیم اور روز گار جیسے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔
یہاں آنے والے پناہ گزین خود کو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین 'یو این ایچ سی آر' کے ساتھ رجسٹرڈ کرواتے ہیں اور پھر ادارہ ان پناہ گزینوں کو مختلف ممالک میں آباد کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے لیکن اس سارے عمل میں کئی برس لگ جاتے ہیں۔
انڈونیشیا میں مقیم ہزارہ پناہ گزینوں میں پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے لیاقت چنگیزی اور ان کا خاندان بھی شامل ہیں۔ انھوں نے سنہ 2013 میں اپنے خاندان سمیت پاکستان کو خیرباد کہا۔
لیاقت پاکستان میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ تھے اور پاکستان ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری بھی کر چکے ہیں۔ جن میں نوے کی دہائی کا مقبول ڈرامہ دھواں بھی شامل ہے۔
پاکستان چھوڑنے کے فیصلے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ میں بہت نامور میڈیا شخصیت نہیں تھا لیکن میڈیا سے وابستہ ہونے کی وجہ سے کوئٹہ کی حد تک کافی لوگ مجھے جانتے تھے۔ جس کی وجہ سے مجھے سنہ 2007 سے ہی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی تھیں،میرے دو قریبی دوست حسین علی یوسفی اور عابد نازش جو اسٹیج اداکار بھی تھے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔لیکن میں نے پاکستان کو چھوڑنے کا حتمی فیصلہ سنہ 2013 کے خونی سال کے بعد کیا۔'
خیال رہے کہ 2013 میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو متعدد بار دہشت گردی کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا جن میں فروری کے مہینے میں کیا جانے والا بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
لیاقت نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ میری کی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا، مگر ہمیں مجبوراً ایسا کرنا پڑا، بچوں کے سکولوں کے قریب حملے ہو رہے تھے۔ ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا۔'
'ایک وقت ایسا آگیا تھا کہ سکول والوں نے ہمیں کہا کہ آپ اپنے بچوں کو سکول نہ بھجیں، ان کی وجہ سے دوسرے بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔‘
اس سوال پر کہ وہ انڈونیشیا کیسے پہنچے انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان ویزہ لے کر پہلے سنگاپور گئے پھر وہاں سے سمگلروں کو پیسے دے کر انڈونیشیا آئے۔ لیاقت کے مطابق سنگاپور سے انڈونیشیا کا سفر بہت کٹھن تھا ایجنٹ انھیں مختلف جنگلوں اور آبی راستوں سے گزار کر انڈونیشیا لائے تھے۔
لیاقت کےبقول انھوں انڈونیشیا پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں پناہ گزینوں کو روزگار اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے پناہ گزینوں کو مختلف ممالک میں آباد کرنے میں اکثر کئی برس لگ جاتے ہیں۔
'مجھے سب زیادہ پریشانی بچوں کی تعلیم کی تھی، ہم انھیں کسی بھی سرکاری سکول میں نہیں بھیج سکتے تھے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میری طرح بہت سے والدین کو یہ پریشانی لاحق ہے۔ اسی لیے میں نے کچھ دیگر دوستوں کے ساتھ ملکر پناہ گزینوں کے لیے ایک سکول بنانے کا فیصلہ کیا۔'
رفیوجی لرننگ سنٹر نامی یہ سکول انڈونیشیا کے شہر بگور میں واقع ہے اور اس وقت اس میں دو سوں سے زیادہ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ سکول کا تمام عملہ بشمول اساتذہ ہزارہ پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔
خیال رہے کہ بگور انڈونیشیا کا وہ شہر ہے جہاں ہزارہ پناہ گزینوں کی اکثریت رہتی ہے۔
بگور ایک سیاحتی شہر ہے جہاں کاموسم ملک کے دیگر حصوں کی نسبت قدرے سرد رہتا ہے۔ لیاقت نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں ہزارہ برادری کی جانب سے اس شہر میں آباد ہونے کی وجہ یہ موسم ہی ہے۔
انڈونیشیا کے مقامی لوگوں کے حوالے سے لیاقت نے بتایا کہ یہاں مقیم ہزارہ برادری کو اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے۔' مقامی لوگوں کا رویہ ہمارے ساتھ بہت اچھا ہے، صرف زبان کا مسئلہ ہے، وہ ہمیں نہیں سمجھ سکتے اور ہم انھیں کیونکہ یہاں لوگ انگلیش کم ہی بولتے ہیں۔'
بگور میں میری ملاقات پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برادری کے کئی خاندانوں سے ہوئی، جس سے واضح تھا کہ یہاں آنے والوں میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جن میں اعلی سابق سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات بھی ہیں۔
پاکستان واپس آنے کے بارے میں کیے گئے سوال پر لیاقت چنگیزی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان ہمارا ملک تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ اگر آج بھی امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو ہم واپس جانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔'
قصور میں زینب سمیت آٹھ بچیوں کے قتل کے ملزم عمران علی کی گرفتاری کے بعد بہت سے مفروضے اور سازشی تھیوریاں گردش کر رہی ہیں۔ یہ مفروضے ایسے سوالات سے جنم لے رہے ہیں جن کا تسلی... see more بخش جواب پولیس نہ تو بچیوں کے لواحقین کو بتا پائی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پلیٹ فارم پر اس کا تذکرہ ہوا ہے۔
سوال نمبر 1: زینب کو کب قتل کیا گیا؟
سوال نمبر 2: زینب کی لاش کب ملی؟
سوال نمبر3: کیا اتنے دن گزر جانے کے بعد لاش پر مسخ ہونے کی علامات تھیں؟
ان سوالات کے جوابات کے لیے ہم نے عینی شاہدین، مختلف بیانات، شواہد اور پولیس کے افسران سے گفتگو کی۔ ان جوابات کی روشنی میں جو تصویر سامنے آتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے۔
سوال نمبر 1: زینب کو کب قتل کیا گیا؟
اس بارے میں ابہام زینب کے والد امین انصاری کے دعوے کے بعد شروع ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ تفتیشی پولیس افسران نے خود انہیں بتایا کہ ملزم نے اپنے بیان میں زینب کو گھر پر رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔
تاہم تفتیشی پولیس افسران اور زینب کے والد کے بیانات میں تضاد ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم بچیوں کو اپنے گھر کی طرف نہیں لاتا تھا۔ اس نے اپنے اعترافی بیان میں یہ تسلیم کیا کہ گذشتہ سال نومبر میں اس نے ایک چھ سالہ بچی کو اسی کوڑے کے ڈھیر پر ریپ کیا اور نیم مردہ حالت میں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔
زینب قتل کیس کی تفتیش کی دوران ملزم نے پولیس کو بتایا کہ ابتدائی طور پر اس کا ارادہ ایک زیرِ تعمیر مکان کی طرف جانے کا تھا تاہم اسے مکان کے قریب ایک شخص فون پر بات کرتا ہوا نظر آیا۔ اس وجہ سے اس نے عین موقعے پر ارادہ بدل کر وہیں سے کوڑے کے ڈھیر کا رخ کیا۔
جے آئی ٹی کے رُکن، ڈی پی او وہاڑی عمر سعید نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ دو واقعاتی شواہد کی بنیاد پر انہیں ملزم کی بات پر یقین ہوا کہ بچی کو اُسی مقام یعنی کچرے کے ڈھیر پر ہی اس نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر وہیں قتل کیا۔
عمر سعید کا کہنا تھا کہ بچی کے جسم پر موجود لباس اسی حالت میں تھا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ ملزم قتل کرنے کے بعد عجلت میں وہاں سے فرار ہوا۔
