Get engaged in the biggest community of Pakistan
Let people know about you worldwide
Public Feed

اگر آپ بشالی میں چلی گئیں تو پھر آپ گاٶں میں نہائے بغیر داخل نہیں ہو سکتی۔'

ضلع چترال کے علاقے کیلاش کی وادی بمبوریت کی ایک عمارت کے گیٹ پر بہت سی لڑکیاں بات چیت کرتی دکھائی دیں۔ یہ وہاں موجود گھروں اور ہوٹلوں سے کچھ مختلف عمارت لگی جس کی پیشانی پر ایک سیاہ تختی پہ لکھا تھا ’خبردار! بشالی کی حدود ممنوعہ علاقہ ہے۔‘

وہاں عورتوں کی قاضی، بٹ خیلی بی بی نے شناخت اور مقصد پوچھنے کے بعد اجازت دے دی۔ اندر گئی تو استقبال مسکراہٹ اور شپاتا (سلام) کے ساتھ کیا گیا۔

پتھر اور لکڑی سے بنی لگ بھگ 15 سے 20 مرلے کی اس پختہ عمارت میں عورتیں، لڑکیاں اور کچھ شیر خوار بچے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں مرد کبھی بھی داخل نہیں ہو سکتے۔

پچھواڑے اور اطراف میں بیرونی دیواروں کے بجائے ڈھائی فٹ اونچی پتھر کی باؤنڈری بنی تھی۔ نیچے سے گزرتی ندی کا منظر اور ارد گرد کا سبزہ ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا تھا۔

مخصوص ثقافت، الگ مذہب کے ماننے والے کیلاشیوں کی کل آبادی 4000 افراد پر مشتمل ہے۔

وہ اپنے گاؤں کو ’اونجسٹہ‘ کہتے ہیں یعنی پاک جگہ اور بشالی ’پرگاتہ‘ یعنی ناپاکی کی حالت میں عورتوں اور لڑکیوں کو یہاں آنا پڑتا ہے۔

عموماً ان وادیوں میں زیادہ تر کیلاشیوں کے گھر اوپر کی جانب ہوتے ہیں اور بشالی کو کلاشہ گاؤں کے ذرا باہر بنایا جاتا ہے۔ اس جانب آپ کو مسلمانوں کے گھر بھی ملیں گے جن میں اکثریت ان کی ہے جو پہلے کیلاشہ مذہب کے پیروکار تھے۔

وہاں مجھے صحن میں موجود لڑکیاں اور عورتیں گپ شپ کے ساتھ اپنے روایتی کپڑے اور زیورات تیار کرنے میں مصروف نظر آئیں، کچھ بدستور لکڑی کے گیٹ سے آگے موجود رکاوٹ کے پار کھڑے ملاقاتیوں سے بات چیت کر رہی تھیں۔

لیکن کچھ خواتین کو میں نے بشالی سے باہر جاتے بھی دیکھا جہاں گاؤں کی عورتیں کپڑے اور سر دھونے کے لیے جاتی ہیں۔

تو پھر یہ پابندی کیسی ہے جب عورتیں اس عمارت سے باہر بھی جا سکتی ہیں؟

کلاشہ قوانین اور وادی میں نظر نہ آنے والی ان منقسم لکیروں اور پابندیوں کو سمجھنے میں مجھے وہاں سے گھر واپسی کی تیاری میں مصروف لینا اور ایسٹر سے بہت مدد ملی۔

’چھونا بھی منع‘

لینا نے بتایا کہ اصل پابندی گاؤں کے اندر جانے اور یہاں کے مکینوں اور درو دیوار کو چھونے پر عائد ہے۔

'بشالی کی دیوار کو لوگ چھوتے نہیں ہیں۔ اسے چھونا منع ہوتا ہے۔ اور جو ہمارے رشتہ دار ہیں ماں، باپ اور بہن بھائی، وہ بھی ان دیواروں کو چھو نہیں سکتے۔ نہ ہمیں چھو سکتے ہیں۔ جب کوئی چیز لاتے ہیں تو بنا چھوئے پکڑاتے ہیں۔'

جیسے ہی کسی عورت کے ہاں بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو وہ پہلے دس دن بشالی میں گزارتی ہے پھر گھر چلی جاتی ہے۔ لیکن مکمل پاکی حاصل کرنے تک وہ گھر کا واش روم استعمال نہیں کر سکتی۔ پہلے پہل تو درد کے ساتھ ہی عورت کو گاؤں سے باہر نکل کر بشالی پہنچنا ہوتا تھا لیکن اب وہ ڈسپینسری یا شہر بھی چلی جاتی ہیں۔

اسی طرح جب لڑکی بالغ ہو جاتی ہے تو پھر اسے گھر میں بال دھونا بھی ممنوع ہو جاتا ہے۔

لینا کے مطابق 'بشالی کے ساتھ ہی نیچے ندی بہتی ہے ہم گھر میں نہا تو سکتے ہیں لیکن سر نہیں دھو سکتے۔ ہم اس جگہ کو 'گا' کہتے ہیں یہاں ہم اپنے کپڑے بھی دھوتے ہیں اور بال بھی۔‘ وہاں آپ کو کھلے بالوں میں عورت دکھائی نہیں دے گی وہ گیلے بالوں میں ہی بل ڈال لیتی ہیں۔

لیکن ایسا نہیں کہ کیلاش کی ان تینوں وادیوں میں موجود تقریباً آٹھ بشالی ہاؤسز میں کبھی بھی کوئی لڑکی اکیلی رہی ہو۔ یا تو لڑکی کی ماں یا بہن آ جاتی ہیں یا وہ کسی مسلمان رشتے دار کے یہاں ٹھہر لیتی ہے۔

بشالی میں بیٹھی بٹ خیلی بی بی جو فیسٹیول کے لیے لباس تیار کرنے میں مصروف دکھائی دیں نے بتایا کہ’ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب ہمارے پاس بستر اور کمبل نہیں ہوتے تھے ہم پتوں کو سر کے نیچے رکھتی تھیں۔ شدید برفباری میں گرم پانی ہوتا تھا نہ اوڑھنے کو کمبل۔ پہلے بہت مجبوری دیکھی پھر یونانی لوگوں نے ہماری بہت مدد کی۔ پہلے تو یہ صرف ایک کمرہ ہوتا تھا وہیں بچے کی پیدائش بھی ہوتی تھی۔ نیچے ندی میں جا کر نہانا پڑتا تھا۔ لیکن اب ہم خوش ہیں یہاں ہر سہولت ہے۔‘

لیکن کیا اس پابندی سے کبھی آپ خواتین کبھی نالاں نہیں ہوتیں، عام طور پر عورت اس قسم کے معاملات کو پوشیدہ رکھتی ہے۔

یہ موضوع ’ممنوع‘ سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں کیلاش میں تو ہر کوئی آپ کے آنے اور جانے سے باخبر ہو جاتا ہے۔

کیلاشی لڑکیاں اور خواتین کہتی ہیں ایسا نہیں ہے ہم بشالی سے باہر اس موضوع پر بات نہیں کرتے نہ کھبی ہمیں کسی نے اس معاملے میں تنگ کیا ہے۔ اور یہ بہت پہلے سے چلا آ رہا ہے ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بننے کی خواہش مند لینا کہتی ہیں پہلے پہل یہاں نئی لڑکیوں کے لیے یہاں رہنا آسان نہیں ہوتا۔

'میں سوچتی تھی یہ کیا کہ گھر سے دور کہیں اور جا کر رکنا، عجیب لگتا ہے ناں۔ مگر اب عادی ہو گئے ہیں۔ یہاں اور تو کوئی مسئلہ نہیں ہاں ہم ان دنوں میں سکول نہیں جاتے،اجازت نہیں ہوتی لیکن امتحانات کے دوران ہم سکول سے باہر گھاس پر بیٹھ کر یا قریب کسی ہوٹل میں بیٹھ کر پیپر دیتے ہیں۔'

مائیں کہتی ہیں کہ بچوں کی یاد تو آتی ہے لیکن گھر پر موجود بزرگ انھیں دیکھ لیتے ہیں۔ بشالی میں تین سال کے بعد بچوں کے داخلے سے گریز برتا جاتا ہے۔

جب بشالی اداسی میں لپٹ جاتی ہے

لینا اور بہت سی دیگر خواتین کی نظر میں شاید حیض کے دوران ’بشالی گھر کی نسبت زیادہ آرام دہ جگہ ہے۔ کیونکہ یہاں گرم پانی، آرام دہ بستروں کے میسر ہونے کے علاوہ عورتوں اور لڑکیوں کو گھر کے روز مرہ کے کام نہیں کرنے پڑتے انھیں کھیتوں میں نہیں جانا پڑتا۔ اپنی مرضی سے سو یا جاگ سکتی ہیں۔ چاہیں تو باہر آنے والے ملاقاتیوں سے ملیں چاہیں تو کسی سے نہ ملیں۔‘

لیکن کچھ مواقع پر بشالی کی مکین چاہے نوعمر لڑکی ہو یا بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتی کوئی عورت دونوں کی اداسی اور تکلیف ایک جیسی ہی نظر آتی ہے۔

اگر وادی میں فیسٹیول ہو، کسی کی شادی ہو یا پھر کوئی مر جائے تو بشالی کے اندر موجود عورتوں کے لیے وہ لمحات بہت کھٹن ہوتے ہیں۔ کیونکہ نہ کسی جانے والے کا دیدار ہو سکتا ہے اور نہ ہی خوشی میں رقص۔

اگر کوٸی عورت بشالی میں مر جاۓ تو اس کی میت دیگر مرنے والی عورتوں یا مردوں کی طرح عبادت کے مقام پر نہیں لے جاٸی جا سکتی۔ اسے گاؤں میں نہیں لے جایا جا سکتا وہیں نیچے وادی میں کسی مقام پر تین دن تک رکھنے کے بعد دفن کر دیا جاتا ہے۔

بشالی کی دیوی

ایسٹر اب ایک بچی کی ماں بن چکی ہیں۔ بشالی سے نکلتے وقت وہ مجھے ایک کمرے میں لے گٸی جہاں دیوار میں لکڑی کا ایک نقش تھا۔ اس کے سامنے روٹی اور اخروٹ کے چند ٹکڑے رکھے تھے۔

'یہ ہماری دیوی ' ڈیزالک' ہے، ہم بچے کی پیداٸش سے قبل اس کے ذریعے خدا سے مدد مانگتے ہیں۔ درد زرہ میں ہم اس کے سامنے اخروٹ توڑ کر پھینکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ایسا ہوتا تو نہیں لیکن اگر کوئی بشالی کی حدود کی خلاف ورزی کرے اسے باہر سے بھی چھو لے یا کوئی بچہ ادھر سے گاؤں کی طرف چلا جائے تو پھر اس مقام پر بکرے کی قربانی دی جاتی ہے اور یوں وہ پاک ہو جاتی ہے۔

ایسٹر کا کہنا ہے یہ ہزاروں سال پرانی روایت ہے ہم یہاں سے باہر ان قوانین اور پابندیوں سے دور جا کر جب واپس لوٹتے ہیں تو پھر بنا کسی سوال کے ایک با پھر بشالی کا رخ کر لیتے ہیں۔

ایک تازہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 80 فیصد لوگوں کو متاثر کرنے والے اور جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہونے والے ایچ پی وائرس سے بڑے پیمانے پر شرم اور خجالت کا تصور وابستہ ہے۔

برطانوی حکومت ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) کی ٹیسٹنگ کو سروائیکل کینسر کی سکریننگ کے حصے کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔

سروے میں حصہ لینے والی نصف کے قریب خواتین کا خیال تھا کہ اگر وہ ایچ پی وی سے متاثرہ ہیں تو ان کے ساتھی نے ضرور بےوفائی کی ہو گی۔ لیکن یہ وائرس برسوں تک خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔

کارکنوں کو خدشہ ہے کہ بہت سی عورتیں اس بیماری سے وابستہ کلینک کے باعث سکریننگ میں حصہ نہیں لیتیں۔

جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس سروے میں دو ہزار عورتوں نے حصہ لیا۔

اس سے ظاہر ہوا کہ وائرس سے متاثرہ نصف کے قریب عورتیں شرمندگی محسوس کرتی ہیں اور انھوں نے 'جنسی تعلقات ترک کر دیے ہیں۔'

فیصد35 خواتین کو سرے سے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایچ پی وی ہوتا کیا ہے اور 60 فیصد نے کہا کہ اس کا مطلب ہے انھیں کینسر ہو گیا ہے۔

سروے میں حصہ لینے والی 31 سالہ لارا فلیرٹی نے کہا: ’جب مجھے معلوم ہوا کہ میں ایچ پی وی سے متاثرہ ہوں تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب میں نے گوگل کیا تو پتہ چلا کہ یہ جنسی تعلق سے منتقل ہونے والا مرض ہے، اس لیے قدرتی طور پر مجھے گمان گزرا کہ میرا ساتھی مجھ سے بےوفائی کر رہا ہے۔

’مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہ غلیظ محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے احساس نہیں تھا یہ وائرس اتنے عرصے تک خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی۔ میرے کسی ساتھی نے اس کے بارے میں نہیں سنا تھا، حالانکہ یہ اکثر خواتین کو لاحق ہو سکتا ہے۔‘

ایچ پی وی کے بارے میں عام غلط فہمیاں

غلط فہمی 1: یہ وائرس صرف جنسی تعلق سے پھیل سکتا ہے

حقیقت: یہ درست ہے کہ عام طور پر یہ وائرس جنسی تعلق سے پھیلتا ہے، لیکن یہ جلد کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور جنسی اعضا اور منھ کے آس پاس کی جگہوں سے۔

غلط فہمی 2: ایچ پی وی کا مطلب بےراہ روی ہے

حقیقت: 80 فیصد لوگ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایچ پی وی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں پھیل سکتا ہے اور پہلے جنسی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

غلط فہمی 3: ایچ پی وی کا مطلب کینسر ہے

حقیقت: ایچ پی وی کی 200 کے قریب اقسام ہیں۔ ان میں سے 13 کینسر کا باعث بن سکتی ہیں، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

(ماخذ: جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ)

ایچ پی وی کے خلاف ایک موثر ویکسین موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

گذشتہ برس برطانیہ میں مردوں میں بھی ویکسین متعارف کروائی گئی تھی۔

میں انھیں والد کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہوں ۔۔۔ وہ جس نے کبھی میرا نام نہیں لیا۔ ان کے خاندان کے شجرے میں میرا نام ہی موجود نہیں ۔۔۔ لوگ پوچھتے ہیں باپ کہاں ہے؟ کیا یہی تمھاری ماں ہے۔ میں نے سماجی سطح پر ذلت سہی ہے۔'

تطہیر فاطمہ نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں اپنا نام ’تطہیر بنت پاکستان‘ لکھا ہے اور یہی دراصل ان کا مطالبہ بھی ہے کہ وہ 22 برس کی عمر میں اپنے دستاویزات میں ولدیت کے خانے سے اپنے والد شاہد ایوب کا نام ہٹا دینا چاہتی ہیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں اس کیس کی دوسری سماعت کے موقع پر تین رکنی بینچ کے روبرو اپنے والدین کے ہمراہ کھڑی تطہیر فاطمہ نے روتے ہوئے یہی مطالبہ پھر سے دہرایا۔

یہ ایک فیملی کورٹ کا منظر دکھائی دے رہا تھا جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔

شاہد ایوب کے بقول جب سنہ 1998 میں ان کی فہمیدہ سے علیحدگی ہوئی تھی تو پشاور میں خاندان کے جرگے نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔ بعد میں ایک آدھ بار کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔

انھوں نے عدالت کی سرزنش پر کہ کیا آپ نے کبھی کسی ریاستی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ملنے کا سبب بنے، بتایا ’جی میری کوتاہی ہے میں نے ایسا کبھی نہیں کیا‘۔

شاہد ایوب کا موقف تھا کہ وہ 2002 میں بیٹی سے ملے تھے اور اسے کھلونے بھی لے کر دیے تھے۔

’نادرا کے پاس اپنی بیٹی تطہیر کا نام لکھوانے کی کوشش کی تھی لیکن نادرا نے ان کا نام بلاک کر دیا۔‘

اس پر چیف جسٹس نے کہا ’ہمیں سختی پر مجبور نہ کریں‘۔

عدالت نے یہ تو کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تطہیر کو 16 سال تک جو کفالت کا حق نہیں دیا گیا اس کا ازالہ کیا جائے اور ابھی اس کیس پر اور بھی سماعت ہو گی۔

تاہم عدالت نے ولدیت کے خانے سے والد کا نام نکالے جانے کے تطہیر کے مطالبے کے حوالے سے کہا: 'یہ ان کی شناخت ہے ۔۔۔ یہ ہمارے لیے ممکن نہیں ۔۔۔ کالج سکول، یونیورسٹی کے ریکارڈ میں کوئی کمی بیشی ہے تو اسے پورا کیا جائے گا۔ ذہن پر جو اثر ہوا اسے ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکتا۔'

عدالت نے وہاں موجود ایف آئی اے حکام سے کہا کہ وہ تطہیر کے والد کی مالی حیثیت اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

بعد میں متعلقہ حکام نے فریقین سے الگ الگ ملاقات بھی کی۔

بی بی سی سے گفتگو میں تطہیر نے بتایا کہ 'آج میں جس مقام پر ہوں اپنی ماں کی وجہ سے ہوں۔ میں نے آج تک اپنے والد کو نہیں دیکھا تھا اور پہلی بار آج عدالت میں بھی میں نے ان کی جانب دیکھنا نہیں چاہا۔ یہ شاید پہلی اور آخری ملاقات ہو۔'

تطہیر اور ان کی والدہ کو شکایت ہے کہ جب میٹرک میں انھیں فارم ب بنانے کی ضرورت تھی تو والد نے انکار کیا تھا۔

پھر جب گریجوئیشن میں انھوں نے 2014 میں والد کو خود فون کیا تو والد نے صاف انکار کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ ’پہلے اپنی والدہ کے خلاف تھانے میں درخواست دو کہ وہ اچھی خاتون نہیں تو میں تمھارے لیے سوچوں گا‘۔

تطہیر اب گریجوئیشن کر چکی ہیں۔ وہ نیشنل سطح پر سپورٹس میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں جن میں جوڈو کراٹے اور تیراکی شامل ہیں لیکن شناختی دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پائیں، اور اب اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانا چاہتی ہیں لیکن ان کے پاس موجود شناختی کارڈ پر ان کے والد کے گھرانہ نمبر نہ ہونے کے باعث ان کا پاسپورٹ نہیں بن پا رہا۔

پاکستان کے قانون میں یتیم بچوں اور والد کے لاپتہ ہونے والوں کی شناختی دستاویزات کے لیے تو قانون موجود ہے لیکن ایسے بچے جن کے والد حیات ہوں اور تعاون ناپید ان کے لیے قانون خاموش ہے۔

تطہیر کہتی ہیں والد کا نام میری دستاویزات میں تو موجود ہے لیکن والد کا میری زندگی میں کوئی کردار نہیں۔

'معلوم نہیں ماموں نے میرا شناختی کارڈ کیسے بنوایا تھا لیکن نادرا کے مطابق میرے والد نے تو اپنی اولادوں میں میرا نام نہیں لکھوایا، شجرے میں میرا نام نہیں۔‘

قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں اور عدالت نے شاید اسی بنا پر تطہیر کے مسائل کا تدارک موجودہ قانون کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی لیکن یہ بھی تسلیم کیا کہ برسوں تک جو ذہنی اذیت اس بچی نے برداشت کی اسے ختم نہیں جا سکتا۔

عدالت نے ان کے والد کو کہا کہ پچھلے تمام برسوں میں بھی کفالت کے پیسے ادا نہ کرنے کا ازالہ کریں۔

تطہیر کے والد نے میڈیا سے گفتگو سے معذرت کی اور کہا کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں۔

تطہیر اور ان کی والدہ عدالت کے رویے سے تو مطمئن ہیں لیکن والد کا نام ہٹ نہیں سکتا نے انھیں کچھ مایوس ضرور کیا ہے۔

'جس پٹیشن کے لیے میں آئی تھی کہ مجھے میری زندگی میں یہ نام نہیں چاہیے لیکن وہ کس طرح ڈال رہے ہیں اس نام کو (والد کے نام)۔ ہمیں یہ آزادی دی جائے کہ ہم جس کا نام لکھنا چاہتے ہیں یا جس کے ہمارے پاس ڈاکومینٹس ہیں جو ہم مہیا کر سکتے ہیں ہم اس کا نام لکھ سکیں۔'

تطہیر نے اب درخواست میں یہ لکھا ہے کہ ان کے والد کو اس میں فریق نہ بنایا جائے اور اسے آرٹیکل 35 کے آخری لفظ ’دی چائلڈ‘ تک محدود رکھے۔ اس شق کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تحفظ فراہم کرے۔

عدالت نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اگلی سماعت میں اس معاملے پر مزید غور کرے گی۔

تطہیر کی گذشتہ پٹیشن کو ہائی کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کو قوم سے اپنے خطاب میں ملک میں پانی کی کمی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا اور بیرون ملک پاکستانیوں سے نئے ڈیم بنانے کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں دل کھول کر عطیات دینے کی اپیل کی۔

تحریک انصاف کی حکومت کو جہاں ملک کی ابتر معاشی صورت حال سمیت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں پانی کا مسئلہ بھی شامل ہے جس کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ 2025 تک ملک کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر وہ چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے قائم کیے گئے فنڈ کو وزیر اعظم فنڈ میں ضم کر رہے ہیں جس میں انھوں نے قوم سے عطیات دینے کی اپیل کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر 'ہم نے اب کچھ نہیں کیا تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔'

انھوں نے کہا نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ ملک کی کل آبادی کی پانی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔

پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا انڈیا سے موازنہ کرتے ہوئے جس کی آبادی پاکستان سے کہیں زیادہ ہے عمران خان نے کہا کہ انڈیا میں ایک سو نوے دن تک اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ مصر کے پاس ایک ہزار دن تک اپنی ضرورت پوری کرنے کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔

عمران خان نے مسئلہ کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اوسطً ایک ملک کے پاس ایک سو بیس دن تک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانی کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ سنہ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد ہر ایک فرد کے لیے ملک میں پانچ ہزار چھ سو مربع میٹر پانی موجود تھا جو گنجائش اب گھٹ کر صرف ایک ہزار مربع میٹر رہ گئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ’ماہرین کے مطابق اگر ہم نے ڈیم نہیں بنائے تو پاکستان میں آئندہ سات برسوں میں یعنی 2025 میں خشک سالی شروع ہوجائے گی، ہمارے پاس اناج اگانے کے لیے پانی نہیں ہوگا تو اپنے لوگوں کے لیے اناج نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں یہاں قحط پڑسکتا ہے لہذا آج سے ہم نے ڈیم بنانا شروع کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے اسی حوالے سے بات ہوئی ہے اور وہ چیف جسٹس ڈیم فنڈ اور وزیراعظم فنڈ کو اکھٹا کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نے چیف جسٹس ڈیم فنڈ سے متعلق مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ چیف جسٹس کا کام نہیں تھا بلکہ یہ ہماری طرح کی سیاسی قیادت کا کام تھا۔‘

