Get engaged in the biggest community of Pakistan
Let people know about you worldwide
Public Feed

کم ہی غم دل ٹوٹنے سے بڑے ہوتے ہیں۔ جن پر گزرتی ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ ریئلٹی شو 'لو آئیلینڈ' کی جورجیا سٹیل پر پچھلے ہفتے گزرا جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے سابق دوست ایک نئی گرل فرینڈ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے میرا دل بھی ٹوٹا، لیکن اس کی نوعیت جورجیا کے دل ٹوٹنے سے مختلف تھی کیونکہ یہ ٹی وی کے لاکھوں ناظرین کی آنکھوں کے سامنے نہیں ٹوٹا تھا۔

میری امیدوں بھری محبت اچانک ختم ہو گئی تھی۔ میں جس شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کی متمنی تھی، اس نے اپنا ارادہ بدل لیا تھا۔ یہ میرے لیے زبردست صدمہ تھا اور مجھے لگتا تھا کہ اب زندگی وہ نہیں رہے گی جو پہلے تھی۔

میں نے اس غم سے نمٹنے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔ میں لندن، جہاں میری 32 سالہ زندگی کے 27 برس گزرے تھے، چھوڑ کر ایک دیہی علاقے میں منتقل ہو گئی۔

اس کی وجہ یہ تھی مجھے لگتا تھا کہ اگر کبھی میرا اس سے آمنا سامنا ہوا، بس میں، ٹرین میں، کسی شاپنگ مال میں، تو میں برداشت نہیں کر پاؤں گی۔

اگلے آٹھ ماہ تک میں نے دل بہلانے کی بڑی کوششیں کی، سمندر میں تیراکی، میلوں تک چہل قدمی، پہروں رونا، ایک پروجیکٹ پر کام۔ لیکن اداسی کی دھند چھٹنا تھی نہ چھٹی۔

مجھے احساس ہوا کہ میری جیسی شہری خاتون کے لیے دیہی زندگی مزید تنہا کر دینے والی ہے۔ میرے خاندان والے میرے قریب تھے لیکن مجھے دوستوں کی ضرورت تھی۔ فون پر ان سے رابطہ کچھ عرصے رہا، پھر انھوں نے بھی فون کرنا چھوڑ دیا۔

میرے پاس گاؤں آنے کے وعدے بھی کبھی وفا نہیں ہو سکے۔ زندگی کب کسی کے لیے رکتی ہے؟ میں خود کو پہلے سے زیادہ تنہا محسوس کرنے لگی۔

میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا دل ٹوٹنے کا کوئی مثبت طریقہ بھی ہو سکتا ہے؟ اس وقت مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملا لیکن ایک سال بعد میں خود ہی اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرنے رہی ہوں۔

دل ٹوٹنا ہوتا کیا ہے؟

ماہرِ نفسیات جو ہیمنگز کہتے ہیں:'یہ دراصل زبردست جذباتی نقصان کی کیفیت ہے۔ یہ حالت ہر انسان پر مختلف طریقے سے گزرتی ہے لیکن اس میں دکھ، غم اور غم کی حالت سے کبھی باہر نہ آ پانے کا احساس شامل ہوتا ہے۔

'اگر دماغ کے اندر دیکھا جائے تو وہی حصے ان جذبات کے ذمہ دار ہوتے ہیں جو اصل جسمانی درد کی صورت میں فعال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ایسی ہی علامات پائی جاتی ہیں جو نشے کے عادی افراد نشہ ٹوٹنے کے بعد محسوس کرتے ہیں۔'

میرے لیے یہ کیفیت ایسی تھی جیسے جسم اندر سے جل رہا ہو۔

ان علامات پر قابو پانا اصل مشکل ہے۔ اس دوران آپ پر ناقابلِ برداشت غلبہ طاری ہو جاتا ہے کہ آپ اپنے کھوئے ہوئے محبوب کو دوبارہ فون کریں، اس کی منت سماجت کریں، اسے سمجھانے کی کوشش کریں کہ آپ کون ہیں۔'

جو کہتے ہیں: 'جذباتی اعتبار سے تعلق ٹوٹنے سے آپ غم کے پانچ مراحل سے گزرتے ہیں: نفی، غصہ، سودا بازی، پژمردگی، اور بالآخر قبولیت۔'

دل ٹوٹنے سے کس طرح نمٹا جائے؟

یہ ایک آرٹ ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سائنس سے مدد نہیں لے سکتے۔ سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کر رکھی ہے کہ اس دوران جسم پر کیا گزرتی ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

مثال کے طور پر نفسیات کے ایک رسالے میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق تین طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ اپنے سابق ساتھی کی بری باتیں سوچنا، اس کے بارے میں اپنے محبت کو قبول کر لینا، اور اپنے ذہن کسی اور طرف الجھا لینا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تینوں طریقے تعلق ٹوٹنے کا غم غلط کرنے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

ان تینوں حکمتِ عملیوں کی مثالیں

  1. اس کے منھ سے بدبو آتی تھی، اسے خود اپنی آواز بہت پسند تھی۔
  2. پیار کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، چاہے اب وہ نہیں بھی رہا
  3. آج کیا شاندار موسم ہے

تعلقات کی ماہر ڈی ہومز کہتی ہیں: 'خود کو کچھ وقت دیں۔ اپنے دوستوں سے بات کریں اور ڈائری میں لکھیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ اس چیز کو اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں۔ اندھادھند فیصلے نہ کریں۔'

جو کہتی ہیں کہ اپنے سابق ساتھی کو سوشل میڈیا پر ان فالو کر دیں۔ 'ایسی تصویریں یا پیغامات ڈیلیٹ کر دیں جو آپ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اس سے آپ کے زخم مندمل ہونے میں مدد ملتی ہے۔'

غم کے مختلف مراحل میں غصے کا اپنا کردار ہے۔ میرا اپنا غصہ آتش فشانی تھا۔ غصے کے اپنے فائدے ہیں، کیوں کہ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ اس شخص کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ تاہم بعض دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ آپ خود کو یقین دلانے کی کوشش کریں کہ آپ نے کبھی ان سے محبت کی ہی نہیں تھی۔

آپ غور کریں کہ آپ کے ساتھی میں کیا خوبیاں تھیں، پھر ان خوبیوں کو کسی اور میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ میرا ساتھی بہت ہمدرد تھا۔ کیا دنیا میں اور ہمدرد لوگ موجود ہیں؟ ظاہر ہے، موجود ہیں۔

مجھے احساس ہوا کہ اس طرح سے اپنے تعلق کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔ شروع شروع میں نہیں۔ 'سمندر میں مچھلیوں کی کمی نہیں،' شروع میں یہ سوچ کسی کام کی نہیں ہوتی۔

لیکن رفتہ رفتہ اس احساس نے کام دکھانا شروع کر دیا کہ میرا ساتھی بےعیب نہیں تھا اور اس میں جو خوبیاں تھیں وہ اور لوگوں میں بھی ہیں۔

ان نکات کو اکٹھے کر دیں اور پھر ایک منصوبے کے خدوخال ابھرنے لگتے ہیں: اپنی صورتِ حال کو قبول کریں اور اپنے آپ کو غم اٹھانے کی اجازت دیں۔ اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں سے بات کریں۔ ڈائری لکھیں، سوشل میڈیا سے پرہیز کریں، تکلیف دہ چیزیں ڈیلیٹ کر دیں۔ اپنے توجہ بٹانے کی کوشش کریں۔

ساتھی سے رابطے کا خیال دل سے نکال دیں۔ اس کی خامیوں کے بارے میں سوچیں۔ اس پر توجہ مرکوز کریں کہ اس کی خوبیاں دوسرے لوگوں میں بھی پائی جا سکتی ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، وقت گزرنے دیں، جو سب سے بڑا مرہم ہے۔

اس عمل میں کتنا وقت لگتا ہے؟

آپ جلد بازی نہیں کر سکتے۔ ایک تحقیق کے مطابق تعلق کے بارے میں مثبت انداز سے سوچنے میں تین مہینے (11 ہفتے) لگتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے کہا، یہ کوئی سائنس نہیں ہے۔ خود مجھے اس پر قابو پانے میں چھ مہینے لگے۔ اس کے بعد سے میں نے اپنے سابق ساتھی کے لیے ایک آنسو بھی نہیں بہایا۔

دل ٹوٹنے کے بارے میں میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ اس سے نمٹنا اتنا آسان ہے کہ اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔ اصل گر یہ ہے کہ آپ سمجھیں کہ آپ اس قابل ہیں کہ آپ سے محبت کی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو کوئی اور مل جائے گا۔

ایو گبنی میرسی سائیڈ میں این ایچ ایس کی ایک نرس ہیں وہ 17 سال تک ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی گزارتی رہیں لیکن پھر ان کے شوہر نے ان سے عجیب برتاؤ شروع کر دیا۔ وہ بتا رہی ہیں کہ کس طرح وہ ایک جاسوس بن گئیں اور معلوم کیا کہ ان کے شوہر کی ایک اور زندگی بھی ہے۔

ہم سنہ 1995 میں نائیجیریا کے علاقے لاگوس میں جمعے کی رات کی ایک سوشل کلب میں ملے۔ میں وہاں نرسنگ آفیسر کے طور پر کام کرنے گئی تھی اور وہ ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

ہم فوراً ہی ایک دوسرے کی جانب کشش محسوس کرنے لگے۔

میں نے انھیں اپنا فون نمبر دیا لیکن غلطی سے دوسرا نمبر دے دیا۔ اس لیے کئی ہفتوں تک میں ان سے ملی اور نہ بات ہو سکی۔ پھر ہم ایک دن دوبارہ ٹکرا گئے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے مجھے فون کرنے کی کوشش کی۔

میں جلد ہی ان سے متاثر ہو گئی۔ ہم نے تین ماہ بعد شادی کر لی۔ ہم ایک لمبے عرصے تک ایک بندھن میں رہے۔ سب ٹھیک چل رہا تھا۔

دو سال بعد ہمارا بیٹا پیدا ہوا لیکن میرا اس سے پہلے بھی ایک بڑا بیٹا تھا۔ اس کے امتحانات کے وقت میں برطانیہ آئی اور اس کی مدد کی۔ تب بھی مجھے لگا ہماری شادی اچھی جا رہی ہے۔

ہمارا رشتہ چل رہا تھا کیونکہ یہ ہمارے لیے ہر طرح سے مناسب تھا۔ شاید یہ روایتی شادی نہیں تھی کہ جس میں آپ ہر وقت ساتھ رہتے ہیں لیکن یہ ہمارے لیے ٹھیک جا رہی تھی۔

ہم مسلسل رابطے میں تھے۔ ہم روزانہ ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے۔ ہمارے دوست کہتے تھے کہ شاید تم لوگ ساتھ رہنے والوں سے زیادہ رابطے میں رہتے ہو۔

سنہ 2011 میں وہ کام کرنے اومان گئے۔ اس دوران میں برطانیہ میں رہی تاہم ان کا رویہ بدلنے لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے وہ پہلے کی طرح باقاعدگی سے گھر نہیں آ سکتے۔ وہ کم کم گھر آنے لگے اور دو یا تین ہفتوں کے لیے آنے کی مخالفت کرنے لگے۔

مجھے اس بات پر تو شک نہیں ہوا لیکن اس سے ہمارے رشتے پر اثر پڑنے لگا۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ذہنی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ انھیں اومان میں رہنے کی پریشانی ہے اور اسی ذہنی دباؤ کے باعث وہ باقاعدگی سے گھر نہیں آ سکتے۔

اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ کا بہانہ کر کے ہمدردی حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس طرح وہ ان چیزوں سے بھی بچ جاتے جنھیں میں آسانی سے نہ جانے دیتی۔

انھیں سنہ 2012 میں کرسمس کے موقع پر گھر آنا تھا۔ 22 دسمبر کو انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا ’مجھے لینے ایئر پورٹ مت آنا، میں نہیں آ رہا، میں بہت ذہنی دباؤ ہوں۔ میں کونسلر سے ملا ہوں اس نے مجھے کہا ہے کہ گھر مت جاؤ۔‘

وہ جنوری میں گھر آئے اور اپنے ڈپریشن کے بارے میں بات کرنے سے صاف انکار کر دیا اس کی وجہ سے ہماری تکرار ہو گئی۔ وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ عدالت کے باہر یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔

انھوں نے ایک گاڑی کرائے پر لی تھی اور اسی میں چلے گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ واپس آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے اور نہ فون کا جواب دیا۔

میں کافی پریشان ہوئی اور کار کمپنی سے پوچھ گچھ کی تو وہاں خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ گاڑی واپس کر گئے ہیں۔

تب اس نے کہا ’میں انھیں اس وقت سے جانتی ہوں جب انھوں نے پچھلی بار کرسمس کے لیے گاڑی کرائے پر لی۔‘ میں نے بہانے سے مزید سوال کیے تو پتا چلا کہ انھوں نے اس وقت مہنگی گاڑی لی تھی اور اس مرتبہ سب سے سستی۔

تب اس نے کہا ’میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں، انھوں نے وہ گاڑی ویسٹ مڈ لینڈ میں ایک پتے پر رجسٹر کروائی تھی۔` اس نے مجھے وہ پتا دے دیا کیونکہ میں نے اپنے شوہر کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس خاتون کے بغیر تو شاید مجھے اس دوغلے شخص کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ مجھے اس کا شکریہ ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔

میں نے اس پتے کو دیکھا اور اس نمبر پر فون کیا تو یہ وائس میل پر گیا۔

کچھ دوستوں کی مدد سے پتہ چلا کہ اس پتے پر رہنے والا شخص مسقط میں کسی کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہے۔

میں نے سوچا یہ یقیناً اومان میں ان کے دوست ہوں گے اور واپس آنے پر ڈپریشن کی وجہ سے وہ گھر آنے کے بجائے یہاں رہ گئے ہوں گے۔

میں نے سوچا ’وہ اتنے ذہنی دباؤ میں ہیں اور کوئی افیئر چلانے اور اسے راز میں رکھنے کی حالت میں نہیں۔‘ میں نے اس بات کو جانے دیا۔

بلآخر میں نے مورس سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر تم گھر میں موجود اپنے بیٹے کو الوداع کیے بنا ہی جا سکتے ہو تو تم اس خاندان کے قابل نہیں ہو۔ اس لیے میں نے طلاق کے لیے کوشش شروع کر دی۔

میں نے اپریل سنہ 2013 میں فیس بک پر ان کی بہنوں کی مسقط میں بنی ایک تصویر بھی دیکھی تھی جن میں ایک بہن نے فیسینیٹر پہن رکھا تھا۔ یہ وہ چیز تھی جس نے مجھے شک میں مبتلا کیا۔

میں نے اپنی دوست سے کہا ’تمہیں نہیں لگتا انھوں نے شادی کر لی ہے۔‘ میں جانتی تھی کہ یہ کتنا مضحکہ خیز لگا تھا اور میری دوست سے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ تم ہمیشہ مضحکہ خیز باتیں کرتی ہو۔

مجھے مزید اگلے ایک سال تک کچھ پتہ نہیں چلا۔

میں نے اس نمبر پر دوبارہ کال کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے خود کو کار کمپنی کی اہلکار ظاہر کیا۔ پھر میں نے کہا ’آپ اپنا نام اور ان سے رشتہ بتا سکتے ہیں۔‘

دوسری طرف سے آدمی نے کہا ’میں ان کا برادر نسبتی ہوں۔‘

میں نے دوبارہ فون کیا اب کی بار میں نے اپنی شناخت نہیں بدلی ایک خاتون نے فون اٹھایا۔

میں نے کہا ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس آدمی نے یہ کیوں کہا کہ وہ مورس کا برادرِ نسبتی ہے۔‘ اس خاتون نے کہا ’کیونکہ اس کی شادی میری بہن سے ہوئی ہے۔‘

مجھے یاد ہے جب وہ یہ کہہ رہی تھی تو میں بری طرح کانپ رہی تھی۔ مجھے دوسرے ہاتھ سے فون والے ہاتھ کو تھامنا پڑا۔

میں نے کہا ’کیا یہ مورس گبنی ہی ہیں لیور پول سے؟ میں نے ان کا حلیہ بتایا تو اس نے جواب دیا ہاں وہی ہیں۔ لیکن آپ کون ہیں؟‘