بچی کے جوتے جس جگہ پر تھے ان سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کے پاؤں سے اترے ہیں نہ کہ وہاں لا کر پھینکے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قصور ضلعی ہسپتال کی ڈاکٹر قرۃ العین عتیق نے لکھا ہے کہ بچی کی لاش دو سے تین دن پرانی معلوم ہوتی تھی۔
تاہم پولیس کے تفتیش کاروں کے مطابق جہاں پورسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ پتہ چلانے میں مدد ملی کہ لاش کو وہاں لا کر نہیں پھینکا گیا وہیں اس سے یہ ابہام بھی پیدا ہوا کہ اگر قتل تین روز پہلے ہوا تو اغوا کے بعد بچی کو کہاں رکھا گیا اور کیوں؟
اس وجہ سے پولیس کی ابتدائی تفتیش کا رخ شہر کے مختلف علاقے کی جانب رہا جس سے کم از کم دو دن کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
تاہم یہ معمہ تب حل ہوا جب 13 جنوری کو فورنزک رپورٹ آنے کے بعد یہ ثابت ہوا کہ تمام آٹھ وارداتوں میں ایک ہی سیریل کلر ملوث ہے۔
تاہم پورسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے جب قصور ضلعی ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ بالکل درست تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تھا کہ ایسی رپورٹ میں سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا اور اس میں دس سے بیس فیصد گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔
تاہم پولیس کے سینیئر اہلکار اس بات سے متفق نظر نہیں آئے اور ان کا یہی موقف تھا کہ اگر رپورٹ پہلے بار ہی جامع ہوتی تو تفتیش درست سمت میں آگے بڑھتی۔
سوال نمبر 2: زینب کی لاش کب ملی؟
زینب کی لاش آٹھ جنوری کو ملی اور وہ 4 جنوری کو لاپتہ ہوئی تھی۔
ملزم نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا کہ اس نے زینب کو چار جنوری کو ہی قتل کیا اور اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر کے کنارے پر رہنے دی مگر چار دن کے دوران آس پاس موجود لوگوں کو اندازہ نہیں ہوا کہ ایک انسانی لاش یہاں پڑی ہے۔
ہمارے نامہ نگار اور پولیس کے مطابق کوڑے کا یہ ڈھیر تیس سے چالیس کنال رقبے پر محیط ہے جس میں متعدد ٹیلا نما کوڑے کے بڑے بڑے ڈھیر موجود تھے جنہیں زینب کی لاش ملنے کے بعد انتظامیہ نے برابر کر دیا ہے۔
کوڑے کے ڈھیر کے آس پاس آبادی کچھ زیادہ نہیں۔ جہاں سے زینب کی لاش ملی وہاں سے قریب ترین ایک گوالے کا گھر ہے جبکہ چند گھر وہاں سے کچھ فاصلے پر واقع ہیں تاہم اسی مقام کے قریب چند گوالے تقریباً روزانہ اپنی بھینسوں کو چارا ڈالنے کی غرض سے لاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان لڑکے نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ابتدائی چار دنوں میں نہ ہی بچی کی لاش دیکھی نہ ہی ایسی کوئی سرگرمی دیکھی۔
تاہم آٹھ جنوری کو ایک گوالے ہی کی نشاندہی پر پولیس کو کچرے کے ڈھیر پر دیوار کے قریب سے لاش ملی۔
سوال نمبر 3: کیا لاش پر اتنے دن گزر جانے کے بعد مسخ ہونے کی علامات تھیں؟
پولیس کے بیانات کے مطابق زینب کو 4 جنوری کی رات ہی ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا جس کو پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی تقریباً ثابت کرتی ہے۔ بچی کی لاش مسخ ضرور ہوئی تاہم موسم سرد ہونے کی وجہ سے اس پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔
لیکن اگر زینب کے والد کی بات پر چلا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملزم نے چار سے 7 جنوری یا شاید آٹھ جنوری تک زینب کو گھر پر رکھا؟
ڈی پی او عمر سعید کے مطابق بچی کی لاش زیادہ مسخ ہونے سے اس لیے بچ گئی کیونکہ لاش براہِ راست سورج کی روشنی میں نہیں بلکہ ایک دیوار کی اوٹ میں سائے میں پڑی رہی۔
دوسرا سردیوں کے موسم کی وجہ سے درجہ حرارت اتنا زیادہ نہیں تھا کہ اس سے لاش پر برے اثرات نمایاں ہوتے لیکن اگر یہ واقعہ گرمیوں میں ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔
ان سوالات کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے مطابق پولیس ابتدا میں یا گذشتہ کیسز کو حل کرنے میں مندرجہ ذیل باتوں کی وجہ سے ناکام رہی۔
* سیریل کلر
پولیس آخری دنوں تک اسے ایک معمولی ریپ کرنے والا شخص سمجھ کر تلاش کرتی رہی مگر تفتیش کو اس رُخ پر کرنے میں ناکام رہی کہ یہ ایک سیریل کِلر ہے۔
ڈی پی او عمر سعید نے بتایا کہ 'اگر پولیس شروع سے ہی اس بات پر اپنی تفتیش کی بنیاد رکھتی ہے کہ یہ ایک سیریل کِلر ہے تو اس سے ساری تفتیش کا رُخ ہی بدل جاتا۔ کیونکہ سیریل کِلر ایک مخصوص طریقے سے کام کرتا ہے۔ سیریل کِلر ہمیشہ کوئی نہ کوئی ثبوت چھوڑ کر جاتا ہے۔'
مگر دوسرے پولیس اہلکاروں کا یہ ماننا ہے کہ پولیس کی اس نوعیت کی تربیت ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسے وسائل اور ذہانت یا ریسورسز ہیں جن سے وہ اس قسم کی تفتیش کو مخصوص پیرائے میں کر سکے۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ سیریل کِلر ہمیشہ ایک عام آدمی کی زندگی گزارتا ہے اور اپنے ماحول میں بہت اچھے طریقے سے گھُل مل کر رہتا ہے۔ اس کے طرز عمل میں سوائے جرم کے تشدد کا عنصر نہیں پایا جاتا جس کی وجہ سے اس پر شک نہیں ہوتا۔
دل کے دورے کا ڈھونگ اور مذہب کا لبادہ
جب پولیس نے پہلی بار عمران علی کو ڈی این کے لیے پکڑا تو اُس نے دل کا دورہ پڑنے کا ڈھونگ رچایا۔ پولیس جو پہلے ہی مدثر کے قتل کے الزامات کا سامنا کر رہی تھی اس بات سے ڈر گئی کہ ہیں عمران ان کے گلے نہ پڑ جائے۔ دوسرا عمران کے آس پاس لوگوں نے اس کی پارسائی کے ثبوت کے طور پر یہ بات کہی کہ 'یہ نعتیں پڑھتا ہے مذہبی آدمی ہے یہ ایسا گھناؤنا کام کیسے کر سکتا ہے۔'
اگر اسی موقع پر عمران علی کا ڈی این اے کروایا جاتا تو اتنے دن انتظار کی بجائے کیس جلد ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے۔
* عاصمہ کیس کی تفتیش میں غلطی
جون 2015 میں عاصمہ کے ریپ کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے جو شواہد اکٹھے کیے ان میں عمران علی کی جوتی بھی شامل تھی جو اس نے بھاگتے وقت چھوڑ دی مگر پولیس اہلکار اس جوتی کو کیس کی تفتیش کا حصہ بنانے میں ناکام رہے۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ جوتی وقت پر تفتیش کا حصہ بنتی اور اس کے فورینزکس حاصل کیے جاتے تو غالب امکان تھا کہ ملزم کے پکڑے جانے میں مدد ملتی۔
 پولیس کے وسائل اور غیر ضروری سرگرمیاں
پولیس والوں کا کہنا ہے کہ اگر زینب قتل کیس کا ایک فیصد بجٹ بھی پولیس کو فی کیس حل کرنے کے لیے دیا جائے تو پولیس کی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے۔ مبینہ طور پر زینب قتل کیس پر پندرہ کروڑ کے اخراجات ہوئے جن میں بڑی رقم ڈی این اے ٹیسٹ کروانے پر خرچ کی گئی۔
صوبائی حکومت چونکہ دباؤ میں تھی اس لیے اس نے خزانے کے منہ کھول دیے تاکہ یہ ایک کیس حتمی انجام تک پہنچ سکے مگر کیا ہر ایسے کیس کے لیے حکومت ایسے وسائل فراہم کرے گی؟
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس وی آئی پی ڈیوٹیوں اور مختلف غیر ضروری سرکاری کاموں پر کروڑوں روپے کے وسائل خرچ کرتی ہے اس لیے اہم کیسز کی تفتیش اور تحقیق کے درکار وسائل فراہم نہیں کر پاتی۔ بعض تھانوں کے تو ضروری اخراجات کے پیسے بھی مخیر حضرات ادا کرتے ہیں تو تفتیش اور تحقیق کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔
پیسے کی کمی کے علاوہ وی آئی پی شخصیات جیسے غیر ملکی افراد، پولیس اہلکار، سیاسی شخصیات، اہم تنصیبات کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی جاتی ہے تو تفتیش کے لیے پولیس کے پاس اتنے اہلکار ہی نہیں بچتے۔
موروثی یا خاندانی سیاست پاکستان میں ایک منفی اصطلاح کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رکن اسمبلی جہانگیر خان ترین کی نااہلی کے بعد... see more انہی کے بیٹے علی ترین کو ان کی خالی نشست کیلئے نامزد کیا تو عمران خان پر بھی موروثی سیاست کی حمایت کرنے کے الزامات لگے۔ حالانکہ عمران خان کے اپنے خاندان کا کوئی فرد یا ان کے بیٹوں میں سے کوئی بھی اس وقت سیاست میں نہیں ہے۔
جب کہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی قومی سیاست پر، قومی وسائل پر، نجی یا قومی شعبے میں تاریخی وجوہات کی بنا پر اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے۔ تاہم اس اجارہ داری کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مختلف انداز، زاویے اور درجے ہوتے ہیں اور ان تمام باتوں کا ان ممالک کے سماجوں کی ترقی، تعلیم اور معیشت طے کرتی ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں موروثی سیاست کا کردار زیادہ ہوگا جبکہ صنعتی معیشت میں کم۔
موروثی سیاست یا قیادت صرف بڑے خاندانوں تک محدود نہیں ہے یہ طرز سیاست معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی بہت زیادہ مروج ہے۔ ایک خاندان کی اجارہ داری صرف قومی یا صوبائی اسمبلیوں تک ہی محدود نہیں، مقامی حکومتوں میں بھی امیدواروں کی شرح موروثی سیاست کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ میڈیا پر بیٹھ کر موروثی یا خاندانی سیاست کو برا بھلا تو کہا جاتا ہے مگر عملاً اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمینٹ اینڈ اکنامک آلٹرنیٹوز کے محقق، ڈاکٹر علی چیمہ اور ان کے ساتھیوں (حسن جاوید، اور محمد فاروق نصیر) نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ چند دوسرے ممالک سے کیا تھا۔ ان کے مطابق، امریکی کانگریس میں 1996 میں موروثی سیاست کا حصہ تقریباً 6 فیصد تھا، بھارت کی لوک سبھا میں 2010 تک 28 فیصد، جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد تھا۔ (کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابل قبول ہے۔)
انہی محقیقن کے مطابق، موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے تقریباً 400 خاندان ہیں جو مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازیاں کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے مطابق 1985 کے انتخابات سے 2008 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے۔ اور تاحال یہ حالات بدلے نہیں ہیں۔
اب بھی زیادہ تر خاندانی سیاست میں بیٹوں کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کا نمبر آتا ہے، پھر بھتیجوں کا نمبر ہے اور سب سے کم دامادوں کا حصہ ہے۔ بیٹیوں کا حصہ شاذ و نادر نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ موروثی یا خاندانی سیاست دان 2008 کے انتخابات تک قومی اسمبلی کا پچاس فیصد رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ "الیکٹ ایبلز" امیدوار ڈھونڈے اور اس طرح نئی جماعت بھی موروثی سیاست سے بچ نہیں پاتی ہے۔
ایک عجیب بات یہ ہے کہ جنرل ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں نئے امیدوار انتخابات میں آئے مگر ان ہی میں سے نئے آنے والوں میں سے چند ایک نے اپنی نئی حاندانی سیاسی اجارہ داریاں قائم کرلیں۔ جرنیلوں کے بچوں نے انتخابات لڑ کر اپنی اجارہ داریاں بنانے کی کوششیں کیں ہیں۔ یعنی فوجی حکمرانوں نے موروثی قیادت کو کمزور نہیں کیا۔ اس لئے اس سے یہ بات نظر آتی ہے کہ نئی قیادت کے آنے سے ضروری نہیں ہے کہ موروثی سیاست یا خاندانی سیاست کا نظام کمزور ہو گا۔
اسی تحقیق میں یہ بھی نظر آیا کہ موروثی سیاست جاگیرداروں کے طبقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیاست میں آنے والے صنعت کاروں اور کاروباری طبقے بھی اپنے اپنے وارث سیاست میں لیکر آئے اور اس طرح انھوں نے موروثی سیاست کی روایت کو جلا بخشی۔ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امیدواروں کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط تو رکھی تھی مگر جب انھوں نے جوڑ توڑ کی سیاست کی تو سیاسی خاندانوں کے گریجویٹ چشم و چراغ پھر سے اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔
پنجاب کے بڑے سیاسی خاندان بشمول نواز شریف، چوہدھریز آف گجرات، ٹوانے، قریشی، گیلانی، جنوبی پنجاب کے مخدوم اور اقتدار میں رہنے والے جرنیلوں کے بچے، نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہیں بلکہ صوبائی اسمبلیاں بھی براہ راست ان ہی کے خاندان کے افراد یا ان سے وابستہ لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔ نواز شریف کی اپنی بیٹی، مریم نواز کو مسلم لیگ کا لیڈر بنانے کی کوشش بھی ان کی جماعت میں کشیدگی بڑھنے کی ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔
موروثی یا خاندانی سیاست کی یہی حالت صوبہ خیبر پختون خواہ کی ہے جہاں اس وقت بڑا سیاسی خاندان پرویز خٹک کا ہے، روایتی طور پر وہاں بڑا سیاسی خاندان خان عبدالولی خان کا رہا ہے۔ ہوتیوں کا خاندان، سیف اللہ کا خاندان، یوسف خٹک کا خاندان، ایوب خان کا خاندان اور مولانا مفتی محمود کا خاندان اس موروثی سیاست سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ قاضی حسین احمد کا خاندان بھی جماعت اسلامی میں موروثی سیاست کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔
سندھ میں کیونکہ سیاست زیادہ تر جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہے تو وہاں موروثی سیاست معاشرتی طور پر بہت زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن سندھ کے شہری علاقوں میں الطاف حسین کی متحدہ قومی موومینٹ نے اپنے زیر اثر حلقوں میں ایک نئی جماعت ہونے کی وجہ سے موروثی یا خاندانی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب جبکہ یہ جماعت اسٹیبلشمینٹ کے عتاب کا شکار ہے تو خدشہ ہے کہ اس میں بھی ایسی تبدیلیاں آئیں جو موروثی یا خاندانی سیاست کو واپس لانے کا سبب بنیں۔
سندھ میں عموماً موروثی سیاست کے حوالے سے بھٹو خاندان کا نام لیا جاتا ہے۔ تاہم وہاں، زیادہ تر سیاسی رہنما موروثی لیڈر ہی ہوتے ہیں۔ البتہ بھٹو خاندان کے بارے میں یہ کوئی بات نہیں کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو موروثی سیاست نہیں ملی تھی۔ وراثت کے لحاظ سے ممتاز بھٹو کو سیاست کرنا تھی اور اگر بھٹو کی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو بے نظیر بھٹو کے لیڈر بننے کے امکانات بہت ہی کم تھے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی اپنی پر تشدد موت نے ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی جس کی وجہ سے قیادت ان کے بیٹے کو ملی۔ تشدد اور مارشل لا وغیرہ نے پیپلز پارٹی میں موروثی سیاست کو مضبوط کیا۔
بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں، سیاسی جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مری، مینگل، بگٹی، زہری، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک، سابق وزیر اعلیٰ، کے علاوہ ڈاکٹر اللہ نذر کی زیر قیادت قوم پرست بلوچ لبریشن آرمی ایسی ہے جہاں فی الحال موروثی قیادت نظر نہیں آتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ شدت پسند تنظیمیں، لشکر طیبہ، جماعت الدعوٰۃ، جماعت اہل سنت والجماعت اور تحریک طالبان پاکستان میں تاحال موروثی سیاست نظر نہیں آتی ہے۔ لیکن تحریک نفاذ شریعت محمدی میں موروثی قیادت واضح طور پر نظر آتی ہے کیونکہ صوفی محمد کے داماد فقیر اللہ نے قیادت سنبھال لی۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے محقیقین، عبدالقادر مشتاق، محمد ابراہیم اور محمد کلیم کے مطابق، موروثی سیاست کے بارے میں ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیونکہ تاریخی لحاظ سے بڑے سیاسی خاندان ریاستی وسائل، اپنی خاندانی دولت، حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور مخالفین یا دوسروں پر تشدد کرنے کی صلاحیت پر اجارہ داری رکھتے ہیں اس لئے انہی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے سیاست میں اپنی حیثیت بنانا یا منوانا آسان ہوتا ہے۔
پھر ایک بات اور بھی کہی جاتی ہے کہ موروثی سیاست ان معاشروں میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے جن میں جمہوری روایات پھلی پھولی نہیں ہوتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں گاہے بگاہے جمہوری نظام میں مداخلت کرتی رہتی ہیں (بھارتی پنجاب میں اگر موروثی یا خاندانی سیاست کا حصہ 28 فیصد ہے تو پاکستانی پنجاب میں 53 فیصد)۔ تاہم اب ایک رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ موروثی سیاست دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں کمزور ہو رہی ہے۔
روزا بروکس اپنی کتاب A Dynasty is not Democracy میں کہتی ہیں کہ موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے جبکہ ایک طاقتور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے۔ اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی دولت کی بہتر تقسیم اور صنعتی ترقی بھی موروثی سیاست کو کمزور کر سکتی ہے۔
پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی حصولِ تعلیم کے لیے برطانیہ میں مقیم ہیں لیکن ان کی آواز اور چہرہ دنیا بھر میں لڑکیوں... see more کے مسائل کی نمائندگی کرتا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات اکثر اوقات کشیدگی کا شکار رہتے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن دو ہمسایوں کے تعلقات سے بالاتر ہو کر ملالہ یوسفزئی صنفی مساوات کے پیغام کے ساتھ انڈیا کی دیواروں پر نظر آتی ہیں۔
ملالہ توجہ کا مرکز
انڈین پنجاب کے ضلعے برنالہ کی انتظامیہ نے 'بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ' مہم کے سلسلے میں تیار کیے جانے والے میورل کے لیے جن خواتین کی تصاویر کا انتخاب کیا ان میں پانچ انڈین اور انڈین نژاد خواتین کے علاوہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں۔
اس تصویر میں کشش کا محور ملالہ یوسفزئی ہی ہیں جو لتا منگشکر، امریتا پریتم، کلپنا چاولہ، پی ٹی اوشا اور میری کوم کے ساتھ صنفی امتیاز کے خلاف ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔
صنفی مساوات سے نمٹنے میں انصاف اور تکلیف مشترکہ چیز ہے۔
برنالہ کے سینیئر اہلکار سندیپ کمار نے بتایا کہ دیواروں پر اس قسم کی تصاویر پینٹ کرنے کا تصور ڈپٹی کمشنر گنشام توری کا تھا۔
تصاویر بنانے والے جسویر ماہی کے مطابق انھوں نے ان تصاویر کا انتخاب خود کیا اور اس کے بعد ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ حاصل کیا۔
برنالہ کے مقامی کالج کی طالبہ کرن کور نے بتایا کہ انھیں ملالہ کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جو انھوں نے نوبیل انعام حاصل کیا اور انھیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ انھوں نے اس عمر میں خواتین کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔
کرن کور کے مطابق ملالہ 14 برس کی عمر میں خواتین کے لیے ہمارے سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتی تھیں۔
برنالہ سے ہی تعلق رکھنے والی طالبہ جسلین کور کہتی ہیں کہ ’میں گریجویشن کر رہی ہوں اور میری عمر 18 برس ہے۔ میں ملالہ سے بہت متاثر ہوں جنھوں نے 14 برس کی عمر میں دہشت گردوں کا سامنا کیا اور جو لڑکیوں کی تعلیم میں بہت سرگرم ہیں اور چاہتی ہیں کہ کچھ کیا جائے۔
دیواروں پر دکھائی دینے والی دوسری خواتین کون ہیں
دیواروں پر بنائی گئی تصاویر کو دیکھے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔
ان میں پہلی تصویر مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کی ہے جنھیں بھارتی رتن اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ملا۔ انھوں نے 1942 میں اپنے کریئر کا آغاز کیا اور بہت ساری انڈین فلموں کے لیے گانے دیے۔
دوسری تصویر امریتا پریتم کی ہے جو ایک سو سے زائد کتابوں کی مصنفہ ہیں اور ان کی کتابوں کا درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ امریتا پریتم کو سرحد کے دونوں جانب پذیرائی ملی ہے۔
تیسری تصویر انڈین نژاد امریکی خاتون خلاباز کلپنا چاولہ کی ہے جو 2003 میں ناسا کی جانب سے خلائی مشن پر گئی تھیں۔
چوتھی تصویر انڈین ایتھلیٹ پی ٹی اوشا کی ہے جنھوں نے 100، 200 اور 400 میٹر میں بہت سے قومی ریکارڈ کیے ہیں۔ وہ ایشین چیمپئن اور اولپمکس میں انڈیا کا فخر ہیں۔
پانچویں دنیا کی پہلی خاتون باکسر میری کوم کی ہے جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر چھ باکسنگ باکسنگ چیمپئن شپ میں سے پانچ سونے کے تمغے جیتے۔
تصاویر میں نظر آنے والی خواتین کے چہرے کا مجموعی تاثر سے ایسا لگتا ہے جیسے کہ یہ مثالیں پیش کرنے کے لیے عمر کی پابندی نہیں ہے۔
جس میں آنکھیں پرسکون، بلند حوصلہ اور اس کے ساتھ مسکراہٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ سوچ کی طاقت گولی سے بڑی ہے۔
حال ہی میں ایک بلوچی فلم زراب کی سکریننگ بلوچستان کے شہر پسنی میں کی گئی۔ یہ بلوچی زبان میں بنی ہوئی پہلی فلم ہے جو پردے تک پہنچی ہے۔
پسنی کے سوشل ویلفئیر کلب میں شام پانچ... see more بجتے ہی گہما گہمی شروع ہوگئی جب ایک ایک کر کے کئی لوگ فلم دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے۔ اس فلم کی رونمائی کے ساتھ ساتھ سوشل ویلفئیر ہال کو بھی کئی برسوں بعد لوگوں کے لیے کھولا گیا ہے۔
فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسر جان البلوشی، بحرین میں مقیم پاکستانی ہیں اور اب تک فلم کی رونمائی بحرین کے کئی مالز اور کلبوں میں کروا چکے ہیں۔
پسنی سے پہلے اس فلم کی سکریننگ گوادر میں کی گئی جس کے بعد یہ فلم تُربت اور پھر کراچی میں دکھائی جائے گی۔
ایک گھنٹے پر مشتمل اس فلم میں چار اہم کردار ہیں جن کے گرد یہ کہانی گھومتی ہے۔
ایک طرف ہیں ماما صوبان (انور صاحب خان) جو اپنے ایک بیٹے (شاہ نواز) کی کاہلی اور دوسرے (احسان دانش) کی معذوری کی وجہ سے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک کم عمر بچے (عاقب آصف) کے ساتھ فلم کے کردار پورے ہوجاتے ہیں جس میں ایک بھی عورت کا کردار نہیں ہے۔
فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکار ذاکر داد نے بی بی سی کو بتایا کہ فلم بیس دن میں مکمل ہوئی اور گوادر میں ہی عکس بند کی گئی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کی زندگی اور اس سے منسلک جدوجہد کو سامنے لانا ہے۔
’یہ سبھی کردار ہماری عام زندگی سے بہت مماثلت رکھتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں کہ لوگوں کی کہانی ان کی زبانی سنائی جائے۔‘
فلم میں صرف مردوں کی موجودگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ذاکر نے کہا کہ، ’1970 کی دہائی میں ایک فلم بنی تھی جس کا نام تھا حمّل و ماہ گنج۔ یہ فلم ابھی پردے تک پہنچی بھی نہیں تھی کہ فلم میں موجود لڑکی کے کردار پر نکتہ چینی اس حد تک ہوئی کہ سیاسی مسئلہ بن گیا۔ اور آج تک وہ فلم منظرِ عام تک نہیں آسکی۔ ہم اس وقت ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے جو بعد میں ہمارے لیے یا ساتھ کام کرنے والوں کے لیے پشیمانی کا سبب بنے۔‘
بلوچستان کا چھوٹا سا شہر پسنی ایک طویل عرصے تک ’لکھنؤ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ذاکر داد بتاتے ہیں کہ پسنی کو یہ نام یہاں پر تھیٹر، شاعری اور ادب سے منسلک سرگرمیوں کی وجہ سے دیا گیا۔
لیکن ضلع کیچ میں ریاست اور آزادی پسند گروہوں کے درمیان جنگ کا ایک بڑا اثر اس علاقے پر اور خاص کر کے یہاں پر پنپنے والے ادب پر پڑا۔
اسی سوشل ویلفئیر کلب کے احاطے میں کارڈ کھیلنے اور بیٹھنے کے لیے لوگ آتے ہیں، لیکن کئی برسوں سے بند اس ہال میں پہلی بار فلم کی سکریننگ کروائی گئی جس میں ٹکٹ اور بغیر ٹکٹ بھی کئی لوگوں نے شرکت کی۔
’ہماری اس چھوٹی سی کاوش کا مقصد بلوچستان کے لوگوں خاص کرکے بچوں اور خواتین کو ہدایت کاری، فوٹوگرافی اور اداکاری کی طرف راغب کرنا ہے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ اپنی کہانیاں ہم سے بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔ ہم صرف ایک ذریعہ ہیں۔‘
تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے پاکستانی مسیحی جو کئی برسوں سے پناہ گزین کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کے لیے’خِفیہ‘ سکول امید کی کرن ہیں جہاں وہ تعلیم حاصل... see more کر رہے ہیں۔ پاکستانی مسیحوں کی ایک تعداد پاکستان میں مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے فرار ہوئے ہیں۔
سنی ( یہ ان کا اصل نام نہیں) کی عمر15 سال ہے وہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب وہ پاکستان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ کرکٹ پاکستان میں ایک انتہائی مقبول کھیل ہے۔ سنی اور ان کے دوست اب ہر روز سکول کے بعد کرکٹ کھیلتے ہیں۔
سنی اپنے خاندان کے پانچ افراد کے ہمراہ ہمراہ تھائی لینڈ آئے وہ چار برسوں سے یہاں ہیں۔ تین ماہ پہلے سنی کے خواب اس وقت سچے ثابت ہوئے جب وہ ایک بار اپنے پندرہ کلاس فیلوز کے ہمراہ کرکٹ کھیلے۔
سنی نے بی بی سی تھائی کے نامہ نگار کو بتایا 'یہ لمحہ بہت یادگار تھا۔ میں چار برسوں سے باہر نہیں جا سکا تھا۔‘
سولہ پاکستان مسیحی نوجوان جن کی عمریں چار سے بیس برس کے درمیان ہیں، وہ اس مرکز سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان بچوں کے خاندان پاکستان میں مذہبی جبر سے بھاگ کر تھائی لینڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ میں کوئی غیرقانونی تارک وطن اپنے بچوں کو اس سے بہتر کوئی سہولیت فراہم نہیں کر سکتا۔
سنی اور دوسرے نوجوان 'دی لائن آف جوڈا' نامی ایک سینٹر میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ایک پاکستانی نے بینکاک میں قائم کر رکھا ہے۔ یہ تعلیمی سینٹر اس اپارٹمنٹ میں قائم ہے جہاں پاکستان پناہ گزین رہتے ہیں۔
یہ پاکستانی پناہ گزین تھائی لینڈ میں اپنی غیر قانونی حیثیت کے باوجود اپنے آپ کو کسی حد تک محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا مالک مکان ان کی صورتحال کو سمجھتا ہے۔
اس سینٹر پر تعلیم حاصل کرنے والے سولہ طالب علموں میں سے صرف تین ایسے ہیں جنہیں یواین ایچ سی آر نے مہاجرین کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ دوسرے تیرہ لوگوں کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
اس تعلیمی ادارے کو قائم کرنے والے پاکستانی مسیحی جیک اب’ دی لائن آف جوڈا‘ تعلیمی مرکز میں معلم کی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
انھوں نے یہ سینٹر ایک امریکی جوڑے کی مدد سے قائم کیا ہے۔ وہ کہتا ہے یہ مرکز بہت اعلیٰ تو نہیں ہے لیکن وہ ان بچوں کو کچھ امید تو دلاتا ہے۔
انھوں نے بائیبل کا وہ حصہ بورڈ پر لکھ رکھا ہے جو مشکل صورتحال میں صبر کی تلقین کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں ہمارے لیے صورتحال اچھی نہیں، لیکن ہم صابر ہیں اور دعا کرتے ہیں۔
دو ماہ پہلے تک یہ طالبعلم زمیں پر بیٹھتے تھے۔ لیکن اب انھیں فنڈ مل رہے ہیں اور اس مرکز میں فرنیچر بھی ہے اور کتابیں بھی۔ ’بیپٹسٹ گلوبل ریسائنس نامی تنظیم نے انھیں دس ٹیبلٹ خرید کر دیئے ہیں۔
ملرز نہ صرف اس مرکزکو چلانے میں مدد دے رہے ہیں بلکہ وہ پانچ پاکستانی والدین کو اپنے بچوں کو گھر میں تعلیم دینے کی تربیت دے رہے ہیں۔ وہ اگلے ماہ سری لنکا سے آئے ہو اٹھارہ طالب عملوں کے لیے اسی طرح کا مرکز قائم کرنا چاہیتے ہیں۔
جیکب نے پاکستان کیوں چھوڑا؟
 میں2013 لاہور میں جوزف کالونی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ واقعہ تھا جس نے جیکب کو یقین دلایا کہ اب مسیحی مذہب کے ماننے والوں کا پاکستان میں رہنا دشوار ہو چکا ہے۔
جیکب کراچی میں رہائش پذیر تھے۔ ایک دن ان کی بستی میں طالبان زندہ باد کے نعرے لکھے گئے۔ ان پوسٹروں میں غیر مسلمانوں کو مارنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ جب جیکب کی آبادی کے لوگوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ جیکب کراچی چھوڑ کر حیدرآباد چلے گئے لیکن ان کا خاندان بالاخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اب ان کا پاکستان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہےاور انھوں نے تھائی لینڈ جانے کا فیصلہ کیا۔ جیکب نے جب پاکستان چھوڑا اس وقت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
جیکب کہتے ہیں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں، بہت تھکا دینے والا ہے لیکن وہ انھیں خدا سے حکم ہوا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کریں۔
تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانےکے اہلکارعامر نوید نے بی بی سی تھائی سے بات کرتے ہوئے ان اطلاعات کوغلط قرار دیا کہ پاکستان میں مختلف مذہب کے لوگوں میں کوئی جھگڑا ہے۔ عامر نوید کے مطابق پاکستان میں مسیحی لوگوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔
اپارٹمنٹ کے اس فلور پر جہاں ’لائنز آف جوڈا‘ وہاں ایک اور تعلیمی مرکز قائم ہے جہاں چار سے سولہ برس کی عمر کے پندرہ طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
روتھ اس مرکز میں معلم ہے۔ روتھ کہتی ہیں کہ ہرروز طالب علموں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ پہلے اس مرکز میں پچیس بچے زیرِ تعلیم تھے لیکن اب ان میں سے کئی واپس جا چکے ہیں۔ روتھ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو مہاجرین کا درجہ نہیں دیا گیا ہے اور انھوں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔
روتھ بتاتی ہے کہ لاہور میں ان کے خاندان کو مسلمان شدت پسندوں نے موت کی دھمکیاں دی تھیں۔ روتھ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اس لیے تھائی لینڈ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ ان کے انکل پہلے تھائی لینڈ میں موجود تھے۔ لیکن تین سال بعد بھی مہاجر کا درجہ کے لیے دی گئی درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ پریشان ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ پاکستان میں تھیں تو ایک پرائیوٹ ہسپتال میں نرس کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے۔ اگر ہم واپس جاتے ہیں، ہم مارے جائیں گے۔ 'وہ (مسلمان شدت پسند) سمجھتے ہیں جو شخص مسلمان نہیں ہے اسے زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔'
اس تعلیمی مرکز میں دو استاد ہیں جو سائنس، مذہب، ریاضیات، انگلش اور اردو پڑھا رہے ہیں۔ روتھ بتاتی ہیں کہ وہ بچوں کو انگلش کی تعلیم اس لیے دے رہی ہیں کہ وہ کسی تیسرے ملک میں گزارہ کر سکیں۔
یہ استاد ان بچوں کی اخلاقی مدد بھی کرتے ہیں جنھیں پولیس غیرقانونی طور پر ملک میں رہنے کی وجہ سے گرفتار کرتی ہے۔
روتھ بتاتی ہیں کہ بچے دن بدن تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب کوئی صبح ہمارے کمرے پر دستک دیتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ شاید پولیس یا امیگریشن والے آئے ہیں۔
ولسن چوہدری برطانیہ میں قائم برٹش پاکستانی کرسچیئن ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی تنظیم گزشتہ دو برسوں سے بینکاک میں دو تعلیمی مرکز چلا رہی ہے اور جلد ایک اور مرکز بھی کھولے گی۔
ولسن چودھری بتاتے ہیں کہ انھیں دنیا بھر سے کرسچیئن تنظیموں سے عطیے ملتے ہیں اور ان کی مدد سے پاکستان میں مذہبی جبر کا شکار لوگوں کے لیے چار محفوظ گھر قائم کر رکھے ہیں۔ ہر مرکز میں چھ لوگ رہ رہے ہیں۔
نرگس اقبال غیر قانونی تارکین وطن کے حراستی سینٹر آئی ڈی سی میں سلاخوں کے پیچھے کھڑی ہیں جہاں انھوں نے بی بی سی تھائی سے بات چیت کی۔ وہ اپنے شوہر کو دیکھ کی مسکرائی جو اسے دیکھنے کے لیے ہر روز وہاں آتا ہے اوراس کے لیے کھانا بھی لے کر آتا ہے۔ یہاں کئی درجن لوگ بند ہیں۔ نرگس اقبال نے بی بی سی تھائی کو بتایا کہ وہ دو سال پانچ ماہ سے حراست میں ہیں۔ وہ پراچہ اتت روڈ پر واقع ایک تعلیمی مرکز میں پڑھاتی تھیں جب انہیں گرفتار کر کے یہاں لایا گیا تھا۔
اس مرکز پر 67 طالب علم تھے جن میں کچھ کو گرفتار کر لیا گیا جب کچھ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ کچھ کو یو این ایچ سی آر نے آزاد کرایا۔
کولیشن فار دی رائٹس آف ریفوجی اینڈ سٹیٹ لیس پرسن کے مطابق اب بھی چالیس بچے حراستی مرکز میں قید ہیں۔ ان سب کو ان کے والدین کے ہمراہ گرفتارکیا گیا تھا۔ ان میں بیس بچے ریفوجی درجے حاصل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ تیئس جنوری کو نو اور بچوں کو انوٹ ایریا سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بینکاک میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان حانا میکڈونلڈ نے بی بی سی تھائی کو بتایا کہ یو این ایچ سی آر پناہ کے متلاشی لوگوں خصوصاً بچوں کی حراست کا مخالف ہے۔ البتہ یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے کہا کہ بچوں کی حراست کو ختم کرنے سے متعلق تھائی لینڈ کی حکومت نے حوصلہ افزا اقدامات کیے ہیں۔
تھائی لینڈ کی حکومت ایک طریقہ وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کے تھائی لینڈ میں رہائش کے دوران ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے گا۔
تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان بوسدی سینتی پی تکس نے کہا کہ باوجود اس کے تھائی لینڈ کنویشن آن سٹیسٹس آف ریفوجی 1951 کا حصہ نہیں ہے لیکن تھائی لینڈ انسانی بینادوں ایسے لوگوں کی مدد کے لیے اس کا فریق بننے کا سوچ رہا ہے۔
نرگس اقبال جو دوسال اور پانچ ماہ سے تھائی لینڈ کے حراستی مرکز میں قید ہے، کہتی ہے کہ میرا منہ زخمی ہے، میں کھانا نہیں کھا پاتی ۔ اس کے باوجود نرگس اقبال نے کہا کہ پاکستان جانے کے بجائے وہ تھائی لینڈ میں مرنے کو ترجیح دیں گی۔
انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک سینیئر سرکاری افسر نے پوچھا ہے کہ کیا ہندوستانی مسلمان پاکستانی ہیں جو (ہندو) قوم پرست تنظیموں کے کارکن ان کے محلوں میں جاکر پاکستان... see more مخالف نعرے بلند کرتے ہیں؟
بریلی کے ضلع میجسٹریٹ راگھویندر وکرم سنگھ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ ’عجب رواج بن گیا ہے، مسلم محلوں میں زبردستی جلوس لے جاؤ اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاؤ۔ کیوں بھئی؟ وہ پاکستانی ہیں کیا؟‘
راگھو یندر سنگھ نے یہ بات ریاست کے کاس گنج شہر میں مذہبی تشدد کے پس منظر میں کہی ہے۔
کاس گنج میں 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کے موقع پر ہندو قوم پرست قومی پرچم لے کر ایک موٹر سائیکل ریلی نکال رہے تھے اور مسلمانوں کے ایک محلے سے گزرتے وقت ان کی مقامی لوگوں سے لڑائی ہوئی جس میں ایک ہندو نوجوان ہلاک ہو گیا جبکہ دونوں طرف سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ضلع کے میجسٹریٹ نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’قوم پرستی کے نام پر جو ہو رہا ہے اس سے انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔‘
ایک اور پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ’چین کے خلاف کوئی نعرے بلند کیوں نہیں کرتا حالانکہ وہ تو زیادہ بڑا دشمن ہے۔ ترنگا لے کر چین مردہ باد کیوں نہیں؟‘
کسی حاضر سروس افسر کے لیے اس طرح کی بات کہنا کافی غیرمعمولی ہے کیونکہ اتر پردیس میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ان کے بیان کو ڈسپلن کے ئلاف ورزی کے زمرے میں تصور کیا جاسکتا ہے۔
اتوار کو ریٹائرڈ سینئر سرکاری افسران نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر کہا تھا کہ ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق سیکریٹری صحت کیشو دیسی راجو، سابق سیکریٹری اطلاعات و نشریات بھاسکر گھوش، سابق چیف انفارمیشن کمشر وجاہت حبیب اللہ سمیت 67 سابق بیوروکریٹ شامل ہیں۔
انھہوں نے لکھا ہے کہ تشدد کے بدستور جاری واقعات اور قانون کا نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کے ڈھیلے رویے پر وہ بہت فکر مند ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتیوں سے، جس میں انھوں نے مسلمانوں کو کرائے پر مکان نہ دینے اور انہیں منظم انداز میں مکان نہ بیچنے کے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے، پہلے سے زہر آلود ماحول اور خراب ہو گا اور مسلمانوں میں ناراضگی بڑھے گی۔
اپنے خط میں انھوں نے گذشتہ برس ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے قتل کے ان پانچ واقعات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں مسلمان مارے گئے تھے۔
ان کے بقول انھوں نے جو مسائل اٹھائے ہیں ان پر وہ وزیراعظم سے فوراً وضاحت چاہتے ہیں اور یہ کہ تشدد کے ان واقعات میں ملوث لوگوں کے خلاف فوراً کارروائی کی جانی چاہیے۔