انھوں نے بتایا کے چیف جسٹس فنڈ میں اب تک 180 کروڑ روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔

’سب سے پہلے تو سارے پاکستانیوں کو اپیل کرتا ہوں کہ جہاں بھی پاکستانی ہیں اور پاکستان میں بھی موجود سارے اپنے مستقبل کے لیے اس ڈیم کے فنڈ میں پیسہ آج سے دینا شروع کریں۔

انھوں نے کہا کہ 'اوورسیز پاکستانی ڈیم فنڈ میں کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس بھیجیں تو 5 سال میں ڈیم بنا سکتے ہیں،ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، پیسے نہیں ہوں تو دیر لگتی ہے اور دیر ہوئی تو وہ ہوگا جو نیلم جہلم منصوبے میں ہوا تھا وہی ہوگا جہاں 80 ارب روپے میں ایک ڈیم بننا تھا لیکن آج اس کا خرچہ 500 ارب روپے سے اوپر چلا گیا ہے'۔

عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی اس ڈیم فنڈ میں ایک ہزار ڈالر بھیجیں تو ہم دونوں ڈیم بھی بنا سکتے ہیں، ہمارے پاس ڈالرز بھی آجائیں گے اور ہمیں کسی سے قرضہ نہیں مانگنا پڑے گا۔‘

انھوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ اس فنڈ میں پیسے دینا شروع کریں اور ’آپ کے پیسے کی حفاظت میں کروں گا۔‘

اس سے قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر فوری شروع کی جائے اور اسی سلسلے میں انھوں نے عوام سے چندے کی اپیل بھی کی تھی۔ چیف جسٹس ڈیم فنڈ کو 'دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ 2018' کا نام دیا گیا۔

ویسے تو ایسٹ انڈیا کمپنی 1600 میں ہندوستان آمد کے بعد مسلسل فتوحات حاصل کرتی چلی گئی اور اس دوران دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک کمپنی نے ایک ملک پر قبضہ کر لیا۔

لیکن اسی سفر کے دوران ایک موڑ پر انھیں ایسی شرمناک شکست ہوئی تھی جس نے کمپنی کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا تھا۔

بعد میں کمپنی نے اپنے ماتھے سے یہ داغ دھونے کی سرتوڑ کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان پر فتح حاصل کرنے سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اورنگ زیب عالمگیر سے بھی جنگ لڑنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں اس بری طرح سے شکست ہوئی کہ انگریز سفیروں کو ہاتھ باندھ کر اور دربار کے فرش پر لیٹ کر مغل شہنشاہ سے معافی مانگنے پھر مجبور ہونا پڑا تھا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کر کے تجارت شروع کر دی تھی۔ ان علاقوں میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر واقع سورت اور بمبئی، اور مشرق میں مدراس اور موجودہ کلکتہ شہر سے 20 میل دور دریائے گنگا پر واقع بندرگاہیں ہگلی اور قاسم بازار اہم تھے۔

انگریز ہندوستان سے ریشم، گڑ کا شیرہ، کپڑا اور معدنیات لے جاتے تھے۔ خاص طور پر ڈھاکے کی ململ اور بہار کے قلمی شورے (جو باردو بنانے میں استعمال ہوتا ہے) کی انگلستان میں بڑی مانگ تھی۔

انگریزوں کے سامانِ تجارت پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ان کے کل سامان کی قیمت کا ساڑھے تین فیصد وصول کر لیا جاتا تھا۔

مغلوں کی تجارتی پالیسی پر تنازع

اسی زمانے میں صرف انگریز نہیں، بلکہ پرتگیزی اور ولندیزی تاجروں کے علاوہ کئی آزاد تاجر بھی اسی علاقے میں سرگرم تھے۔ انھوں نے مغل حکام سے مل کر اپنے لیے وہی تجارتی حقوق حاصل کر لیے جو انگریزوں کے پاس تھے۔

جب یہ خبر لندن میں کمپنی کے صدر دفتر پہنچی تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے سربراہ جوزایا چائلڈ کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ انھیں یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کے منافعے میں کوئی اور بھی حصہ دار بنے۔

اس موقعے پر جوزایا چائڈ نے جو فیصلہ کیا وہ عجیب ہی نہیں، غریب ہی نہیں بلکہ پاگل پن کی حدوں کو چھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں مقیم کمپنی کے حکام سے کہا کہ وہ بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال میں مغل بحری جہازوں کا راستہ کاٹ دیں، اور جو جہاز ان کے ہتھے چڑھے، اسے لوٹ لیں۔

یہی نہیں بلکہ 1686 میں چائلڈ نے انگلستان سے سپاہیوں کی دو پلٹنیں بھی ہندوستان بھجوا دیں اور انھیں ہدایات دیں کہ ہندوستان میں مقیم انگریز فوجیوں کے ساتھ مل کر چٹاگانگ پر قبضہ کر لیں۔

جنگِ چائلڈ

ان کے نام کی مناسبت سے اس جنگ کو ’جنگِ چائلڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اب اسے چائلڈ کا بچگانہ پن کہیں یا پھر اس کی دیدہ دلیری، کہ وہ مبلغ 308 سپاہیوں کی مدد سے دنیا کی سب سے طاقتور اور مالدار سلطنت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی ہمت کر رہا ہے۔

اس زمانے میں ہندوستان پر اورنگ زیب عالمگیر کی حکومت تھی اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ یہیں پیدا ہوتا تھا۔ معاشی طور پر اسے تقریباً وہی مقام حاصل تھا جو آج امریکہ کو ہے۔

اورنگ زیب کے عہد میں سلطنت کی سرحدیں کابل سے ڈھاکہ تک اور کشمیر سے پانڈی چری تک 40 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھیں۔ یہی نہیں، اورنگ زیب کی فوجیں دکن کے سلطانوں، افغانوں اور مرہٹوں سے لڑ لڑ کے اس قدر تجربہ کار ہو چکی تھیں وہ اس وقت دنیا کی کسی بھی فوج سے ٹکرا سکتی تھیں۔

دہلی کی فوج تو ایک طرف رہی، صرف بنگال کے صوبہ دار شائستہ خان کے فوجیوں کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ تھی۔ ایک اندازے کے مطابق مغل فوج کی کل تعداد نو لاکھ سے بھی زیادہ تھی اور اس میں ہندوستانی، عرب، افغان، ایرانی، حتیٰ کہ یورپی تک شامل تھے۔

جب لندن سے مغلوں کے خلاف طبلِ جنگ بجا تو بمبئی میں تعینات کمپنی کے سپاہیوں نے مغلوں کے چند جہاز لوٹ لیے۔

اس کے جواب میں سیاہ فام مغل امیر البحر سیدی یاقوت نے ایک طاقتور بحری بیڑے کی مدد سے بمبئی کا محاصرہ کر لیا۔

آنکھوں دیکھا احوال

اس موقعے پر الیگزینڈر ہیملٹن نامی ایک انگریز بمبئی میں موجود تھے جنھوں نے بعد میں ایک کتاب لکھ کر اس واقعے کا واحد آنکھوں دیکھا حال قلم بند کیا۔

وہ لکھتے ہیں: 'سیدی 20 ہزار سپاہی لے کر پہنچ گیا اور آتے ہی آدھی رات کو ایک بڑی توپ سے گولے داغ کر سلامی دی۔ انگریزوں نے بھاگ کر قلعے میں پناہ لی۔ افراتفری کے عالم میں گوری اور کالی عورتیں، آدھے کپڑے نیم برہنہ پہنے ہوئے، صرف بچے اٹھائے ہوئے بھاگی چلی جا رہی تھیں۔'

ہیملٹن کے مطابق سیدی یاقوت نے قلعے سے باہر کمپنی کے علاقے لوٹ کر وہاں مغلیہ جھنڈا گاڑ دیا، اور جو سپاہی جو سپاہی مقابلے کے لیے گئے انھیں کاٹ ڈالا، اور باقیوں کو گلے میں زنجیریں پہنا کر بمبئی کی گلیوں سے گزارا گیا۔'

بمبئی کا علاقہ خاصے عرصے سے پرتگیزیوں کے قبضے میں تھا۔ جب انگلستان کے بادشاہ نے پرتگالی شہزادی سے شادی کی تو یہ بندرگاہ اس کے جہیز میں انگریزوں کو مل گئی اور انھوں نے وہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر کے تجارت شروع کر دی۔

 ماہ14 طویل محاصرہ

رفتہ رفتہ نہ صرف سمندر پار سے انگریز تاجر، سپاہی، پادری، معمار اور دوسرے ہنرمند یہاں آ کر آباد ہونے لگے، بلکہ ہہت سے ہندوستانیوں نے بھی یہاں رہائش اختیار کر لی اور شہر کی آبادی تیزی سے پھیلنے لگی۔

اب یہی آبادی بھاگ کر قلعے میں پناہ گزین تھی اور قلعہ سیدی یاقوت کے نرغے میں تھا۔ جلد ہی اشیائے خورد و نوش ایک ایک کر کے ختم ہونے لگیں۔ دوسری طرف بیماریوں نے ہلہ بول دیا اور قلعے میں محصور انگریز بمبئی کے مسموم موسم کا شکار ہو کر یکے بعد دیگرے مرنے لگے۔

ایک اور سانحہ یہ گزرا کہ کمپنی کے ملازم آنکھ بچا کر بھاگ نکلتے تھے اور سیدھے جا کر سیدی یاقوت سے جا ملتے تھے۔ یہی نہیں، بلکہ ہیملٹن کی گواہی کے مطابق ان میں سے کئی مذہب تبدیل کر کے مسلمان بھی ہو گئے۔

سیدی اگر چاہتے تو حملہ کر کے قلعے پر قبضہ کر سکتے تھے، لیکن انھیں امید تھی کہ جلد ہی قلعہ پکے ہوئے آم کی طرح خود ہی ان کی جھولی میں آ گرے گا، اس لیے انھوں نے دور سے گولہ باری ہی پر اکتفا کی۔

یہ صورتِ حال ملک کے مشرقی حصے میں بھی پیش آئی جہاں بنگال کے صوبے دار شائستہ خان کے دستوں نے ہگلی کے مقام پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قلعے کو گھیرے میں لے لیا اور آمد و رفت کے تمام راستے مسدود کر دیے۔

بنگال کا محاصرہ تو جلد ہی ختم ہو گیا اور دونوں فریقوں نے صلح کر لی، لیکن بمبئی میں یہ سلسلہ 15 ماہ تک دراز ہو گیا۔ آخر انگریزوں کی ہمت جواب دے گئی اور انھوں نے اپنے دو سفیر اورنگ زیب کے دربار میں بھجوا دیے تاکہ وہ شکست کی شرائط طے کر سکیں۔

مغل دربار میں حاضری

ان سفیروں کے نام جارج ویلڈن اور ابرام نوار تھے۔ یہ کئی ماہ کی بےسود کوششوں کے بعد بالآخر ستمبر 1690 کو آخری طاقتور مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے دربار تک رسائی حاصل کرنے کامیاب ہو گئے۔

دونوں اس حاصل میں پیش ہوئے کہ دونوں کے ہاتھ مجرموں کی طرح سے بندھے ہیں، سر سینے پر جھکے ہیں، اور حلیہ ایسا ہے کہ کسی ملک کے سفارتی نمائندوں کی بجائے بھکاری لگ رہے ہیں۔

دونوں سفیر مغل شہنشاہ کے تخت کے قریب پہنچے تو عمال نے انھیں فرش پر لیٹنے کا حکم دیا۔

سخت گیر، سفید ریش بادشاہ نے انھیں سخت ڈانٹ پلائی اور پھر پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

دونوں نے پہلے تو گڑگڑا کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے جرائم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی، پھر کہا کہ ان کا ضبط شدہ تجارتی لائسنس پھر سے بحال کر دیا جائے اور سیدی یاقوت کو بمبئی کے قلعے کا محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔

ان کی عرضی اس شرط پر قبول ہوئی کہ انگریز مغلوں سے جنگ لڑنے کا ڈیڑھ لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں، آئندہ فرماں برداری کا وعدہ کریں اور بمبئی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا صدر جان چائلڈ ہندوستان چھوڑ دے اور دوبارہ کبھی یہاں کا رخ نہ کرے۔

انگریزوں کے پاس یہ تمام شرائط سر جھکا کر قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، سو انھوں نے تسلیم کر لیں اور واپس بمبئی جا کر سیدی یاقوت کو اورنگ زیب کا خط دیا، تب جا کر اس نے محاصرہ ختم کیا اور قلعے میں بند انگریزوں کی 14 مہینوں بعد گلوخلاصی ہوئی۔

ہیملٹن نے لکھا ہے کہ جنگ سے قبل بمبئی کی کل آبادی 700 سے 800 کے درمیان تھی، لیکن جنگ کے بعد '60 سے زیادہ لوگ نہیں بچے تھے۔ بقیہ تلوار اور طاعون کی نذر ہو گئے۔'

داغ مٹانے کی کوشش

آنے والے برسوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس خجالت آمیز جنگ کے واقعات کو انگلستان کے عوام تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ چنانچہ کمپنی کے پادری جان اوونگٹن نے چھ سال بعد جب اس جنگ کا احوال لکھا تو اس نے تمام تر ملبہ مغلوں کی وعدہ خلافی پر ڈال دیا۔ اس پر کمپنی نے اسے 25 پاؤنڈ کا انعام بھی دیا جو اس زمانے میں خاصی بڑی رقم تھی۔

اوونگٹن اپنی کتاب میں جگہ جگہ انگریزوں کی بےجگری کا احوال بیان کرتا ہے جنھوں نے دس گنا بڑے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہی نہیں، اور دعویٰ کرتا ہے کہ سیدی یاقوت کو شکست ہوئی تھی۔ یہی نہیں، بلکہ اس نے اپنے تذکرے میں مغل دربار میں انگریز سفیروں کے برتاؤ کا ذکر بھی سرے سے گول کر دیا ہے۔

ہیملٹن نے کتاب تو لکھی لیکن اسے شائع ہوتے ہوئے 40 برس بیت گئے۔ اس دوران پلوں کے نیچے سے اس قدر پانی بہہ چکا تھا کہ اسے کچھ زیادہ توجہ نہیں مل سکی۔

یہاں ایک دلچسپ سوال اٹھتا ہے کہ اگر اورنگ زیب انگریزوں کو معافی نہ دیتے اور انھیں ہندوستان سے نکال باہر کرتے تو آج برصغیر کی تاریخ کیا ہوتی؟

 

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق سمندر پار پاکستانی اب اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔

جمعے کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ وہ سمندر پار پاکستانی جن کا تعلق ان حلقوں سے ہے جہاں ضمنی انتخاب منعقد ہونا ہے وہ مورخہ 14 اکتوبر کو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔

بیرون ملک ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے جمعے کی شب بارہ بجے سے لے کر اگلے پندرہ دن تک یعنی 15 ستمبر تک اپنی آن لائن رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے اوور سیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص ویب سائٹ پر جا کر اپنے شناختی کارڈ کے نمبر اور اپنے پتے کے ذریعے سائن اِن کرنے کے بعد اپنی ای میل پر آنے والے پِن کوڈ کے ذریعے اپنی تصدیق کروائیں گے۔

سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کا وقت بھی پاکستان کے معیاری وقت کے تحت ہی ہو گا یعنی جب پاکستان میں صبح آٹھ بجیں گے تو دنیا بھر میں موجود پاکستانی اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آن لائن ہو سکیں گے اور شام پانچ کے بعد ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے ووٹر ہونے کی تصدیق کروانے کے لیے اس پتے پر کلک کیا جا سکتا ہے لیکن یہ سسٹم پاکستان میں مقامی وقت کے مطابق شب بارہ بجے سے فعال ہو گا۔

https://www.overseasvoting.gov.pk/

 

نیروبی ایوی ایشن کالج کی انیس سالہ طالبہ اِیوا اپنے چھوٹے سے کمرے میں غربت، بھوک اور مایوسی کے ہاتھوں بے بس بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اچانک اپنے بٹوے سے آخری سو شلنگ نکالے اور بس پکڑ کر سٹی سنٹر جا پہنچیں، جہاں انہوں نے پیسوں کے عوض سیکس کا مطالبہ کرنے والے پہلے شخص کو ہاں کر دی۔ اس کے ساتھ ایک تاریک گلی میں دس منٹ گزارنے کے بعد وہ ایک ہزار شلنگ لے کر گھر چلی گئیں، جو ان کے ایک مہینے کے کھانے پینے کے خرچے کے لیے کافی تھا۔

شِیرو کی چھ برس قبل یونیورسٹی میں اپنے سے عمر میں چالیس سال بڑے ایک شادی شدہ شخص سے ملاقات ہوئی۔ شروع شروع میں اسے صرف روزمرہ کی ضروریات کے لیے خرچہ ملتا تھا۔ پھر سیلون آنے جانے کا بھی بندوبست ہو گیا۔ تعلقات قائم ہونے کے دو سال بعد اس شخص نے شِیرو کو ایک اپارٹمنٹ لے دیا کیونکہ وہ اس کی زندگی میں آرام چاہتا تھا۔ دو سال مزید گزرے تو اس نے اپنی مخلصی کے ثبوت کے طور پر شِیرو کو ایک پلاٹ خرید دیا۔ اس سب کے بدلے میں وہ جب چاہیں شِیرو کے ساتھ سیکس کر سکتے ہیں۔

اِیوا کی کہانی مجبوری کی ایک قبیحہ کہانی ہے جو صرف ایک بار کی کمزوری کے گرد گھومتی ہے۔ شِیرو کی کہانی کے کئی پہلو ہیں جس میں دیر پا مالی فائدے کے لیے حسن اور جوانی کا سودہ کیا گیا ہے۔ دوسری کہانی کی تحریک بھوک یا افلاس نہیں بلکہ خواہشات ہیں، ایسی خواہشات جن کی سوشل میڈیا کے ستاروں کی طرز زندگی سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

بڑی عمر کے لوگ ہمیشہ سے ہر معاشرے میں اپنی دولت، رتبہ اور اثر و رسوخ کا استعمال کر کے کم عمر لڑکیوں تک رسائی حاصل کرتے رہے ہیں۔ 'شوگر ڈیڈی' کی تاریح بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی طوائف کی۔ تو پھر اب افریقہ میں سیکس کے ان تعلقات پر بحث کیوں؟ اس کی وجہ کینیا اور دیگر افرقی ممالک میں اس طرح کے تعلقات کا عام ہو جانا اور پہلے کے مقابلے میں کھلم کھلا اظہار ہے۔

کسی طرح معاشرہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ نوجوانوں کی زندگی میں 'سپانسر' یا 'مہربان' کے ہونے کو تسلیم کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک گلیمر بھری زندگی کا راستہ ہے۔

اب سے پہلے اس بارے میں اعداد و شمار نہیں تھے کہ کتنی لڑکیاں 'شوگر ڈیڈی' والی زندگی گزار رہی ہیں۔ لیکن اس سال ایک تحقیقی ادارے نے بی بی سی افریقہ کے لیے رسرچ کی جس میں دو سو باون لڑکیوں نے حصہ لیا اور اس سے معلوم ہوا کہ اٹھارہ سے چوبیس سال کی یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں میں سے بیس فیصد کی زندگی میں 'سپانسر' رہا ہے۔ سروے سیمپل بہت چھوٹا تھا اس لیے ان نتائج کو ایک اندازے کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد شاید اس سے کچھ زیادہ ہو۔

مذہبی گھرانے میں پرورش اور پھر ’شوگر ڈیڈی‘

بیس سالہ جین کہتی ہیں کہ ان کے دو 'سپانسر' تھے اور دونوں شادی شدہ۔ انہیں اس میں کچھ غلط نظر نہیں آتا۔ جین کہتی ہیں کہ یہ نیروبی کی روز مرّہ کی مشکل زندگی گزارنےکا ایک طریقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تعلق صرف پیسے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس میں دوستی اور قربت کا بھی اہم پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرد صرف سیکس نہیں چاہتے بعض اوقات انہیں صرف بات کرنے کے لیے کوئی چاہیے ہوتا ہے۔

جین نے بتایا کہ ان کی پرورش ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی چھوٹی بہنوں کا سہارا بننا چاہتی ہیں تاکہ انہیں کسی مرد کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔ لیکن اس کے علاوہ وہ کینیا کی ان خواتین سے بھی متاثر ہوئی ہیں جو جنسی کشش کی بنا پر میڈیا پر بڑی سٹار بن گئیں اور خوب دولت کمائی۔

کینیا میں ایسی ہی ایک سٹار ویرا صدیقہ جنہوں نے میوزک وڈیو سے زندگی کا آغاز کیا اور بزنس وومن بن گئیں۔ انہوں نے سن دو ہزار چودہ میں ایک موقع پر کہا تھا کہ 'میرا جسم میرا کاروبار ہے اور اس سے دولت بنتی ہے'۔

ایک اور مشہور ماڈل اور بزنس وومن ہدیٰ منرو کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے کہا کہ 'اگر آپ کو اپنا جسم دِکھانا ہی ہے تو اس کی قیمت ہونی چاہیے'۔

'سپانسر' اور 'شوگر ڈیڈی' صرف خواتین کی زندگی کا پہلو نہیں۔ مردوں کے لیے 'شوگر ممی' بھی موجود ہیں۔

بہت سے لڑکے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں اور ان کا نشانہ امیر مقامی خواتین اور یورپ سے آنے والی بڑی عمر کی دولتمند سیاح ہوتی ہیں۔

کینیا کے اخبارات کی کبھی کبھار کی سرخیاں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعلقات خطرے سے خالی نہیں۔ 'یونیورسٹی کا خرچہ اٹھانے والے کے ہاتھوں قتل'، 'خوبصورت بائیس سالہ لڑکی اپنے شوگر ڈیڈی کے ہاتھوں قتل'،'سپانسر نے فیس بک پر تابوت کی تصویر لگائی اور پھر وہ لڑکی مر گئی' ایسی سرخیوں کی چند مثالیں ہیں۔

کئی بار 'شوگر ڈیڈی' ہاتھ کھینچ لیں تو لڑکیاں خود کشی بھی کر لیتی ہیں اور اس کے علاوہ اس تعلق میں لڑکیاں تشدد بھی برداشت کرتی ہیں۔

’شوگر ڈیڈی` والے تعلق اور جسم فروشی میں کیا فرق؟

کینیا میں حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والے خواتین میں یہ تعلقات شدید بحث کا موضوع ہیں۔ کینیا میں ماضی کے مقابلے میں خواتین کے لیے مرضی سے سیکس کی اب آزادی زیادہ ہے اور اس میں شرم کا پہلو ختم ہو رہا ہے۔

ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ 'شوگر ڈیڈی' کے ساتھ تعلق قائم کرنا کسی لڑکی کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن دوسری طرف یہ رائے بھی ہے کہ یہ تعلق آزادانہ قائم نہیں ہوتے۔