میں نے کہا ’اس کی بیوی۔‘ اور فون کی دوسری جانب مکمل خاموشی چھا گئی۔

میں نہیں جانتی کہ میں کیا محسوس کر رہی تھی، انتہا درجے کی بے یقینی سی تھی، وہ میرا شوہر ہوتے ہوئے کسی اور سے کیسے شادی کر سکتا ہے‘۔

تاہم ایک عورت اور ایک ماں ہونے کے ناطے آپ آگے بڑھ جاتے ہیں۔

یقیناً اس مرحلے پر میں یہ نہیں جانتی تھے کہ یہ کیسا تعلق ہے اور وہ کتنے عرصے سے شادی شدہ ہیں اس لیے میں نے اپنے وکیل کو مطلع کیا۔

مورس نے اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ ہماری بہت عرصے پہلے طلاق ہو چکی ہے ہے اور میں پاگل عورت ہوں اور ایسی حرکتیں اس لیے کر رہی ہوں کہ مجھے علم ہوا ہے کہ وہ دوسری شادی کر رہا ہے۔

کچھ دن بعد ایک رات میں سو نہیں پا رہی تھی تو میں نے سوچا مجھے اس بارے میں مزید معلومات کرنے چاہئیں۔

میں فیس بک پر گئی وہاں اس عورت کا فیس بک پیج دیکھا۔ وہاں اس کی شادی کی تصاویر تھیں جس میں وہ عروسی لباس میں میرے شوہر کو چوم رہی تھی۔ تب مجھے پتا چلا کہ ان کی شادی مارچ سنہ 2013 میں ہوئی۔

یہ سب دیکھ کر مجھے کیسا لگا یہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں صدمے میں تھی۔ میں یہ دیکھ رہی تھی اور میں جاتنی تھی کہ یہ وہی ہے۔

ہم عدالت گئے اور میں نے جج سے کہا کہ وہ مورس کو بگمی (دو بیویاں رکھنے والا شخص) قرار دیں اور طلاق کے مقدمے کو معطل کر دیں۔ جج نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے لگتا ہے کہ میرے شوہر نے ایسا کیا ہے تو میں پولیس میں رپورٹ کروں۔ اگلے دن میں نے ایسا ہی کیا۔

انھیں اس جرم میں دو سال کی معطل اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

اس کی دوسری بیوی بھی اس کی متاثرہ تھی کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ ایک طلاق یافتہ مرد ہیں۔

میں نے انھیں عدالتی دستاویزات کے ساتھ ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا ’میں معذرت چاہتی ہوں کہ تم نہ میرے شوہر کے ساتھ شادی کی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ جتنا یہ میرے لیے لکھنا مشکل ہے تمہاری لیے پڑھنا بھی اتنا ہی مشکل ہوگا۔‘

وہ کہانی گڑھنے اور حقائق کو بگاڑ کر پیش کرنے کا ماہر تھا اس لیے اس نے اسے قائل کر دیا ہو گا کہ میں ایک پاگل سابقہ بیوی ہوں۔

اس نے اپنا خاندان کیوں تباہ کیا؟ اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چھ سال سے نہیں دیکھا۔

میں نہیں جانتی کہ اس نے سیدھا سیدھا آ کر یہ کیوں نہیں کہا کہ میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔ اس نے تباہی اور خاندان کو تکلیف دینے کا راستہ کیوں چنا۔ مجھے یہ کبھی پتا نہیں چلے گا۔

طلاق کے حتمی فیصلے کے دن ضلعی جج کو معلوم ہوا کہ عدالت کے ساتھ 56 معاملات میں دھوکہ دہی کی گئی جسے عدالت نے بددیانتی قرار دیا۔

مورس اپنے بینک اکاؤنٹس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دے پائے۔ انھوں نے اپنی وراثت کی معلومات بھی چھپائیں۔ جو بینک سٹیٹمنٹ انھوں نے دی وہ بھی ان کی نہیں تھیں اور نہ ہی وہ اکاؤنٹ ان کے تھے۔

انھوں نے اپنی تنخواہ کے بارے میں بھی جھوٹ بولا، انھوں نے بار بار جھوٹ بولا۔

اسی کی وجہ سے میں دوبارہ عدالت گئی اور ثابت کیا کہ ہمارے درمیان طے پانے والا سمجھوتہ دھوکہ دہی پر مبنی معلومات پر کیا گیا جس کے بعد جج نے مجھے ہمارے خاندانی گھر میں اس کا حصہ بھی دے دیا۔

عدالتی قوانین میں انصاف کا نظام تو ہے لیکن اسے لاگو کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ عدالت میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی کے تمام معاملات کی سزا نہیں دی گئی۔ عدالت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جو کہ بہت غلط ہے۔

اس دوسرے مقدمے کی وجہ سے مجھ پر 58 ہزار پاؤنڈ کا قرض چڑھ گیا۔ میں این ایچ ایس کے ساتھ نرس ہوں۔ میرے پاس اتنی رقم نہیں۔ میری تمام قانونی فیس کریڈٹ کارڈز پر ادا ہوئی ہے۔ ضلعی جج نے فیصلے کیا کہ مورس یہ رقم چار دن میں ادا کرے۔ انھوں نے یہ رقم ابھی تک ادا نہیں کی۔

مجھے خوشی ہے کہ وہ ہماری زندگی سے چلا گیا۔ اس شخص سے میں نے پیار کیا اور میرے بچوں نے اسے باپ سمجھ کر محبت کی۔ انھوں نے ہمیں ہر مقام پر دھوکا دیا۔

اب میں اس کے بارے میں کچھ بھی محسوس نہیں کرنا چاہتی۔ میں جھوٹ کہوں گی اگر میں کہوں کہ میں اسے ناپسند نہیں کرتی لیکن میں اس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی۔

میں اب ایسے شخص سے ملی ہوں جو میرے بیٹوں سے اچھے سے گھل مل گیا ہے۔ وہ بہت اچا انسان ہے اور مجھے خوش رکھتا ہے۔

سوشل میڈیا حالیہ عرصے میں جہاں عوامی رابطوں کا موثر ذریعہ بنا ہے وہیں پاکستان میں اب عام انتخابات سے قبل عوام کے ان مسائل کو سامنے لانے کا سبب بنا ہے جو پہلے کم ہی منظر عام پر آتے تھے۔

حالیہ دنوں میں جہاں صوبہ سندھ کے پسماندہ ضلع کشمور میں پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار سردار سلیم جان کا راستہ روک کر نوجوان ان سے علاقے میں گذشتہ دس برس اور بلخصوص پانچ برس کے دوران ہونے والی ترقیاتی کاموں کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں نوجوان سردار سلیم جان مزاری سے تعلیم کو نظر انداز کرنے اور تعلیم کے حق پر احتجاج کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور ساتھ میں علاقے میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس ویڈیو میں بظاہر سردار سلیم جان مزاری احتجاج کرنے والوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ نوجوانوں کو قائل نہیں کر پاتے۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد جمعرات کو ایک اور ویڈیو سامنے آتی ہے جس میں صوبہ پنجاب کے پسماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ نون کے رہنما سرادر جمال لغاری کے قافلے کا نوجوان راستہ روکتے ہیں اور ان سے علاقے کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں ایک نوجوان اپنے مسائل کے بارے میں بار بار بات کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن سرادر جمال لغاری کہتے ہیں کہ وہ تعزیت کے لیے جا رہے ہیں جس پر ہجوم میں آواز آتی ہے وہاں پانچ برس تاخیر سے کیوں جا رہے ہیں۔

بات زیادہ بڑھتی ہے تو اس پر سرادر جمال لغاری پہلے کہتے ہیں کہ آپ پہلے میرے سوالات کا جواب دیں کہ یہ 42 کلومیٹر طویل پکی سڑک کس نے آپ کو دی ہے۔۔۔ یہ کیا جمہوریت جمہوریت۔۔۔ مجھے پتہ ہے جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ یہ سڑک میں نے دی ہے۔۔۔

اس پر نوجوان سوال پوچھتا کہ سوال کا جواب دیں کہ کتنے عرصے سے آپ کو ووٹ دیے رہے ہیں۔۔۔ اس پر سرادر جمال لغاری کہتے ہیں کہ’ ایک ووٹ کی پرچی۔۔۔وہ بھی اپنے قبیلے کے سربراہ کو دے رہے ہو اور اس پر اتنا ناز۔۔۔آپ اپنے سوال کا جواب لینا بیٹا ۔۔۔ 25 جولائی کو۔۔۔‘

اس پر سرادر جمال لغاری وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں اور وہاں کھڑے نوجوان اپنے سوالات کا جواب نہ ملنے پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ان ویڈیوز کے سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد جہاں ملک میں دہائیوں سے انتخابات میں جیتنے والے سرداروں اور جاگیرداروں کے بارے میں بات کی جا رہی ہے تو وہیں ان نوجوانوں کی ہمت کو بھی داد دی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر پر طیبہ چوہدری نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ووٹ کو عزت دو یا ووٹ کی عزت لوٹو،‘، جمال لغاری کا رویہ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔اگر ویڈیو نہ بن رہی ہوتی تو شاید وہ نوجوان زندہ نہ بچتے.‘

اس پر رافی نے ٹویٹ کی کہ ’مسلم لیگ نون جمال لغاری کو ووٹ کی عزت بتائے تو آج اپنے حلقے کے ایک ووٹر سے پوچھ رہا تھا کہ ایک ووٹ کی پرچی پر اتنا ناز؟‘

ندیم احمد نہار نے اخباری تراشے کے ساتھ ٹویٹ کہ ’ن لیگی رہنما سردار جمال لغاری 5 سال بعد اپنے حلقہ میں آئے تو نوجوانوں نے راستہ روک کر سوال کرنے اور آئینہ دیکھانے پر سردار جمال لغاری نے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔‘

سوشل میڈیا پر زیادہ تر بیانات میں سردار جمال لغاری کی مذمت کی گئی لیکن ان کے دفاع میں بھی ٹویٹس کی گئی جس میں محمد رمضان علیانی نے ٹویٹ کی کہ ’جمال لغاری سے مجھے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ایسا بلکل نہیں ہونا چائیے اور ایسے غیر اخلاقی رویہ کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے۔‘

اسی طرح سردار سلیم جان کی ویڈیو پر سندھی ثنا نے ٹویٹ کی کہ’ جمال لغاری کے بعد ایک اور شہنشاہ وقت سردار سلیم جان مزاری کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی گئی۔۔۔ کاش سیاسی جماعتیں ڈکٹیٹروں اور چھاؤنیوں کے لاڈلے موقع پرست الیکٹبلز کے بجائے حقیقی عوامی نمائندوں کو آگے لانے کی کوشش کریں۔‘

پاکستان میں نوجوان مجموعی آبادی کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں نوجوان بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں تو اس طرح کی ویڈیوز سامنے آنے سے نوجوانوں کی مایوسی کی جھلک آئندہ عام انتخابات میں نظر آئے گی؟

اس پر صحافی اور تجزیہ کار ضرار کھوڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ویڈیوز پہلے بھی منظر عام پر آ چکی ہیں لیکن چونکہ اب انتخابات ہیں اور جس کے ہاتھ میں فون ہے اور فون میں کیمرہ ہے تو وہ ویڈیوز تو بنائے گا۔

اس میں آنے والے دنوں میں سوچ سمجھ کر ایسی ویڈیوز بنائی جائیں گی جس میں سیاسی مخالفین ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گے۔

ایسی ویڈیوز کے سامنے آنے کے حوالے ایک سوال کے جواب میں ضرار کھوڑو نے کہا کہ ایک ویڈیو کے سامنے آنے سے کسی کی کارکردگی ثابت یا رد نہیں ہوتی لیکن ظاہر ہے کہ وہ عوام کی آواز ہوتی ہے جو سامنے آتی ہے۔

ضرار کھوڑو نے کہا کہ’ اب سیاسی دانوں کو بھی محتاط ہونا چاہیے کہ وہ جہاں بھی ہیں اور وہاں کیمرے ہیں اور ایسا صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر ایک لیے ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کی گئی ہیں۔‘

پاکستانی سینما گھروں میں عید کے موقعے پر انڈین فلموں کی نمائش پر سرکاری پابندی کے فیصلے کے بعد ایک ہفتے تک تو پاکستانی فلمیں آپس میں ہی مدمقابل ہوں گی لیکن اس کے بعد بالی وڈ سٹار سلمان خان کی فلم ریس تھری بھی اس ریس میں شامل ہو سکتی ہے۔

عید کے موقع پر پاکستان کے سینما گھروں میں چار پاکستانی فلمیں سات دن محبت اِن، آزادی، وجود اور نہ بینڈ نہ باراتی نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔

عید کے موقع پر دو ہفتے کے لیے انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی کا فیصلہ گذشتہ ماہ سامنے آیا تھا اور اس کا مقصد مقامی فلمی صنعت کو بزنس کا موقع دے کر مضبوط بنانا تھا۔

بعدازاں اس پابندی کو ایک ہفتے تک محدود کر دیا گیا۔

اس پابندی کے اثرات پر بی بی سی اردو کے موسیٰ یاوری سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فلمساز سید نور نے کہا کہ پاکستان میں سینما گھروں کی تعداد کم ہونے کے باعث فلمیں اتنا بزنس نہیں کر پاتیں جتنا کرنا چاہیے۔ ان کے خیال میں عید کے دوران دو ہفتے تک انڈین فلمز پر پابندی کا فیصلہ زیادہ موثر ہوتا۔

ڈر یہ ہوتا ہے چونکہ سینما کم ہیں تو فلمیں بزنس اتنا نہیں کر پائیں گی جتنا انھیں کرنا چاہیے اور اتنا مضبوط نہیں بن پائے گی جتنا انھیں بننا چاہیے کیونکہ انڈین فلمیں بہرطور بڑی انڈسٹری کی فلمیں ہیں، بڑے ایکٹرز کی فلمیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بات نہیں ہے کہ ہم کسی خوف سے کہہ رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بزنس کرنے کا موقع ملنا چاہیے، کم از کم عید پر دو ہفتے مل جاتے تو لوگوں کی اپنی فلموں کے پیسے پورے ہو جاتے۔'

انڈین فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی پاکستان میں کچھ عرصے سے زیر بحث ہے۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ محدود بجٹ میں بنائی ہوئی پاکستانی فلمیں بڑے بجٹ کی انڈین فلموں کے سامنے بزنس نہیں کر پاتیں جبکہ سینما مالکان کا موقف ہے کہ فلم بین اگرانڈین فلموں کی نمائش کی بدولت سینما آتے ہیں تو انھیں ضرور چلنا چاہیے۔

ملٹی پلیکس برینڈ سنے پیکس کی سی ای او مریم ایل باچا کہتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستانی عوام بالی وڈ کی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سچ ہے اور اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم مکمل طور پر پاکستانی فلم انڈسٹری اور پاکستانی فلموں کی حمایت کرتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ عید کے دوران بالی وڈ کی فلموں پر پابندی کافی ہے۔‘

مریم باچا کا یہ بھی کہنا تھا کہ سنیما مالکان پاکستان کی فلم انڈسٹری کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں لیکن انھیں لوگوں کو سینما تک لانے کے لیے بالی وڈ کی فلموں کی بھی ضرورت ہے۔

’ہم جانتے ہیں کہ اتنے سارے لوگ اگر بالی وڈ کی فلموں کے لیے سینما آ رہے ہیں، تو یہ پاکستانی فلموں کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔‘

فلمی نقاد عمیر علوی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی فلم بینوں کے ساتھ زیادتی ہے کہ انھیں عید پر صرف پاکستانی فلمیں دیکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ’ان کے پاس چوائس ہونی چاہیے کہ وہ چاہے تو انڈین فلم دیکھیں، چاہے پاکستانی یا پھر انگریزی ۔ آپ انھیں صرف چار فلمیں دیکھنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری فلمی صنعت ابھی پنپ رہی ہے اور اسے جو مدد چاہیے وہ اسے سنیما میں انڈین فلموں سے ہی ملتی ہے۔

انڈین فلم جب ساتھ لگی ہوتی ہے تو وہ پاکستانی فلم کی بالواسطہ طور پر مدد کرتی ہے۔ وہ لوگ جو انڈین فلم دیکھنے جاتے ہیں ہاؤس فل ملنے کی صورت میں واپس نہیں چلے جاتے بلکہ ساتھ لگی کوئی نہ کوئی پاکستانی فلم دیکھ کر ہی جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کی مثال بجرنگی بھائی جان کے ساتھ لگنے والی دو پاکستانی فلمیں بن روئے اور رانگ نمبر ہیں جنھوں نے اس بڑی فلم کے ساتھ لگنے کے باوجود بہت اچھا بزنس کیا تھا۔ ’لوگ بجرنگی بھائی جان دیکھنے آتے تھے اور جگہ نہ ملنے پر ان میں سے کوئی ایک فلم دیکھ لیتے تھے۔‘