گذشتہ برس جون میں بھی ریٹائرڈ افسر شاہی نے ایک کھلے خط میں ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری سے لاحق خطرات پر توجہ مرکوز کرائی تھی۔
انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، عام تاثر یہ ہے کہ عدم رواداری بڑھی ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی۔
ملک میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستوں کو حکم دیا تھا کہ ’گئو رکشکوں‘ یا گائے کے خود ساختہ محافظین کی سرگرمیوں کو قابو کریں اور اسی کیس میں پیر کو عدالت نے اترپردیش، ہریانہ اور راجستھان کی حکومتوں کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
گئو رکشکوں کی سرگرمیوں کے خلاف وزیراعظم بھی کئی مرتبہ سخت زبان کا استعمال کر چکے ہیں لیکن حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔
پاکستان میں کوہ پیمائی کی کسی بھی مہم کے دوران جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو بچاؤ اور امداد کے کاموں یا ریسکیو سروس کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں اور یہ بھی سوال کیا جاتا... see more ہے کہ کیا ریسکیو کے پیسے مانگے جانے چاہییں؟ کیا رقم کے ملنے تک ریسکیو کے کام کو ٹالا جانا چاہیے؟
حال ہی میں ایک پولش کوہ پیما کی موت کے بعد پاکستان میں اور سوشل میڈیا پر یہی سوالات عام ہیں۔
ایک سوال کا جواب تو بالکل واضح ہے کہ دنیا بھر میں کوہ پیمائی کی مہمات کے دوران اگر کبھی ریسکیو کی ضرورت پڑے تو اس کے پیسے ادا کیے جاتے ہیں۔
چند ملکوں نے مقامی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے پورے نظام کو واضح رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں اس کا مربوط نظام موجود نہیں ہے۔
پاکستان میں کوہ پیمائی کی مہم خیریت سے طے ہوجائے تو ٹھیک ہے لیکن حادثہ پیش آنے یا کسی بھی غیر یقینی صورتحال کی صورت میں حکومتوں، سفارتخانوں اور فوج کو حرکت میں آنا پڑتا ہے۔ اس مہم کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے اس پر نظر ڈالتے ہیں۔
کوہ پیمائی کے لیے دستاویزات
جب کوئی غیر ملکی کوہ پیما مہم پر آنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے پاکستان میں ٹور آپریٹر کا انتخاب کرکے اسے پُر کیا ہوا اپنا ویزا فارم، اپنا تعارف یا سی وی بھیجنا ہوتا ہے جس پر ٹور آپریٹر اپنے لیٹر ہیڈ کے ساتھ پہاڑ کا نام (جس کو سر کرنا ہے) اور راستے کا نقشہ حکومت گلگت بلتستان کو فراہم کرتا ہے۔
حکومت گلگت بلتستان ملک کے خفیہ اداروں انٹر سروس انٹیلیجنس، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو سے ان معلومات کے تبادلے کے بعد غیر ملکی کوہ پیما کو مہم کی اجازت دیتی ہے۔ اگر کوہ پیما پاکستانی شہری ہے تو اسے ان میں سے زیادہ تر چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ویزا کا حصول
غیر ملکی کوہ پیما اس اجازت نامے کی بنیاد پر اپنے ملک میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں ویزا کی درخواست دیتا ہے اور ویزا ملنے پر سفر شروع کرتا ہے۔
کوہ پیمائی کے اخراجات
پاکستان پہنچنے پر کوہ پیماؤں کو اپنے منتخب ٹور آپریٹر کی پوری یا آدھی طے شدہ فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رائلٹی فیس، پارک فیس اور عسکری ایوی ایشن کی فیس بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔ کوہ پیما کا انشورنس نمبر (یہ انشورنس کوہ پیما اپنے ملک سے کروا کر آتے ہیں)، اور کوہ پیمائی کا پرمٹ ٹور آپریٹر کو فراہم کرنا ہوتا ہے۔
ٹور آپریٹر کوہ پیما کے ساتھ جانے والے دیگر عملے کی انشورنس کراتا ہے جس میں باورچی، سامان اٹھانے والا اور راستہ دکھانے والا شامل ہوتے ہیں۔ رائلٹی فیس اس پہاڑ کی فیس کو کہتے ہیں جسے سر کیا جانا مقصود ہو۔ پاکستان میں ’کے ٹو‘ کی رائلٹی فیس 12 ہزار ڈالرز ہے لیکن حکومت گلگت بلتستان نے کوہ پیمائی کے فروغ کے لیے اس میں 40 فیصد کمی کی ہوئی ہے۔
اس رقم پر حکومت گلگت بلتستان کا حق ہوتا ہے۔ جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ کی رائلٹی فیس 70 ہزار ڈالر ہے۔ یہ فیس کسی بھی مہم میں شریک کوہ پیماؤں میں تقسیم بھی ہو جاتی ہے یعنی اگر 10 کوہ پیماؤں کا گروہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی مہم پر روانہ ہوا ہے تو ہر ایک کو سات ہزار ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ مقامی کوہ پیما یہ فیس بھی ادا نہیں کرتے۔
حادثے کی صورت میں نظام کیسے کام کرتا ہے؟
مہم کے دوران کسی بھی حادثے کی صورت میں بچاؤ کے ہر کام کے لیے رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ طریقہ کار دنیا بھر میں رائج ہے۔
چند ممالک میں جہاں کوہ پیمائی کو باقاعدہ صنعت کا درجہ حاصل ہے ریسکیو کے زرائع صرف کوہ پیمائی کے لیے وقف ہوتے ہیں اور اس کی رقم بھی ٹورآ پریٹر کے ذریعے پہلے ہی یا تو وصول کر لی جاتی ہے یا پھر انشورنس کمپنی سے اس کی منظوری لے لی جاتی ہے۔
پاکستان میں کوہ پیما کسی بھی حادثے میں صورت میں یا تو اپنے ساتھیوں کو اطلاع کرتا ہے جو بیس کیمپ میں ہوتے ہیں یا پھر اپنے ٹور آپریٹر کو۔ یہ اطلاع کبھی سیٹیلائٹ فون اور کبھی لکھے ہوئے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے اور کبھی نیچے اترنے والے کوہ پیماؤں کے ذریعے دی جاتی ہے۔
ٹور آپریٹر کبھی خود اور کبھی پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے ذریعے عسکری ایوی ایشن کو اطلاع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ہیلی کاپٹر کو ریسکیو کے لیے روانہ کرے۔ عسکری ایوی ایشن بظاہر ایک نجی ادارہ ہے لیکن یہ ہیلی کاپٹر فوج کا ہی استعمال کرتا ہے۔
کوہ پیما مہم پر روانہ ہونے سے قبل عسکری ایوی ایشن کو 15 ہزار ڈالر اسی لیے ادا کرتا ہے کہ وہ حادثے کی صورت میں فوراً کام شروع کردے۔ بصورت دیگر اس کے ملک کا سفارتخانہ عسکری ایوی ایشن کو ریسکیو کے عمل میں تمام اخراجات ادا کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔
اس ادارے کے ہیلی کاپٹرز جان بچانے والوں کو لے کر کوہ پیماؤں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ عام طور کسی کوہ پیما کو کسی مقام سے اٹھا کر بیس کیمپ یا سکردو لانے میں 17 ہزار ڈالرز تک خرچہ ہوتا ہے۔
جان بچانے والے یا ریسکیوئرز کون ہوتے ہیں؟
کسی کوہ پیما کی جان بچانے کے لیے جانے والے یا تو پیشہ ور کوہ پیما ہوتے ہیں یا پھر ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز۔ یہ افراد بھی ریسکیو کے عمل میں شامل ہونے کے لیے معاوضہ لیتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔
سردیوں میں ریسکیو کے لیے لوگوں کا ملنا مشکل ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کام کے لیے لوگوں کو ان کے گاؤں سے اٹھا کر ایک دن بیس کیمپ میں رکھنا ہوتا ہے تاکہ وہ موسم اور اونچائی کے عادی ہو جائیں اور پھر وہ بچاؤ کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔
حالیہ حادثے میں کیا ہوا تھا؟
الپائن فیڈریشن آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ واقعے میں کوہ پیماؤں نے عسکری ایوی ایشن کو پیشگی فیس ادا نہیں کی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر ٹور آپریٹر نے عسکری ایوی ایشن کو مطلع کیا اور ساتھ ہی فرانس اور پولینڈ کے سفارتخانوں کو جنھوں نے عسکری ایوی ایشن کو رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی۔