سیکس، جسم فروشی کی آزادی کو ایک امیر شمالی ممالک کا تصور قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان ممالک میں مکمل خودمختاری کے پلیٹفارم سے ایسی باتیں ہوتی ہیں جبکہ کینیا اور افریقہ کے دیگر ممالک میں یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

حقوق نسواں کی ایک کارکن کا کہنا تھا کہ ووٹ، زمین کی ملکیت اور سکول جانے کا حق دہائیوں کی جدو جہد کے بعد ملا لیکن 'شوگر ڈیڈی` کے ساتھ تعلقات کے حق میں بہت تضادات ہیں۔ 'اگر ہم کہیں کہ جسم فروشی لڑکیوں کا حق ہے تو ہم انہیں دوبارہ پدرشاہی معاشرے کی طرف دکھیل رہے ہیں'۔

لیکن ایک طالبہ کہتی کہ جسم فروشی کے مقابلے میں 'شوگر ڈیڈی' یا 'سپانسر' یا 'مہربان' سے تعلقات میں لڑکی کی مرضی شامل ہوتی ہے اور مجبوری کا پہلو نہیں۔

کینیا کے بہت سے نوجوانوں کے لیے گھروں میں لڑکیوں کو کم عمری سے یہی کہا جاتا ہے کہ انہیں ایک امیر آدمی سے شادی کرنی ہے غریب سے نہیں۔ سوچ یہی ہے کہ عورت کا سہارا مرد ہی ہے جو اس کی ضروریات کا خیال رکھے گا۔ کچھ لڑکیوں کے لیے پھر یہی تعلق شادی کے رشتے سے باہر تلاش کرنا صرف ایک چھوٹا سا قدم ہے۔

جین کا کہنا ہے کہ 'سیکس میں غلط کیا ہے۔ لوگ اسے غلط بنا دیتے ہیں، لیکن کئی بار اس میں کچھ غلط نہیں ہوتا'۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کے ایک نواحی علاقے میں دو بوسیدہ سے کمروں اور ایک جھونپڑی پر مشتمل چھوٹا سا مکان ہے۔ اس میں 35 سالہ بیوہ لکشمی کور اور ان کے کنبے کے افراد گذشتہ تقریباٌ ایک دہائی سے رہائش پذیر ہیں۔ مگر یہ ان کا گھر نہیں۔

ان کا گھر اور اسے آباد رکھنے والے معاش کے ذرائع دونوں صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں تھے۔ سنہ 2006 میں انہیں وہ دونوں چھوڑ چھاڑ کر جان بچا کر بھاگنا پڑا۔

یہ وہ سال ہے جب پاکستانی فوج نے بگٹی قبیلے کے اُس وقت کے سردار نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آپریشن کیا جس کے اختتام پر وہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔

لکشمی کور کے چار بیٹے تھے، ایک کی چند برس قبل ایک حادثے میں موت ہو گئی۔ ایک دماغی کمزوری کا شکار ہے۔ ان کے شوہر کی بھی گزشتہ برس ہی موت ہوگئی۔

لکشمی کور کے علاوہ وہ پیچھے اپنی پہلی بیوی اور ایک بیٹا بھی چھوڑ گئے۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس وقت خاندان کا واحد کفیل ہے۔

تمام افراد اسی مکان میں رہتے ہیں۔ ایک کمرے میں لکشمی کور کے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کی تصویریں دیوار پہ ٹنگی ہیں۔ نیچے دو تین چارپائیاں اور ضرورت کا تھوڑا بہت سامان پڑا ہے۔ بس اتنی ہی جگہ ہے۔

کمرے سے نکل کر آٹھ دس قدم چلیں تو صحن ختم ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی جھونپڑ تلے دو بکریاں بندھی ہیں۔ واپس ڈیرہ بگٹی میں ان کے گھر کا نقشہ ایسا نہیں تھا۔

لکشمی کور نے بتایا کہ ’وہاں ہمارے پاس چار سے پانچ کمرے تھے، بڑا صحن تھا اور اپنا کام کاج تھا۔‘

لکشمی کور اور ان کے شوہر کے خاندان سمیت کئی سکھ خاندان اکبر بگٹی کی زمینوں پر اپنے باپ دادا کے زمانے سے آباد تھے۔

فوجی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی وہاں کے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

’جس کے ہاتھ جو آیا اس نے اٹھایا اور بھاگا۔ فوج کی مدد سے ہم سوئی کے مقام تک پہنچے۔ مگر وہاں سے آگے نہیں معلوم تھا کدھر جائیں۔‘

ہجرت کرنے والے مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے برعکس صوبے کے دیگر علاقوں میں اقلیتی برادری کے ان افراد کی جان پہچان کے لوگ نہیں تھے۔ تو انہوں نے صوبہ پنجاب میں جہاں سکھوں کے مقدس مقامات اور آبادی موجود تھی وہاں کا رُخ کیا۔

کچھ حسن ابدال گئے تو لگ بھگ 35 خاندانوں نے سکھوں کے پہلے گُرو گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کا رُخ کیا جہاں سکھ برادری کے لیے مقدس ترین مقام گردوارہ جنم استھان واقع ہے۔

خطرہ کیا تھا؟

شیرا سنگھ کا خاندان سب سے پہلے یہاں پہنچنے والوں میں سے ایک تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انوں نے بتایا کہ ’چھوٹے بڑے لڑائی جھگڑے قبائل میں چلتے رہتے تھے مگر ان سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ مگر آپریشن میں ماحول کچھ اور تھا۔‘

’دونوں اطراف سے بھاری اسلحے کا استعمال ہو رہا تھا اور مورچہ بند لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ راکٹ گرتے تھے۔ ہم سب گھروں میں دبک کر رہ گئے تھے۔‘

چند ہی روز میں مقامی آبادی کے افراد کو خطرے کے پیشِ نظر علاقہ خالی کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ’لڑائی کے دوران ہی ہم تو فوج کے پاس پہنچے اور وہاں سے نکلنے کے لیے مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے ہمیں محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔‘

وہاں سے سکھ برادری کے افراد کے لیے صوبہ پنجاب میں لاہور کے قریب واقع ننکانہ صاحب کی جانب سفر کا آغاز ہوا۔ لکشمی کور کے خاندان کو یہاں پہنچتے ایک ماہ کا عرصہ لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ’راستے میں مختلف جگہوں پر رکتے، محنت مزدوری کر کے کرایہ کے پیسے جمع کرتے اور آگے بڑھتے تھے۔‘

جائے امان

ان سے پہلے اور ان کے بعد بھی سکھ برادری کے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونحواہ کے قبائلی علاقہ جات سے تھا۔

22 سالہ جگجیت کور کا خاندان دہائیوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور اور ضلع کُرم کے علاقہ پاڑہ چنار میں آباد رہا جہاں ان کا کاروبار تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’ان علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے ہمارے والد کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچا اور ہم خود کو محفوظ بھی نہیں سمجھتے تھے۔‘

’آئے دن فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے۔ پھر جب دہشت گرد ہمارے علاقوں میں داخل ہوئے تو اس کے بعد اغوا برائے تاوان کے واقعات بڑھ گئے۔ ان میں سکھ براداری کے افراد خاص طور پر نشانہ بنتے تھے کیونکہ وہ کاروباری تھے۔ کئی لوگ ہم سے قرض لے کر فرار بھی ہو گئے۔‘

جب حالات زیادہ بگڑے تو ان کے والد نے ننکانہ صاحب کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ صوبہ خیبر پختونخواہ سے لگ بھگ 200 کے قریب خاندان اب یہاں آباد ہیں۔

شناخت ہے، شناختی کارڈ نہیں

جگجیت کور کے والد کا گذشتہ برس انتقال ہو گیا۔ ان کا گھرانہ معاشی طور پر قدرے بہتر ہے۔ ان کے تین بھائی ہیں جن میں سے دو ننکانہ صاحب میں کاروبار کرتے ہیں۔ والد کی خواہش کے مطابق جگجیت کور نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔

ننکانہ کے ایک مقامی کامرس کالج سے بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد حال ہی میں انہوں نے ایک نجی بینک میں ڈیٹا انٹری آپریٹر کے طور پر ملازمت اختیار کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی برادری میں نوکری کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ ’میرے والد کی خواہش تھی کہ میں اچھی تعلیم حاصل کروں اور پھر اچھی ملازمت کروں۔ اس طرح دوسری لڑکیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ بھی آگے آئیں گی۔‘

وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری نوکری حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ مگر اس کی راہ میں بھی مسائل حائل ہیں۔

’ہماری برادری کے بہت سے افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں۔ جن کے پاس ہیں ان پر پتہ ہمارے آبائی علاقوں کا درج ہے۔ اس پر ہمیں یہاں نوکریاں نہیں ملتیں۔ اور پتہ تبدیل کروانے واپس نہیں جا سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے کارڈ موجودہ پتوں پر یہاں بنا دیے جائیں تو ان سمیت ان کے بہنوں بھائیوں اور برادری کے دیگر افراد کے بچوں کو بہت سی سہولیات اور نوکریاں حاصل کرنے میں آسانی ہو گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کون کرے گا؟

آئی ڈی پیز یا ٹی ڈی پیز؟

اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی اندرونِ ملک ہجرت کا شکار ہونے والی لکشمی کور اور جگجیت کور جیسی خواتین جن مسائل سے گزر رہی ہیں، وومن ریجنل نیٹ ورک نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اپنی ایک حالیہ مقالیاتی رپورٹ میں اسکا احاطہ کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ’شیٹرڈ سولز‘ یعنی ’بکھری جانیں‘ نامی رپورٹ کی مصنفہ صائمہ جاسم نے بتایا کہ ان خواتین کے مسائل اور ان کا حل اتنے برس گزر جانے کے باوجود نہ مل پانے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔

’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتی کہ ایسے شورش زدہ علاقوں میں تنازع یا جنگ کے حالات ہیں۔ اس طرح اس کے نتیجے میں ہونے والی اندرونِ ملک ہجرت کے تصور کو بھی نہیں مانا جاتا۔‘

’اس طرح ایسے افراد کی مدد کے لیے نہ تو کوئی باضابطہ پالیسی موجود ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ۔‘

اندرونِ ملک ہجرت کرنے والے افراد کی امداد کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر جو ادارے موجود ہیں وہ صرف ’قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو سنبھالتے ہیں۔‘

صائمہ جاسم کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست نے ’آئی ڈی پیز‘ یا اندرونِ ملک ہجرت کا شکار ہونے والے افراد کے لیے جو اصطلاح دی ہے وہ ٹی ڈی پیز‘ یعنی ’عارضی طور پر ہجرت کرنے والے‘ ہے۔ یعنی ایسے افراد جو تین سے چار ماہ تک بے گھر ہوتے ہیں اور پھر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

’مگر اقلیتی برادری کے ایسے افراد میں ہم نے دیکھا کہ وہ دس سے بارہ سال سے بے گھر ہیں اور مستقبل میں بھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ اصطلاح سب پر لاگو کرنا درست نہیں۔‘

لوٹ کر کہاں جائیں؟

صائمہ جاسم ریسرچ کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے نیدرلینڈز سے ڈویلپمنٹ سٹڈیز اور آسٹریا سے ایم اے پیس اینڈ کانفلکٹ سٹڈیز کے ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ بے شمار مقالیاتی رپورٹوں کے علاوہ وہ انہی موضوعات پر دو کتابیں بھی لکھ چکی ہیں۔

اس رپورٹ میں انہوں نے حسن ابدال، ننکانہ صاحب اور رحیم یار خان میں آباد سکھ اور ہندو برادری کی خواتین سے بات چیت کی ہے جن کی تصاویر اور بیانات رپورٹ کا حصہ ہیں۔

صائمہ کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادریوں کی خواتین ہجرت کے اس عمل میں بے شمار جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے گزرتی ہیں۔

’انہیں جسمانی تشدد، زنا اور خاندان سے بچھڑنے کے خطرات کے علاوہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر شددت پسندی کا نشانہ بننے جیسے خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ ہندو خواتین اس حوالے سے خصوصاٌ زیادہ غیر محفوظ پائیں گئیں۔‘

جگجیت کور اپنے خاندان کی مکمل حمایت کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں اور نامساعد حالات کے باوجود اپنے خاندان کا ہاتھ بٹا رہی ہیں، تاہم لکشمی کور جیسی سکھ برادری کی مہاجر خواتین ایسا بھی نہیں کر سکتیں۔

لکشمی کور کا کہنا تھا کہ ان کے قبائلی رسم و رواج انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے۔

’ہم خواتین گھر سے باہر نہیں نکلتیں چاہے جیسے بھی حالات ہوں۔ بھوکے پیاسے بھی ہوں گے تو گھر میں ہوں گے۔‘

فاقے کے ایسےحالات ان کے خاندان پر گزشتہ برسوں میں کئی مرتبہ آئے ہیں۔ تب گردوارہ جنم استھان ان کے کام آتا ہے۔

’میرا چھوٹا بیٹا وہاں سیوا کرتا ہے۔ جب کبھی کام کاج نہیں ملتا اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ گردوارے میں لنگر سے لے آتا ہے۔‘

اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں اب حالات بہتر ہیں مگر وہ کہتی ہیں وہ واپس نہیں جا سکتیں۔ ’اب وہاں کہاں جائیں۔ کون ہمیں کام دے گا؟ کون ہمیں جگہ دے گا؟ اور کام کرنے والا بھی کوئی نہیں۔‘

صائمہ جاسم نے رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان لکشمی کور اور جگجیت کور جیسی خواتین کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے فوری ایسے اقدامات اٹھائے جن سے انہیں سرکاری امداد تک رسائی حاصل ہو سکے اور ان کی مستقل بحالی کے راستے کھل سکیں۔

پاکستان میں ہندو برادری کی کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے تحفظ کے لیے معاشرے میں سکھ بن کر رہنا پڑتا ہے۔

حسن ابدال میں مقیم پناہ گزین امیت کوئر کہتی ہیں ’سکھ برادری میں قبول کیے جانے کے لیے گرانتھ صاحب (سکھوں کی مقدس کتاب) پڑھتی ہوں کیونکہ یہاں کوئی مندر نہیں ہے مگر ناامیدی کے وقت میں بھگوت گیتا پر واپس جانے پر مجبور ہو جاتی ہوں‘۔

ایسی کئی مشکلات کا تذکرہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی تنظیم ویمنز ریجنل نیٹ ورک کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتوں کے ان پناہ گزینوں، خاص طور پر خواتین پناہ گزینوں کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ملک کے مختلف علاقوں سے فوجی آپریشنز، طالبان کی دھمکیوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

خواتین پناہ گزینوں میں سے کئی گھرانوں کے مرد ان فوجی آپریشنوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں پاکستانی معاشرے میں کئی گنا مسائل کا سامنا کرنا پرتا ہے۔

کئی ایسی خواتین ہیں جن کے پاس قومی شناختی کارڈز نہیں اور پناہ گزین کا درجہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اس کا متبادل بھی حاصل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی حکومتی امداد سے مستفیض ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پاکستانی حکومت اس بات کا قانونی اعتراف نہیں کرتی کہ ملک کے کچھ علاقوں میں شورش جاری ہے اسی لیے ان پناہ گزینوں کے پاس کوئی ایسا نظام یا طریقہ نہیں کہ وہ ریاست سے مدد حاصل کر سکیں۔

پاکستان میں پناہ گزینوں کو زیادہ تر قدرتی آفات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور اسی لیے مذہبی بنیادوں پر اپنی جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی کرنے والوں کو حکومتی امداد نہیں جاتی ہے۔ ایسے میں ان پناہ گزینوں کو اپنی میزبان برادریوں کے رحم و کرم پر رہنا پڑتا ہے۔

جن علاقوں میں یہ پناہ گزین نقل مکانی کر کے جاتے ہیں وہاں کے لوگ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انھیں اکثر چور تصور کیا جاتا ہے یا پھر انھیں پہلے سے موجود کم وسائل پر اضافی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر رحیم یار خان کی چک نمبر 244 میں جب اس رپورٹ کے محققین نے بات کی تو ان کہنا تھا کہ اس علاقے میں پینے کا صاف پانی پہلے ہی بہت کم ہے اور اگر انھیں یہ اضافی پناہ گزینوں کے ساتھ بانٹنا پڑا تو مشکلات ہوں گی۔

رپورٹ کی مصنف نے جن ہندو خواتین سے بات کی ان میں سے زیادہ تر کا یہی کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندوؤں کو کافر اور بت پرست کے ساتھ ساتھ ملک دشمن اور غدار تصور کیا جاتا ہے۔

ہندوؤں کے لیے عبادت گاہوں کی کمی صرف عبادت کا مسئلہ نہیں۔ اگر کوئی ہندؤ چل بسے تو کئی مرتبہ اپنے مذہب کے مطابق آخری رسومات کے لیے ورثا کو میت کو کسی دوسرے شہر لے جانا پڑتی ہے۔ خواتین کی صحت کے خصوصی مسائل کے حل تو دور کی بات ہیں۔

برطانیہ میں صحت کے حکام نے کہا ہے کہ کھانسی کا اولین علاج شہد اور کھانسی کے شربت ہونے چاہییں نہ کہ اینٹی بایوٹکس، جو اس کے علاج میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔

عام طور پر کھانسی دو تین ہفتے میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹروں کو دی جانے والی سفارشات کا مقصد اینٹی بایوٹکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت کے خطرے کو کم کرنا ہے کیوں کہ ان ادویات کے بےدریغ استعمال سے ان کا اثر ختم ہو جاتا ہے اور جان لیوا بیمایوں کے علاج میں مشکل پیش آتی ہے۔

گرم مشروب اور شہد، جس میں لیموں اور ادرک ملے ہوں، کھانسی اور خراب گلے کے لیے عرصۂ دراز سے استعمال ہوتے چلے آئے ہیں۔

اب برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا ہے کہ کچھ محدود شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کھانسی کی علامات میں بہتری لاتے ہیں۔

اس کے علاوہ کھانسی کے شربت جن میں pelargonium، guaifenesin یا dextromethorphan جیسی ادویات شامل ہوں، وہ کھانسی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

مریضوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان ادویات کا استعمال کریں اور ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے کھانسی از خود ختم ہونے کا انتظار کریں۔

زیادہ تر کھانسیوں کا باعث وائرس ہوتے ہیں، جن پر اینٹی بایوٹکس اثر نہیں کرتیں۔

اس کے باوجود تحقیق کے مطابق برطانیہ میں 48 فیصد ڈاکٹر کھانسی یا برونکائٹس کے لیے اینٹی بایوٹکس لکھ کر دیتے ہیں۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزن ہاپکنز نے کہا: 'اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں اینٹی بایوٹکس کا استعمال کم کرنے کے لیے فوری طور پر عملی قدم اٹھانا ہوں گے۔

'ان نئی سفارشات کی روشنی میں ڈاکٹروں کی طرف سے اینٹی بایوٹکس کے نسخے کم کرنے میں مدد ملے گی اور ہم مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنا خیال خود رکھیں۔'

تاہم سفارشات میں درج ہے کہ اس وقت اینٹی بایوٹکس لینا ضروری ہو جاتا ہے جب کھانسی کسی سنگین بیماری کا نتیجہ ہو، یا جب مریض کا مدافعتی نظام کمزور پڑ چکا ہو۔

شہد ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں دینا چاہیے کیوں کہ اس سے بوٹولزم نامی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر ٹیسا لیوس نے کہا: 'اگر کھانسی بجائے ٹھیک ہونے کے مزید بگڑ رہی ہے یا مریض کو سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہے تب آپ کو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔'

موتی محل پشاور میں موسیقی بجتی رہتی تھی۔ لوگ آکر قہوہ پیتے اور گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کر چلے جاتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ ہوٹل 1967,68 تک چلتا رہا اور پھر بند ہوگیا۔'

یہ کہنا تھا پشاور کے 80 سالہ رہائشی میاں اختر کا جن کا پشاور کے موتی محل ہوٹل کے سامنے کپڑوں کی دکان ہے جو پشاور کی اس ہوٹل کا ذکر کرتے ہیں جس کی بنیاد 1920 کی دہائی میں پشاور کے گورا بازار میں رکھی گئی تھی جہاں پر چکن تندوری متعارف کروایا گیا تھا۔

میاں اختر کو پشاور کا موتی محل یاد ہے جس کو پشاور کے ایک ہندو کندن لال نے بنایا تھا۔

بی بی سی نے تقریباً دو ہفتوں کی تحقیق کے بعد اس عمارت کو ڈھونڈ نکالا جہاں موتی محل کی عمارت واقع تھی۔ اس کے سامنے تقریباً سو سال پرانا ایک درخت بھی موجود ہے۔

آج کل اسی عمارت جو صدر بازار سے متصل گورا بازار میں واقع ہے وہاں ٹیلر کی دکان موجود ہے جبکہ عمارت کا اوپر والا حصہ پشاور کنٹونمنٹ بورڈ کی ملکیت ہے۔

سفید داڑھی والے میاں اختر نے اپنے دکان میں بیٹھ کر موتی محل پشاور کے عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ 'ان کو یاد ہے جب اسی ہوٹل میں لوگ آتے جاتے تھے اور رات گئے تک بیٹھتے تھے۔ میری کندن لال سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں جو اسی شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔'

اختر کے مطابق کندن لال 1947 میں اپنے خاندان سمیت تقسیم ہند کے بعد انڈیا چلے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ کندن لال کا خاندان بہت عرصے تک پشاور کا چکر لگاتے تھے اور یہاں اپنے دوستوں سے ملتے تھے لیکن اب بہت سال عرصہ ہوگیا ہے کہ وہ نہیں آئے۔

'پشاور موتی محل میں پہلا تندوری چکن بنا تھا'

تاریخ میں لکھا گیا گیا ہے کہ اسی پشاور کے ہوٹل نے تندوری چکن کو پشاور میں متعارف کروایا تھا جو آج برصغیر سمیت پوری دنیا میں کھایا جاتا ہے۔

تقسیم ہند سے پہلے موجودہ پاکستان کے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں بہت ہندو خاندان آباد تھے۔

اسی میں میں ایک ہندو کندن لال گجرال تھا جو موجودہ پاکستان کے ضلع چکوال میں پیدا ہوئے تھے اور پشاور میں رہتے تھے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے 2011 میں لکھا گیا ایک آرٹیکل موتی محل ہوٹل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہے کہ کندن لال 12 سال کی عمر میں یتیم ہوئے۔

آرٹیکل کے مطابق اسی چھوٹی عمر میں کندن لال نے پشاور میں موتی سویٹس نامی ایک دکان میں بطور ہیلپر کام شروع کیا تھا۔

دکان کے مالک کچھ برسوں بعد وفات پا گئے تو کندن لال نے اسی ہوٹل کو خود لے کر اس کا نام موتی محل رکھ دیا۔

موتی محل کے موجودہ مالک اور کندن لال کے نواسے نے بی بی سی کو دہلی سے فون پر بتایا کہ موتی محل پشاور کے گورا بازار میں واقع تھا۔