پاکستانی فلمیں اب آہستہ آہستہ عوام میں مقبول تو ہو رہی ہیں مگر پھر بھی بہت ساری فلمیں سینما ہال میں دیر تک ٹک نہیں پاتیں۔

اس بارے میں عمیر علوی نے کہا کہ شائقین کو متوجہ کرنے کے لیے اہم چیز تنوع ہے۔ ’ورائٹی ہو گی تو لوگ آئیں گے۔ ایک جیسی چار فلمیں لگا کر آپ شائقین کو متوجہ نہیں کر سکتے۔‘

بھارتی فلموں پر عارضی پابندی کے بعد عید کا چاند پاکستانی فلموں کے لیے کتنا مبارک ثابت ہو گا اس کا دارومدار شائقین پر ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ عید کے موقع پر پاکستانی فلمیں ان کی پہلی پسند بنتی ہیں یا پھر وہ بالی وڈ کی بلاک بسٹر کا انتظار کرتے ہیں۔

فیس بک پر دوستوں یاروں کو عید کی مبارک باد دینا تو عام سی بات ہے مگر واشنگٹن میں اگر آپ مسجد نہیں گئے تو عید کی نماز آپ تک برہ راست فیس بک لائیو کے ذریعے پہنچائی جائے گی۔ مساجد کا یہ جدید چہرہ آپ نے کیا کبھی پہلے دیکھا؟

امریکہ میں بسنے والے 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے جمعے کو عید منائی اور جیسے ہی عید کی صبح فیس بک کھولا تو مختلف مساجد، عید گاہ سے نماز باقاعدہ لائیو براڈکاسٹ کر رہی تھیں۔

واشنگٹن میں عید کو پر مسرت بنانے کے لیے چاند اور عید رات میلے بھی لگے ہیں۔ ورجنیا واشنگٹن ڈی سی سے لگ بھگ ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں واشنگٹن کے مقابلے میں زیادہ جنوبی ایشیائی آبادی رہتی ہے۔ جس کی وجہ بچوں کے لیے بہتر سکول کے مواقع ہے۔

کپڑے جوتے اور زیورات تو تھے ہی لیکن گھر کے پکے ہوئے کھانوں کے سٹال میری دلچسپی کا مرکز رہے۔ کیونکہ واشنگٹن ڈی سی میں ملنے والا دیسی کھانا صرف گورے ہی کھا سکتے ہیں۔

سالہ55 ہما خان ایک سٹال پر حلیم بیچ رہی تھیں۔ حلیم کا وہی ذائقہ جو کراچی والوں کو مغرور بناتا ہے، دس ڈالر کی ایک پلیٹ نے عید کا مزہ دُگنا کر دیا۔

کراچی سے سات سال پہلے یہاں آنے والی حما بڑے فخر سے اپنا سٹال اپنے بیٹے کے ساتھ چلا رہی تھیں، لیکن کراچی میں وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔

ہما کا کہنا ہے ’نہیں نہیں کراچی میں تو میں نے کام کبھی نہیں کیا، لیکن یہاں اپنی مرضی اور شوق سے کام کرنا آسان ہے۔ پچھلے سال عید سے پہلے ہم نے کم سے کم دس ہزار کمائے تھے۔‘

امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیا کے بیشتر لوگ کچھ رسومات کو توڑ رہے ہیں۔ اس مرکز میں 90 فیصد دکانداری خواتین کر رہی تھیں۔ مردوں کے چند ہی سٹال تھے۔

ممبئی سے 20 سال پہلے امریکہ آنے والی شروتی مالک شادی کے کپڑے بناتی ہیں۔ ان کے سامنے والا سٹال لاہور کی عائشہ خان کا تھا جو ہاتھ سے بنے کشمیری کپڑے پیچ رہی تھیں۔

دونوں کو جب خریداروں سے فرست ملتی تو سر جوڑ کر باتیں کرنے لگتیں۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی نفرت انگیز سیاست کا ان کی دوستی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

اسی مرکز میں موجود مرتضیٰ شیخ سے ملاقات ہوئی تو کچھ برہم معلوم ہوئے۔ ان کے بچے بھی ان کے ساتھ چنے، چاول بیچنے میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

وہ کہنے لگے ’میرے بچوں کی عمر کھیلنے کودنے کی ہی مگر وہ یہاں میرے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ زندگی اتنی مشکل ہوتی جا رہی کہ اخراجات پورے ہی نہیں ہوتے۔ اپنے ملک کی کیا ہی بات ہے مگر بچوں کے لیے یہاں آئے ہیں۔‘

مرتضی کے تین بیٹے ہیں جن کی عمریں سات، دس اور 15 برس ہے۔ وہ عید پاکستان کے ساتھ سنیچر کو منا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ماں کے ہاتھ کی سوئیاں نہ سہی کم سے کم میں عید تو ان کے ساتھ ایک ہی دن منا سکتا ہوں ناں!‘

پرینکا چوپڑہ جنھیں انڈیا میں کبھی دیسی تو کبھی پردیسی گرل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور لوگ انھیں ہالی وڈ میں انڈیا کی شان کہا کرتے تھے اچانک لوگوں کے عتاب کا نشانہ بن گئیں۔

دراصل پرینکا امریکی جاسوسی ٹی وی شو کوانٹیکو میں لیڈ کردار میں ہیں۔ یکم جون کو براڈکاسٹ ہونے والے شو میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہندو قوم پرست مسلمان بن کر حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پرینکا اس سازش کا پردہ فاش کرتی ہیں۔

اس کے بعد سے بھکت لوگ پرینکا کو پاکستان بھیجنے کا مشورہ نہیں بلکہ دھمکی دے رہے ہیں۔ ابھی تک تو بالی وڈ کے دو سپر سٹارز کو پاکستان بھیجنے کی سفارش ہو رہی تھی لو اب پرینکا بھی پاکستان کی ہوئیں۔

یہ تو پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے خوش خبری ہے اب بالی وڈ کی فلمیں پاکستان میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ بنائی بھی جا سکیں گی۔

ان دنوں پرینکا دوسری وجوہات کی وجہ سے بھی خبروں میں ہیں۔ امریکی سنگر، نغمہ نگار اور اداکار نِک جونز کے ساتھ پرینکا کی گہری دوستی کی خبروں نے اب افواہوں کا روپ دھار لیا ہے۔

ہالی وڈ میں آجکل پرینکا تقریباً ہر تقریب میں نِک جونز کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں نک کے بھائی کی شادی میں پرینکا اور جونز کی اینٹری نے کئی طرح کے سوالوں کو جنم دیا کہ 'کیا پرینکا کو اپنا مسٹر رائٹ مل گیا ہے؟'

ک نے اپنا کریئر محض سات سال کی عمر میں تھیئٹر سے شروع کیا تھا اور ابھی وہ محض 25 سال کے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کی شروعات گذشتہ سال میٹ گالا میں ہوئی تھی جہاں ان دونوں نے ایک ہی ڈیزائنر کے لیے ریمپ پر واک کی تھی۔

اس کے بعد سے ہی دونوں گاہے بگاہے ملتے نظر آئے اور کئی تقریب میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دکھائی دیئے۔ اب ان دونوں کے درمیان یہ رشتہ صرف دوستی تک محدود ہے یا پھر بات کچھ اور ہے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

انتخابات سے پہلے پاکستان شدید معاشی بحران کی سمت جاتا نظرآ رہا ہے۔

پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جمعرات کے روز ایک امریکی ڈالر کی قیمت 118 پاکستانی روپے سات پیسے تھی۔

اگر ڈالر کی کسوٹی پر بھارت سے پاکستانی روپے کا موازنہ کیا جائے تو بھارت کی اٹھنّی پاکستان کے ایک روپے کے برابر ہو گئی ہے۔

ایک ڈالر کی قیمت 67 بھارتی روپے ہے۔

پاکستان کا سینٹرل بینک گذشتہ سات ماہ میں تین مرتبہ روپے کی قدر میں کمی کر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کا اثر دکھائی نہیں دے رہا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی سینٹرل بینک بیلنس آف پیمنٹ کے بحران سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔

عید سے پہلے پاکستان کی معاشی بدحالی لوگوں کو مایوس کرنے والی ہے۔

پاکستان میں 25 جولائی کو عام انتخابات ہونے والے ہیں اور اس سے پہلے کمزور معاشی حالت کسی بھی ملک کے مستقبل کے لیے باعثِ تشویش ہوتی ہے۔

روپے کی قدر میں بھاری کمی سے یہ بات واضح ہے کہ تقریباً تیو سو ارب ڈالر کی پاکستانی معیشت شدید بحران سے گزر رہی ہے۔

غیر ملکی زرِ مبادلہ میں مسلسل کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں مسلسل گھاٹا پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور اسے ایک بار پھر عالمی مانیٹرِنگ فنڈ کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان اگر آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے تو یہ پانچ سال میں دوسری مرتبہ ہوگا۔ اس سے پہلے پاکستان 2013 میں آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔

روپے کی قدر میں کمی کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ یہ بازار میں اتھل پتھل کا نتیجہ ہے اور ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں نیشنل انٹسی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اقتصادی ماہر اشفاق حسن خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا ہے کہ ابھی پاکستان میں عبوری حکومت ہے اور الیکشن کے وقت وہ آئی ایم ایف جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

خان کا کہنا ہے تھا کہ پاکستان کی عبوری حکومت کو خود فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے تحت برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکومت مناسب اقدامات نہیں کر رہی۔

خان کا کہنا ہے کہ اگر ہم سوچتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی سے بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو ختم کیا جا سکتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ الیکشن میں اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو پٹری پر لانا ہے تو اسے پھر سے اقتدار میں لانا ہوگا۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا غیر ملکی زر مبادلہ اتنا کم ہو چکا ہے کہ صرف دو ماہ کی درآمدات میں ہی ختم ہو جائے گا۔

دسمبر سے اب تک پاکستانی روپے کی قدر میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔

پاکستان کے اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کہتے ہیں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے دو اسباب ہیں پہلی تو یہ کہ پاکستان کی درآمدات کی قیمت برآمدات سے دو گنا زیادہ ہے۔ ہم اگر سو ڈالر کی برآمدات کر رہے ہیں تو دو سو ڈالر کی درآمد کر رہے ہیں اتنا فرق ہے تو اس کا اثر تو پڑے گا ہی۔

دوسرا یہ کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں پاکستان میں جو نجنکاری ہوئی ہے اس میں ڈالر تو آیا ہے لیکن آمدنی وہ اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ڈالر ملک سے باہر زیادہ جا رہا ہے اندر کم آرہا ہے۔

ڈالر کی مانگ زیادہ ہے اور جس چیز کی مانگ زیادہ ہو وہ مہنگی ہوجاتی ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب ڈالر کی قیمت سٹیٹ بینک طے کرتا تھا اب یہ قیمت بازار طے کرتا ہے۔ جب حکومت کو لگتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے تو وہ اپنے ڈالر بازار میں فروخت کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ قیمت پر قابو پایا جا سکے۔

پاکستان بہت سی چیزیں باہر سے منگواتا ہے جیسے پیٹرولیم ، تیل اور انڈسٹریل ساز و سامان وغیرہ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اسے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ چین ہمیشہ پاکستان کو قرضہ نہیں دیگا اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینا بھی آسان نہیں ہے۔ پہلے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس دس سے بارہ سال میں جاتا تھا لیکن اب پانچ سال میں ہی جا رہا ہے۔

پاکستان کی ایکسحینج کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عام لوگ ڈالر نہیں بیچ رہے صرف ضرورت مند لوگ ہی مجبوری میں ڈالر کے عوض پاکستانی روپے خرید رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی عید ہے جب روپے کو کوئی نہیں پوچھ رہا۔

اس سے پہلے یہ ہوتا رپا ہے کہ بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی رمضان کے مہینے میں خرچ کے لیے اپنے عزیزوں کو رقم بھیجتے تھے۔ اور بازار میں رونق رہتی تھی۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’فیمنسٹ‘ وہ لڑکیاں ہیں جو چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں، شراب سگریٹ پیتی ہیں اور رات بھر پارٹی کرتی ہیں۔ جو دستیاب ہوتی ہیں اور جنھیں بغیر ذمہ داری والے رشتے بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور لڑکوں کو خود سے کم تر سمجھتی ہیں۔ جو برابری کے نام پر وہ سب کرنے کی ضد کرتی ہیں جو لڑکے کرتے ہیں۔ مثلا گالی دینا وغیرہ۔

لیکن ’فیمنسٹ‘ ہوتی کون ہیں؟

فلم 'ویرے دی ویڈنگ‘ کی ہیروئنز بھی میڈیا سے ہونے والی ہر بات چیت میں یہی کہتی رہیں کہ یہ فلم چار آزاد خیال لڑکیوں کی کہانی ہے 'فیمنسٹس' کی نہیں۔

یہ اور بات ہے کہ اس فلم میں چار ہیروئنز چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں، شراب سیگریٹ پیتی ہیں، رات رات بھر پارٹی کرتی ہیں اور ان میں سے ایک ہیروئن کو ایک مرد دستیاب سمجھتا ہے اور شراب کے نشے میں دونوں میں جسمانی رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے جس کے بعد بھی ہیروئن اس مرد کو خود سے کمتر سمجھتی ہے۔

فلم میں گالیاں تو جیسے دعا سلام کی طرح استعمال ہوئی ہیں۔

ایک ہیروئن تو اپنے شوہر کی تعریف ہی اس کے سیکس کرنے کی قابلیت پر کرتی ہے۔ اب ایسے میں عام خیال میں تو وہ فیمنسٹ ہی ہوئیں۔

فلم چار عورتوں کے ارد گرد بنائی گئی ہے جس میں کوئی مرد مرکزی کردار میں نہیں ہے اور یہ کہانی کسی مرد کے گرد نہیں گھومتی۔

جب میں فلم دیکھنے گئی تو سوچا کے بدلتی دنیا کی بدلتی عورت کی کہانی ملے گی جس کی کہانی صرف محبت اور اس کے بعد شادی نہیں ہو گی۔لیکن پردے پر عام خیال والی فیمنسٹ عورتیں ہی ملیں۔

فلم میں شادی کی اپنی جگہ ہے اور باقی رشتوں کی اپنی جگہ جس میں سہیلیوں کی وہ گہری سمجھ ہے جو عورتیں بھی ویسی ہی بنا لیتی ہی جیسے مرد۔۔

الگ الگ زندگیوں کو گوندنے والی وہ پہچان جو ہمارا معاشرہ ہماری جنس کی بنیاد پر ہمیں دیتا ہے۔

عورتوں میں اکثر شادی کرنے کا دباؤ، کریئر بنانے کی خواہش، بچے دیر سے پیدا کرنے کی لڑائی ہوتی ہے کہانی میں وہ سب ہو سکتا تھا لیکن کہانی ایک سطح پر ہی سمٹ کر رہ گئی اور کچھ حد تک عام خیال والی فیمنسٹ عورتیں ہی ملیں۔

یہ فلم عام سے اصل کا سفر طے نہیں کر پائی۔ فلم نے ایک قدم آگے بڑھایا تو تین قدم پیچھے رہ گئی۔

اب اصل فیمنسٹ عورتوں کی بات کی جائے تو وہ اپنی بات شراب سگریٹ اور گالی کے بغیر بھی بےباک طریقے سے کہہ سکتی ہیں۔ انھیں مرد کو ملنے والی ہر آزادی حق کے طور پر چاہیے۔ محض مردوں کی طرح برتاؤ کرنا آزادی کی علامت نہیں ہے۔

فیمنِسٹ ہونا بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ وہ مردوں کو نیچا دکھانا یا ان کے خلاف ہونا نہیں ان کے ساتھ چلنا ہے۔

وہ خوبصورتی ہے جو ہوٹل میں بِل چکانے کی چھوٹی سی ضد میں ہے۔ نوکری کرنے یا گھر سنبھالنے کی آمادگی میں ہے۔ اور یہ جانتے ہوئے آوارہ گردی کرنے میں ہے جب دل میں یہ سکون ہو کہ مجھے محض ایک استعمال کی چیز نہیں سمجھا جائے گا۔