ان کے مطابق ریسکیو کے کام میں تاخیر نہیں ہوئی بلکہ یہ کام بہت سرعت کے ساتھ کیا گیا کیونکہ خوش قسمتی سے کے ٹو سر کرنے کی مہم پر موجود پولینڈ کے کوہ پیما جو موسم اور اونچائی کے پہلے ہی عادی تھے فوراً جان بچانے کے لیے رضامند ہو گئے۔
کرار حیدری کے مطابق جب ریسکیو کا کام شروع ہوا تو ہیلی کاپٹر نے پہلے سکردو میں ایندھن بھروایا پھر پیو میں دوبارہ ایندھن بھروایا اور پھر کے ٹو بیس کیمپ سے پولینڈ کے کوہ پیماؤں کو لے کر واپس اسی راستے سے سکردو پہنچا اور وہاں سے ایندھن بھروا کر نانگا پربت گیا جہاں جان بچانے والوں نے خاتون کوہ پیما ایلزبتھ ریوول کو بچا لیا۔ کرار حیدری کے مطابق اس کام میں خاصہ وقت لگتا ہے۔
ہیلی کاپٹر کتنی بلندی تک پرواز کر سکتے ہیں؟
پاکستان میں عسکری ایوی ایشن کے پاس موجود ہیلی کاپٹرز سکردو اور پہاڑی سلسلوں کے درمیان پرواز کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ صرف کوہ پیماؤں کی جان بچانے کے لیے وقف نہیں ہیں۔
الپائن فیڈریشن کے سیکریٹری کے مطابق یہ ہیلی کاپٹرز موسم کی مناسبت سے پرواز کرتے ہیں اور بہت خراب موسم میں موثر نہیں ہوتے۔ ان کی پرواز پانچ سے چھ ہزار میٹرز کے درمیان ہوتی ہے جبکہ پولش کوہ پیما سات ہزار چار سو میٹرز سے اوپر پہنچ گئے تھے۔
کیا کسی ریسکیو ادارے کی کمی ہے؟
پاکستان میں جیسمن ٹور آپریٹرز کے مینیجنگ ڈایریکٹر اصغر علی پوریک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے ادارے کی کمی ہے جو مقامی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ریسکیو کے لیے مختص ہو اور کسی بھی حادثے کی صورت میں فوراً از خود کام شروع کردے۔
حال ہی میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے آنے والے کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے جغرافیہ اور سکیورٹی کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی نجی ادارہ یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کام کے لیے کسی بھی ادارے کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی مدد درکار ہو گی۔ تاہم عبدالجبار بھٹی نے ایسے ادارے کی تشکیل پر زور دیا جو ریسکیو کے کام کے لیے وقف ہو۔
انھوں نے بتایا کہ ماؤنٹ ایورسٹ سے خود ان کے ریسکیو میں تاخیر نیپال میں ان کے ٹور آپریٹر کی وجہ سے ہوئی تھی جو ریسکیو کا عمل شروع کرنے سے قبل رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی چاہ رہا تھا۔ 'مجھے تو کوہ پیماؤں نے بچایا جو واپس نیچے جا رہے تھے، ٹور آپریٹر تو ہمارے سفارتخانے سے مول بھاؤ کر رہا تھا۔'
الپائن فیڈریشن کے سیکریٹری کرار حیدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وفاقی، صوبائی یا فورسز کے تعاون سے ایک ایسا ادادہ وجود میں آنا چاہیے جس کے پاس جدید ہیلی کاپٹرز موجود ہوں جو اونچائی تک پرواز کر سکیں اور حادثے کی صورت میں جان بچانے والے بھی جو وہاں کے موسم کے عادی ہوں۔
ایسے افراد کو معقول تنخواہ پر رکھا جائے تو کوہ پیمائی کی مہمات کے دوران حادثات میں کمی آ سکتی ہے۔
پاکستان میں ایک تازہ تحقیق کے مطابق 43 فیصد والدین آج بھی مذہبی بنیاد پر اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں جبکہ مالی صورتحال کی وجہ سے ایسا کرنے والوں کی تعداد... see more 35 فیصد ہے۔
اسلام آباد میں اس تحقیق پر مبنی ایک کتاب ’دی رول آف مدرسہ‘ شائع ہوئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاندان میں بچوں کی تعداد اور اس خاندان کی معاشی صورتحال اہم پہلو ہیں جن کی وجہ سے لوگ ان مدارس کا رخ کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔
نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ پاکستان میں دینی تعلیم دینے والے ان مدارس کی درست تعداد تو شاید ہی کسی کو معلوم ہو لیکن اس کتاب میں دیے گئے ایک اندازے کے مطابق سند جاری کرنے والے باظابطہ مدارس کی تعداد 32 ہزار سے زائد ہے جن میں دو کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلم ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسلام میں بعد از مرگ زندگی کا تاثر بہت مضبوط ہے اور اکثر والدین اپنے بچوں کے لیے مدارس کا انتخاب اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ انہیں بعد میں اس کا فائدہ ہوگا۔ دوسری بڑی وجہ معمول کے سکولوں میں مغربی تعلیم کا مثبت نہ ہونے کا تاثر بھی ہے۔
تحقیق سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ عموماً غریب خاندانوں کے بچے ہی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ سروے کے دوران پتہ چلا کہ ایسے خاندانوں کی اوسط آمدن محض 23 ہزار روپے ماہانہ ہے۔
ملک کے 14 بڑے شہروں میں کیے گئے اس جائزے کے مطابق ان خاندانوں کو سکول اور مدرسے دونوں تک رسائی حاصل تھی لیکن ان میں سے 52 فیصد نے مدرسے جبکہ 47 فیصد نے سکول کو ترجیح دی۔ 43 فیصد نے کہا کہ وہ مذہب کی وجہ سے اپنے بچے مدرسے میں داخل کرواتے ہیں جبکہ 35 اس کی وجہ معاشی صورتحال بتاتے ہیں۔
سروے کے مطابق خاندان میں بچوں کی بڑی تعداد ان کے مدرسے میں جانے کا امکان بڑھا دیتے ہیں جبکہ معاشی صورتحال میں بہتری ان کے مدرسے میں پڑھنے کا امکان کم کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں یکساں نظام تعلیم ہی معاشی، دینی اور نسلی بنیادوں پر تفریق سے نئی نسل کو بچا سکتا ہے۔
کراچی میں جامع بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے بچے مدارس کی تعلیم اور ڈسپلن کی وجہ سے بھیجتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس سکولوں اور یونیورسٹیوں سے زیادہ پرامن ہیں۔
کتاب میں درج تحقیق کے مطابق مدارس کی آمدن کے دو بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں سے ایک اندرون اور دوسرا بیرون ملک سے ملنے والی رقوم ہیں۔
ملک کے اندر انھیں رقوم زکوٰۃ، عشر اور خمس جیسے ذرائع سے ملتی ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ان ہی مدوں میں رقوم مدراس کو بھیجتے ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق بیرون ملک سے ملنے والی رقوم اندرون ملک سے کم ہوتی ہیں۔ کئی اسلامی ممالک یہ رقوم براہ راست مدارس کو ارسال کرتے ہیں۔ زیادہ تر مدارس کے مالی امور نہ تو مناسب دستاویزی شکل میں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے۔
تاہم جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محم نعیم کہتے ہیں کہ ان کے پانچ ہزار طلبہ پر مشتمل اس مدرسے کو ایک پیسہ بھی بیرون ملک سے نہیں ملا۔ ’اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو میں مجرم بننے کے لیے تیار ہوں۔‘
تحقیق کے مطابق ایران ایک ایسا ملک ہے جو رقم کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہل تشیح مدارس کی معاونت کرتا ہے۔
تحقیق میں مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے ان کے ساتھ تعاون اور ان کی مالی معاونت کرے۔ خیبر پختونخوا میں تاہم ایسا کرنے پر وہاں کی صوبائی حکومت پر ماضی میں شہری حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
مفتی نعیم کہتے ہیں کہ خود حکومت مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی خواہاں نہیں۔ ’تین سال سے ہم نے بنوریہ یونیورسٹی کے لیے تمام تر دستاویزات جمع کروائی ہوئی ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا ہے۔‘