'کیوں نہ چکن کو تندور میں پکا کر دیکھ لیں'

موتی محل کے بانی کندل لال کے نواسے منیش گجرال آج کل ہوٹلوں کی چین کا مالک ہے جو دہلی میں مقیم ہیں۔

منیش گجرال نے دہلی سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کے دادا کہتے تھے کہ ایک دن ان کا ایک استاد بیمار تھا اور انہوں نے میرے دادا سے کچھ ہلکا پھلکا کھانے فرمائش کی تاکہ اس میں روغن کم ہوں۔

'میرے دادا نے سوچا کہ کیوں نہ چکن کو تندور میں پکا کر دیکھ لے کہ کیا بنتا تھا۔ اسی طرح تندوری چکن پہلی بار میرے دادا نے پشاور کے موتی محل میں پکایا۔'

منیش نے تندور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تندور اس سے پہلے انڈیا میں موجود تھا لیکن اس میں زیادہ تر آٹے کے نان، پراٹے اور میدے کے نان پکائے جاتے تھے لیکن تندور کو چکن کے پکانے کے لیے پہلی بار ان کے دادا نے استعمال کیا۔

منیش کے مطابق ان کے دادا کے انڈیا آنے کے بعد انہوں نے دہلی میں دوبارہ موتی محل کے نام سے ایک چھوٹی ہوٹل کی بنیاد رکھ دی جنکے آجکل سو سے زائد شاخیں ہے۔

چکن تندوری کس طرح بنتا ہے؟

گو کہ چکن تندوری کو برصغیر میں پشاور کے موتی محل نے متعارف کرایا لیکن موتی محل کا پشاور سمیت پورے پاکستان میں کوئی شاخ موجود نہیں۔

تاہم تحقیق کی تو پشاور میں اس وقت دو ہوٹل ایسے ملے جہاں وہی پرانے طریقے سے چکن کو تندور ہی میں پکایا جاتا ہے جبکہ بہت سے دیگر ہوٹلوں میں نئے طریقوں جیسا کے چکن کو سیخ میں ڈال کر دہکتے کوئلوں پر پکایا جاتا ہے۔

پشاور کے ہوٹل جہاں تندوری چکن بنایا جاتا ہے وہاں اس کے لیے مٹی سے بنا ایک بڑا تندور بنایا گیا ہے۔

پہلے چکن کو دہی، ادرک، لہسن، لیموں کے رس اور گرم مسالہ کا پیسٹ دے کر کچھ دیر کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد چکن کو سیخ میں ڈال کر اس کو تندور کے دہکتے کوئلوں پر تقریبا 35 منٹ تک رکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح چکن تندوری تیار ہوجاتا ہے۔

پشاور کا رہائشی رؤف خان پشاور کے ناگومان علاقہ میں واقع ایک اسی ہوٹل میں بیٹھا ہے جو تندوری چکن وہی پرانے طریقے سے بناتے ہے۔

دیگر ساتھیوں کے ساتھ میز پر بیٹھا رؤف خان نے مجھے بتایا کہ ہفتے میں ایک بار دوستوں کے ساتھ اس ہوٹل کا چکر لگتا ہے جہاں ہم تندوری چکن ہی کھاتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیاں ان کو یہ معلوم کہ تندوری چکن پہلی بار پشاور میں متعارف کرایا گیا تو جواب میں انہوں نے بتایا۔ 'ہفتے میں ایک بار ضرور ہم اسی ہوٹل کا دورہ کرتے ہے لیکن ہمیں پہلے کبھی بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ چکن پہلی بار پشاور ہی میں متعارف کرایا گیا ہے۔'

ہم ہمارے حکمرانوں کو ایوانوں میں لے تو آتے ہیں ووٹ دے کر لیکن آج تک ہم نے یاد نہیں رکھا کہ وہ کون سے وعدے کر کے ایوان میں آئے تھے اور کیا ایوان میں آنے کے بعد انھوں نے ان وعدوں کو پورا کیا‘۔ پاکستان کے ایک شہری سلمان سعید نے اس دلیل کے ساتھ ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس کا نام ہے ’خان میٹر ڈاٹ کام‘۔

ویب سائٹ کے تعارف میں انھوں نے اپنے آپ کو جمہوریت کا ایک ادنیٰ کارکن کہا ہے۔ ’خان میٹر‘ کے فیس بک پیج پر اپنے وڈیو بیان میں سلمان نے مزید کہا کہ ووٹروں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر حکمرانوں نے وعدے پورے کیے تو اس سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوا اور اگر وہ وعدے پورے نہیں ہوئے اس کی کیا وجہ تھی۔

ویب سائٹ بنانے کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ انھوں نے نئے پاکستان کے لیے ووٹ دیا اور اب اس کو حاصل کرنا بھی ان کا کام ہے اور حکومت کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

ویب سائٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایک سو دنوں میں مختلف شعبوں میں کیے گئے وعدوں کا حساب رکھا جائے گا اور جوں جوں ویب سائٹ بنانے والوں کی نظر میں کوئی وعدہ پورا ہو گا اس کا اندراج ہو جائے گا۔ اب یہ ویب سائٹ کتنی قابل اعتبار اور غیر جانبدار ہو گی اس کا فیصلہ تو وقت کے ساتھ ہی ہوگا۔

’خان میٹر‘ پر لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ایک صاحب خان ذوالفقار نے لکھا کہ یہ تو پارٹی کی اپنی طرف سے بنائی گئی ویب سائٹ ہے جبکہ ان کے جواب میں وجیہ نے لکھا کہ اگر پی ٹی آئی نے خود بھی بنائی ہے تو اچھا اقدام ہے۔

پھر جلال فدا نے لکھا کہ سو دن کے ایجنڈے کی تشریح انتہائی تنگ نظری سے کی جا رہی ہے۔ ستر سال کا گند ایک سال میں نہیں صاف ہو سکتا۔ ان کے جواب میں عثمان خلیل نے لکھا کہ ہم اس وعدے کو اس لیے سنجیدگی سے لے رہے ہیں کیونکہ انھوں نے یہ وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ان وعدوں کو سو دن میں پورا ہونے کی توقع نہیں کرتا لیکن ان پر کام شروع ہونا چاہیے ان میں سے کم سے کم ستر فیصد پر۔

Link:  https://www.khanmeter.com/

پاکستان میں اس برس جشنِ آزادی کے موقعے پر پاکستانی پرچم اوڑهے پولینڈ کی شہری ایوا زوبیک پاکستانی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہیں۔

اس کی وجہ ان کی وہ ویڈیو بنی جس میں وہ جشنِ آزادی کے موقعے پر بظاہر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ایک طیارے میں کیکی چیلنج کرتی نظر آئیں۔

اس پر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے نوٹس لیتے ہوئے پی آئی اے حکام سے وضاحت طلب کی کہ ایک غیر ملکی خاتون کو طیارے تک رسائی کیسے حاصل ہوئی؟

اس ویڈیو پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اس میں پاکستانی پرچم کی بےحرمتی ہوئی ہے۔

تاہم ایوا کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انھوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد پاکستان میں سیاحت کا فروغ تھا اور کچھ نہیں اور ان کے پاس تمام تر اجازت نامے موجود تھے۔ اس کے بعد کہیں جا کر معاملہ رفع دفع ہوا۔

حالیہ ایک گفتگو میں ایوا نے بتایا کہ وہ جہاز تو اصلی تھا ہی نہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی خراب صورت حال خراب ہونے کے باعث گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں واضح کمی ہوئی ہے۔

ایوا اس بات کو مانتی ہیں: ’یہاں آنے سے پہلے میں نے بھی پاکستان کے بارے میں جو سن رکھا تھا وہ زیادہ اچھا نہیں تھا۔‘

ایوا کا آبائی ملک پولینڈ ہے جبکہ وہ برطانیہ میں ایک لمبے عرصے تک مقیم رہی ہیں جہاں کی آکسفرڈ یونیورسٹی سے انھوں نے فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بی اے کی ڈگری لے رکھی ہے۔ گذشتہ چار برس تک وہ برطانیہ ہی میں کلچر ٹرپ نامی ایک کمپنی میں کام کرتی تھیں۔

یہ کمپنی سیرو تفریح کے مواقع کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ ایوا کے مطابق اس کی ویب سائٹ پر پہلے ایک برس کے دوران ہی موجود ویڈیوز کو ایک کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا جبکہ اس کو سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والوں کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ تھی۔

اس کمپنی میں کام کرنے والی پہلی اہلکار ہونے سے قبل ایوا بیلجیئم کے شہر برسلز میں واقع یورپین پارلیمان میں بھی کام کر چکی ہیں۔ اس طرح وہ انگریزی اور پولش کے علاوہ اطالوی بھی بول سکتی ہیں۔

وہ پاکستان کب اور کیسے پہنچیں؟

ایوا اس برس کے آغاز میں لندن چھوڑ کر دنیا کی سیر پر نکل پڑیں۔

’میں زیادە تر ایسی جگہوں کا انتخاب کرتی ہوں جو خوبصورت مگر نظروں سے بظاہر اوجھل ہوں، اور جہاں زیادہ لوگ نہیں جاتے۔‘

انھوں نے سب سے پہلے اپنے آبائی ملک پولینڈ کو نئے سرے سے دریافت کیا۔ پولینڈ کے سیاحت کے بورڈ کے ساتھ اشتراک میں انھوں نے سیاحت کے فروغ کے لیے مہم چلائی۔

ایوا ایک وی لاگر ہیں یعنی وہ تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے ان مقامات کی کہانیاں سناتی ہیں جہاں وہ سیاحت کے لیے جاتی ہیں۔ اپنے وی لاگ کو وہ سوشل میڈیا خصوصاً انسٹا گرام، فیس بک اور یو ٹیوب کے ذریعے ان کو فالو کرنے والے ہزاروں افراد تک پہنچاتی ہیں۔

ایوا اس مہم جوئی کے تحت پاکستان پہنچی تھیں لیکن ان کا دورہ تنازعے کی نذر ہو گیا۔

اس کے بعد ایوا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا: ’جب میں اپنے ایک وی لاگ کے سلسلے میں کراچی میں تھی تو کسی نے کیکی چیلنج کا مشورہ دیا جو کہ اس وقت ٹرینڈ بھی کر رہا تھا۔ تو میں نے سوچا کیوں نہیں یہ پاکستان میں سیاحت کو پروموٹ کرنے کے لیے اچھا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کو ویڈیو پسند نہیں آئی تو میں معذرت خواہ ہوں، میرا مقصد صرف مثبت چیزیں دکھانا تھا، اور میں اپنے سوشل میڈیا پر پاکستان کی سیاحت، یہاں کے لوگوں اور ثقافت کو فروغ دینے کا مشن جاری رکھوں گی۔‘

گذشتہ پانچ برس سے انڈیا میں سب سے زیادہ گوگل کی جانے والی شخصیت سنی لیونی ہیں۔ اپنی مقبولیت کے باوجود وہ اکثر تنازعات کا شکار رہتی ہیں جیسے کے حال ہی میں ان کی زندگی پر مبنی ویب سیریز ’کرن جیت کور` پر سکھ تنظیم ایس جی پی سی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے نام میں ’کور‘ نہیں آنا چاہیے۔

سنی لیون نے بی بی سی ہندی کی نامہ نگار دیویا آریا سے انٹرویو میں اپنے بچوں اور انڈیا میں پورن انڈسٹری کے بارے میں اپنے خیالات بتائے۔

ان کی ویب سیریز ’کرنجیت کور‘ کے ٹریلر میں ان سے ایک صحافی سوال کرتا ہے کہ ’ایک پورن سٹار اور ایک طوائف میں کیا فرق ہوتا ہے؟‘

ان کا جواب تھا ’ان دونوں میں ایک چیز مشترک ہے ’ہمت‘۔‘

اور یہی ہمت میں نے ممبئی کے ایک ہوٹل میں انٹرویو کے دوران سنی لیونی کی چال، چہرے اور جوابات میں دیکھی۔

انھوں نے بتایا کہ صحافی کے ساتھ وہ انٹرویو فلم بند کرنا کافی مشکل تھا۔

مجھے کافی بے چینی ہوئی کیونکہ وہ سوالات کافی برے تھے۔ لیکن ہم نے انہیں شامل رکھا کیونکہ لوگوں میں یہی تجسس ہے اور وہ ان سوالات کے جواب چاہتےہیں۔‘

چونکہ گذشتہ پانچ سے سال سنی لیونی کو انڈیا میں سب سے زیادہ گوگل کیا جاتا ہے اس لیے یہ بات واضح ہے کہ لوگ انہیں دیکھنا اور ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ لیکن کئی لوگوں نے ان کے بارے میں اپنا رائے پہلے سے ہی قائم کر لی ہے۔

سنی کے خیال میں وہ اس رائے کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں۔

’میں اپنے بارے میں دیانت دار ہوں لیکن میرے خیال میں لوگ مجھے صرف میرے ماضی کے آئینے میں ہی دیکھتے ہیں اور میں جانتی ہوں کہ یہ تاثر میں نے خود ہی بنایا ہے لیکن ہر شخص بدلتا ہے اور مجھے امید ہے کہ لوگ مجھ میں یہ تبدیلی دیکھ سکتے ہیں۔‘

کئی بالی وڈ فلموں میں آئٹم نمبر کرنے کے بعد اب انھوں نے چند فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں انھوں نے اپنی ایک پرفیوم برانڈ ’دی لسٹ` کے نام سے متعارف کروائی ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کے اس نام میں بھی تو وہی تصویر جھلکتی ہے۔

انھوں نے اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اتنی کم عمری میں اپنا پرفیوم لانچ کرنا کسی بھی لڑکی کا خواب ہوگا اور جب ایسا ہوا تو انہیں یہی نام اچھا لگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر برانڈز کے بھی ایسے ہی نام ہیں۔

کرنجیت سنی لیون کا اصل نام

سکھوں کی مذہبی تنظیم ایس جی پی سی نے سنی لیونی کی زندگی پر بننے والی ویب سیریز کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ لفظ ’کور‘ سکھ برادری کی شناخت ہے جبکہ سنی لیونی نے پورن انڈسٹری میں کام کیا ہے۔

جب یہی بات میں نے سنی کے سامنے رکھی تو انھوں نے کہا کہ یہی نام ان کے پاسپورٹ پر ہے اور یہ ان کے والدین نے انہیں دیا۔ چونکہ وہ اب نہیں رہے اور اس کی وجہ بھی نہیں بتا سکتے۔

سنی کا کہنا تھا ’بہرحال کرنجیت کور میرا اصل نام ہے اور سنی لیون میں اپنے کام کے لیے استعمال کرتی ہوں۔‘

سنی پورن انڈسٹری میں کام کرنے کے حوالے سے کبھی شرمندہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی پسند تھی۔

انڈیا میں نجی طور پر پورن دیکھنے کی کوئی پابندی نہیں۔ تاہم یہاں پورن بنانا اور اس قسم کا مواد پھیلانا غیر قانونی ہے۔

دنیا میں پورن شیئرنگ کی سب سے بڑی ویب سائٹ پورن ہب کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے بعد انڈیا دنیا میں پورن دیکھنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔

تو کیا انڈیا میں پورن انڈسٹری کو قانونی شکل دینی چاہیے؟

سنی لیونی نے بلا جھجھک اس کا جوب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ میں نہیں کر سکتی، یہ حکومت اور انڈیا کے عوام طے کریں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

لیکن کیا ایسی صنعت سیکس پر بات کرنے اور اس کے بارے میں عام انداز بات کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ امریکہ میں ان کا کیسا تجربہ تھا؟

سنی کا جواب تھا کہ ان کی رائے کسی پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔ معاشرے کے خیالات خاندانوں میں بنتے ہیں اور ہر لڑکی کے خیالات اس کی والدین کی پرورش سے بنتے ہیں۔

سنی کے والدین ان کے پورن انڈسٹری میں شمولیت کے مخالف تھے۔ لیکن ان کے خیال میں ان کے والدین نے ان کی پرورش ایک آزاد عورت کے طور پر کی اور اسی لیے وہ ان کی عزت کرتی ہیں اور اسی کی وجہ سے وہ اپنے فیصلے کرنے کے قابل ہو سکیں۔

اب سنی خود بھی ایک ماں ہیں۔ انھوں نے ایک بیٹی گود لی ہے جبکہ سروگیسی سے دو بیٹے پیدا کیے۔

میں نے پوچھا کیا آپ انہیں بھی خودمختاری سے فیصلے کرنے کی آزادی دیں گی؟

سنی کا کہنا تھا ’یقیناً، میں چاہوں گی کے وہ اپنا معیار بلند کریں، مریخ پر جائیں لیکن ان کا سفر اور ان کا فیصلہ ان کا اپنا ہونا چاہیے۔‘

میرا آخری سوال شاید ذرا تکلیف دہ ہے۔ یہ تھا تو سنی لیونی کے بارے میں تھا تاہم اس کا جواب کرنجیت کور نے دینا تھا۔

کیا آپ اپنے ماضی کے بارے میں اپنے بچوں کو وضاحت دیں گی؟

سنی کو یہ اچھا تو نہیں لگا لیکن ایسا نہیں کہ انھوں نے اس بارے میں سوچا نہیں ہوگا۔

اپنی زندگی کے فیصلوں کے برے اثرات اور اس تاثر کے ساتھ جو اس فیصلے کے باعث لوگوں کے ذہنوں میں بن چکا ہو کے ساتھ جینا آسان کام نہیں۔

لیکن انھوں نے اسی ہمت سے جواب دیا کہ اس وقت یہ ان کی پریشانی نہیں ہے۔ وہ ایک لمبے عرصے سے ماں بننا چاہتی تھیں وہ اس وقت صرف ان لمحوں سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’جب وقت آئے گا تو وہ دیانت داری سے اپنے بچوں کو اپنی زندگی کے بارے میں بتائیں گی۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کے روز اپنے پہلے خطاب میں دیگر امور پر بات کرتے ہوئے ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ چاہتے کہ کرپشن کو روکنے کے لیے وہ خیبر پختونخوا میں نافذ 'وسل بلور ایکٹ' کو پورے پاکستان میں نافذ کریں۔

تاہم عمران خان کو شاید یہ علم نہ ہو کہ 2016 میں صوبائی اسمبلی سے پاس شدہ یہ قانون ابھی تک صرف کاغذات تک محدود ہے اور اس پر عمل درآمد ابھی تک نہیں ہو سکا۔

اس قانون کے لیے بل 2015 میں خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جس کو بعد میں سیلیکٹ کمیٹی بھیجا گیا تھا اور پھر ستمبر 2016 کو اس قانون کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پاس کرایا۔

اس قانون کے تحت ہر شہری کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی محکمے میں کرپشن کو دیکھ کر وسل بلور کمیشن کو اس کی نشاندہی کر سکتے ہے۔

تاہم اس قانون کی شق 3 کے میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس قانون کے تحت ایک کمیشن بنایا جائے گا جو شہریوں کی جانب سے کرپشن کے کیسز کی چانچ پڑتال کرکے اس پر کارروائی کریں گے۔

تقریبًا دو سال گزرنے کے باوجود یہ کمیشن نہیں بنا جس کی وجہ سے اس قانون کے تحت ایک کیس بھی رجسٹر نہیں کیا گیا ہے۔

شق 3 میں لکھا گیا ہے کہ اس کمیشن کے لیے تین کمشنرز کا چناؤ تین سال کے لیے کیا جائے گا جو کسی بھی شخص کی جانب سے کرپشن کے بارے میں معلومات کو دیکھیں گے۔

قانون میں لکھا گیا ہے کہ اسی کمیشن کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی محکمے میں کسی شخص کی جانب سے کرپشن کی نشاندہی کے بارے میں انکوئری کرے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے قانون تو بنایا ہے لیکن اس کو درست طریقے سے نافذ کرنے میں پیچیدگیاں ضرور موجود ہے۔

سینیر صحافی وسیم احمد شاہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وسل بلور ایکٹ کے تحت دو سال گزرے کے باجود ابھی تک کمیشن نہیں بنا ہے۔

ان کے مطابق عمران خان نے اپنی اہم اور پہلے خطاب میں اس کا حوالہ تو دے دیا ہے لیکن ان کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا کہ انہی کی حکومت کا بنایا ہوا قانون ابھی تک نافذ نہیں ہوا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ایک قانون جب اسمبلی سے پاس ہو جائے تو اس کو نافذ کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے، اس کے جواب میں وسیم نے بتایا کہ جونہی قانون اسمبلی سے پاس ہوجائے تو اسکا نوٹیفیکشن گزٹ میں کردیا جاتا ہے اور اس پر عمل شروع ہوجاتا ہے۔

'وسل بلور ایکٹ پاس تو تقریباً دو سال پہلے ہوا ہے اور اس کا نوٹیفیکشن گزشتہ سال جون میں کیا گیا لیکن پھر بھی ابھی تک اس قانون کے تحت جو کمیشن بننا تھا وہ نہیں بنا ہے۔'

'کانفلکٹ آف انٹرسٹ ایکٹ' بھی ابھی تک نافذ نہیں

اسی طرح خیبر پختونخوا حکومت نے 2016 میں ایک اور قانون 'پریوینشن اف کانفلکٹ اف انٹرسٹ ایکٹ' اسمبلی سے پاس کرایا تھا لیکن اس پر بھی ابھی تک عمل درامد شروع نہ ہوسکا۔

ایکٹ کے مطابق اس قانون کو بنانے کا مطلب یہ تھا کہ کسی سرکاری ملازم کے نجی معاملات کا سرکاری معاملات پر اثر نہ ہو۔

تاہم اسی قانون کے تحت بھی ایک کمیشن بنانا تھا اور اس کے رولز آف بزنس بننے تھے جو ابھی تک نہیں بنے اور یہی وجہ ہے کہ یہ قانون بھی صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے۔

اسی قانون پر بات کرتے ہوئے وسیم احمد شاہ نے بتایا کہ یہ قانون بھی وسل بلورایکٹ کی طرح صرف کاغذات تک محدود ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کیوں ان کے بنائے ہوئے قوانین کے نفاذ میں سالوں لگتے ہے۔

'کوئی ہے جو قوانین کے پر عمل درامد میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں کیونکہ قوانین صرف بنانے کے لیے نہیں اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔'

جیسے ہی جون میں گندم کے خوشے پک کر کٹائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو کیلاش میں رت نٹ کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ یہ 22 اگست کو اوچاؤ فیسٹیول شروع ہونے تک جاری رہتا ہے۔

تین وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر پر مشتمل ضلع چترال کا حصہ کیلاش ایک خوبصورت علاقہ ہے۔ معدومیت کے خطرے کا شکار یہ قبیلہ اپنے منفرد مذہب، رسم و رواج اور لباس کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے اور ہر سال ہزاروں سیاح اندرون اور بیرون ملک سے یہی رنگ دیکھنے کھنچے چلے آتے ہیں۔

اس وقت بمبوریت اور بریر میں جہاں جوار اور مکئی کی فصل تیاری کے مراحل میں ہے وہیں اخروٹ، ناشپاتی، سیب اور خوبانی بھی تیار ہونے کو ہیں۔