صحیح کہا تھا اس فلم کی ہیروئنز نے کہ یہ فیمنِسٹ فلم نہیں ہے۔

انتظار رہے گا اس فلم کا جسے فیمنزم کی اصل سمجھ کے ساتھ بنایا گیا ہو اور جسے بنانے والوں کو خود کو فیمنِسٹ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہ ہو۔

انڈیا کے شہر ممبئی کی تنگ گلیوں کی بھول بھلیوں میں ایک چھوٹے سے مکان میں سراج اور ساجدہ اپنے تین بچوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے۔ سراج ایک باروچی تھے اور ساجدہ نے اپنی 13 سالہ ازواجی زندگی میں زیادہ تر وقت خاتون خانہ طور پر گزارا۔

لیکن چند ماہ قبل اُن کی مثالی زندگی میں بھونچال اُس وقت آیا، جب انڈین حکام نے سراج پر غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں پاکستان بھیج دیا۔

یہ 24 سال پہلے کا واقعہ ہے، جب سراج کی عمر 10 سال تھی۔ امتحانات میں خراب نتیجہ آنے پر وہ پاکستان کے جنوب میں اپنے آبائی علاقے شرکول سے یہ سوچ کر باہر نکلے تھے کہ کراچی جا رہے ہیں۔ لیکن لاہور ریلوے سٹیشن پہنچ کر وہ غلط ٹرین میں سوار ہو کر انڈیا پہنچ گئے۔

سراج کہتے ہیں کہ جب وہ اٹاری پر اترے تو انھیں کچھ سمجھ نہیں آیا اور انھوں نے رونا شروع کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ 'میرا قریب آ کر ایک شخص نے مجھے چپ کروایا اور کہا کہ خاموش رہو۔'

سراج کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کے ساتھ رہے جو انھیں لے کر اپنے گھر پرانی دہلی آ گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں نے اُس کا نام نہیں پوچھا تھا۔ مجھے صرف یہی یاد ہے کہ اُس کے سامان میں بہت سی جناح کیپ تھیں۔ میں سوچا کہ یہ اُس کا کاروبار ہے۔'

سراج کو یاد ہے کہ اُس شحض کے خاندان کو سراج کا آنا بہت زیادہ ناگوار گزرا تھا اور اُس شخص کی بیوی نے تو اُس پر اور سراج پر غصہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ 'ایک دن وہ شخص انھیں ریلوے سٹیشن لایا اور ٹرین پر سوار کر دیا۔ اُس نے کہا کہ ٹرین مجھے گھر چھوڑ دے گی لیکن ٹرین مجھے ممبئی لے آئی۔'

سراج نے مجھے بتایا کہ'کچھ دن تک تو میں یہی سمجھا کہ یہ کراچی ہے پھر مجھے پتہ چلا یہ تو انڈیا ہے۔'

سراج اپنے پیچھے پر موجود پہاڑوں کی طرح کافی مطمئن ہیں لیکن بہت اداس اور سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'دو سال کے بعد جب میری عمر 12 سال تھی تو میں خود سے حکام کے سامنے پیش ہوا۔ پولیس کو شبہ تھا کہ میں کشمیری ہوں وہ مجھے دس دن کے لیے کشیمر لے گئے۔ اس امید کے ساتھ کہ گھر مل جائے گا مجھے مختلف مقامات پر لے جایا گیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔'

'حکام مجھے گجرات لے آئے اور مجھے بچوں کی جیل میں ڈال دیا۔ میں نے احمد آباد جیل میں تین سال گزارے اور رہائی کے بعد میں ممبئی آ گیا، جہاں میں نے رفتہ رفتہ اپنی زندگی کو کھڑا کیا۔'

سراج نے اپنی عمر کے ابتدائی سال ممبئی میں گزاریے جہاں کئی مرتبہ انھیں سڑکوں پر بھوکا سونا پڑتا لیکن بعد میں وہ ماہر باورچی بن گئے۔

سنہ 2005 میں اپنی ہونے والی بیوی سے ملاقات سے قبل وہ اچھا کماتے تھے۔ اپنے ہمسایوں کی مدد سے اُن کی ملاقات ساجدہ سے ہوئی اور انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ساجدہ رو پڑیں۔ 'انھوں (حکام) نے میری دنیا تباہ کر دی ہے۔ میرے بچے اپنے باپ کو دیکھنے کو بے تاب ہیں۔ انڈیا میں ایک شخص کی جگہ نہیں تھی؟ میں اب حکام سے گذارش کرتی ہوں کہ مجھے اور میرے بچوں کو پاسپورٹ دیں تاکہ ہم سراج سے پاکستان میں جا ملیں۔'

مسائل شروع اس وقت ہوئے جب 2009 میں سراج نے خود کو ایک پاکستانی کے طور پر انڈین حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ تاکہ وہ اپنے والدین سے جا کر مل سکیں جو کہ ان کی تلاش میں تھے۔

سراج کا کہنا ہے کہ '2006 میں اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد مجھے اپنے والدین یاد آنا شروع ہوگئے۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے ساتھ سختی میرے بھلے کے لیے کر رہے تھے۔'

سراج کا کہنا ہے کہ ممبئی کی سی آئی ڈی نے ان کے کیس میں تفتیش شروع کی تو انھیں پتا چلا کہ اس کا خاندان پاکستان میں ہے۔ انھیں پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کی بجائے انھوں نے سراج کو انڈیا میں غیرملکیوں کے قانون کے تحت گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا۔

پانچ سال تک سراج نے قانونی جنگ لڑی مگر آخر میں وہ کامیاب نہ ہو سکے اور انھیں پاکستان بھیج دیا گیا۔

ساجدہ واضح طور پر پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں 'حکومت کی جانب سے کسی نے ہمیں نہیں پوچھا۔ کیا صرف اس لیے کہ ہم مسلمان ہیں؟ میں حکام سے التجا کرتی ہوں کہ مجھ پر اور میرے بچوں پر رحم کریں اور پاسپورٹ حاصل کرنے میں ہماری مدد کریں۔'

ساجدہ کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے مالکِ مکان کی طرف سے این او سی چاہیے اور ساجدہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔

سراج نے اپنے پاکستانی شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی ہے مگر عملی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہیں۔ یہ دونوں ہی قانونی مسائل میں پھنسے اور ایک سرحد کی وجہ سے بٹے ہوئے ہیں۔

سراج پریشان اس لیے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ '25 سال پہلے میں اپنے والدین سے علیحدہ ہو گیا تھا اور اب میں اپنے بچوں سے۔ میں نہیں چاہتا کہ دو دہائیوں قبل میں جس چیز سے گزرا تھا میرے بچے بھی وہی درد سہیں۔'

سراج کہتے ہیں کہ ان کے لیے انڈیا اور پاکستان ایک جیسے ہیں۔ وہ پیدا ایک ملک میں ہوئے اور انھوں نے اپنی زندگی دوسرے ملک میں بنائی۔ مگر بہ اپنے خاندان کو سب سے زیادہ یاد کرتے ہیں۔

اپنے آبائی گاؤں میں بھی سراج کی زندگی پیچیدہ ہے۔ انھیں پشتون ثقافت اپنانے میں سب سے زیادہ مشکل پیش آ رہی ہے۔ اگرچہ ان کا تعلق اسی ثقافت سے ہے مگر وہ اتنی کم عمری میں گئے تھے کہ اب انھیں یہ اپنا معلوم نہیں ہوتا۔

ادھر ساجدہ کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں۔ جب سے سراج گئے ہیں، وہ اکیلی ہیں۔ انھوں نے بطور باورچی کام کرنا شروع کر دیا ہے اور گھر کے خرچے پورے کرنے کے لیے وہ مصنوعی زیور بھی بنا رہی ہیں۔

'میں اپنے بچوں کی تمام تر ضروریات پوری کر بھی لوں، چاہے انھیں دنیا کی ہر آسائش دے دوں، میں باپ نہیں بن سکتی۔ انھوں (حکام) نے میرے بچوں کو باپ کے پیار اور شفقت سے محروم کر دیا ہے۔'

انھوں نے انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو بھی مدد کے لیے اپیل کی ہے۔ سشما سوراج کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سرحد پار مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔

انٹرویو کے دوران سشما سوراج کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'میں بھی اس ملک کی بیٹی ہوں۔ خدارا میری اپنے شوہر سے ملنے میں مدد کریں۔'

اسلام آباد میں مقیم ایک خاتون نے اپنے بھائی کے خلاف قانون کا در کھٹکھٹایا ہے اور اُن کا الزام ہے کہ اُن کے بھائی نے اُن کی دو بیٹیوں کو ریپ کیا تھا۔ ان خاتون نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے اپنی کہانی بیان کی اور بتایا کہ جب اُن کی آٹھ اور بارہ برس کی بیٹیوں نے اُن سے اپنے ماموں کے بارے میں شکایت کی تو وہ یہ معاملہ سمجھ نہیں سکیں کیوں کے وہ اپنے بھائی پر اندھا اعتماد کرتی تھیں۔

میں پچھلے کئی ہفتوں سے کبھی پشاور کبھی لاہور اور کبھی اسلام آباد میں گائنا کالوجسٹ کے کلینک کے چکر لگا رہی ہوں اور اپنی دونوں کم سن بچیوں کی سرجری کی منتظر ہوں، جو میرے اندھے اعتبار کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی اذیت اور ناقابل بیان تکلیف کا شکار ہوئی ہیں۔

اب انھیں سکول سے بھی نکالا جا رہا ہے کیونکہ سکول انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ ان کے ادارے کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہیں۔

جس دن میری بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی میرے علم میں آئی اس دن میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں لیکن پھر میں نے اس بات کو چھپانے کے بجائے پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہی ہے کہ سب والدین بیدار ہو جائیں۔ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ کیسا ہے۔ آپ اپنے بھائی باپ اور والد پر یقین کریں ضرور کریں لیکن اپنی آنکھیں بند نہ رکھیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔

میرے کام کی نوعیت ایسی تھی کہ مجھے کبھی شہر سے باہر بھی جانا پڑتا تھا لیکن بچھلے دو سال سے جب بھی میں گھر سے نکلنے کے لیے تیاری پکڑتی میرے بڑی بیٹی کانپنے لگتی اور کہتی امی آپ ہمیں بھی ساتھ لے جایا کریں وہ بہت روتی اور فریاد کرتی تھی لیکن میں اس کی وجہ یہی سمجھتی رہی کہ وہ پڑھائی میں دل نہیں لگا رہی۔

میں چاہتی تھی کہ وہ پڑھیں لکھیں اور میرے کام میں دلچسپی نہ لے۔

میں نے ان 14 برسوں میں کبھی بھی کسی مرد کو ملازم نہیں رکھا تھا یا خود کام کرتی تھی یا خاتون ملازمہ کی مدد لیتی۔ جب میرا بھائی تھوڑا سمجھدار ہوا اور میں دوسرے شہر منتقل ہوئی، تو میں نے بھائی کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔ اسی عرصے میں میرے شوہر نے بیرون ملک کاروبار شروع کر دیا۔

میرا 19 سالہ بھائی مجھے سودا سلف لانے اور بچوں کو سکول لانے لے جانے اور میری مدد کرتا۔

میرے گھر سے نکلنے پر بچیاں روتی تھیں لیکن کبھی انھوں نے ایسا کچھ نہیں بتایا کہ مجھے شک ہوتا یا میں کچھ جانچنے کی کوشش کرتی۔

ان دو سالوں میں کچھ غیر معمولی نہیں ہوا ہاں یہ تھا کہ مجھے ہر دوسرے دن بچیوں کو پیٹ میں درد کی شکایت پر معدے کے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتی تھی۔

ہر وقت درد رہتا تھا اور ڈاکٹر کو کیا معلوم کہ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ مجھے یہی کہتے تھے کہ باہر کی چیزیں مت کھلائیں چپس وغیرہ۔

چند ہفتے قبل وہ ایک معمول کی صبح تھی میرے تین سالہ بیٹے نے مجھے کہا کہ اُسے ناشتا کرنا ہے میں رات دیر سے کام سے لوٹی تھی سوچا کہ اپنے چھوٹے بھائی سے کہتی ہوں وہ ناشتا بازار سے لے آئے۔ کمرے سے نکلی تو آٹھ سالہ بیٹی کے رونے کی آواز سنائی دی۔

میں سمجھی کہ بچے آپس میں کسی بات پر لڑ رہے ہیں میں بھائی کے کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے اسے اپنی بیٹی کے ساتھ ایسی حالت میں دیکھا کہ میں بیان نہیں کر سکتی، میں ایسی ہو گئی جیسے مر گئی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم میں کیسے گری کیسے میں نے خود کو مارا اور کیسے اُسے پیٹا۔

میرا بھائی وہاں سے فرار ہو گیا پھر میں پولیس کے پاس جانے کے بجائے اپنی ماں کے پاس گئی۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں بچیوں کو گائنا کالوجسٹ کے پاس لے کر گئی ہوں اور اس نے بتایا ہے کہ تمھاری بچیاں ٹھیک نہیں ہیں۔

لیکن میری ماں مجھ سے ایسے ملی جیسے میری بیٹوں نے ان کے بیٹے کے ساتھ کچھ ایسا کیا ہے۔ نہ مجھے پانی کا پوچھا اور نہ ہی میرا دکھ بانٹا۔

میری ماں اب تک اپنے بیٹے کا ساتھ دے رہی ہیں ہاں لیکن وہ ڈی این اے پر اصرار کر رہی ہیں۔

پھر میں نے رپورٹ درج کروائی میرا بھائی گرفتار ہو گیا۔

میرے خاندان والے میرے ساتھ نہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ سب چھپا دیتی شور نہ مچاتی لیکن میں سوچتی ہوں کہ میری بیٹیاں جو ابھی تو نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن کل جب وہ بڑی ہوں گی تو اور انھیں پتہ چلے گا خود پر گزری زیادتی کا تو کیا وہ مجھ سے سوال نہیں کریں گی کہ ماں نے انھیں انصاف کیوں نہیں دلایا؟

میری بیٹیاں اسی کا نام لیتی ہیں۔ وہ سوتے میں چیخنے چلانے لگتی تھیں اور مجھے انھوں نے بتایا کہ یو ٹیوب پر ماموں ہمیں قتل کرنے والی ویڈیو دکھاتے تھے۔ کبھی پنکھے سے لٹکتی لاشیں کہ اگر تم نے ماما کو بتایا تو تمھیں مار دوں گا۔

بھائی کی گرفتاری کے بعد جب بیٹیوں نے مجھے یہ سب بتایا تو میں نے ان کی تسلی کے لیے دو تین بار انھیں ہتھکڑی لگے ہوئے بھائی کو دکھایا تو وہ پر سکون اور خوش ہوئیں۔

میرے شوہر اس بات کو منظر عام پر لانے میں میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے سوشل میڈیا پر لوگوں کے پیغامات ملتے ہیں جن میں زیادہ تر افراد میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں بہت کم ہیں جو تنقید کر رہے ہیں۔

اپنے بچوں کے سامنے تو نہیں لیکن چھپ چھپ کر روتی ہوں میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں چپ رہوں سب کے بچے میرے بچے ہیں میں اس امید کے ساتھ کھڑی ہوں کہ مجھے حکومت اور قانون انصاف دے گا۔

والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے، جب وہ سکول سے لوٹیں تو ان سے پوچھیں کہ دن کیسا گزرا کیا کھایا دوستوں کے ساتھ کیا کھیلا؟ انھیں اعتماد دیں تاکہ وہ خوف اور دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

سکول میں بھی بچوں کو اپنے تحفظ اور اپنے والدین سے ہر بات شیئر کرنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ بالکل ایسے جیسے آپ اسلامیات، انگریری اور اردو پڑھاتے ہیں یہ بھی سکھائیں کہ ’گڈ ٹچ‘ اور ’بیٹڈ ٹچ‘ کیا ہوتا ہے اور یہ کہ اگر کوئی آپ کو چھوئے تو اپنی امی کو بتائیں۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے مطابق سنہ 2017 میں پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کم از کم 3445 واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں 60 فیصد کیسز میں بچے کو ہراساں کرنے والے اُن کے قریبی لوگ یا خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔

یہ 1984 کی بات ہے جب میں ابھی کالج میں ہی تھا۔ اتنے زیادہ ٹی وی چینل نہیں تھے جتنے اب ہیں بلکہ پی ٹی وی کے علاوہ صرف امرتسر ٹی وی ہی لاہور میں دیکھا جا سکتا تھا اور وہ بھی اس وقت جب موسم صاف ہو۔ نہ ہی خبر حاصل کرنے کے لیے کوئی سوشل میڈیا تھا اس لیے اچھی اور بری خبریں دھیرے دھیرے ہی کانوں تک پہنچا کرتی تھیں۔

گھر میں امرتسر ٹی وی آتا تھا لیکن یہ خبر وہاں سے نہیں ملی۔ یہ خبر ملی پاکستانی اخباروں، پی ٹی وی اور ریڈیو سے کہ سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر تین جون 1984 کو بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہے اور اس میں کئی سکھ مارے گئے ہیں۔ اس وقت یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت ایک ہی عمارت کا نام ہے یا یہ دو الگ الگ عمارتیں ہیں۔ اس فوجی آپریشن کو ’آپریشن بلیو سٹار‘ کا نام دیا گیا۔

بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں سکھ برادری کے ایک رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ نے وہاں کئی برسوں سے ڈیرے جمائے ہوئے تھے اور وہ پہلے اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے علیحدہ ملک کا نعرہ لگایا تو دوستی دشمنی میں تبدیل ہو گئی۔

بھنڈراوالہ بس گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں بیٹھے کسی ایسے دن کا انتظار کر رہے تھے جب بھارتی فوج غلطی کرے۔ اور تین جون کو اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی سے غلطی ہو گئی۔ فوج کو حملے کا حکم ہوا اور پھر بھارتی توپخانے اور ٹینکوں سے حملہ کر دیا۔ بڑا خون خرابہ ہوا۔ اگرچہ انڈیا نے پنجاب میں کرفیو لگایا لیکن بین الاقوامی میڈیا خصوصاً بی بی سی گولڈن ٹیمپل پر حملے کی رپورٹیں مسلسل نشر کر رہا تھا۔ مارک ٹلی اس رپورٹنگ میں سرِ فہرست تھے۔

اگر میں آج سوچوں تو یاد آتا ہے کہ اس دور میں انڈیا اتنے زیادہ قریب نہیں تھا جتنا اب میڈیا اور 'ایکسپوژر' کی وجہ سے ہو گیا ہے۔ 'دشمن' بہت دور تھا اور اس کے متعلق زیادہ خبر بھی نہیں تھی۔

مجھے یاد ہے کہ میری اور میرے جیسے بیشتر پاکستانیوں کی ہمدردیاں فوراً سکھ برادری سے ہو گئیں اور کم از کم پاکستان میں یہ سمجھا جانے لگا کہ کیونکہ اب بھارتی فوج نے سکھوں کے 'مکہ' پر حملہ کیا ہے اس لیے سکھ اسے کبھی نہیں بھولیں گے اور اب وہ ہندوستان سے تو کم از کم الگ ہو جائیں۔ ہم ناتجربہ کار اور نادان نوجوان تھے۔

گولڈن ٹیمپل میں مزید پانچ دن خون خرابہ ہوتا رہا اور جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ اور ان کے بہت سے ساتھی مارے گئے۔

سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد چار سو سکھ اور تراسی فوجی بتائی گئی لیکن سکھ یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں۔

اگرچہ گولڈن ٹیمپل کو اکا دکا گولیوں کے نشانات کے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا لیکن اکال تخت اور اس سے ملحق عمارتوں کو بموں اور بھاری اسلحہ سے کیے گئے حملے کی وجہ سے بھاری نقصان پہنچا۔

ہلاکتوں کے بعد سوگ تھا، ہر طرف سوگ۔ جنھوں نے قبضہ کیا اور مارے گئے ان میں بھی سوگ اور جنہوں نے حملہ کیا اور قبضہ چھڑایا ان میں بھی سوگ۔ لیکن سب سے زیادہ سوگ عام سکھ برادری میں تھا جسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس کی طرف داری کرے۔ ایک غصہ تھا جو دبا ہوا تھا۔ یہ غصہ چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنھیں ان کی ہی سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اور گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کا بدلہ لیا۔ لیکن اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً دلی میں سکھ مخالف مظاہرے ہوئے جس میں کم از کم تین ہزار سکھ ہلاک کر دیے گئے۔

سنہ 2012 میں اس آپریشن کی بازگشت ایک مرتبہ پھر لندن میں سنی گئی جب چند سکھ نوجوانوں نے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی، انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر چاقو سے اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل واپس آ رہے تھے۔ کلدیپ سنگھ برار آپریشن بلیو سٹار کے کمانڈنگ آفیسر تھے اور انھیں اس آپریشن کا آرکیٹکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ جنرل (ر) برار کی گردن پر ایک گہرا زخم آیا لیکن وہ جان لیوا نہیں تھا۔ وہ جلد ہی صحت یاب ہو گئے۔ اس حملے کے سلسلے میں برطانیہ میں درجن بھر سکھوں کو گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں پانچ کو جن میں ایک عورت بھی شامل تھی حملہ اور اس کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں سزائیں سنائی گئیں۔

میں جب 1997 میں اپنی بیوی کے ساتھ امرتسر گیا تو میرا ایک سکھ دوست ہمیں گولڈن ٹیمپل دکھانے لے گیا۔ جب وہ اکال تخت کی عمارت کے سامنے آیا تو اس نے سر جھکا کر کہا یہ ہے ہماری شرمندگی کی نشانی۔ کم از کم اس وقت تک تو وہ عمارت اسی طرح ٹوٹی ہوئی موجود تھی اور ہر آنے والے سکھ کو یہ یاد دلاتی تھی کہ جون 1984 میں کیا ہوا تھا۔

 

سما شبیر عام کشمیری لڑکیوں سے محض اس لیے مختلف نہیں ہیں کہ انھوں نے انڈیا بھر میں منعقدہ بارہویں جماعت کے وفاقی امتحانات میں کشمیر سے ٹاپ کیا۔

وہ اس لیے بھی مختلف ہیں کہ ان کے والد شبیر احمد شاہ سینیئر علیحدگی پسند رہنما ہیں جنھوں نے کُل ملا کر اب تک 31 سال مختلف جیلوں میں گزارے ہیں۔

بارہویں جماعت میں داخلہ لیتے ہی سما کے والد شبیر شاہ کو قانون نافذ کرنے والے سرکاری ادارے (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے خفیہ ذرائع سے رقوم لے کر مسلح شورش کو فنڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔

امتحانات کی تیاری کے دوران جب سما دلی کی تہاڑ جیل میں والد سے ملنے جاتیں تو انھیں پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا، لیکن وہ یہ وقت جیل کے باہر پڑھائی میں صرف کرتی تھیں۔

سما کہتی ہیں: ’ویسے بھی کشمیر میں اگر آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہوا پھر بھی حالات کا اثر آپ کے دل و دماغ پر پڑتا ہے، لیکن میں ذاتی طور پریشان تھی، میرے بابا جیل میں تھے اور ملاقات اس قدر مشکل تھی کہ ایک دن جیل کے باہر انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن میں کتابیں ساتھ لے جاتی تھی اور انتظار کے دوران جیل کے باہر پڑھتی تھی۔‘

سما کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد سے متاثر ہوئیں کہ وہ سالہاسال سے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اپنے مقصد کے لیے کوشاں ہیں، اس لیے انھوں نے بھی طے کر لیا کہ وہ اُن کے لیے فخر کا باعث بن کر دکھائیں گی۔

سما شاہ کی والدہ سرکاری ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر ہیں اور وہ خود انصاف کی لڑائی لڑنے کے لیے وکالت کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔

یہ پوچھنے پر کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مظاہروں میں حصہ لیتے ہیں لیکن انھوں نے سارا وقت امتحان کی تیاری میں صرف کیا۔ سما کہتی ہیں کہ انھوں نے بچپن سے اپنوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کا طویل سلسلہ دیکھا ہے۔

’میری لڑائی قانونی ہو گی، اسی لیے میں نے ڈاکٹر یا انجنیئر بننا نہیں چاہا، میں وکیل بنوں گی، اور کشمیر ہو یا کوئی اور جگہ میں ناانصافیوں کے خلاف اپنی تعلیم اور اپنا ہنر بھرپور استعمال کروں گی۔‘

سما کی والدہ ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ خاوند کے جیل میں قید ہونے کے بعد انھوں نے بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ’جیل کے اندر شبیر شاہ کا سر فخر سے اونچا ہو۔‘

سما کو دکھ ہے کہ وہ اپنی شاندار کامیابی کی خبر سب سے پہلے اپنے والد کو نہیں سنا پائیں۔

’انھوں نے اخبار میں پڑھا ہوگا، لیکن میں انہیں اس اہم موقع پر دیکھنا چاہتی تھی، وہ بہت خوش ہو جاتے۔ ہمیں تو جیل میں بھی انہیں شیشے کی آڑ سے دیکھنا ہوتا ہے اور بات بھی مائیکرو فون کے ذریعے ہوتی ہے۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکثر علیحدگی پسند رہنماؤں کے بچوں نے تعلیم کے میدان میں اہم کارنامے کیے ہیں۔

سید علی گیلانی کے ایک فرزند ڈاکٹر اور چھوٹے بیٹے زرعی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، مسلح رہنما سید صلاح الدین کے چھوٹے بیٹے بھی ڈاکڑ ہیں، آسیہ انداربی کے فرزند ملیشیا میں اعلیٰ تعلیم میں مصروف ہیں۔ البتہ سید گیلانی کے دست راست اشرف صحرائی کے بیٹے جنید خان حالیہ دنوں تعلیم ادھوری چھوڑ کر مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شریک ہوگئے۔

علیحدگی پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نوجوان خود اپنا راستہ چنتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منگل کو ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے سکھوں کے مذہبی رہنما چرن جیت سنگھ اکثر اوقات مذہبی رواداری اور امن کے فروغ کے لیے ہونے والے پروگراموں میں سرگرم اور پیش پیش رہا کرتے تھے۔

پشاور میں سکھ برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ چرن جیت سنگھ کو منگل کو پشاور کے علاقے سکیم چوک میں اپنے دوکان میں مسلح حملہ آور نے پستول سے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

انھوں نے کہا پولیس کے مطابق واردات میں سائلنسر والے پستول کا استعمال کیا گیا ہے کیونکہ قریبی دکانوں میں کسی کو فائرنگ کی آوازسنائی نہیں دی۔ انھیں اس وقت واقعے کا علم اس وقت ہوا جب سکھ رہنما کی موت ہو چکی تھی۔

مقتول پشاور میں سکھوں کے سرگرم مذہبی رہنما تھے اور ان کے میڈیا کے نمائندوں سے بھی بڑے اچھے اور قریبی مراسم تھے۔

اپریل 2014 میں خیبرپختونخوا میں سکھوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا تو میں اس ضمن میں ایک رپورٹ بنانے کے لیے پشاور میں سکھ برادری کے مرکز محلہ جوگن شاہ کے گوردوارہ پہنچ گیا۔ یہاں مجھے چرن جیت سنگھ ملے جس نے گوردوارے میں ہمارا استقبال کیا۔ میں نے ان کا ٹی وی اور ریڈیو کے لیے مفصل انٹرویو بھی کیا۔ اس انٹرویو کے کچھ حصے اس وقت میرے سامنے موجود ہیں۔

چرن جیت سنگھ نے اس وقت کہا تھا کہ ’پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمارے آبا و اجداد یہاں رہتے آئے ہیں، پھر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے تو ہمارے اپنے گھر ہیں، یہاں ہم پلے بڑھے ہیں یہ ہماری اپنی مٹی ہے لیکن افسوس یہاں ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا اگر سکھ باشندے اپنی پیدائش کے مقامات میں بھی محفوظ نہ ہوں تو پھر وہ کہاں جائیں یہ ملک چھوڑ دیں یا کیا کریں۔

'ہم پہلے بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک سے ہجرت کر کے نہیں آئے بلکہ ہم اسی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارا جینا مرنا بھی یہاں ہے۔'

بنیادی طورپر چرن جیت سنگھ کا تعلق قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے تھا لیکن وہ گذشتہ 27 برسوں سے خاندان سمیت پشاور میں مقیم تھے۔ وہ سکھوں کے مذہبی مبلغ بھی تھے۔

پشاور کی سکھ برادری مذہبی بھائی چارے کے فروغ کے لیے پشاور میں رمضان کے مہینے میں غریب اور نادار مسلمانوں کے لیے مفت افطاری کا اہتمام کرتی آئی ہے اور یہ سلسلہ گذشتہ تین سالوں سے جاری ہے۔

مقتول چرن جیت سنگھ اکثر اوقات اس مہم میں پیش پیش ہوتے تھے۔ سکھوں کے مخیر افراد شہر کے مختلف علاقوں میں دستر خوان لگا کر ہر رمضان کے دوران چار سے پانچ مرتبہ مفت افطاری کا انتظام کیا کرتے تھے جس میں شہر بھر کے غریب مزدور شرکت کرتے تھے۔

تاہم سکھوں کے نمائندوں کے مطابق اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافے کے باعث اس سال ان افطاریوں کی ذرائع ابلاغ پر زیادہ تشہیر نہیں کی گئی۔

پشاور میں سکھوں کے ایک نوجوان رہنما باباجی گورپال سنگھ کا کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے افراد ہر وقت گھر کے اندر، باہر یا کام کی جگہ پر ڈر اور خوف کی حالت میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

انھوں نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا کہ سکھوں کے خلاف جاری تشدد کے واقعات کا فوری طورپر نوٹس لیا جائے اور انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چرن جیت سنگھ کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے اور صارفین کی طرف سے سکھ برادری کے ساتھ اظہار تعزیت کیا جارہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ رخشندہ ناز نے فیس بک پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’چرن جیت سنگھ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کرنی چاہیے تھیں کیونکہ مذہبی راوداری اور امن کے فروغ کے لیے ان کی خدمات گراں قدر رہی ہیں۔‘

ایک اور صارف سید حسن علی شاہ نے لکھا ہے کہ ’چرن جیت سنگھ کو مسلمانوں کےلیے افطاری کا انتظام کرنے کی سزا دی گئی اور کسی مذہبی رہنما نے اس انسان دوست شخص کو قتل کرنے کی مذمت تک نہیں کی۔‘

سماجی کارکن ثنا اعجاز نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’چند دن پہلے ہم نے سنا کہ انڈیا میں ایک سکھ فوجی نے ایک مسلمان کو مشتعل ہجوم سے بچایا اور کل ہم نے پشاور کے مضافات میں دیکھا کہ ایک سکھ رہنما کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔‘

انگلینڈ میں ناٹنگھم شہر کے کمیونٹی سینٹر اور باکسنگ سکول میں اپنے شاگردوں کی کوچنگ کرتی ہوئی زہرا بٹ اپنے حجاب کی وجہ سے کافی منفرد دکھائی دیتی ہیں۔

زہرا بٹ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون ہیں۔ وہ برطانوی امیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کی لیول ون باکسنگ کوچ ہیں۔

’میں بیٹی کی پیدائش کے بعد اپنا وزن کم کرنے کے لیے جمنازیم گئی تھی لیکن پھر ورزش کے لیے کی جانے والی یہ باکسنگ میری زندگی کا حصہ بن گئی۔ میں چاہتی تھی کہ ناٹنگھم کے کمیونٹی سینٹر میں خواتین کے لیے باکسنگ کلاسز ہوں لیکن وہاں کوئی خاتون کوچ موجود نہیں تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مجھ سے ہی کہا گیا کہ میں برطانوی امیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کا لیول ون کورس کروں جو میں نے کیا اور اب میں دوسروں کو باکسنگ سیکھا رہی ہوں۔‘

زہرا بٹ کے لیے باکسنگ کوچ بننے کا یہ سفر ہرگز آسان نہیں رہا کیونکہ انھیں لوگوں کی طرح طرح کی باتیں بھی سننی پڑی تھیں۔