اچاؤ فیسٹیول نہ صرف ان فصلوں کی کٹائی اور پکے پھلوں کو اتارنے کے آغاز پر ہوتا ہے بلکہ یہ موسم گرما کے خاتمے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مویشیوں کی چراہ گاہوں میں ان کی دیکھ بھال کے لیے موجود کیلاشیوں کی اپنے گھروں میں واپسی کا اعلان بھی ہے۔

دیوادور جگہ ہے جہاں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ اچاؤ فیسٹیول سے پہلے چراہ گاہ سے آنے والے لوگ ساتھ لائی تازہ پنیر سے صدقہ نکالتے ہیں اور پھر وادی میں موجود گھروں میں جاتے ہیں۔

رت نٹ کا تہوار کیلاش کی تین میں سے دو بمبوریت اور رمبور کی وادی میں منایا جاتا ہے۔ تیسری وادی بریر میں 'پوں' نامی تہوار ہوتا ہے جو اکتوبر میں اس وقت منایا جاتا ہے جب اخروٹ اور انگور تیار ہو جاتے ہیں۔ اس سے پہلے اگر کوئی بھی مکین انھیں توڑے تو اسے جرمانہ دینا پڑتا ہے۔

رت نٹ بمبوریت اور رمبور میں جس جس مقام پر ہوتا ہے اسے'رت نٹ کاریکین' کہتے ہیں۔

جب اگست کی 20 تاریخ ہوتی ہے تو یہ پھر بنا کسی رات کے وقفے کے دونوں وادیوں میں 22 اگست تک جاری رہتا ہے۔

اگست22 کی صبح بمبوریت اور بریر کے مکین رمبور جاتے ہیں اور دن بارہ بجے ڈانس کا آغاز ہوتا ہے جو شام پانچ بجے تک جاری رہتا ہے۔

پھر جب رات کے آٹھ بجتے ہیں تو سب لوگ بمبوریت میں اکھٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ رت نٹ کی آخری رات کا آغاز ہے جو صبح سات بجے تک جاری رہتا ہے۔

رت نٹ میں جہاں ایک ہی وادی کے چھوٹے بڑے گاؤں کے لوگ ملتے ملاتے ہیں وہیں دیگر وادیوں سے بھی مختلف خاندان اکھٹے ہو کر روایتی رقص اور ڈھول کی دھاپ سے لطف اندو ز ہوتے ہیں۔ اس موقع پر کیلاش میں ہی بسنے والے مسلمان اور علاقے اور بیرون ملک سے آنے والے سیاح بھی رت نٹ کو دیکھ سکتے ہیں۔

لیکن یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اگر اس سے پہلے وادی میں کسی کی موت واقع ہو چکی ہو تو پھر فیسٹیول کے شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے بڑے بزرگ اس کے خاندان والوں کے پاس جاتے ہیں انھیں پھول پیش کرتے ہیں تاکہ وہ سوگ کو ختم کریں اور خوشی میں شریک ہوں۔

عورتیں بھی اپنے سر سے کوپاس کو اتار کر معمول کی ٹوپی ’ششت‘ پہن لیتی ہیں اور مرد اپنی شیو کر لیتے ہیں۔

کسی کے مرنے کے علاوہ اگر وادی میں کوئی شادی ہو رہی ہو یا کسی مذہبی مقام کی افتتاحی تقریب ہو ایسے میں سوگ میں بیٹھے خاندان کے پاس جا کر اسے خوشی میں شریک ہونے اور غم سے نکلنے کو کہا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مرنے والا اگر کیلاشی عقیدہ چھوڑ کر اسلام یا کوئی اور مذہب اپنا چکا ہو تو تب بھی اس کے کیلاشی رشتے دار اس کے جانے کا سوگ مناتے ہیں۔

رت نٹ کے دوران کیلاش کے لڑکے اور لڑکیاں اپنا جیون ساتھی بھی چنتے ہیں۔

یہ ایک موقع ہوتا ہے جب ایک لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ کبھی تو منگنی پہلا مرحلہ ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار یہی رات ان کی شادی کی رات بن جاتی ہے۔ اس کا انحصار فقط دونوں کی رضامندی پر ہوتا ہے۔ پھر لڑکا لڑکی کو لے کر اپنے گھر چلا جاتا ہے۔

اس موقع پر لڑکے کے گھر میں لڑکی کو اور موجود مہمانوں کو تازہ پنیر بھی پیش کی جاتی ہے جو کہ کیلاش کی خاص ضیافتوں میں سے ایک ہے۔

جب یہ خبر والدین کو ملتی ہے تو وہ کسی رشتہ دار کو بھجواتے ہیں۔ سب سے پہلے لڑکی سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی اگر لڑکی کا جواب ہاں میں ہو تو والدین کوئی باز پرس نہیں کرتے اور ان کی خوشی کو قبول کر لیتے ہیں۔ اور یہی ان کی شادی بھی ہوتی ہے جس میں لکھت پڑت اور مذہبی رہنما کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔

آج بادشاہ کی سالگرہ ہے اورمغل روایات کے مطابق انھیں تولا جانا ہے۔ اس موقعے پر برطانوی سفیر سر ٹامس رو بھی دربار میں موجود ہیں۔

تقریب پانی میں گھرے ایک چوکور چبوترے پر منعقد کی جا رہی ہے۔ چبوترے کے بیچوں بیچ ایک دیوہیکل طلائی ورق منڈھی ترازو نصب ہے۔ ایک پلڑے میں کئی ریشمی تھیلے رکھے ہوئے ہیں، دوسرے میں خود چوتھے مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر احتیاط سے سوار ہوئے۔

بھاری لبادوں، تاج اور زر و جواہر سمیت شہنشاہ جہانگیر کا وزن تقریباً ڈھائی سو پاؤنڈ نکلا۔ ایک پلڑے میں ظلِ الٰہی متمکن رہے، دوسرے میں رکھے ریشمی تھیلے باری باری تبدیل کیے جاتے رہے۔ پہلے مغل بادشاہ کو چاندی کے سکوں سے تولا گیا، جو فوراً ہی غریبوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ اس کے بعد سونے کی باری آئی، پھر جواہرات، بعد میں ریشم، اور آخر میں دوسری بیش قیمت اجناس سے بادشاہ سلامت کے وزن کا تقابل کیا گیا۔

یہ وہ منظر ہے جو آج سے تقریباً ٹھیک چار سو سال قبل مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے دربار میں انگریز سفیر سر ٹامس رو نے دیکھا اور اپنی ڈائری میں قلم بند کر لیا۔ تاہم دولت کے اس خیرہ کن مظاہرے نے سر ٹامس کو شک میں ڈال دیا کہ کیا بند تھیلے واقعی ہیرے جواہرات یا سونے سے بھرے ہوئے ہیں، کہیں ان میں پتھر تو نہیں؟

سوال یہ ہے کہ ایک دور دراز کے چھوٹے سے جزیرے پر مشتمل ملک کا سفیر اس وقت ہندوستان میں کیا کر رہا تھا؟

انگلستان کے ساتھ معاہدہ ’شان کے خلاف‘

دراصل سر ٹامس ایک خاص مشن پر ہندوستان آئے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح جہانگیر سے ایک معاہدے پر دستخط کروا لیں جس کے تحت ایک چھوٹی سی برطانوی کمپنی کو ہندوستان میں تجارتی حقوق حاصل ہو جائیں۔

لیکن جیسا کہ سر ٹامس کی طویل ڈائری سے پتہ چلتا ہے، یہ کام اتنا آسان نہیں ثابت ہوا اور اس سلسلے میں محنتی انگریز سفیر کو سخت پاپڑ بیلنا پڑے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مغل شہنشاہ پوری دنیا میں صرف ایران کے صفوی بادشاہ اور عثمانی خلیفہ کو اپنا مدِ مقابل سمجھتےتھے۔ ان کی نظر میں انگلستان ایک چھوٹا سا بےوقعت جزیرہ تھا، اس کے کسی معمولی بادشاہ کے ساتھ برابری کی سطح پر معاہدہ کرنا ان کی شان کے خلاف تھا۔

تاہم سر ٹامس نے ہمت نہیں ہاری، اور وہ تین سال کی ان تھک محنت، سفارتی داؤ پیچ اور تحفے تحائف دے کر جہانگیر سے تو نہیں، البتہ ولی عہد شاہجہان سے آج سے ٹھیک چار سو برس قبل اگست 1618 میں ایک معاہدے پر دستخط کروانے میں کامیاب ہو گئے جس کے تحت اس کمپنی کو سورت میں کھل کر کاروبار کرنے کا اجازت مل گئی۔

اس کمپنی کا نام ایسٹ انڈیا کمپنی تھا اور یہ واقعہ اس کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مغل حکومت نے براہِ راست ایک یورپی ملک کے ساتھ باقاعدہ تجارتی معاہدہ کر کے اس کی ایک کمپنی کو مراعات دی تھیں اور یوں اسے ہندوستان میں قدم جمانے کا پروانہ مل گیا تھا۔

یہ کچھ ایسا ہی واقعہ تھا جیسے مشہور کہانی کے اونٹ کو بدّو نے اپنے خیمے میں سر داخل کرنے کی اجازت دے دی تھی!

سر ٹامس رو کو جہانگیر کے ساتھ دوسرے پلڑے میں تلنے والی دولت پر یقین کرنے میں حیرت ہوئی تھی، لیکن ان کے طے کردہ معاہدے کے نتیجے میں برطانیہ اگلے ساڑھے تین سو برسوں میں ہندوستان سے جو دولت سمیٹ کر لے گیا، اس کے بارے میں ماہرینِ معاشیات نے کچھ تخمینے لگانے کی کوشش ضرور کی ہے۔

اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج کے ہندوستان پر اقتدار کے دوسرے اثرات کیا مرتب ہوئے جو محض دولت لٹنے سے کہیں زیادہ بھیانک تھے۔

تاریخ کی چوتھی بدترین سفاکی

امریکی تاریخ دان میتھیو وائٹ نے 'دا گریٹ بُک آف ہاریبل تھنگز' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے تاریخ کی ایک سو بدترین سفاکیوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کتاب میں تاریخ کی چوتھی بدترین سفاکی برطانوی دور میں ہندوستان میں آنے والے قحط ہیں جن میں وائٹ کے مطابق دو کروڑ 66 لاکھ ہندوستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

اس تعداد میں وائٹ نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران بنگال میں آنے والے قحط کو شمار نہیں کیا جس میں 30 سے 50 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔

اگر اس قحط کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں برطانیہ کی براہِ راست حکومت کے دوران تین کروڑ کے قریب ہندوستانی قحط کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ہندوستان کا شمار دنیا کے سب سے زرخیز خطوں میں ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے، پھر اتنے لوگ کیوں بھوکوں مر گئے؟

وائٹ نے ان قحطوں کی وجہ 'تجارتی استحصال' (commercial exploitation) قرار دی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل کے لیے ہم صرف ایک قحط کا ذکر کرتے ہیں جو 1769 میں بنگال ہی میں آیا تھا۔

نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین نے اس قحط میں ہونے والی اموات کی تعداد ایک کروڑ بتائی ہے۔ اس دور کا ایک منظر ایک انگریز ہی کی زبانی دیکھیے:

'دسیوں لاکھ لوگ چند بقیہ ہفتوں تک زندہ رہنے کی آس لیے مر گئے جو انھیں فصل تیار ہونے تک گزارنے تھے۔ ان کی آنکھیں ان فصلوں کو تکتی رہ گئیں جنھیں اس وقت پکنا تھا جب انھیں بہت دیر ہو جاتی۔'

شاندار فصل کے اندر ڈھانچے

فصلیں تو اپنے وقت پر تیار ہوئیں لیکن اس وقت تک واقعی بہت دیر ہو چکی تھی۔ 1769 کی یہی کہانی پونے دو سو سال بعد ایک بار پھر مشرقی بنگال میں دہرائی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا اخبار کا 16 نومبر 1943 کا تراشہ:

'مشرقی بنگال میں ایک ہولناک مگر عام منظر یہ تھا کہ نصف صدی کی سب سے شاندار فصل کے دوران پڑا ہوا گلا سڑا کوئی انسانی ڈھانچہ نظر آ جاتا تھا۔'

ساحر لدھیانوی نے اس قحط پر نظم لکھی تھی، جس کے دو شعر:

پچاس لاکھ فسُردہ، گلے سڑے ڈھانچے / نظامِ زر کے خِلاف احتجاج کرتے ہیں

خموش ہونٹوں سے، دَم توڑتی نگاہوں سے / بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں

قحط تو قدرتی آفات کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا کیا قصور؟ مشہور فلسفی ول ڈیورانٹ اس بارے میں لکھتے ہیں:

'ہندوستان میں آنے والے خوفناک قحطوں کی بنیادی وجہ اس قدر بےرحمانہ استحصال، اجناس کی غیرمتوازن درآمد اور عین قحط کے دوران ظالمانہ طریقوں سے مہنگے ٹیکسوں کی وصولی تھی کہ بھوک سے ہلاک ہوتے کسان انھیں ادا نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ حکومت مرتے ہوئے لوگوں سے بھی ٹیکس وصول کرنے پر تلی رہتی تھی۔'

ایک چھوٹی سی کمپنی اتنی طاقتور کیسے ہو گئی کہ ہزاروں میل دور کسی ملک میں کروڑوں لوگ کی زندگیوں اور موت پر قادر ہو جائے؟

اس کے لیے ہمیں تاریخ کے چند مزید صفحے پلٹا ہوں گے۔

 میں1498 پرتگیزی مہم جو واسکو ڈے گاما نے افریقہ کے جنوبی کونے سے راستہ ڈھونڈ کر ہندوستان کو سمندری راستے کے ذریعے یورپ سے منسلک کر دیا تھا۔ آنے والے عشروں کے دوران دھونس، دھمکی اور دنگا فساد کے حربے استعمال کر کے پرتگیزی بحرِ ہند کی تمام تر تجارت پر قابض ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پرتگال کی قسمت کا سورج نصف آسمان پر جگمگانے لگا۔

ان کی دیکھا دیکھی ولندیزی بھی اپنے توپ بردار بحری جہاز لے کے بحرِ ہند میں آ دھمکے اور دونوں ملکوں کے درمیان جوتم پیزار ہونے لگی۔

انگلستان یہ سارا کھیل بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، بھلا وہ اس دوڑ میں کیوں پیچھے رہ جاتا؟ چنانچہ ملکہ الزبیتھ نے ان دو ملکوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دسمبر 1600 میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کروا کر اسے ایشیا کے ملکوں کے ساتھ بلاشرکتِ غیرے تجارت کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔

لیکن انگریزوں نے ایک کام کیا جو ان سے پہلے آنے والے دو یورپی ملکوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔ انھوں نے صرف جنگ آمیز تجارت پر ساری توانائیاں صرف نہیں کیں بلکہ سفارت کاری پر بھی بھرپور توجہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ٹامس رو جیسے منجھے ہوئے سفارت کار کو ہندوستان بھیجا تاکہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے بند دروازے کھول دے۔

مغلوں کی طرف سے پروانہ ملنے کے بعد انگریزوں نے ہندوستان کے مختلف ساحلی شہروں میں ایک کے بعد ایک تجارتی اڈے قائم کرنا شروع کر دیے جنھیں فیکٹریاں کہا جاتا تھا۔ ان فیکٹریوں سے انھوں نے مصالحہ جات، ریشم اور دوسری مصنوعات کی تجارت شروع کر دی جس میں انھیں زبردست فائدہ تو ہوتا رہا، لیکن جلد ہی معاملہ محض تجارت سے آگے بڑھ گیا۔

جوڑ توڑ

چونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی دوسرے یورپی ملکوں سے اکثر جنگیں چلتی رہتی تھیں اور یہ ایک دوسرے کا مال لوٹنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، اس لیے انگریزوں نے اپنی فیکٹریوں میں بڑی تعداد میں مقامی سپاہی بھرتی کرنے شروع کر دیے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ یہ فیکٹریاں پھیل کر قلعوں اور چھاؤنیوں کی شکل اختیار کرنے لگیں۔

جب کمپنی کی فوجی اور مالی حالت مضبوط ہوئی تو اس کے اہلکار مقامی ریاستوں کے آپسی لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونے لگے۔ کسی راجے کو سپاہیوں کے دستے بھجوا دیے، کسی نواب کو اپنے حریف کو زیر کرنے کے لیے توپیں دے دیں، تو کسی کو سخت ضرورت کے وقت پیسہ ادھار دے دیا۔ اس جوڑ توڑ کے ذریعے انھوں نے رفتہ رفتہ اپنے پنجے ساحلی علاقوں سے دور تک پھیلا دیے۔

مسلسل پھیلاؤ کے اس سفر میں سب سے اہم موڑ 1757 میں لڑی جانے والی جنگِ پلاسی ہے، جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک رابرٹ کلائیو کے تین ہزار سپاہیوں نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کی 50 ہزار فوج کو شکست دے دی۔

کیسے شکست دی، یہ کہانی مطالعۂ پاکستان کی کتاب میں درج ہے، بس اس کہانی کا اخلاقی نتیجہ یاد رکھیے کہ جنگ کے بعد کلائیو نے سراج الدولہ کا صدیوں کا جمع کردہ خزانہ سمندری جہازوں میں لدوا کر بالکل اسی طرح لندن پہنچا دیا جس طرح 18 سال قبل نادر شاہ دہلی کی دولت دونوں ہاتھوں سے نچوڑ کر ایران لے گیا تھا۔

لیکن کلائیو نے تمام دولت شاہی خزانے میں جمع نہیں کروائی بلکہ اپنے لیے بھی کچھ حصہ رکھ لیا، جس کی مالیت آج کل کے حساب سے تین کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اس رقم سے اس نے برطانیہ میں ایک شاندار محل بنوایا اور وسیع جاگیر خریدی جس کا نام 'پلاسی' رکھا۔ یہی نہیں، اس نے پیسہ دے کر نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے باپ کے لیے بھی پارلیمان کی نشست خرید لی۔ بعد میں اسے سر کا خطاب بھی عطا کر دیا گیا۔

’ہاتھ اتنا ہولا کیوں رکھا

لیکن اسی دوران بنگال میں آنے والے خوفناک قحط اور اس کے نتیجے میں صوبے کی ایک تہائی آبادی کے فنا ہو جانے کی خبریں انگلستان پہنچنا شروع ہو گئی تھیں جن کا سبب لارڈ کلائیو کی پالیسیوں کو قرار دیا گیا۔

لاٹ صاحب پر انگلیاں اٹھنے لگیں، چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ کرتے کرتے نوبت پارلیمان میں قرارداد پیش ہونے تک جا پہنچی۔ یہ قرارداد تو خیر منظور نہیں ہو سکی، کیوں کہ اس زمانے میں پارلیمان کے ایک چوتھائی کے لگ بھگ ارکان کے خود ایسٹ انڈیا کمپنی میں حصص تھے۔

بحث کے دوران کلائیو نے کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنی وسیع و عریض دولت کے بارے میں کہا کہ 'میں تو خود سخت حیران ہوں کہ میں نے ہاتھ اس قدر 'ہولا' کیوں رکھا!' ورنہ وہ چاہتے تو اس سے کہیں زیادہ مال و زر سمیٹ کر لا سکتے تھے۔

تاہم ہندوستان میں برپا ہونے والی قیامت کے اثرات کسی نہ کسی حد تک کلائیو کے دل و دماغ پر اثرانداز ہونے لگے اور اس نے بڑی مقدار میں افیم کھانا شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ 1774 میں اپنے کمرے میں پراسرار حالت میں مردہ پائے گئے۔

یہ معما تو آج تک حل نہیں ہو سکا کہ آیا کلائیو نے خودکشی کی تھی یا افیم کی زیادہ خوراک جان لیوا ثابت ہوئی۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان کی ہندوستان میں حکمتِ عملی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی جس راستے پر چل نکلی وہ ہندوستان کی آزادی کے لیے ضرور جان لیوا ثابت ہوئی۔

اس دوران مغل کچھ اپنی نااہلی اور کچھ بیرونی حملوں اور مرہٹوں کی چیرہ دستیوں کے باعث اس قدر کمزور ہو چکے تھے کہ وہ دور ہی دور سے انگریزوں کے رسوخ کو دن دگنا، رات چوگنا بڑھتے دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔ چنانچہ جنگِ پلاسی کے صرف نصف صدی بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی سپاہ کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی اور انھوں نے بنگال سے نکل کر ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔

مغل شہنشاہ کمپنی کا وظیفہ خوار

نوبت یہاں تک پہنچی کہ 1803 کے آتے آتے دہلی کے تخت پر بیٹھا مغل شہنشاہ شاہ عالم ایسٹ انڈیا کمپنی کا وظیفہ خوار بن کر رہ گیا۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی شاہ عالم کے پرکھ جہانگیر کے آگے انگریز سفیر ٹامس رو گھنٹوں کے بل جھکتا تھا، اب یہ حالت تھی کہ اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک کو جھک کر پورے بنگال کا اختیارنامہ پیش کرنا پڑا۔

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ یہ سارا کام برطانوی حکومت نے نہیں، بلکہ ایک کمپنی نے کیا جس کا صرف ایک اصول تھا، ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کر کے اپنے حصہ داروں کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا۔ یہ کمپنی لندن کے ایک علاقے میں ایک چھوٹی سی عمارت سے کام کرتی تھی اور قیام کے ایک صدی بعد تک بھی اس کے مستقل ملازمین کی تعداد صرف 35 تھی۔

لیکن اس کے باوجود دنیا کی تاریخ میں کوئی کمپنی ایسی نہیں گزری جس کے پاس اس قدر طاقت ہو۔

اگر آپ کو شکایت ہے کہ آج کی ملٹی نیشنل کمپنیاں بہت طاقتور ہو گئی ہیں اور وہ ملکوں کی پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں، تو اب ذرا تصور کیجیے کہ گوگل، فیس بک، ایپل، مائیکروسافٹ اور سام سنگ مل کر ایک کمپنی بن جائیں جس کے پاس اپنی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فوج ہو اور جو ملک ان کی مصنوعات خریدنے سے انکار کرے، یہ کمپنی اس پر چڑھ دوڑے۔

افیم کیوں نہیں خریدتے؟

ایسٹ انڈیا کمپنی نے بالکل یہی کام چین کے ساتھ کیا۔ اوپر ہم نے لارڈ کلائیو کی افیم کے ہاتھوں موت کا ذکر کیا تھا۔ یہ افیم ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں اگاتی تھی لیکن ساری کی ساری اس کے عہدے دار نہیں کھا جاتے تھے بلکہ اس کا بڑا حصہ چین لے جا کر مہنگے داموں بیچا جاتا تھا۔ جب چینیوں کو احساس ہوا کہ یہ تو ہمارے ساتھ گھپلا ہو رہا ہے، تو انھوں نے مزید افیم خریدنے سے معذرت کر لی۔

کمپنی اپنے منافعے میں کمی کیسے برداشت کرتی۔ اس نے 1839 میں چند توپ بردار جہاز چین بھیج کر چین کا دقیانوسی بحری بیڑا تہس نہس کر دیا۔ چینی شہنشاہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف افیم کی درآمد پر پابندی اٹھا دی بلکہ بطور جرمانہ ہانگ کانگ بھی برطانیہ کو ہبہ کر کے دے دیا جو 1997 میں کہیں جا کر واپس چین کو ملا۔

اس دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور ایک کے بعد ایک ریاست، ایک ایک بعد ایک راجواڑہ ان کی جھولی میں گرتا رہا۔ 1818 انھوں نے مرہٹوں کو سلطنت ہتھیائی، اس کے بعد اگلے چند عشروں میں سکھوں کو شکست دے کر تمام مغربی ہندوستان یعنی آج کے پاکستان پر بھی قابض ہو گئی۔ اب درۂ خیبر سے لے کر برما اور ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے لے کر راس کماری تک ان کا راج تھا۔

اب اونٹ نے خیمے میں گھس کو بدو کو مکمل طور پر بےدخل کر دیا تھا۔

تاجِ برطانیہ کا سب سے درخشاں ہیرا

معاملات یوں ہی چلتے رہے، لیکن پھر بدقسمتی نے گھیرے ڈال دیے۔ 1857 میں کمپنی کے اپنے ہی تنخواہ دار سپاہیوں نے بغاوت کر دی جس کے دوران بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوا۔ اس زمانے میں اخبار عام ہو گئے تھے۔ اس ساری گڑبڑ کی خبریں انگلستان تک پہنچیں۔

ہوتے ہوتے کمپنی کا تاثر برطانیہ میں اتنا خراب ہو گیا کہ بالآخر پارلیمان کو عوامی دباؤ کے زیرِ اثر کمپنی کو قومیانے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ہندوستان براہِ راست برطانوی حکومت کی عملداری میں آ کر ملکہ وکٹوریہ کے 'تاج کا سب سے درخشاں ہیرا' بن گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی پھر بھی چند سال گھسٹ گھسٹ کر زندگی گزارتی رہی، لیکن کب تک۔ آخر یکم جون 1874 کو پونے تین سو سال کی طویل شان و شوکت کے بعد یہ کمپنی تحلیل ہو گئی۔

کمپنی کی وفاتِ حسرت آیات پر اس زمانے میں ٹائمز اخبار نے جو نوٹ لکھا تھا وہ کمپنی کی تاریخ کی عمدہ ترجمانی کرتا ہے:

'اس (کمپنی) نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے وہ بنی نوعِ انسان کی تاریخ میں کسی اور تجارتی کمپنی کے حصے میں نہیں آ سکے۔ نہ ہی آئندہ آنے والے برسوں میں امکان ہے کہ کوئی اور کمپنی اس کی کوشش بھی کر پائے گی۔'

نہ کوئی جنازہ نہ کوئی مزار

ٹائمز کا قصیدہ اپنی جگہ، لیکن لگتا یہی ہے کہ شاید انگریزوں کو اپنی اس کمپنی کے 'کارہائے نمایاں' پر کچھ زیادہ فخر نہیں ہے۔ کیوں کہ آج لندن میں لیڈن ہال سٹریٹ پر جس جگہ کمپنی کا ہیڈکوارٹر تھا، وہاں ایک بینک کی چمچماتی عمارت کھڑی ہے، اور کہیں کوئی یادگار، کوئی مجسمہ، حتیٰ کہ کوئی تختی تک نصب نہیں ہے۔ نہ کوئی جنازہ اٹھا، نہ کہیں مزار بنا۔

کمپنی کی کوئی جسمانی یادگار ہو نہ ہو، اس نے جو کام کیے ان کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

شاید یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہو کہ اس کمپنی کے غلبے سے پہلے اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ہندوستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتا تھا۔ جب کہ اسی دوران انگلستان کا حصہ صرف دو فیصد تھا۔

ہندوستان کی زمین زرخیز اور ہر طرح کے وسائل سے مالامال تھی، اور لوگ محنتی اور ہنرمند تھے۔ یہاں پیدا ہونے والے سوتی کپڑے اور ململ کی مانگ دنیا بھر میں تھی، جب کہ جہاز رانی اور سٹیل کی صنعت میں بھی ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

یہ ساری صورتِ حال جنگِ پلاسی کے بعد بدل گئی اور جب 1947 میں انگریز یہاں سے گئے تو سکندر کے برعکس ان کی جھولی بھری ہوئی اور ہندوستان کے ہاتھ خالی تھے۔

’دنیا کا غریب ترین ملک‘

انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم اور ماہرِ اقتصادیات من موہن سنگھ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:

'اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطنتِ برطانیہ کے خلاف ہماری شکایات کی ٹھوس بنیاد موجود ہے۔۔۔ 1700 میں انڈیا تنِ تنہا دنیا کی 22.6 فی صد دولت پیدا کرتا تھا، جو تمام یورپ کے مجموعی حصے کے تقریباً برابر تھی۔ لیکن یہی حصہ 1952 میں گر کر صرف 3.8 فیصد رہ گیا۔ 20ویں صدی کے آغاز پر 'تاجِ برطانیہ کا سب سے درخشاں ہیرا' درحقیقت فی کس آمدنی کے حساب سے دنیا کا غریب ترین ملک بن گیا تھا۔'

اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ انگریزوں کے دو سو سالہ استحصال نے ہندوستان کو کتنا نقصان پہنچایا۔

اس سلسلے میں مختلف لوگوں نے مختلف اندازے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے زیادہ قرینِ قیاس ماہرِ معاشیات اور صحافی منہاز مرچنٹ کی تحقیق ہے۔ ان کے مطابق 1757 سے لے کر 1947 تک انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کو پہنچنے والے مالی دھچکے کی کل رقم 2015 کے زرمبادلہ کے حساب سے 30 کھرب ڈالر بنتی ہے۔

ذرا ایک منٹ رک کر اس رقم کا احاطہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے پر نادر شاہ بےچارے کو دہلی سے صرف 143 ارب ڈالر لوٹنے ہی پر اکتفا کرنا پڑی تھی۔

چار سو سال پہلے جہانگیر کے دربار میں انگریز سفیر کو شک گزرا تھا کہ آیا واقعی ہندوستان اتنا امیر ہے کہ اس کے شہنشاہ کو سونے چاندی اور ہیرے جواہرات میں تولا جا سکتا ہے، اور کہیں دوسرے پلڑے میں درباریوں نے ریشم کی تھیلیوں میں پتھر تو نہیں ڈال دیے؟

اگر کسی طرح سر ٹامس رو کو واپس لا کر انھیں یہ اعداد و شمار دکھا دیے جائیں تو شاید ان کی بدگمانی ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے۔

اوپری حصے میں شیو دیوتا کی مورت موجود ہے، جبکہ نچلے حصے میں بچے زیر تعلیم ہیں اور انہیں پڑھانے والی ٹیچر نے سکارف باندھ رکھا ہے، جس سے دور سے ہی شناخت ہو جاتی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔

کراچی کی ایک کچی آبادی میں واقع باگڑی کمیونٹی کے مندر میں یہ غیر رسمی سکول قائم کیا گیا ہے، جس میں سو سے زائد ایسے بچے زیر تعلیم ہیں جو بھیک مانگتے تھے یا سڑکوں پر مختلف اشیا فروخت کرتے تھے۔

ٹیچر انعم آغا کہتی ہیں کہ یہ بچے ہم سے زیادہ پریکٹیکل ہوتے ہیں کیونکہ یہ سڑکوں پر نکلتے ہیں ان کا پلنا بڑھنا سڑک پر ہی ہوتا ہے، بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو ان کو آتی ہیں جیسے حساب کتاب انہیں زبانی آتا ہے تاہم لکھ پڑھ نہیں سکتے ہیں۔

باگڑی کمیونٹی کو واگھری بھی کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کمیونٹی انڈین راجستھان اور گجرات ریاست کے مخلتف علاقوں میں موجود تھے۔ سنہ 1817 میں برطانوی حکومت نے انہیں جرائم پیشہ قبائل کی فہرست میں شامل کر لیا تھا، جو تجارت کی آڑ میں جرائم کرتے تھے، جس کے بعد وہ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے رہے۔

انعم آغا کا کہنا ہے کہ ہر خاندان میں سات سے دس بچے ہیں اور ہر بچہ روزانہ 500 سے 800 روپے کما کر لاتا ہے، اس لیے ان کے والدین کبھی نہیں چاہیں گے کہ آمدنی کے وقت بچے کو سکول بھیجیں، یہ سب سے زیادہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور انہیں بچوں سے زیادہ ان کے والدین کی سوچ پر کام کرنا پڑتا ہے۔

اس غیر رسمی سکول میں بچوں کو ابتدائی نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کے بعد انہیں مقامی سرکاری سکول بھیج دیا جاتا ہے۔

انعم آغا کہتی ہیں کہ جب سکول میں داخل کرانے جاتے ہیں تو وہاں کے ٹیچرز ان بچوں کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ان کی صورتحال ایسی نہیں ہوتی، ایک بچہ جس کے پیر میں چپل اور صاف ستھرا بھی نہیں ہے، اس کے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہوتا کہ وہ فوری طور پر دیگر بچوں کی طرح کاپی لے کر آئے۔

’سڑک پر رہنے کی وجہ سے ان کی زبان کافی خراب ہو چکی ہوتی ہے، یہ تو کر کے بات کرتے ہیں، ٹیچر کو یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ باقی بچوں پر بھی اس کا خراب اثر ہو اور وہ بھی بگڑ جائیں۔ پھر ہم ٹیچر کو سمجھاتے ہیں کہ آپ جب اس بچے کو علم نہیں دیں گے اور یہ بچہ سکول نہیں آئے گا تو یہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر پائیں گے۔‘

اس سکول میں 110 سے زائد بچے رجسٹرڈ تھے جن میں 90 سے زائد بچوں کا سکول میں داخلہ کرایا گیا ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ اس بستی میں دوپہر کو جو بچے صاف ستھرے لباس میں سکول سے واپس آئے ان میں اکثریت لڑکیوں کی تھیں۔

انعم آغا کے مطابق ایسے 60 سے زائد بچے ہیں جو روزانہ سکول جا رہے ہیں اور وہ بچے جنہیں لکھنا نہیں آتا تھا اور نہ ہی پڑھنا انھوں نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا اور سکول میں پوزیشن بھی لے کر آئے ہیں۔

ہر ہفتے کے پانچ روز صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک اس مندر میں کلاسیں ہوتی ہیں جبکہ شام کو معمول کے مطابق باگڑی کمیونٹی اپنی پوجا کرتی ہے۔

پوری بستی لکڑیوں پر کپڑے کی چادریں اور پلاسٹک کی شیٹس ڈال کر بنائی گئی ہے صرف مندر کا نصف حصہ پکا بنا ہوا ہے۔

انعم آغا نے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کیا ہے۔ وہ نعت خواں بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مذہب اسلام تعلیم کے معاملہ میں کسی کی بھی ممانعت نہیں کرتا ہے کیونکہ’تعلیم انسان کے لیے ہے مسلمان کے لیے نہیں۔‘

انیشیئٹر ہیومن ڈولپمنٹ آرگنائزیشن اس نان فارمل سکول کی دیکھ بال کرتی ہے۔ انعم آغا سمیت پوری ٹیم اس کمیونٹی کے ساتھ ہولی اور دیوالی سمیت دیگر تہوار بھی مناتی ہے۔

انعم آغا کے مطابق بعض اوقات تو میری فیملی نے بھی اسے قبول نہیں کیا اور دوستوں نے بھی کہا کہ ’یہ چیز صحیح نہیں ہے کہ تم ان ہندو بچوں کو پڑھا رہی ہو، تمہیں اس کے بجائے مسلمان بچوں پر کام کرنا چاہیے۔‘

’میں نے انہیں سمجھایا کہ جب تک ہم خود کو تبدیل نہیں کریں گے معاشرہ تبدیل نہیں ہو گا۔ ہم ان مشکلات کا روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرتے رہتے ہیں۔‘

باگڑی کمیونٹی جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ، شکارپور، حیدرآباد اور ٹھٹہ سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جہاں وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور تربوز اگانے میں انہیں ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی گھرانے اب کراچی منتقل ہو چکے ہیں جہاں خواتین، مرد اور بچے مچھلی اور سبزی فروخت کرنے کے علاوہ چوراہوں پر پھول بیچنے اور گاڑیوں پر وائپر لگانے کا کام کرتے ہیں۔

باگڑی کمیونٹی کی یہ کچی بستی جمشید ٹاؤن کی رحمان کالونی میں واقع ہے، کمیونیٹی کے مکھیا روپ چند کہتے ہیں کہ کراچی آنے سے پہلے ننگے پیر رہتے تھے تن پر صرف دھوتی ہوتی تھی، کچے کے علاقے میں تربوز کی کاشت کرتے اور مونگ پھلی بیچتے لیکن اس کے باوجود زمیندار کا قرضہ چڑھ گیا۔

وہاں سے کراچی آ گئے اور یہاں آنے جانے لگے بعد میں یہاں کہ ہی ہو کر رہے گئے، جنگل کے لوگ ہیں تعلیم کی اہمیت سمجھنے میں وقت لگا اب جب سمجھیں ہیں تو بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔‘

یہ بستی دو بار آتشزدگی کا نشانہ بن چکی ہے، جب ایک مخیر شخص کی معاونت سے اس مندر کو پکا بنانے کی کوشش کی گئی تو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور انہیں مزید کام کرنے سے روک دیا۔ اس احتجاج کی قیادت قریب میں واقع مدرسے کے مہتم کر رہے تھے۔

باگڑی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کا بدلہ لیں گے مندر بننے نہیں دیں گے۔ تاہم انہیں خوشی ہے کہ انعم آغا جیسے ان کے خیر خواہ بھی ہیں۔

وہ دونوں یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ لاٹوک ون پر ایسا موسم نہیں ہے کہ اُسے سر کیا جا سکے لہٰذا وہ نیچے اُتر رہے تھے۔ اُنھیں ہیلی کاپٹر نظر بھی آیا جو اُن ہی کی مدد کو آیا تھا لیکن اُنھوں نے خود نیچے اُترنا مناسب سمجھا۔ اُنھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اِس فیصلے کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

روسی کوہ پیما سرگئے گوزونوف آج زندہ ہوتے اور اپنے ساتھی الیگزینڈر گوکوف کے ساتھ ماسکو میں ہوتے۔ لیکن یہ سب اُس وقت ہوتا جب وہ پہاڑی چوٹی لاٹوک ون پر لڑکھڑا کر گرنے سے صرف دو گھنٹے پہلے پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے کا فیصلہ کر لیتے۔ کیونکہ اگلے دو گھنٹوں کے دوران وہ ہونے والا تھا جس کا تصور ہی ہولناک تھا۔

ساتھ نکلے تھے لیکن الگ الگ راستوں پر

یہ سب باتیں بتانے والے ایک اور کوہ پیما وکٹر کوبول ہیں جو لاٹوک ون سر کرنے کی مہم پر تو نکلے تھے لیکن ان کا راستہ قدرے مختلف تھا اور وہ خود بھی کچھ زیادہ محتاط تھے۔

'ہم دونوں بیس کیمپ سے ساتھ نکلے تھے لیکن الگ الگ راستوں پر۔ ہم نے آٹھ دن کوہ پیمائی کی لیکن پھر ہمیں احساس ہوا کہ یہ موسم اِس کام کے لیے بہت خطرناک ہے۔ وہاں ہر پانچ منٹ پر بہت سارے ایوالانچ آ رہے تھے اور پتھر گر رہے تھے۔ پھر ہم نے واپس جانے کا فیصلہ کیا اور ہم واپس بیس کیمپ آگئے۔'

جبکہ الیگزینڈر اور اُن کے 26 سالہ ساتھی سرگے نیچے اپنے ساتھیوں کے خدشات سے بے خبر تھے اور اُنھیں منزل صرف سو ڈیڑھ سو میٹر دور نظر آ رہی تھی۔ وہ لاٹوک ون سر کرنے والے تھے۔ پھر موسم خراب ہونا شروع ہوگیا اور اُنھوں نے بھی نیچے جانا مناسب سمجھا۔

چار کوہ پیماؤں میں سے دو تو بیس کیمپ واپس پہنچ گئے لیکن دو ابھی لاٹوک ون پر ہی تھے۔ دو دن کے انتظار کے باوجود اُن کی کوئی خیر خبر نہ ملی تو وکٹر کوبول نے روس پیغام بھیجا کہ اُن کے ساتھی کو بچایا جائے۔

سفارتکاروں کا رابطہ اور پاکستانی فوج کو ریسکیو آپریشن

پاکستان اور روس کے سفارتخانوں کا آپس میں رابطہ ہوا اور پاکستانی فوج کو ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا کہا گیا۔

ہیلی کاپٹر آیا جسے تجربہ کار پائلٹس اُڑا رہے تھے۔ وکٹر نے آکسیجن اور خوراک کا ایک بیگ تیارکیا ہوا تھا کہ شاید اُن کے ساتھیوں کو ضرورت ہو۔

وکٹر نے بتایا کہ 'ہم نے پہاڑوں میں اپنے ساتھیوں کی تلاش میں ساڑھے چھ ہزار میٹرز کی بلندی پر پرواز کی اور کوہ پیماؤں الیگزینڈر اور سرگے کو دیکھا جو نیچے اتر رہے تھے لیکن بہت آہستہ۔ میں نے اُن کے لیے تیار کیا ہوا بیگ پھینک دیا۔ اُنھوں نے ہمیں اشارہ کیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لہذا ہم واپس بیس کیمپ چلے گئے۔'

جس موسم کے آگے وکٹر اور اُن کے ساتھی نے کافی پہلے ہار مان لی تھی اُس موسم کے آگے الیگزینڈر اور سرگئے ہار ماننے کو تیار نہیں تھے اور اُنھوں نے ہیلی کاپٹر کے بجائے خود اُترنے کو ترجیح دی۔ لیکن اُنھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اگلے دو گھنٹے اُن کی زندگیوں میں کتنی تکلیفیں لانے والے ہیں۔

لیکن دو گھنٹے بعد اُنھیں پیغام ملا

وکٹر ساتھیوں کو لاٹوک ون سے نیچے اترتے دیکھ کر واپس ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ پہنچ گئے۔

'مجھے الیگزینڈر کا پیغام ملا کہ سرگے گوزو نوف گر گیا ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ مر گیا ہے۔ اور الیگزینڈر وہیں موجود رہا جس کے پاس نیچے اترنے کا کوئی اوزار نہیں تھا۔'

الیگزینڈر کہتے ہیں کہ وہ جب 6200 میٹرز کی بلندی پر پہنچے تو اُنھیں محسوس ہوا کہ اُن کا ساتھی سرگئے اُن کے ساتھ نہیں ہے۔ 'میں نے چیخ چیخ کر اسے آواز دی لیکن اُس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ میں مذید نیچے کی جانب اُترا تو رسی کے آخر میں بھی وہ مجھے نہیں ملا شاید وہ اپنے وزن کی وجہ سے نیچے گر گیا تھا۔'

سات دن تک برفانی تودے، برفانی تودے اور برفانی تودے‘

اب صورتحال یہ تھی کہ وکٹر بیس کیمپ میں تھے۔ اُن کے ساتھی چھ ہزار میٹرز سے ذیادہ بلندی پر لاٹوک ون پر کہیں پھنسے ہوئے تھے۔ وکٹر اُن تک پہنچ نہیں سکتے تھے کیونکہ اِس کام میں آٹھ دن لگ جاتے اور اِس بات کا بھی خدشہ تھا کہ بچانے والا خود بھی موسم کی خرابی کی نذر نہ ہوجائے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہو رہا تھا۔ پھر چھ دن موسم اتنا خراب رہا کہ ہیلی کاپٹر ریسکیو نہیں کر سکا۔ اب لاٹوک ون پر الیگزینڈر کو خود ہی اپنی جان بچانے کے لیے کچھ کرنا تھا۔

الیگزینڈر کی زندگی اور موت کے درمیان بس آکسیجن کا سلینڈر اور خوراک کی معمولی مقدار حائل تھی جسے اُن کو نجانے کتنے دن چلانا تھا۔ اُنھوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنے گرد برف کی ایک دیوار بنائی تاکہ اُن پر موسم کا اثر کم سے کم ہو اور جسم کی حرارت برقرار رہے۔ پانچ دن ایسے ہی گزرے جو شاید الیگزینڈر کےلیے صدیوں سے طویل ہوں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موت قریب دکھائی دینے لگی ہو۔ لیکن وہاں 6200 میٹرز کی بلندی پر تو سما ہی کچھ اور تھا۔

الیگزینڈر کو تو خواب آ رہے تھے کہ وہ باکل ٹھیک ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔

الیگزینڈر کہتے ہیں 'ایسا موسم میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ سات دن تک برفانی تودے، برفانی تودے اور برفانی تودے۔'

نیچے بیس کیمپ میں وکٹر کی جان پر بنی تھی۔ اُنھیں نہیں معلوم تھا کہ اُن کا ساتھی اب بھی زندہ ہوگا یا موسم کے آگے ہار گیا ہوگا۔

میٹرز6200 کی بلندی پر ریسکیو آپریشن نہیں کیا جا سکتا اور یہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنے کی بلندی نہیں تھی۔ مستقل برفباری ہو رہی تھی اور بادل چھائے ہوئے تھے۔

وکٹر نے بتایا 'ایسا پانچ دن ہوتا رہا اور میں ہر دن اور رات موسم کی صورتحال دیکھتا تھا اور ہر گھنٹے میں پہاڑوں کو دیکھتا تھا کہ کیا ہم ہیلی کاپٹروں میں وہاں جا سکتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ پہاڑ بادلوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔'

اِس دوران پائلٹس نے کئی بار نچلی فلائٹ کی تاکہ سرگئی کی لاش تلاش کی جا سکے لیکن وہ بھی نہیں مل سکی۔

ہیلی کاپٹرز کے دروازے اتار دیے

ساتویں دن حیرت انگیز طور پر موسم اچھا ہوگیا۔ ہیلی کاپڑوں کے پائلٹس کو پیغام بھیجا گیا وہ ایک گھنٹے میں پہنچ گئے۔ ہیلی کاپٹرز کے دروازے اتار دیے کیونکہ وہ بہت بھاری تھے۔ آئل اور دیگر وزنی اشیا وہیں اتار دیں۔ اور ایک لمبی رسی ہیلی کاپٹر سے باندھ دی گئی کیونکہ سطح ہموار نہیں تھی اور ہیلی کاپٹر کا لینڈ کرنا دشوار تھا۔

وکٹر ریسکیو پائلٹس کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔

'ہیلی کاپٹر اُس بلندی پر پہنچا اور ایلیگزینڈر کو تلاش کر لیا۔ وہ بہت تھک چکا تھا اور نڈھال تھا۔ لیکن اُس نے اپنی زندگی بچانے کی آخری کوشش کرتے ہوئے رسی اپنے گرد باندھ لی۔ دو سے تین منٹ کے اندر وہ ہیلی کاپٹر میں تھا اور خطرے سے باہر تھا۔ میں نے اُسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اور اُس کے بعد ہم سکردو کے ملٹری ہسپتال کے لیے نکل گئے۔'