’عام طور پر ہماری خواتین اور بچیوں کے بارے میں فیصلے فیملی کے بڑے بزرگ کرتے ہیں۔ میری زندگی کے بھی تمام فیصلے میری فیملی نے مل جل کر کیے لیکن باکسنگ کو اپنانے کا فیصلہ میں نے خود کیا تھا۔ لوگوں نے میرے گھر والوں کو کہا کہ یہ کیا کر رہی ہے۔ آپ نے اسے باکسنگ کی اجازت کیوں دی ہے؟ یہ اچھی بھلی درس و تدریس کے معزز شعبے میں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان باتوں سے میری والدہ بہت پریشان ہوتی تھیں۔ انھیں میرا فیس بک پر تصاویر پوسٹ کرنا بھی پسند نہ تھا اور وہ ناراض ہو کر کہتی تھیں کہ سب کو کیوں بتاتی ہو کہ تم باکسنگ کوچ ہو۔ میں انھیں کہتی تھی کہ اگر لوگوں کو یہ پسند نہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے میرا نہیں۔ میں جو کچھ کررہی ہوں وہ کرتی رہوں گی۔‘

زہرا بٹ اپنے حجاب کو خوش قسمتی اور انفرادیت کی علامت سمجھتی ہیں۔

’میں نے پندرہ سال پہلے یہ حجاب اپنی مرضی سے پہنا تھا اور یہ میری طاقت اور ہمت ہے۔ میں نے اپنی ٹریننگ کے دوران اسے کبھی نہیں اتارا۔ میرے لیے حجاب خوش قسمت ثابت ہوا ہے اور اب یہ میری پہچان بھی بن چکا ہے کیونکہ اگر میں یہ نہ پہنتی تو کوئی میرے کام میں دلچسپی نہیں لیتا۔ غیرمسلم لڑکیاں اسی کی وجہ سے میری طرف متوجہ ہوتی ہیں۔‘

زہرا بٹ نے اگرچہ رِنگ میں باقاعدہ کوئی باؤٹ نہیں لڑی لیکن وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جس نے خود باکسنگ نہیں لڑی وہ اچھا کوچ نہیں بن سکتا۔

آپ کی نظر باہر سے جس طرح دیکھ سکتی ہے وہ چیز آپ رِنگ کے اندر سے نہیں دیکھ سکتے۔ میں نے اگرچہ کوئی فائٹ نہیں لڑی ہے لیکن میں اپنے کوچ اور ساتھیوں کے ساتھ باقاعدگی سے سپارنگ (باکسنگ کی تربیت) کرتی ہوں، میں اپنی ٹریننگ بڑھانا چاہتی ہوں اور خود کو اس لیول تک لانا چاہتی ہوں کہ باؤٹ کر سکوں۔‘

زہرا بٹ کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی اب ان کے کام سے بہت خوش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے یہ سفر تنہا شروع کیا تھا لیکن مجھے اپنے ساتھ رہنے والی خواتین کا بہت ساتھ رہا۔ انگریز لوگوں نے میری ہمت بڑھائی اب میری فیملی بھی میری حوصلہ افزائی کر رہی ہے لیکن خاندان میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو میرے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ میں گھر میں بیٹھ کر پارلر کا کام کیوں نہیں کر رہی ہوں۔ میں انھیں یہی کہتی ہوں کہ اگر ہر عورت گھر میں بیٹھ کر پارلر کا کام کرتی تو یہ کام کون کرتا جو میں کررہی ہوں۔‘

کراچی کی ایک مقامی مسجد پر نگرانی کے لیے نصب کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجن کے قریب مسلح افراد 30 سالہ نعیم حیدر کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض نے چہروں پر نقاب پہن رکھے تھے جبکہ دیگر پولیس وردی میں تھے۔

یہ 16 نومبر 2016 کی رات تھی۔ اس کے بعد سے آج تک نعیم حیدر کو نہیں دیکھا گیا۔ بطور ثبوت سی سی ٹی وی ویڈیو موجود ہونے کے باوجود پولیس اور خفیہ اداروں نے عدالت میں انکار کر دیا کہ وہ ان کی حراست میں ہیں۔

شیعہ افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق نعیم حیدر ان 140 پاکستانی شیعہ افراد میں شامل ہیں جو گذشتہ دو سال کے دوران ’لاپتہ‘ ہوئے۔ ان افراد کے خاندان والوں کے خیال میں یہ تمام افراد خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔

ان لاپتہ افراد میں جن میں نعیم حیدر بھی شامل ہیں، 25 سے زیادہ کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہے۔

نعیم حیدر کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ حراست میں لیے جانے سے دو روز قبل ہی اپنی حاملہ بیوی کے ہمراہ عراق میں زیارات کے بعد کراچی پہنچے تھے۔

ان کی اہلیہ عظمیٰ حیدر کے ہاں بیٹے کا جنم ہوا جس نے آج تک اپنے والد کو نہیں دیکھا ہے۔ عظمیٰ نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے بچے ہر وقت مجھ سے پوچھتے ہیں، ہمارے والد کب گھر آئیں گے؟‘

وہ کہتی ہیں ’میں انھیں کیا جواب دوں۔ مجھے کوئی نہیں بتاتا کہ وہ کہاں ہیں۔ کم از کم یہی بتا دیں کہ ان پر الزام کیا ہے۔‘

لاپتہ ہونے والے دیگر شیعہ افراد کے اہلخانہ کے پاس بھی بتانے کو کچھ ایسی ہی کہانی ہے کہ ان کے پیاروں کو رات کی تاریکی میں سکیورٹی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

کراچی کے ہی ایک متوسط علاقے میں ایک مکان میں جمع شیعہ خواتین نے مجھے بتایا کہ انھیں حکام کی جانب سے ان کے گمشدہ رشتہ داروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا کہ آیا انھیں کہاں رکھا گیا ہے یا ان کے خلاف الزامات کیا ہیں۔

شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ ان افراد پر شام میں سرگرم ایک مسلح ملیشیا زینبیون بریگیڈ سے رابطوں کا شک ہے۔

زینبیون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ملیشیا ایک ہزار کے قریب شیعہ پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو شام میں صدر بشارِالاسد کی جانب سے برسرِپیکار ہے تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف شام میں مقاماتِ مقدسہ کا تحفظ ہے جنھیں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے خطرہ لاحق رہا ہے۔

تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے اس تنظیم کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی لاپتہ ہونے والی کسی بھی فرد کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

راشد رضوی کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے بیشتر مقاماتِ مقدسہ کی زیارات سے واپسی کے بعد غائب ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ریاستی اداروں کے کچھ نمائندے میرے پاس آئے تھے۔ انھوں نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم احتجاج ختم کریں مگر میں نے ان سے پوچھا آپ نے ان لوگوں کو کیوں اٹھایا تو ان کا جواب تھا ہمارے خیال میں یہ شام میں داعش اور القاعدہ سے لڑنے گئے ہیں۔‘

راشد رضوی کا کہنا تھا کہ ’اس پر میں نے ان سے سوال کیا اگر ایسا ہے تو انھیں عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کرتے۔‘

اس بارے میں جب پاکستانی ریاستی اداروں سے سوال کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ تاہم پاکستانی حکام اکثر یہ کہتے ہیں کہ ملک میں سکیورٹی اداروں کو غیرمنصفانہ طور پر لوگوں کو لاپتہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور یہ کہ ملک میں لاپتہ افراد کی تعداد بھی بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔

لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستان میں حساس ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اس وقت 1500 ایسے افراد ہیں جنھیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان میں مشتبہ سنّی جہادی، قوم پرست کارکن اور فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقدین بھی شامل ہیں۔

لاپتہ ہونے والے شیعہ افراد میں سے کچھ واپس بھی آئے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص نے جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے، بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’ایک چھوٹے اور تاریک کمرے‘ میں رکھا گیا تھا جہاں انھیں ’شدید تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا اور ’بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان سے بار بار زینبیون کے بارے میں ہی سوال کیے جاتے رہے اور پوچھا جاتا رہا کہ وہ اس تنظیم میں کس کو جانتے ہیں اور انھیں کہاں سے مالی مدد ملتی ہے۔

واپس آنے والوں میں ثمر عباس بھی ہیں جو 14 ماہ کے طویل عرصے تک لاپتہ رہنے کے بعد رواں برس مارچ میں گھر لوٹے ہیں جبکہ ان کے برادرِ نسبتی آج بھی لاپتہ ہیں۔

ثمر کا کہنا ہے کہ انھیں حراست میں رکھنے والوں نے انھیں یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ وہ بےقصور ہیں اور اپنی زندگی جیسے چاہیں گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ تاہم ان کے مطابق دورانِ تفتیش ان سے بھی زینبیون کے بارے میں سوال کیے جاتے رہے۔

’انھوں نے مجھ سے کہا تم لوگوں کو لڑائی کے لیے شام بھیجنے میں ملوث ہو۔ ہمیں ان کے نام بتاؤ۔ میں نے انھیں کہا، میں تو خود آج تک شام نہیں گیا۔‘

زینبیون بریگیڈ شام میں سرگرم ان شیعہ ملیشیاز کا حصہ ہے جن کا تعلق ایران سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں زینبیون کے علاوہ لبنانی حزب اللہ اور افغانی جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ بھی شامل ہے۔

زینبیون ان میں سب سے کم منظرِ عام پر آنے والا گروپ ہے تاہم اس کے ارکان کی جانب سے تنظیم کے جنگ میں مارے جانے والے کچھ ارکان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں۔ ان میں سے کئی کا تعلق بظاہر پاکستان کے قبائلی علاقے کرّم ایجنسی سے ہے جہاں شیعہ آبادی پائی جاتی ہے۔

محققین کا یہ بھی اندازہ ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں اب تک 100 سے زیادہ پاکستانی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں پاکستانی خفیہ اداروں کو خدشہ ہے کہ زینبیون کے پاکستان واپس آنے والے ارکان ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں تاہم وہ خود اس سے متفق نہیں۔

لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ دار کسی مسلح گروہ سے منسلک نہیں اور وہ بس ان کی واپسی چاہتے ہیں۔

 سالہ65 شمیم آرا جب اس دن کا ذکر کرتی ہیں جب ان کے سب سے چھوٹے بیٹے عارف حسین کو مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے تو ان کے آنسو نہیں تھمتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے تو کہا تھا ہم اس سے کچھ سوال پوچھ کر اسے چھوڑ دیں گے۔ ڈیڑھ برس بیت گیا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں۔ اگر انھوں نے اسے مار دیا ہے یا وہ زندہ ہے مجھے کچھ تو بتا دو۔ میں سارے شہر میں اسے ڈھونڈتی پھری ہوں۔‘

شمیم آرا کا کہنا تھا کہ ’میں رو رو کر تھک گئی ہوں۔ میں دعائیں مانگ مانگ کر تھگ گئی ہوں۔ خدا کے واسطے مجھے بتا دو میرا بیٹا کہاں ہے۔‘

اٹلی میں زیرِتعلیم پاکستانی طالبہ جس نے اپنے گھر والوں پر پاکستان لے جا کر دھوکے سے اسقاطِ حمل کروانے کا الزام عائد کیا تھا بازیابی کے بعد واپس اٹلی پہنچ گئی ہے۔

سالہ19 فرح نامی طالبہ اٹلی کے شہر ویرونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چند ماہ قبل وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔

فروری میں ان کے گھر والے انھیں مبینہ طور پر زبردستی واپس پاکستان لے گئے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف ان کا بچہ گرایا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھیں اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے ریسکیو کیا۔

کچھ روز تک اطالوی سفیر کے گھر پر رہنے کے بعد فرح جمعرات کی صبح میلان کے میلپینسا ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ اب اطالوی پولیس ان کا بیان لے گی جس کے بعد قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اطالوی میڈیا میں شائع ہونے والے فرح کے بیانات کے مطابق انھوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ انھوں نے فرح کو ’نشہ آور ادویات دے کر بستر سے باندھ کر اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔‘

یاد رہے کہ فرح کی کہانی منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے قبل ہی ایک اطالوی خاتون کی پاکستان میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی جنھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

 سالہ26 اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت 18 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ وہ بیمار تھیں۔ جس روز وہ ہلاک ہوئیں اس کے ایک دن بعد انھیں اٹلی واپس جانا تھا۔ تاہم ان کی پر اسرار حالات میں موت پر اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد مقامی پولیس نے جانچ پڑتال شروع کی تھی۔

اطالوی وزیرِ خارجہ اینجلو الفانو نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ’فرح آخرکار اٹلی لوٹ آئی ہیں اور اب محفوظ جگہ پر ہیں۔‘ اینجلو الفانو نے پاکستانی حکام کے تعاون کی تعریف بھی کی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق فرح کا خاندان 2008 میں ویرونا منتقل ہوا تھا۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کی ملاقات ان کے موجودہ منگیتر سے ہوئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔

فرح نے پہلی بار حکام سے ستمبر میں رابطہ کیا تھا اور انھیں خواتین کے مقامی شیلٹر نے تحفظ دیا ہوا تھا۔ ان کے والد کو برے سلوک کے حوالے سے مقامی حکام کے پاس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم بعد میں ان کی اپنے خاندان کے ساتھ صلح ہو گئی تھی اور وہ اس خیال سے ان کے ساتھ پاکستان گئی تھیں کہ ان کے بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔

جب ویرونا میں ان کی ساتھی طلبا نے اپنی ٹیچرز سے رابطہ کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سماجی امور کی ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے دستاویزات چوری کر لیے گئے تھے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ فرح اطالوی شہری نہیں ہیں اس لیے اٹلی کی وزارتِ خارجہ اور ویرونا پولیس نے پاکستانی حکام سے مدد مانگی جنھوں نے اسلام آباد میں فرح کا گھر تلاش کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے انٹرنیٹ صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ آئی ایس پی آر کے نام سے ملنے والی جعلی ای میل سے ہوشیار رہیں۔

انٹر نیٹ صارفین میں ایک پیغام گردش کر رہا تھا کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اپنے مداحوں سے ملنا چاہتے ہیں اس لیے ملنے کے خواہشمند invite@ispr.press کے ای میل پتہ پر درخواستیں بھیجیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں خبردار کیا کہ یہ ایک جعلی ای میل ہے اور اس کا آئی ایس پی آر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر انٹرنیٹ صارفین کو اس طرح کی کوئی ای میل موصول ہو تو اسے نہ کھولیں اور اس کے بارے میں رپورٹ کر دیں۔

انھوں نے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر غلطی سے یہ ای میل کھل جائے تو اس میں موجود کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں۔ کیونکہ اس پر کلک کرنے کی صورت میں آپ کے کمپیوٹر یا فون کی سکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

فوج کے ترجمان نے اپنی ٹویٹ کے آخر میں صارفین کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان کا آفیشل ڈومین ispr.gov.pk ہے اور ان کا کسی بھی اور ڈومین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل میجر جنرل آصف غفور نے اہنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ سوابی سے آنے والے اپنے ایک مداح سے مل کر کافی خوش ہوئے ہیں اور ایسی ملاقات کے لیے اکثر درخواستیں ملتی رہتی ہیں۔

ان کا اُس ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’مجھے مداحوں سے ملاقات کے لیے ایک دن طے کرنے دیں۔ آپ کی محبت اور حمایت کا بہت شکریہ۔‘

ان کی اس ٹویٹ کے بعد ہی یہ جعلی ای میل ایڈرس بھی گردش کرنے لگا اور لوگوں کو ای میل بھی موصول ہوئیں۔

انڈیا اور پاکستان کے منجمد رشتوں کے درمیان انڈیا کے خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کے لیے انڈیا کو پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دینی چاہيے۔

اے ایس دُلت نے یہ بات انڈیا کے ایک سرکردہ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر ایک بات چیت کے دوران کہی۔

جب ان سے پو چھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہیں، رشتے منجمد ہیں اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیے؟ تو دُلت نے جواب دیا کہ کچھ عرصے پہلے ٹریک ٹو کی ایک میٹنگ میں یہ صلاح دی گئی تھی کہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر کو لاہور بلایا جائے۔ لیکن پاکستان میں کسی نے اس مشورے کو اہمیت نہیں دی۔ کسی نے بصیرت نہیں دکھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں بہت پر امید ہوں، وقت بہت بدل چکاہے۔ دونوں کوریا ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔ کسی نے سوچا تھا کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ہوگی؟ ہمیں بھی بڑا سوچنا چاہیے۔ ریڈ کارپٹ بچھائیے۔ جنرل باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دیجیے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔'

ٹی وی پر اس بات چیت میں پاکستان کی خفیہ سروس کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی بھی سکائپ کے ذریعے شامل تھے۔