ابتدائی ایک گھنٹے الیگزینڈر گنگ رہے اُنھیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جو خواب اُنھوں نے دیکھا تھا اب وہ شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا تھا۔

الیگزینڈر کو پہلے سکردو اور بعد میں سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچایا گیا۔

شکریہ میرے دوست کو بچایا‘

اُنھوں نے لاٹوک ون پر اپنا ساتھی کھویا اور شاید اُسے سر کرنے کی ہمت بھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ اب کبھی ایسا نہیں سوچیں گے۔ لگتا ہے الیگزینڈر کو اب زندگی سے پیار ہوگیا ہے۔ اُس کی وجہ اُن کا شادی کا ارداہ ہے۔

'میں اپنی گرل فرینڈ سے محبت کرتا ہوں۔ ہمارے دو بچے ہیں، ہم ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم نے اب تک شادی نہیں کی البتہ میں سوچ رہا تھا کہ اب میں واپس جاؤں گا تو اب میں اُس سے ضرور شادی کرلوں گا۔'

اب الیگزینڈر گوکوف ماسکو کے ہسپتال میں ہیں اور سب ٹھیک ہے۔ اور یہ کہانی سنانے والے وکٹر کوبولٹ سینٹ پیٹرزبرگ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ہیں۔ وہ پاکستانی فوج کے تجربہ کار پائلیٹس سے کہنا چاہتے ہیں کہ یہ سب اُن کی وجہ سے ممکن ہوا۔

'اُن کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ میں اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اُنھوں نے میرے دوست کو بچایا۔'

حال ہی میں پاکستان میں پہلی بار کیلاش سے تعلق رکھنے والی دو طالبات نے گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں موجود کیلاشی قبیلے کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ آریانہ اور امرینہ کا تعلق اسی قبیلے سے ہے۔ بی بی سی کی حمیرا کنول نے ان سے کیلاش کی وادی بمبوریت میں ملاقات کی۔ دونوں نے ان سے اپنی کہانی شیئر کی ہے۔

سبق بھی گا گا کر پڑھتی تھی'

میرا نام آریانہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں نے پہلی بار کب گانا گایا تھا۔ مجھے بس یہ یاد ہے کہ میں تو نجانے کیوں سکول کی کتابوں میں لکھے سبق اور ہوم ورک کو بھی گا گا کر پڑھتی تھی۔ مجھے اچھا لگتا تھا بہت مزہ آتا تھا۔ گانا اور ڈانس تو ویسے بھی کیلاش کی ثقافت اور ہمارے مذہب کا حصہ ہے۔ میری پیدائش کیلاش کی سب سے بڑی وادی بمبوریت کے گاٶں کراکال میں ہوٸی۔

ہم اپنے ارد گرد شادی، فیسٹیول اور کسی کے مرنے پر گاتے ہیں اور یوں گانا ہماری خوشی اور غم دونوں میں ہمارے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔

مجھے اردو، پشتو، کیلاشی، گلگتی اور فارسی ان سب زبانوں کے گانے سننے ہمیشہ سے پسند رہے ہیں۔ میں جب تیسری کلاس میں تھی جب ایک بار ٹیچر نے آ کر ہم سب سے پوچھا کہ کون کون ملی نغمہ گانا چاہتا ہے تو میں نے جلدی سے ہاتھ کھڑا کیا۔

یوں میں نے گانے کا شوق پورا کرنا شروع کیا۔ پھر جب چھٹی جماعت میں جاتے وقت میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں دوسرے بچوں کی طرح پڑھنے کے لیے لاہور جانا چاہتی ہوں تو ان کی اجازت مل گئی اور میں نے لاہور کے ایک نجی سکول لوسی گرلز ہائی سکول میں داخلہ لے لیا۔

’لاہور میں دل نہیں لگا

آٹھویں کلاس میں میں ایم ٹی انٹرنیشنل گرلز ہاٸی سکول میں چلی گٸی لیکن تین سال گزر جانے کے باوجود لاہور میں میرا دل نہیں لگتا تھا۔ وہاں ہم سب کیلاشی بچوں کے رہنے کے لیے ہماری ہی کمیونٹی کا ہوسٹل بھی تھا۔ لیکن وہاں مجھے کوٸی پسند نہیں کرتا تھا کوٸی دوست نہیں تھی۔ میں نے گھر واپسی کے لیے کہنا شروع کر دیا کہ مجھے یہاں رہنا ہی نہیں ہے۔ والدہ نے کہا کہ فاٸنل پیپر دے کر آؤ مگر میں نے بات نہیں مانی اور دسمبر کی چھٹیوں میں ہی ہمیشہ کے لیے گھر واپس آگٸی۔

ڈانٹ تو پڑی لیکن پھر بمبوریت کے ہاٸی سکول کے پرنسپل جاوید حیات نے مجھے کہا کہ آپ ہماری بہت اچھی بچی ہو ہر سال ہمارے سکول میں 14 اگست کو مقابلے میں حصہ لے کر ہمارے پروگرام کو پر رونق بناتی رہی ہو۔ پھر انھوں نے ہی بمبوریت کے ہائی سکول میں داخلہ لینے میں میری مدد کی۔

ہم نے پاریک سنا تو دیا لیکن پھر انتظار

پھر جب فروری کا مہینہ آیا تو ہمارے پڑوس سے آنٹی آٸیں اور امی سے کہا کہ میرے بیٹے کے کچھ دوست آئے ہوٸے ہیں۔ تم گھر آنا۔ میری بہن جو امی کے ساتھ گٸی ہوٸی تھیں جب واپس آئیں تو پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہاں کچھ لوگ آٸے ہوئے تھے اور عورتوں سے گانے سن رہے تھے۔

میں نے اپنی بہن سے کہا کہ تم نے انھیں بتانا تھا نا کہ مجھے بھی گانے کا بہت شوق ہے اور میں گانا چاہتی ہوں۔ مگر میری بہن نے انکار کر دیا۔ رات میں یہ سوچ کر سوٸی کہ کاش وہ صبح مجھے بھی بلا لیں۔

پھر جب صبح ہوٸی تو ہماری آنٹی دوبارہ آٸیں اور امی سے کہا کہ ساتھ کی وادی رمبور میں فوتگی ہو گٸی ہے۔ ایسے سوگ کے موقع پر اگر ہم گانا گانے گٸے تو اچھا نہیں لگے گا۔ ایسا کرتے ہیں بچیوں کو بھجوا دیتے ہیں۔ یہ سن کر میں بہت خوش ہوئی کیونکہ میں نے تو ویسے بھی ضرور ہی جانا تھا۔

میں جلدی سے امرینہ کے گھر گٸی اور اس سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ آؤ۔ ہم وہاں گٸے اور وہاں ہم نے اپنی زبان میں 'پاریک' گانا سنایا۔ پاریک ہمارا روایتی گانا ہے جو ممی کو بھی آتا ہے۔

وہیں ہمیں یہ پتہ چلا کہ یہ تو کوک سٹوڈیو والے لوگ ہیں۔ انھیں تو ہمارا گانا پسند آگیا اور پھر دوسرے ہی دن ہم نے وادی میں شوٹنگ بھی کی۔

یوں میرا بہت بڑا خواب پورا ہوا۔ میں جب بھی اپنی دوستوں سے کہا کرتی تھی کہ میں ایک دن سنگر بنوں گی تو سب ہنستی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہو گا ہر گانا گانے والا سنگر نہیں بن سکتا۔ مما بھی میری اس خواہش پر کبھی چپ کر جاتی تھیں اور کبھی کہتی تھیں پڑھاٸی پر توجہ دو۔ وہ تو خود بہت اچھا گاتی ہیں لیکن ہماری کیلاش کمیونٹی میں کبھی کسی نے اسے پیشے کے طور پر نہیں اپنایا۔

لاہور کے ہوسٹل میں گزرے تین سال کے دوران بھی میں یہ اکثر سوچا کرتی تھی کہ میں کیسے کسی سٹوڈیو تک پہنچوں۔ میں ادھر کام کرنے والے ایک انکل سے پوچھتی رہتی تھی کہ جہاں گانا گاتے ہیں وہ سٹوڈیو کہاں ہوتے ہیں کیسے ہوتے ہیں۔ کوک کی بوتل کے ڈھکن پر لکھا نمبر تو بہت بار میں نے بھی پڑھا تھا میں اس پر میسج بھیجا کرتی رہتی تھی لیکن کبھی نہ جواب ملا اور نہ بلایا گیا۔

میں نے سوچا کہ شاید مجھ سے ہی رابطہ کرنے میں کوئی غلطی ہو رہی ہے۔ پھر میں نے کوشش کرنا بھی چھوڑ دی۔

لیکن سب جانتے تھے کہ گانا میرا سب سے پسندیدہ کام ہے اور ایکٹر بننا میرے بھائی کا خواب ہے۔ میں کچھ ہی دیر میں گانا لکھ کر اسے گا سکتی ہوں۔ ملی نغمے بھی لکھے کیلاشی گیت بھی اور سکول میں نعتیں بھی پڑھتی تھی مگر کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔

کوک سٹوڈیو کا گانا گانے کے بعد میں اس انتظار میں رہتی تھی کہ کب گانا ریلیز ہو گا۔ اسی دوران امتحان دیے اور نویں کلاس میں چلی گٸی۔

اور آخر انتظار ختم ہوا

وہ جولائی کا ایک دن تھا میں امرینہ کے بھائی کے ساتھ بیٹھی اسے یہی بتا رہی تھی کہ ہم نے گانا گایا ہے کہ اتنے میں میرے بھاٸی نے آواز دی کہ آریانہ ادھر آؤ تمھارا گانا ریلیز ہو گیا ہے۔ میں دوڑ کر امرینہ کے ماموں کے گھر گٸی جہاں وہ بیٹھی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ جلدی آؤ ہمارا گانا ریلیز ہو گیا ہے۔ وہ بھی دوڑی چلی آئی اور گاؤں کے گھروں میں جس جس نے میری آواز سنی تھی بھاگ کر چلا آیا۔ ہم سب نے گانا سنا اور جس جس کے پاس موبائل فون تھا اس نے فیس بک پر کمنٹس کیے اور لائیک کیا۔

پھر اگلے کئی دن تک میں یہی دیکھتی رہی کہ میرے گانے پر کتنے لاٸیکس اور کمنٹس آ چکے ہیں۔ ایک عجیب سی خوشی تھی جو میں بیان ہی نہیں کر سکتی تھی۔

بہت لوگوں نے پسند بھی کیا لیکن کمینٹس میں کچھ لوگ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ میں نے اپنا نام گانا گانے کے لیے فارسی گل سے بدل کر آریانہ رکھ دیا جو مجھے برا لگا کیونکہ نام تو میں دو سال پہلے ہی بدل چکی تھی۔ نام بدلنے کی وجہ یہ تھی کہ بچے مجھے فارسی فارسی کے نام سے چھیڑتے تھے اور میں خود بھی کوٸی اور نام رکھنا چاہتی تھی۔

پہلا گانا گانے پر ملنے والا بیس ہزار کا چیک میں نے امی کو دے دیا۔

’تم سب دوزخ میں جاٶ گے‘

اب مجھے آگے پڑھنا ہے۔ سنگر بننا تو میرا خواب ہے جو میں پورا کرنا چاہتی ہوں اس سب کے لیے میرا خاندان میرے ساتھ ہے لیکن میں چاہتی ہوں کہ اپنی کمیونٹی کے لیے بھی کچھ کروں۔ یہاں ابھی میرے گاٶں کے سکول میں وہ تمام سہویات موجود نہیں ہیں جو شہر میں ہیں جیسے ساٸنس کی لیب اور کمپیوٹر اور سپورٹس کی سہولیات۔

پھر ہمارا کلچر ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں آنے والے سیاح میں ہر ملک کے لوگ ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں سے ہمیں شکایت ہے۔ وہ ہمارے گھروں کے پاس سے گزرتے ہوٸے ہماری پرائیویسی کا خیال نہیں کرتے اور کبھی کچھ لوگ ہمارے مذہب کے بارے میں بولتے ہیں اور کہتے ہیں تم سب دوزخ میں جاؤ گے۔

یہ سب سن کر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔ میں سوچتی ہوں لوگ تو کیلاش کو پسند بھی کرتے ہیں تو پھر وہ ہمیں ایسے کیوں کہتے ہیں؟ میں اپنے کلچر کو محفوظ کرنا چاہتی ہوں۔

گانا گانا تو بچپن سے آتا تھا لیکن ۔۔۔'

میرا نام امرینہ ہے۔ بمبوریت میں لوگ، میری سکول کی دوستیں سب مجھے کہتے ہیں کہ تم خوش قسمت ہو جو تمھیں گانا گانے کا موقع ملا۔ میں کہتی ہوں ہاں بالکل ہم خوش قسمت ہی تو ہیں۔

گانا گانا تو بچپن سے آتا تھا سب کے ساتھ مل کر تو خوب گایا ہے لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں اس طرح گا سکوں گی۔ میں کبھی چترال سے آگے پاکستان کے کسی علاقے میں نہیں گٸی۔ ہاں ٹی وی پر سب کچھ دیکھا ہے۔

میں نے جب امی کو بتایا کہ کوک سٹوڈیو والے میرا گانا ریکارڈ کریں گے تو امی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ جب میرے کزن پروانہ جان نے امی کو ان کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو وہ مان گٸیں۔ پہلے پہلے مجھے عجیب لگا شرم آ رہی تھی میں نے کبھی ایسے گایا نہیں تھا۔

آریانہ نے کہا گھبراٶ نہیں میں آپ کے ساتھ ہوں۔ مگر میں نے تب ہی سوچا تھا کہ گانا تو بہت مشہور ہو جاٸے گا۔

جب آریانہ نے مجھے بتایا کہ گانا ریلیز ہو گیا ہے تو میں خوشی سے بھاگ کر آٸی اور راستے میں گر بھی گٸی۔ سبھی کیلاشی بہت خوش ہو گٸے۔ ہم دو بہنیں اور تین بھاٸی ہیں۔ میرا بڑا بھاٸی کہنے لگا امرینہ تم تو مشہور ہو گٸی ہو۔ پھر فیسٹیول پر کچھ لوگ آٸے جنھوں نے ہم سے بات کی مگر امی کہتی ہیں کہ کسی سے بات نہیں کرو انھیں ڈر لگتا ہے۔

’ہم ویلکم کرتے ہیں لیکن رسم و رواج کا خیال رکھیں‘

یہاں ہمارے بمبوریت تو ایسا نہیں ہوا لیکن اوپر ایک گاٶں شخہ نندے ہے جہاں میں پڑھتی تھی وہاں سکول کے لڑکے اور لڑکیاں ہمیں کہتے تھے تم مسلمان ہو جاٶ۔ اور ایک بار انھوں نے ہمیں پتھر مارے تھے۔ ہم روتے ہوٸے گھر آ ٸے جس کے بعد ہم نے سکول ہی بدل لیا۔

یہاں وادی میں ہمیں اب سب بچے' پاریک پاریک' کہہ کر بلاتے ہیں اور ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں سیر کے لیے آنے والے کچھ لوگ بہت عجیب ہوتے ہیں کبھی فوٹو بناتے ہیں اور کبھی آوازیں دیتے ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں۔

آپ سب یہاں آئیں ہم ویلکم کرتے ہیں لیکن یہاں کے رسم و رواج کا خیال ضرور رکھیں کیونکہ جب ہم آپ کے علاقے میں جاتے ہیں تو آپ کے ماحول کے مطابق ہی رہتے ہیں۔

اینا رومانیہ سے لندن پڑھائی کی نیت سے پہنچیں لیکن اس سے پہلے انھیں کچھ رقم جمع کرنی تھی۔ تو اس کے لیے اینا نے عارضی نوکری شروع کر دی جس میں صفائی، ویٹرس اور ریاضی کی ٹیوشن دینا وغیرہ شامل تھا۔

پھر ایک دن مارچ 2011 میں ان کو گلی سے اٹھا لیا گیا اور وہاں سے آئرلینڈ پہنچایا گیا جہاں انھوں نے 11 ماہ جیسے جہنم میں گزارے۔

اینا اپنے گھر کے بالکل قریب تھیں اور ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ گھر جا کر دوپہر کا کھانا پکا سکیں اور پھر وہاں سے صفائی کرنے اپنی نوکری پر چلی جائیں۔ اینا نے ہیڈ فونز پہن رکھے تھے اور بیونسے کا نغمہ سن رہی تھیں کہ اور اس وقت شمالی لندن کے علاقے وڈ گرین میں واقع اپنے مکان کے بالکل قریب تھیں۔

اسی دوران انھوں نے اپنی بیگ کو کھولا تاکہ گھر کی تالے کی چابیاں نکال سکیں کہ اچانک عقب سے کسی نے انھیں گردن سے دبوچ لیا اور ان کے منہ کو ڈھانپ دیا اور گھیسٹتے ہوئے سرخ کار میں لے گئے جہاں دو مرد اور ایک عورت موجود تھی اور انھوں نے تھپڑ مارنے شروع کر دیے اور رومانیہ کی زبان میں دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون نے ان سے بیگ چھین لیا اور اپنے چہرے سے عینک ہٹاتے ہوئے کہا کہ’ اگر وہ اسے جو بتاتے ہیں وہ نہیں کرتی تو رومانیہ میں اس کے خاندان کو گولی مار دی جائے‘۔

اینا کے مطابق وہ بالکل نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے اور انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ میں ہر ممکن چیز کے بارے میں سوچ رہی تھی جس میں انسانی اعضا اور جسم فروشی، مار دینا شامل تھا ۔۔۔ خدا بہتر جانتا ہے۔

’اس خاتون نے میرے بیگ کی تلاشی شروع کر دی تاکہ بٹوا لیا جا سکے۔ اس نے میرے موبائل فون پر تھوڑی دیر پہلے کی گئی فون کالز کو دیکھنا شروع کیا اور اس کے بعد فیس بک فرینڈز کی فہرست دیکھی۔ بیگ میں میرا پاسپورٹ بھی تھا۔‘

اینا دیکھ سکتی تھیں کہ کار سے نکل کر بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں لیکن جب وہ ایک ایئر پورٹ پہنچے تو کار میں صرف ایک آدمی رہا گیا اور انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ یہ موقع ہے فرار ہونے کا۔۔ کیا وہ ایئر پورٹ سٹاف سے مدد کی درخواست کریں۔ جب آپ بہت زیادہ خوفزدہ ہوں تو آپ کے لیے چیخنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے پاس میرے پیپرز تھے اور وہ جانتے تھے کہ میری ماں کہاں ہیں۔ وہ میرے بارے میں ہر چیز جانتے تھے اور یہ خطرہ تھا جو وہ مول نہیں لینا چاہتی تھیں۔

چیکنگ کے کاؤنٹر وہ رو رہی تھیں اور ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا لیکن کاؤنٹر کے پیھچے بیٹھی خاتون نے اس کا نوٹس نہیں لیا، ’جب ایک شخص نے میرا پاسپورٹ اسے دکھایا اور اس نے صرف مسکرا کر بورڈنگ پاس تھما دیے۔‘

’اس شخص نے جوڑا ہونے کا دکھاوا کیا اور اس میں ہم سکیورٹی سے گزرتے ہوئے بورڈنگ گیٹ تک پہنچ گئے اور جہاز کے عقبی حصے میں اپنی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔ اس شخص نے کہا کہ رونے اور چیخنے کی کوشش نہ کرنا اور ایسا کرنے کی صورت میں جان سے مار دوں گا۔‘

اینا نے جہاز کے کپتان کا اعلان سنا کہ وہ آئرلینڈ کے ایک ایئر پورٹ پر جا رہے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ لینڈ کرنے پر جہاز سے اترتے وقت آنسوؤں سے ان کا چہرہ تر ہو گیا تھا لیکن کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون کی طرح فضائی میزبانوں نے بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

اس موقعے پر اینا نے طے کیا کہ وہ ایئر پورٹ کے اندر پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ جائیں گی لیکن ایئر پورٹ کسی بس سٹینڈ سے بڑا نہیں تھا اور وہاں رومانیہ کے دو مزید افراد انھیں لینے کے لیے کھڑے تھے۔

ان میں سے ایک موٹے شخص نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا کہ’ بالآخر یہ زیادہ پرکشش لگتی ہے ۔۔۔ اس وقت اسے اندازہ ہوا کہ اسے کس مقصد کے لیے اغوا کیا گیا ہے اور ’مجھے اس وقت معلوم ہو چکا تھا کہ مجھے فروخت کیا جانا ہے۔‘

’وہ آدمی مجھے ایک گندے سے فلیٹ میں لے گئے جہاں اندر پردے پوری طرح سے بند تھے اور شراب، سگریٹ اور پسینے کی کی بو آ رہی تھی۔‘

لیونگ روم میں وہ آدمی سگریٹ پیتے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ ایک ٹیبل پر درجن کے قریب موبائل فون پڑے تھے جو کالز اور میسجز آنے کی وجہ سے مسلسل تھرتھرا رہے تھے۔ نیم برہنہ اور برہنہ لڑکیاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آ جا رہی تھیں۔

ایک خاتون نے وہاں موجود دوسرے مردوں کی مدد سے اینا کے کپڑے پھاڑ پھینکے اور پھر یہاں سے اسے درندگی کا نشانہ شروع کیا گیا۔

دیوار کے ساتھ داغ دار سرخ چادر لگائی گئی اور زیر جامہ میں ان کی تصاویر لی گئیں تاکہ ان کی تصاویر کی انٹرنیٹ پر تشہیر کی جا سکے۔ انھیں مختلف نام دیے گئے جن میں سے کئی یاد بھی نہیں ہیں۔ وہ کبھی لارا، روبی اور ریچل تھیں اور ان کی عمر اور ملک تبدیل کر دیا جاتا تھا جس میں کبھی وہ 18 برس، کبھی 19 سے 20 برس کی ہوتی اور ان کا تعلق لیٹویا اور پولینڈ سے ہوتا۔

اس کے بعد ہزاروں مردوں کے ساتھ انھیں سیکس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے مہینوں دن کی روشنی نہیں دیکھی۔ ان کو صرف اس وقت سونے کی اجازت ہوتی تھی جب کوئی گاہک نہیں ہوتا تھا۔ لیکن گاہک ہر وقت آتے رہتے تھے جس میں دن میں 20 تک بھی آتے تھے۔ بعض دنوں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا اور دوسرے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا مل جائے یا کسی نے اگر کسی کا کوئی بچا ہوا ہے۔

نیند اور کھانے کی کمی اور مسلسل جنسی استحصال کی وجہ سے میرا وزن کم ہو گیا اور دماغ نے پوری طرح سے کام کرنا چھوڑ دیا۔

گاہک نصف گھنٹے کے لیے 80 سے 100 جبکہ گھنٹے کے لیے 160 سے 200 یورو ادا کرتے تھے۔ بعض گاہکوں کی وجہ سے اینا کو خون آنا شروع ہو جاتا جس کی وجہ سے وہ کھڑی بھی نہیں ہو پاتی تھیں یا اتنی زیادہ درد ہوتی کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ مرنے والی ہیں۔

جولائی میں اینا کو یرغمال بنائے گئے چار ماہ گزر چکے تھے اور ایک دن پولیس نے ان کے فلیٹ پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تمام لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر اس فلیٹ کو چلانے والے تمام مرد اور عورت پہلے سے ہی غائب تھے اور وہ اپنے ساتھ لیپ ٹاپ اور زیادہ تر نقدی بھی لے گئے۔

اینا کو حیرت تھی کہ ان لوگوں کو کیسے معلوم ہوا کہ پولیس آنے والی ہے۔

پولیس نے فلیٹ کی تصاویر لیں اور استمعال شدہ کونڈومز اور زیر جامہ کی بھی تصاویر لیں اور وہاں اینا اور دیگر تین اغوا کر کے لائی گئی خواتین سے کہا کہ وہ کپڑے پہن لیں۔ تو اینا نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ ان کے پاس کپڑے نہیں ہیں اور انھیں یہاں اپنی مرضی کے بغیر رکھا گیا۔

’وہ واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ ہمارے پاس یہاں کسی قسم کا اختیار نہیں تھا ۔۔۔ نہ ملبوسات، نہ شناختی دستاویزات ۔۔۔ میں نے انھیں بتانے کی کوشش کی لیکن کسی نے کچھ نہیں سنا۔

اینا کو گرفتار ہونے پر خوشی تھی اور اسے محسوس ہوا کہ پولیس بالآخر اسے رہا کر دے گی کیونکہ وہ متاثرہ ہے لیکن انھوں نے نہیں سنا۔

چاروں خواتین نے رات تھانے کے سیل میں گزاری اور اگلے دن انھیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایک وکیل نے بتایا کہ سماعت مختصر ہو گی اور ان پر قحبہ خانہ چلانے کا الزام عائد کیا جائے گا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا اور کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا جائے گا۔

وکیل کے مطابق یہ کوئی بڑی چیز نہیں بس معمول کی کارروائی ہے۔ جب اینا عدالت سے باہر نکلی تو ان کی جان میں جان آئی اگرچہ انھیں معلوم تھا کہ کہیں بھی نہیں جا سکتی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی رقم تھی۔ اینا کو موقع نہیں ملا اور ان کو پکڑنے والے باہر انتظار میں تھے اور گاڑی کے دروازے کھلے تھے۔

رومانیہ میں ان کی والدہ نے خبریں دیکھیں کہ آئرلینڈ میں خواتین قحبہ خانے چلاتے ہوئے پکڑی گئی ہیں اور ان کی بیٹی بھی اس میں شامل ہے۔

ایک موقعے پر اینا نے خود تصاویر دیکھی تھیں جو مردوں نے ان کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی تھیں جس میں کئی میں وہ برہنہ تھیں اور بعض میں ان کے جسم پر خراشوں کے نشانات تھے۔ اس کے ساتھ میں لکھا گیا تھا کہ کس طرح اینا نے اپنی زندگی کو بہتر کیا اور آئرلینڈ میں سیکس ورکر کے طور پر کام کرتے ہوئے رقم بنائی۔ اس طرح کے کئی جھوٹ لکھے گئے۔

نہ صرف ان کی والدہ نے وہ تصاویر دیکھی تھیں بلکہ ہمسایوں نے انھیں دیکھا تھا اور اینا کے دوستوں نے بھی دیکھا تھا۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کو اٹھایا گیا اور مرضی کے بغیر رکھا جا رہا تھا۔

پہلے تو ان کی والدہ نے کچھ کرنے کی کوشش کی لیکن جب ان کی والدہ نے فون کیا تو اینا کی طرف سے کبھی بھی کوئی جواب نہیں آیا۔

’میری والدہ رومانیہ میں پولیس کے پاس گئیں لیکن پولیس نے کہا کہ وہ اس عمر میں ہے جہاں اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتی ہے اور وہ جو چاہے کر سکتی ہے۔‘

آخر کار فیس بک نے غیر مناسب تصاویر پر ان کا اکاؤنٹ حذف کر دیا جس کے بعد اگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کو تلاش یا دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ سے ان کا وجود ختم ہو چکا تھا۔

پولیس کے چھاپے کے بعد چاروں لڑکیوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں مختلف فلیٹس اور ہوٹلوں میں رکھا جانے لگا لیکن ان کی زندگیاں ویسے ہی بدتر ہی رہیں۔ ان کا ہر وقت دن رات استحصال ہوتا رہا۔

اینا نے سوچا نہیں تھا کہ ان کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے جب تک انھوں نے سوچا کہ انھیں مشرق وسطیٰ بھیجے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس پر اینا کو اب یہاں سے نکلنا تھا۔

اینا کے بقول انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس جگہ پر موجود ہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ مشرق وسطیٰ سے اچھا موقع یہاں بیلفاسٹ، ڈبلن یا کسی اور جگہ سے بھاگنے کا ہو گا۔

تو اینا نے خاتون کی چپل پہنی اور دروازہ کھولا اور وہ جانتی تھی کہ انھیں جلدی جلدی اور بہت خاموشی سے باہر نکلنا ہے کیونکہ کئی ماہ سے انھوں نے کبھی دوڑ نہیں لگائی تھی اور نہ ہی اپنی ٹانگوں کے پٹھوں پر زیادہ زور ڈالا تھا لیکن اب انھیں جلدی سب کرنا تھا۔

جس چیز نے انھیں بچایا وہ یہ تھا کہ کبھی کبھار مرد فلیٹ پر آنے کی بجائے کہتے کہ انھیں اپنی جگہ پر پہنچایا جائے اور اینا کے لیے اس طرح کی فون کالز بہت خوفزدہ کر دینے والی ہوتی تھیں۔

اینا کے بقول آپ نہیں جانتے تھے کہ کس مزاج کا شخص آپ کا منتظر ہے اور آپ کے ساتھ کیا کرے گا لیکن جب بھی میں فلیٹ سے باہر دوسری جگہ جانے کے لیے نکلتی تو ذہن میں نقشہ بنانے کی کوشش کرتی کہ اس وقت کہاں ہوں۔ جس میں عمارتوں، سڑکوں کے نشانات اور پاس سے گزرتی والی چیزوں کو ذہن نشین کرتی۔

وہاں ایک اور شخص اینڈی بھی موجود تھا جسے منشیات فروخت کرنے کے الزام میں سزا بھی ہو چکی تھی جو کبھی بھی سیکس نہیں کرنا چاہتا تھا اور صرف باتیں کرتا تھا۔ اس کا ایک دوست قحبہ خانہ چلانے کے کاروبار میں آنا چاہتا تھا اور وہ اس کے بارے میں معلومات چاہتا تھا۔

تو میں نے اس چیز پر جوا کھیلنے کی ٹھانی۔ مجھے اس پر اعتماد نہیں تھا لیکن اس نے مجھے ایک جگہ کی پیشکش کی جہاں میں چھپ سکتی تھی۔

اینا ذہن میں بنائے گئے ادھورے نقشے پر انحصار کرتے ہوئے اینڈی کے پتے پر پہنچ گئی۔ وہاں اور کچھ کرنے کو نہیں تھا سوائے اس امید کہ قحبہ خانے کو چلانے والے انھیں تلاش نہ کر سکیں۔

اینا کے داؤ نے کام کیا۔ اینڈی کو منشیات کی وجہ سے رات گئے واپس آنا تھا اور اس نے اینا کو اپنے ہاں رہنے کی اجازت دے دی۔

اینا نے پہلا کام اپنی والدہ کو فون کرنے کا کیا۔

اینا کی والدہ کے ساتھی نے فون اٹھایا اور معلوم ہونے پر اس بات پر زور دیا کہ وہ دوبارہ فون نہ کرے اور نہ ہی یہاں کبھی آئے کیونکہ سیکس ورکرز کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچانے والے قحبہ خانے چلانے والوں کی جانب سے کئی دھمکی آمیز فون آئے ہیں اور ان کی والدہ خوفزدہ ہیں۔

اس موقعے پر اینا نے پولیس سے رابطہ کرنے کا سوچا اور اس بار خوش قسمتی سے پولیس نے ان کی بات سنی۔

پولیس نے انھیں ملزمان کے نام ایک پیپر پر لکھنے کو کہا اور جب یہ نام لکھے تو معلوم ہوا کہ پولیس کو ان لوگوں کی عرصے سے تلاش تھی۔

دو برس کی تحقیقات کے بعد اینا کو پکڑنے والے گرفتار ہو گئے اور اینا کو اپنی اور اپنی والدہ کی سلامتی کی اتنی فکر تھی کہ ان کے خلاف عدالت میں کبھی جا کر گواہی نہیں دی۔

بعد میں اینا نے یونینسٹ رہنما لارڈ مورو کے سامنے بیان دیا اور انھیں اس نوعیت کی بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہوئی اور 2015 میں شمالی آئرلینڈ میں انسانی ٹریفکنگ اور استحصال کے خلاف قانون پاس ہوا۔

اینا نے برطانیہ میں ڈگری کورس شروع کیا لیکن اسے ادھورا چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ فیس ادا نہیں کر سکتی تھیں اور نہ ہی فنڈنگ حاصل کر سکتی تھیں۔

اب وہ نوکری کر رہی ہیں جو ٹھیک چل رہی ہے۔ اینا کے مطابق زندگی کے کسی موڑ پر وہ دوبارہ پڑھائی کرنا چاہیں گی لیکن اس وقت کام اور صرف کام کرنا ہے اور اس پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے شہر دھابیجی کے غریب آباد محلے میں 17 جولائی کی رات کی تاریکی میں پولیس گھیراؤ کرتی ہے اور ایک دروازہ زور سے کھٹکٹاتی ہے۔ سامنے سے ایک 60 سالہ شخص نکلتا ہےجس سے اہلکار معلوم کرتے ہیں کہ حفیظ نواز کون ہے؟

وہ بتاتا ہے کہ اس کا بیٹا ہے۔ دوسرا سوال ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے؟ وہ بلا ججھک کہتا ہے کہ افغانستان جہاد کے لیے گیا ہے۔

اور ان دو سادہ سوالوں کی مدد سے سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو حفیظ نواز کی شناخت کرنے میں کامیابی نصیب ہو جاتی ہے اور یہ تفصیلات بتانے والا خود اس کا والد محمد نواز ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 13 جولائی کو خودکش بم حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوگئے تھے اور شدت پسند تنظیم، نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ مستونگ دھماکے کے بعد وہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایہ سے رابطے میں تھے، جنھوں نے انہیں بتایا کہ نامعلوم لاشوں کے فنگر پرنٹ سے ایک نوجوان کی شناخت سندھ کے ضلعہ ٹھٹہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے اس لڑکے کی تفصیلات طلب کیں اور تفتیش کے لیے جب دھابیجی پہنچے تو حفیظ کے والد نے تصدیق کی کہ وہ افغانستان منتقل ہوچکا ہے۔

'جب اس کے والد کو اس نوجوان کی تصویر دکھائی گئی تو اس نے تصدیق کی کہ یہ اسی کا بیٹا ہے۔'

ایبٹ آباد سے دھابیجی منتقلی

محمد نواز کا تعلق ایبٹ آباد شہر کے محلے مولیا سے ہے مگر وہ تقریباً 30 سال قبل دھابیجی منتقل ہوگئے تھے، جہاں وہ دودھ فروخت کرتے ہیں۔ حفیظ کے علاوہ ان کے دیگر بچوں کی پیدائش بھی یہاں ہی ہوئی۔

کراچی کا مشکوک مدرسہ

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی تفیش کے دوران کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں واقع ایک مدرسے کا مشکوک کردار سامنے آیا ہے۔ حفیظ نواز اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا تھا اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی عزیز نواز بھی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا جو بعد میں افغانستان جہاد کے لیے چلا گیا اور پھر اس نے تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کرلی۔

ایس ایس پی پرویز چانڈیو کے مطابق اس مدرسے کا ریکارڈ تحویل میں لیا گیا اور جو طالب علم حفیظ کے ساتھ پڑھتے تھے ان سے تفتیش کی گئی جس کی مدد سے حفیظ کا ٹیلیفون نمبر مل گیا۔ اس نمبر کی مدد سے حفیظ کے ہینڈلر تک رسائی ہوئی اور کوئٹہ سی ٹی ڈی سے مقابلے میں ہینڈلر مفتی ہدیت اللہ قلعہ سیف میں مارا گیا۔

حفیظ کی خاندان سمیت افغانستان منتقلی

ایس ایس پی پرویز چانڈیو کا کہنا ہے کہ حفیظ کے بڑے بھائی عزیز کی ٹی ٹی پی میں شمولیت کے بعد پورا خاندان افغانستان منتقل ہوگیا جس میں حفیظ کے علاوہ عزیز ایک اور بھائی شکور، تین بہنیں اور والدہ شامل تھیں جو اس وقت سپن بولدک میں موجود ہیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کا خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور کمانڈر حاجی داؤد محسود میں اختلافات اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد حاجی داؤد نے داعش کے ساتھ رجوع کیا۔

واضح رہے کہ حاجی داؤد کراچی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھا لیکن بعد میں افغانستان منتقل ہو گیا۔

ایس ایس پی پرویز کے مطابق حفیظ کے بڑے بھائی عزیز نواز نے بھی حاجی داؤد کے ساتھ داعش میں شمولیت اختیار کرلی اور پورے خاندان کو یہ کہہ کر افغانستان طلب کرلیا کہ داعش خلافت کے قیام کے لیے لڑ رہی ہے اور دوسری زمین ان کے لیے دارلحرب ہے۔ خاندان کے منتقل ہونے کے بعد عزیز اپنے والد پر بھی دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ بھی افغانستان آجائیں۔

امریکہ میں سفید فام طلبہ کے مقابلے میں ایشیائی طالب علموں میں خودکشی کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایشیا اینڈ پیسفیک آئی لینڈر کے ایک سروے کے مطابق اپنی جان لینے والوں میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی خواتین کی ہے۔ ان ہلا دینے والے اعداد و ُشمار کے باوجود امریکہ میں بسنے والی جنوبی ایشیائی برادری ذہنی امراض سے جڑی شرم کی وجہ سے سیاہ فام آبادی کے مقابلے مین تین گناہ کم مدد حاصل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

پریانکا کے والدین دو دہائی قبل چنائی سے امریکہ آۓ لیکن اس کے باوجود انہیں کافی وقت لگا کہ وہ اپنی بیٹی کی ذہنی بیماری کو ایک حقیقت تسلیم کر سکیں۔

پچیس سالہ پریانکا امریکی ریاست ٹیکساس میں پیدا ہوئیں۔ پڑھائی کے بعد نوکری کے لیے وہ کیلیفورنیا منتقل ہو گئیں جہاں ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میں وہ کام کرنے لگیں۔ پیسے اچھے تھے مگر سکون نہ تھا۔

نوکری کے چند برس بعد ہی انہیں ڈیپریشن ہوگیا ۔ بے ایریا کی تیز زندگی نے انہیں ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا لیکن والدین کو اس بارے میں سمجھنا آسان نہ تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: 'جب میں نے اپنے ابو کو بتایا کہ میں اپنی نوکری سے خوش نہیں تو مجھے دیکھنے لگے اور بولے میں بھی انڈیا سے امریکہ ایک ڈالر جیب میں لے کر آیا تھا۔ مجھے بھی میری پہلی نوکری بالکل پسند نہیں تھی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور چپ کر کہ لگا رہا۔ پہلے مجھے لگا وہ صحیح کہہ رہے ہیں اور شاید مسئلہ مجھ میں ہے اور میں ہی کام چور ہوں مگر ایسا نہیں تھا۔ میں ذہنی دباؤ میں تھی۔ مجھے دفتر جانے سے ڈر لگنے لگا اور میں مسلسل خوف کی کیفیت میں رہنے لگی۔ میں نے دوست چھوڑ دیے اور خود کو تنہا کر لیا۔ میر ے دوست میرے لیے پریشان تھے۔ مجھے مدد کی ضرورت تھی۔'

پریانکا اب ذہنی امراض کے ڈاکٹر کے پاس جا رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی اور اب انہوں نے نوکری چھوڑ دی ہے اور وہ شکاگو میں طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب پچیس سالہ نبیر شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ وہ دو سال پہلے بھارتی ریاست آسام سے امریکہ آئے۔ جب میں ان سے ملی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ اپنی کارکردگی سے خاصے مطمئن نظر آئے۔ لیکن گزشتہ برس وہ پڑھائی کی وجہ سے اتنے ذہنی دباو کا شکار ہو گئے کہ اپنی جان لینے کے بارے میں سوچنے لگے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوے بولے، 'میں انڈیا میں سکول میں ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا آیا ہوں۔ خاندان اور محلے والے پچپن سے ہی کہتے آئے ہیں کہ میں بڑا ہو کر ضرور کچھ خاص کروں گا مگر جب میں امریکہ میں پی ایچ ڈی کے لیے آیا تو مجھے لگا میں تو ایک عام سا طالب علم ہوں۔ میں سب سے پیچھے رہ جاؤں گا اور بس یہی سوچ سوچ کر میں پاگل ہو گیا۔'

نبیر کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ وہ 2017 میں وہ پڑھائی روک کر تین ماہ کے لیے واپس انڈیا چلے گئے مگر کوئی آفاقہ نہ ہوا۔ انہوں نے بتایا 'جب میں نے اپنے والدین کو بتایا تو ان کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ آخر ڈیپریشن یا اینگزائٹی ہوتا کیا ہے۔

کیونکہ ایشیائی والدین ہیں تو انہیں اس بارے میں معلوم ہی نہ تھا۔ لیکن اکلوتی اولاد کے لیے وہ بہت گھبرا گیے۔ لیکن بھگوان کا شکر ہے کہ اب ٹھیک ہوں۔'

مدد حاصل کرنے کے بعد اب نبیر زندگی سے سرشار ہیں اور پڑھائی پر بھی مکمل توجہ دے رہے ہیں۔ وہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد واپس بھارت جائیں گے تاکہ اپنے والدین کا خیال رکھ سکیں۔

ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے ذہنی امراض سے متعلق جنوبی ایشیائی برادری میں جڑے معاشرتی تعصب سے نمٹنے کے لیے پریانکا نےآئی ایم شکتی کے نام سے ایک تنظیم شروع کی ہے جو سیمینار اور ورک شاپس کے ذریعے والدین اور نوجوانوں میں آگاہی پھیلا رہی ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے پریانکا نے کہا کہ 'میں نہیں چاہتی کہ جس قرب سے میں گزری ہوں، میرے باقی ساتھی بھی گزریں۔ آج کے دور میں کئی جنوبی ایشیائی والدین ذہنی امراض کی حقیقت کو مان رہے ہیں مگر اب بھی کافی کام باقی ہے۔ اسی لیے ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ لوگ مدد حاصل کرنے سے نہ شرمائیں، ہماری اس ویب سائٹ پر خفیہ طریقہ سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

انڈیا میں ڈاکٹروں نے ایک آٹھ سال کی بچی کے دماغ میں کیڑے کے سو سے زیادہ انڈے پائے ہیں۔

بچی کے والدین کے لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہو رہا تھا کہ ان کی بیٹی کو ہر روز سر میں درد کیوں رہتا ہے اور دورے کیوں پڑتے ہیں۔ تقریباً چھ مہینوں تک اس کی حالت ایسی ہی رہی۔ یکن جب والدین کو اس کی وجہ پتا چلی تو انہیں یقین نہیں ہوا۔

بچی کے دماغ میں سو سے زیادہ ٹیپ ورم کے انڈے تھے جو سکین ہونے پر دماغ میں خون کے لوتھڑوں کی صورت میں نظر آ رہے تھے۔

انڈین ریاست ہریانا کے گڑگاؤں شہر میں قائم فارٹس ہسپتال میں محکمہ نیورالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹڑ پروین گپتا اس بچی کا علاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے پاس آنے سے پہلے یہ بچی دماغ میں سوجن اور دورے پڑنے کا علاج کروا رہی تھی۔‘

بچی کے دماغ میں سوجن کم کرنے کے لیے اسے صٹیرائڈز دیے جانے گے تھے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آٹھ برس کی بچی کا وزن چالیس کلو سے بڑھ کر ساٹھ کلو ہو گیا۔

وزن بڑھنے سے اس کی تکلیف میں بھی اضافہ ہو گیا۔ بچی جب ڈاکٹر گپتا کے پاس آئی تو اس کا سی ٹی سکین کیا گیا اور اسے نیورو سسٹی سیرکوسس نامی مرض سے متاثر پایا گیا۔

ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ ’جس وقت بچی ہسپتال لائی گئی وہ ہوش میں نہیں تھی۔ سکین میں اس کے دماغ میں صفید رنگ کے دھبے نظر آ رہے تھے۔ یہ دھبے کیڑے کے انڈے تھے۔ وہ بھی ایک یا دو نہیں، سو سے زیادہ انڈے۔‘

بچی کو ایسی دوا دی جا رہی ہے جس سے ان انڈوں کو ختم کیا جا سکے، لیکن ابھی سارے انڈے ختم نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کیڑے ایک بار دماغ میں پہنچ جائیں تو انڈوں کی تعداد لگاتار بڑھتی رہتی ہے اور ان انڈوں کے دباؤ سے سوجن ہو جاتی ہے اور دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔

دماغ تک کیسے پہنچے یہ انڈے

ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ کوئی بھی چیز اگر ٹھیک سے نہیں پکائی جاتی ہے تو اسے کھانے سے اس میں موجود کیڑے پیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد خون کے ذریعے یہ کیڑے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

انڈیا میں مرگی کے دورے سے متاثر افراد میں بھی بڑی وجہ یہی کیڑے ہیں۔

ٹیپ ورم کیسے پھیلتا ہے

ٹیپ ورم ربن جیسے دکھنے والے کیڑے ہوتے ہیں۔ اگر ان کا انڈا جسم میں داخل ہو جاتا ہے تہ وہ آنتوں میں اپنا گر بنا لیتا ہے۔ اور وہاں سے یہ انڈے خون کے ذریعہ جسم بھر میں پہنچ سکتے ہیں۔

یہ جگر اور آنکھوں میں بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے دماغ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

کہاں سے آتا ہے ٹیپ ورم

  • ٹھیک سے نہیں پکا ہوا گوشت، خاص طور پر پورک، مچلی اور بیف ٹیپ ورم کو ہمارے جسم میں پہنچانے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

  • گندے پانی کے ذریعہ بھی ٹیپ ورم جسم میں پہنچ سکتا ہے۔

  • بند گوبھی اور پالک کو اگر ٹھیک طرح نہ پکایا جائے تو ٹیپ ورم جسم تک پہنچ سکتے ہیں۔

  • پکانے اور کھانے سے پہے ان سبزیوں کو بہت اچھی طرح دھونا چاہیے جن پر پانی یا مٹی لگی ہو۔