دولت اور جنرل درانی نے انڈیا اور پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں مشترکہ طور پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان 'سپائی کرونکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس' ہے۔

دونوں سابقہ جاسوسوں نے کتاب کا بیشتر حصہ دبئی، استنبول اور کٹھمنڈو میں لکھا ہے۔ یہ کتاب باضاطہ طور پر اسی ہفتے ریلیز ہونی تھی لیکن جنرل درانی ویزا نہ ملنے کے سبب ابھی تک دلی نہیں آ سکے ہیں۔

اے ایس دُلت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ ایک مشترکہ کتاب لکھتے ہیں یہی ایک غیر معمولی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن مشکل ضرور ہے لیکن اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے پروازیں بڑھائی جانی چاہییں اور 'دونوں ملکوں کو کرکٹ کے روابط فوری طور پر بحال کرنے چاہییں۔'

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی اور ان کے انڈین ہم منصب، 'را' کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کی انڈین مصنف ادتیا سنہا کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب 'دا سپائی کرانیکلز : را، آئی ایس آئی اینڈ الُوژنز آف پیس' نے سرحد کے دونوں جانب بحث مباحثے کے نئے در کھول دیے ہیں۔

اس کتاب میں دونوں جاسوسوں نے اپنے اپنے کیرئیر اور دونوں ممالک کے درمیان تلخ تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے اور ماضی کے کئی اہم واقعات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ مستقبل میں امن حاصل کرنے کے لیے روڈ میپ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔

اس کتاب کے لیے دونوں افسران اور ادتیا سنہا نے بنکاک، استنبول اور کھٹمنڈو میں 2016 اور 2017 میں چار مختلف مواقعوں پر ملاقاتیں کیں۔

تقریباً 350 صفحات پر مبنی اس کتاب کے چند اقتباسات قارئین کے زیر نظر ہیں۔

کیا پاکستانی وزیر اعظم آئی ایس آئی سے خوفزدہ ہوتے ہیں؟

پاکستان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے کہا کہ پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے لیتی ہے اور ہمیں اس کے لیے فوج کو یا حکومت کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آئی ایس آئی اور انڈیا میں اس کی شہرت

را کے سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کہتے ہیں کہ 'اگر آئی ایس آئی اتنی موثر تنظیم نہ ہوتی تو ہر روز انڈیا میں اس پر الزام نہیں لگ رہا ہوتا۔ جب بھی کوئی انڈیا میں کوئی واقعہ ہوتا ہے اس کا الزام آئی ایس آئی پر لگتا ہے۔ یہ دنیا بھر کی تمام خفیہ ایجنسیوں میں سے سب سے دلچسپ ایجنسی ہے۔ مجھ سے ماضی میں ایک پاکستانی ٹی وی چنیل نے آئی ایس آئی کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ اگر میں اس کا سربراہ بن جاؤں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔'

آئی ایس آئی یا را، بہتر کون؟

اس سوال پر کہ دونوں ایجنسیوں میں بہتر کون ہے، اسد درانی کہتے ہیں کہ دس سال قبل ایک ویب سائٹ پر مختلف فہرستیں سامنے آئیں جن میں دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں کی فہرست میں آئی ایس آئی پہلے نمبر پر تھی۔

اسی بارے میں اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ را کا قیام آئی ایس آئی سے تقریباً 20 سال کے بعد آیا اور یہ مناسب نہیں ہو گا کہ دونوں تنظیموں کا موازنہ کیا جائے۔ ساتھ ساتھ انھوں نے کہا کہ را اور انڈین اداروں نے کئی ایسے کام کیے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو علم نہیں ہے اور نہ ہی انھیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

اسد درانی نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ کا آپ کا نمبر کون سا ہو۔ 'اصل بات یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنا کام موثر طریقے سے کریں اور خاموش رہیں، جیسے انڈیا والوں نے مکتی باہنی کے ساتھ کیا تھا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج تک کسی جاسوس نے اپنی ہمددردیاں نہیں بدلیں اور نہ ہی رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

آئی ایس آئی اور را کی بڑی ناکامیاں کیا ہیں؟

اسی حوالے سے اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے جاسوس کو نہ گرفتار کرنا نہ اس کی ہمدردیاں تبدیل کرانا را کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب اسد درانی نے آئی ایس آئی کی ناکامیوں کے حوالے سے کہا کہ 'جب کشمیر کے مسئلے شروع ہوتا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس قدر سنجیدہ اور طویل معاملہ بن جائے گا۔ یہ سب چیزیں جب شروع ہوتی ہیں تو وہ چھ ماہ، سال بھر چلتی ہیں لیکن جب وہ لمبی ہو گئی تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا اور کشمیری بغاوت پر ہمارا کنٹرول اتنا کامیاب نہیں رہا۔

حافظ سعید کامعاملہ کیا ہے؟

اے ایس دُلت کتاب میں سوال کرتے ہیں کہ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید پاکستان کی کس طرح مدد کرتے ہیں۔ اس بارے میں اسد درانی نے کہا کہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان حافظ سعید کے بارے میں کیا کر سکتا ہے۔

اس بارے میں انھوں نے مزید کہا: 'اگر ہم حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی کریں تو الزام لگے گا کہ یہ انڈیا کے ایما پر کیا جا رہا ہے اور وہ معصوم ہے۔ ایسے کسی بھی عمل کا سیاسی نقصان بہت زیادہ ہے۔ حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔'

کلبھوشن جادھو کا کیا ہوا؟

انڈین نیوی کے اہلکار کلبھوشن جادھو کے بارے میں بات کرتے ہوئے اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ 'آپ اپنی بحریہ کے کسی سینئیر افسر کو کیسے کھل عام بلوچستان یا چمن بھیج سکتے ہیں۔ وہ کیا کر رہے تھے وہاں پر؟'

انھوں نے کہا کہ جاسوسوں کا پکڑے جانے کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی وضاحت دی گئی ہے۔

'اس معاملے میں آئی ایس آئی کی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ انھوں نے جاسوس کو فوراً ٹی وی کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ ویسے ہی تھا جب کارگل کی جنگ میں ہم نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو ریکارڈ کی اور سامنے لے آئے۔'

کارگل کی جنگ

سال 1999 میں پاکستان اور انڈیا کے مابین کارگل کے مقام پر ہونے والی جنگ کے بارے میں اے ایس دُلت نے سوال کیا کہ وہ جنگ کیسے شروع ہوئی اور اس کے پیچھے کیا عوامل تھے۔

اس پر جنرل اسد درانی جواب میں کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا جنون تھا۔

پاکستان کے پاس کچھ علاقے تھے جو کے سٹریٹیجک طور پر اہمیت کے حامل تھے لیکن 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان ان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے فوجی سربراہ کی یہ حماقت تھی کہ وہ کھلی لائن پر باتیں کر رہے تھے اور اگر انڈینز نے وہ گفتگو ریکارڈ کر لی تو وہ اپنا کام کر رہے تھے۔

اسامہ بن لادن کا معاملہ

اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر سوال کے جواب میں جنرل اسد درانی نے کہا کہ 'میں یہ ٹی وی پر پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ شاید ہم نے ان کو چھپا کے رکھا تھا یا ہمیں بعد میں علم ہو گیا تھا کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں اور آئی ایس آئی نے فیصلہ کیا کہ امریکہ سے مشترکہ معاہدے کے بعد انھیں وہاں سے لے جایا جائے۔ دوسری جانب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کو کہا ہو کہ آپ اسامہ کو لے جائیں اور ہم اس بارے میں ناواقفیت کا بہانہ کر لیں گے۔'

اے ایس دُلت نے اس پر کہا کہ 'را' کے اندازے کے مطابق ایسا ہی ہوا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کیا ہے۔

اسی بارے میں مزید بات کرتے ہوئے اسد درانی نے سوال کیا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوا۔

'ہمیں ناکارہ کارکردگی پر دھتکارا گیا، کہا گیا کہ ہم دوغلا پن کر رہے ہیں، اور ہمیں کیا ملا ان سب الزامات سے؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں۔'

اس پر اے ایس دُلت نے سوال اٹھایا کہ اسامہ بن لادن کی موت سے کچھ ہی دن قبل اُس وقت کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کسی اہم امریکی فوجی افسر سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا گیا جس سے یہ ملاقات کافی معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔

جس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ جنرل کیانی نے امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات کی تھی۔

کیا شکیل آفریدی نے امریکیوں کی مدد کی تھی؟

'را' کے سابق سربراہ نے اسد درانی سے سوال کیا کہ پشاور کے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اسامہ بن لادن کے معاملے میں کیا کردار تھا۔

اس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ انھوں نے جعلی پولیو کے قطرے کے پروگرام کی مدد سے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

'میرا خیال ہے کہ امریکیوں کو شکیل آفریدی سے اسامہ کے بارے میں معلومات ملیں لیکن وہ واحد ذریعہ نہیں تھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک سابق پاکستانی فوجی افسر جو کہ خفیہ اداروں سے منسلک تھا، اس نے امریکیوں کو اسامہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکوں گا اور نہ ہی میں اس کو کوئی مشہوری دلوانا چاہتا ہوں۔'

چند ہفتے پہلے میں نے دھوتی کُرتا پہنے ایک ادھیڑ عمر شخص کو ایک دکان سے قلفی لے کر کھاتے دیکھا۔ وہ قلفی اسے کچھ پسند نہیں آئی لیکن پندرہ روپے کی قلفی پھینکنے کی بجائے اس نے اپنے پیچھے کھڑے گن مین کو پکڑا دی۔

وہ شخص بحریہ ٹاؤن کا مالک ملک ریاض حسین تھے جن پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کو کروڑوں روپے بطور ’تحفہ‘ ہی دے دیتے ہیں۔

ملک ریاض حسین کبھی ایک کلرک ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ کھرب پتی بن چکے ہیں اور ان کا دولت کمانے کا سفر جاری ہے۔

تریسٹھ سالہ ملک ریاض ایک ٹھیکے دار کے گھر پیدا ہوئے اور والد کے کاروبار میں خسارے کے بعد میٹرک پاس ملک ریاض حسین کو کلرک کی نوکری کرنا پڑی۔ بعد میں فوج میں ایک نچلے درجے کے ٹھیکے دار کی حثیت سے کاروبار کیا۔

یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔ وہ اپنے تقریباً ہر انٹرویو میں اپنے اس دور کی تکالیف ضرور بیان کرتے ہیں۔ ان تکالیف میں بچی کے علاج کے لیے گھر کے برتن فروخت کرنا، خود قلعی یعنی سفیدیاں کرنا اور سڑکوں پر تارکول لگانا جیسے واقعات شامل ہیں۔ وہ اپنی مرحوم بیوی کی اس حسرت کا بھی اظہار کرتے ہیں جو ایک پانچ مرلے کی مالکانہ حقوق پر مشتمل تھی۔

پاکستان میں نوے کی دہائی میں جب جمہوری حکومتیں گرائی جارہی تھیں تب ملک ریاض نے یہ بھانپ لیا تھا کہ کاروبار میں فوج کا ساتھ بہت سود مند ثابت ہوگا۔

اب اسے چالاکی کہا جائے یا ذہانت جیسا مثبت لفظ استعمال کیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معمولی تعلیم اور دیہاتی حلیے والے اس آدمی نے بڑے بڑے فوجی افسروں کو پیسے کمانے کے منصوبے پیش کیے۔

ملک ریاض کے خلاف مقدمات کا پیروی کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں ملک ریاض اور اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل فصیح بخاری کے ساتھ معاہدوں کی تصدیق شدہ نقول عدالت میں داخل کرائی ہیں۔

معروف عسکری تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کے بعض فوجی افسروں نے زمینیں خریدنے میں ملک ریاض کی بے حد مدد کی ہے اور اس کے عوض ان افسروں کو طے شدہ حصہ ملا۔

کامیابی کا پہلا بڑا قدم وہ تھا جب نیوی نے راولپنڈی کے ہاؤسنگ پراجیکٹ سے توہاتھ کھینچ لیا لیکن وہ اپنا نام اس رہائشی سکیم سے واپس نہ لے سکی۔

ملک ریاض کا تیز دماغ ایک کے بعد ایک منصوبہ بناتا چلا گیا۔ ہاؤسنگ سکیم کے کسی بھی فیز یا سیکٹر کا اعلان ایسی صورت میں کیا جاتا رہا کہ اس سکیم کا زمین پر وجود ہوتا نہ کوئی نقشہ تک ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود صرف درخواست فارم خریدنے کے لیے لوگ دیوانوں کی طرح لائن میں لگتے دھکم پیل کرتے اور لاٹھی چارج اور آنسوگیس کے باوجود ہٹنے کو تیار نہ ہوتے۔

ایک پیسے پیسے کو محتاج شخص پندرہ سے بیس سال کے عرصے میں کھرب پتی بن چکا ہے۔

اس عرصے میں ملک ریاض پر مختلف مقدمات درج ہوئے جن میں غریب اور کم زور لوگوں کو قتل کرانے، ان کی زمینوں پر قبضے کرنے، لڑائی جھگڑے، دھوکہ دہی سمیت بہت سے مقدمات ہیں جو مختلف عدالتوں میں زیر سماعت اور بہت سے مقدمات سے وہ بری ہوچکے ہیں۔

وہ ملک ریاض جو معمولی سا ٹھیکہ لینے کے لیے دو دو روز تک کسی کیپٹن یا میجر کے دفاتر کے باہر بیٹھا رہتا تھا اب ان سے کہیں بڑے فوجی افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ملک ریاض کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔

حزب اختلاف مسلم لیگ نون کے مطابق انہوں نے نو سابق جرنیلوں کو اپنا ملازم بنا رکھا ہے۔

اس بات کا میں خود شاہد ہوں کہ ایک بہت بڑے عہدے سے ریٹائر ہونے والے سابق فوجی افسر کی ملک ریاض سے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے گھگی بندھی ہوئی تھی۔

خود مجھے جب ملک ریاض کے بارے میں معلومات درکار تھیں تو مجھے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر سے رابط کرنا پڑا جنہوں نے صرف اس وجہ سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا کہ بتانے میں ان سے کہیں کوئی غلطی ہی نہ ہوجائے۔

ملک ریاض کے قریبی ساتھی ان کی ایک خوبی یا خامی یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک نظر میں پہچان جاتے ہیں کہ ان کا مخاطب کس درجے کا لالچی ہے اور وہ اسی کے مطابق اس سے ڈیل کرلیتے ہیں۔

ملک ریاض ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جن کے حیرت انگیز طور پر بیک وقت پاکستان کے موجودہ سابق اور مستقبل کے ممکنہ حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

سنہ ننانوے میں ان پر نیب کے بے شمار مقدمات تھے لیکن ایک وقت آیا کہ وہ مشرف کے دوست بن گئے۔ صدر زرداری سے ان کی اسیری کے وقت میں کی گئی دوستی آج بھی ملک ریاض کے کام آرہی ہے۔ چودھری برادران کا کوئی کام ہو یا تحریک انصاف کے جلسے کے فنڈز درکار ہوں چلتی ہوا کا رخ پہچان جانے والے ملک ریاض پیچھے نہیں رہتے۔

سیاسی حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ جب پنجاب میں گورنر راج لگا تو پیپلز پارٹی کے حق میں ملک ریاض نوٹوں کے اٹیچی لے کر گورنر ہاؤس میں موجود رہے لیکن اس کے باوجود ان کا کمال یہ ہے کہ ان کے مسلم لیگ نون کے میاں برادران سے بھی قریبی تعلقات بھی ہیں۔

یہ بات اب پاکستانی میڈیا میں آچکی ہے کہ صدر آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان معاہدہ بھوربن کروانے والی شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ ملک ریاض ہی تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک ریاض نے پاکستان کی مڈل کلاس کی ضروریات کو فوکس کیا اور ان کےلیے ایسی رہائشی سکیمیں بنائیں جو دیگر کے مقابلے میں بہت اعلیٰ معیار کی اور نسبتاً سستی ہیں۔

وہ بے شمار لوگوں کی مالی امداد، غریبوں کے علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بہت سے غریب بچے ان کے تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں لوگوں کو مفت کھانا کھلانے کے لیے بحریہ دسترخوان لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ان کے مخالف وکیل کا کہنا ہے کہ یہ سب ’حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ ہے‘۔

وکیل صاحب کا جملہ معترضہ ہے کہ ناجائز طریقے سے کمائی دولت کا معمولی حصہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کالا دھن سفید نہیں ہوجاتا۔

امریکی شہر ہیوسٹن کے ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ کے والد نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کے چھوٹی عمر میں ہی بڑے بڑے خواب تھے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سبیکا کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج کے تحت ہیوسٹن کے سانٹافے سکول میں گذشتہ سال اگست میں پڑھنے گئی تھیں۔

سبیکا کے والد عبدالعزیز نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'سبیکا تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ اسے نو جون کو کراچی پہنچ جانا تھا۔

اس واقعے کی خبر ملتے ہی لوگ کراچی میں سبیکا کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔

سبیکا کے والد نے کہا کہ فائرنگ کی اطلاع انھیں میڈیا سے ملی۔ پھر انھوں نے سبیکا کے نمبر پر فون کیا، لیکن وہاں سے جواب نہیں آیا۔ پھر سکول کے رابطہ کار سے رابطے سے پتہ چلا کہ سکول میں فائرنگ ہوئی ہے۔ تین چار گھنٹے بعد اس نے تصدیق کی کہ سبیکا بھی فائرنگ کی زد میں آ گئی ہیں۔

انھوں نے سبیکا کے بارے میں بتایا کہ وہ 'کراچی پبلک سکول کی طالبعلم تھی۔ چھوٹی سی عمر میں اس کے بڑے خواب تھے۔ غیر معمولی ذہین اور باصلاحیت بچی تھی۔ وہ پاکستان کی فارن سروس میں جانا اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔

'مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میری بیٹی چلی گئی ہے۔'

سبیکا کی چھوٹی بہن نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بڑی بہن کے آنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں اور اس کے لیے افطار پارٹیوں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ایک دن پہلے سبیکا سے بات ہوئی تھی جنھوں نے کہا تھا کہ وہ سب کے لیے تحائف لے کر آئیں گی۔

سبیکا کی میت پاکستان منتقل کرنے کے لیے پاکستانی سفارت خانے نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

سفیر اعزاز چوہدری نے بتایا کہ کچھ ضروری کارروائیاں بھی باقی ہیں جن میں وقت لگتا ہے۔ لیکن کوشش ہے کہ جتنا جلد ہو سکے، سبیکا کی میت کو پہنچا دیا جائے۔

’نوجوان سفیر‘

امریکی محکمۂ خارجہ نے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج پروگرام 2002 میں قائم کیا تھا جس کے تحت بالخصوص مسلمان اکثریتی ملکوں سے طلبہ کو ایک تعلیمی سال کے لیے امریکہ بلایا جاتا ہے تاکہ مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو آپس میں میل جول کا موقع مل سکے۔

ان طلبہ کو 'نوجوان سفیر' کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ان کے کاموں میں ایک یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں لوگوں کو بتا سکیں۔ وہ ایک امریکی خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اور امریکی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ہر سال 80 کے قریب طلبہ کو مدعو کیا جاتا ہے اور اب تک اس پروگرام کے تحت 1120 پاکستانی طلبہ کو امریکہ میں تعلیم حاصل کا موقع مل چکا ہے۔

 

سبیکا شیخ کے والد عبدالعزیز نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں واقع ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی خبر نیوز چینل سی این این پر سنی تھی۔

’افطار سے فارغ ہو کر میں نے 8 بجے ٹی وی چینل کھولا تھا جب میرا دھیان ایک خبر پر گیا۔ اُس پوری خبر میں دو لفظ میرے سامنے ابھر کر آ رہے تھے۔ ٹیکساس اور سکول۔ مجھے یکدم اپنی بیٹی کا خیال آیا اور میں نے اسے فون کیا۔‘

ہفتے کے روز بی بی سی سے اپنے گھر میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے سبیکا کو فون ملایا ہو اور اس نے فون نہیں اٹھایا ہو یا اس کا فورا میسج نہ آجائے کہ بابا میں آپ کو بعد میں فون کرتی ہوُں، لیکن اس دن ایسا نہیں ہواـ‘

سبیکا کے والد نے پھر ان کی دوستوں کو فون ملایا لیکن وہاں سے بھی جواب موصول نہیں ہوا۔

سکول کی انتظامیہ اور پروگرام کوآرڈینیٹر کو فون کرنے پر معلوم ہوا کہ سکول کو چاروں طرف سے پولیس نے بند کر دیا ہے اور اس وقت ان کو کچھ بھی وثوق سے نہیں بتایا جا سکتا کہ کیا ہوا ہے۔

’اس وقت تک یہاں پر ساڑھے نو دس بج چکے تھے جب مجھے سکول سے فون آیا۔ فون پر وہ لوگ روپڑے۔ مجھے پتا چل گیا کہ میری بیٹی نہیں ہے اب ـ ـ ـ ‘

فرح اور عبدالعزیز کی بیٹی سبیکا شیخ ایک سال قبل ٹیکساس کے سینٹا فے ہائی سکول میں سکالرشپ پر پڑھنے گئی تھیں۔ جمعے کی صبح وہاں پر ایک 17 سالہ لڑکے کے فائرنگ کرنے سے اب تک 10 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں سبیکا بھی شامل ہیں۔

ہفتے کے روز پاکستانی میڈیا سبیکا کے گھر کے باہر موجود تھا۔ ان کے چچا سے لے کر خاندان کے باقی افراد میڈیا کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ تعزیت کے لیے سبیکا کے گھر آنے والوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے عارف علوی بھی شامل تھے جو سبیکا کے چچا جلیل شیخ کو پاک سرزین کے علاقائی کوآرڈینیٹر کے طور پر جانتے ہیں۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ پاکستانی کونصلیٹ کی عائشہ صاحبہ ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اب تک ان کے رشتہ دار بھی ہیوسٹن پہنچ رہے ہیں۔

پہلے ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ ہمارا وہاں کوئی نہیں ہے لیکن بہت سے لوگ مدد کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ میری بیٹی کی لاش پیر یا منگل تک پاکستان پہنچا دی جائے گی۔‘

میڈیا اور باقی لوگوں سے دور سبیکا کی والدہ فرح شیخ نے اپنی بیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی پبلک سکول کی طالبہ ہوتے ہوئے اس کو بہت لوگ باہر پڑھنے کا کہتے تھےـ

’میری بیٹی بالکل آخری مراحل میں جا کر اس سکالرشپ کے لیے منتخب ہوئی تھی کیونکہ فارم جمع کرنے کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع ہوئی تھی۔ میں اپنی بیٹی کو ایک کامیاب اور نیک دل انسان کے طور پر یاد رکھنا چاہتی ہوں۔‘

ہیوسٹن کے سینٹا فے میں جمعے کی صبح ہونے والا واقعہ امریکہ کے سکولوں میں فائرنگ کا پہلا واقعہ نہیں ہےـ اس سے پہلے بھی اسی سال میں مختلف سکولوں میں فائرنگ کی تعداد میں اب تک 22 سکول شامل ہیں

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سبیکا کے والد نے کہا کہ ’وہاں کی حکومت کو سنجیدگی سے ان بڑھتے ہوئے حادثات کا نوٹس لینا چاہیے۔ اس طرح سے تو ماں باپ بچوں کو سکول بھیجنے سے بھی گھبرائیں گے۔‘

18 سالہ سبیکا شیخ کا تعلق کراچی کے گلشنِ اقبال کے علاقے سے تھاـ ان کی والدہ فرح نے بتایا کہ ان کے پاکستان آنے میں صرف 20 دن رہ گیے تھے۔ ’مجھے روز بتاتی تھی کہ مما آج 45 دن رہ گئے ہیں، پھر 35 دن رہ گئے ہیں ـ ابھی پرسوں ہی اس نے مجھے فون پر بتایا کہ مما اب صرف 19 دن رہ گئے ہیں اور پھر میں واپس آجاؤں گی ـ اپنی مرضی کے کھانے بتاتی رہتی تھی کہ مما میرے لیے افطاری میں یہ کھانا بنائیے گا۔ یہ واقع تو ہم سب کے لیے ایک سانحہ بن کر رہ گیا ہے، میری بیٹی اب واپس نہیں آئے گی ۔۔‘

میرے والدین کہتے تھے کہ من میت تم بہت غلط راستے پر جا رہی ہو، تم باہر گھومو گی اور یہ ایک خاتون کے لیے اچھا نہیں ہے لیکن جب انھوں نے میری پہلی رپورٹ دیکھی تو سب بہت خوش تھے اور فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔‘

یہ کہنا ہے پشاور کی رہائشی 24 سالہ من میت کور کا، جو پاکستان میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون صحافی ہیں۔ من میت نے حال ہی میں اپنی نشریات کا آغاز کرنے والے پاکستانی نیوز چینل ’ہم نیوز‘ میں بطور رپورٹر کام شروع کیا ہے۔

جب میں من میت سے ملنے پہنچا تو وہ نیوز روم میں دیگر رپورٹرز کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھیں اور ساتھ ساتھ اپنے ایک ٹی وی پیکج کے لیے سکرپٹ بھی لکھ رہی تھیں۔

پشاور یونیورسٹی سے سوشل سائنسز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ من میت کا میڈیا میں کام کرنے کا یہ پہلا تجربہ ہے اور ان کے مطابق ایک ٹی وی چینل میں کام کرنے کے سلسلے میں انھیں دو چیلنج درپیش تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک چیلینج تو یہ تھا کہ وہ پاکستان میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایک خاتون بھی ہیں جن کا کسی ادارے میں ملازمت کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

من میت کور کے مطابق عموماً ان کی کمیونٹی میں تعلیم کا رجحان بہت کم رہا ہے اور ان کے خاندان کے بہت کم مردوں اور خواتین کو باہر نوکری کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

لیکن من میت کور نے یہ دونوں چیلنج قبول کرنے کا عزم کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب ہم نیوز پاکستان میں لانچ ہو رہا تھا تو انھوں نے اس میں ملازمت کے لیے درخواست دی اور کچھ ہی دن بعد انھیں کال آ گئی کہ وہ انٹرویو کے لیے آفس آ جائیں۔

من میت کے مطابق جب انھوں نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا کہ انھیں ایک ٹی وی میں بطور رپورٹر کام کرنے کے لیے انٹرویو کے لیے بلایا گیا ہے تو گھر والوں نے مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین کو راضی کرنے کے لیے انھوں نے بہت کوشش کی اور اس سلسلے میں انھیں اپنے بیورو چیف اور ماموں کی مدد حاصل رہی جن کی کوششوں سے ان کے والدین مان گئے۔

من میت کا کہنا تھا کہ اسی نوکری کے لیے ان کے مقابلے میں ایک سکھ لڑکا بھی تھا لیکن سکروٹنی کے بعد ان کا انتخاب کر لیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اپنی پہلی رپورٹ کے بارے میں اپنے والدین کو بتایا اور ان کے والدین نے وہ رپورٹ دیکھی تو سب بہت خوش تھے اور فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔

من میت کور سے جب پوچھا گیا کہ وہ میڈیا میں آ کر کیا کرنا چاہتی ہیں، تو انھوں نے بتایا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی رپورٹنگ سے اقلیتوں کے مسائل اجاگر ہوں گے کیونکہ وہ خود اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے مسائل بہتر جانتی ہیں۔

ان کے مطابق ان کی کمیونٹی کے لوگوں کو ایک قسم کی حوصلہ افزائی بھی ملتی ہے جب ان کے اپنے کسی ٹی وی میں کام کرتے ہوں اور ان کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔

من میت کور کا کہنا ہے کہ خواتین کا تعلق اقلیتی برادری سے ہو یا نہ ہو، اگر ان میں ٹیلنٹ ہو تو انھیں سامنے آنا چاہیے کیونکہ خواتین کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا اور وہ دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں خواتین کی کمی

پاکستان میں خواتین کی میڈیا تناسب مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بالخصو ص اقلیتوں کے لیے نوکریوں میں کوٹے پر بھی درست طریقے سے عمل درامد نہیں ہورہا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ایک سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 380 مرد صحافیوں کے مقابلے میں صرف 20 خواتین پریس کلب یا یونین کی رکن ہیں۔

اسی سروے کے مطابق بلوچستان میں صرف دو خواتین صحافی جبکہ مرد صحافیوں کے تعداد 133 ہیں، جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں کوئی بھی خاتون صحافی موجود نہیں ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں خاتون رپورٹرز موجود نہیں ہیں۔ سروے کے مطابق اس کی بڑی وجہ خواتین کو اس شعبہ میں آنے کے لیے گھر سے اجازت نہ ملنا شامل ہے۔

پشاور میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رادیش ٹونی عرصہ دراز سے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام رہے ہیں۔ رادیش ٹونی نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اقلیتوں کے لیے سرکاری دفاتر میں تین فیصد کوٹہ مقرر ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا اگر کچھ ہورہا ہے تو اس میں صرف مردوں کو نوکری دی جاتی ہے اور خواتین کی اس میں حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جبکہ میڈیا میں تو اقلیتی برادری سے خواتین نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پاکستان میں بدھ کو ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جو کہ سائبر بُلنگ کے متعلق ہے۔

  کس نے شروع کیا اور یہ بدھ کو کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اس کے متعلق تو پتہ نہ چل سکا لیکن لوگوں کے ٹویٹ دیکھ کر اور کل ہی بی بی سی اردو کی رپورٹ کو، جس میں لاہور میں انسانی حقوق کی کارکن دیپ سعیدہ کا سائبر بلنگ کے حوالے سے انٹرویو کیا گیا تھا، سامنے رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سائبر بُلنگ پاکستان میں بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

لیکن ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے ’پرانے ٹوئٹر‘ کی بات بھی کی اور اسے کسی نہ کسی طرح سائبر بُلنگ سے جوڑا ہے۔ آخر لوگ اتنے 'نوسٹالجک' کیوں ہیں اور کیوں ماضی یاد کیا جا رہا ہے۔

سنا تو یہ تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب/ چھین لے مجھ سے حافضہ میرا۔ لیکن ٹوئٹر پر ٹرینڈ تو کچھ الٹا ہی نظر آ رہا ہے۔ آئیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی ٹوئیٹس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

سنا تو یہ تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب/ چھین لے مجھ سے حافضہ میرا۔ لیکن ٹوئٹر پر ٹرینڈ تو کچھ الٹا ہی نظر آ رہا ہے۔ آئیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی ٹوئیٹس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

ایک اور صارف قادری بھی ٹوئٹر کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا وقت تھا جب لوگوں کو 'سائبر بلی' نہیں کیا جاتا تھا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ’ٹوئٹر ایک اچھی جگہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ 'لائکس' اور 'ری ٹویٹس' کے لیے دوسروں کی بے عزتی کرتے ہیں۔'

سدرا سائبر بلنگ کی وجہ سے اپنے ڈپریشن کے متعلق لکھتی ہیں کہ 'جب میں میٹرک میں تھی تو میری تصاویر لیک کی گئی تھیں۔ مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایسا کیسے ہوا اور اسے کس نے کیا لیکن جو مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت میرے دماغ میں خود کشی واحد راستہ دکھائی دیتا تھا۔'

  کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

بی بی سی اردو نے یہ جاننے کے لیے کہ یہ ہیش ٹیگ بدھ کو کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اور سائبر بلنگ پاکستان میں کتنا بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن سے وابستہ شمائلہ خان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ آن لائن ہراساں کرنا پاکستان میں ایک مسئلہ ہے اور یہ کافی زیادہ شروع ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر عورتوں اور بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور ایسے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اُس سال انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کی 1551 شکایات سنیں اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انھیں شکایات کالز، ای میلز اور فیس بک پیغامات کی شکل میں ملیں اور شکایات کرنے والوں میں 67 فیصد نے خود کو خواتین جبکہ 45 فیصد نے مرد بتایا۔

رپورٹ کے مطابق وہ پلیٹ فارم جس پر سب سے زیادہ ہراساں کیا گیا وہ فیس بک ہے۔ تقریباً 45 فیصد کالرز نے بتایا کہ انھیں فیس بک پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہراس کرنے کے طریقوں میں جعلی فیس بک پروفائل، بغیر اجازت کے معلومات افشا کرنا، بلیک میلنگ اور بغیر اجازت کے پیغامات بھیجنا شامل ہے۔