Get engaged in the biggest community of Pakistan
Let people know about you worldwide
Public Feed

اٹلی میں زیرِتعلیم پاکستانی طالبہ جس نے اپنے گھر والوں پر پاکستان لے جا کر دھوکے سے اسقاطِ حمل کروانے کا الزام عائد کیا تھا بازیابی کے بعد واپس اٹلی پہنچ گئی ہے۔

سالہ19 فرح نامی طالبہ اٹلی کے شہر ویرونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چند ماہ قبل وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔

فروری میں ان کے گھر والے انھیں مبینہ طور پر زبردستی واپس پاکستان لے گئے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف ان کا بچہ گرایا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھیں اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے ریسکیو کیا۔

کچھ روز تک اطالوی سفیر کے گھر پر رہنے کے بعد فرح جمعرات کی صبح میلان کے میلپینسا ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ اب اطالوی پولیس ان کا بیان لے گی جس کے بعد قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اطالوی میڈیا میں شائع ہونے والے فرح کے بیانات کے مطابق انھوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ انھوں نے فرح کو ’نشہ آور ادویات دے کر بستر سے باندھ کر اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔‘

یاد رہے کہ فرح کی کہانی منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے قبل ہی ایک اطالوی خاتون کی پاکستان میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی جنھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

 سالہ26 اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت 18 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ وہ بیمار تھیں۔ جس روز وہ ہلاک ہوئیں اس کے ایک دن بعد انھیں اٹلی واپس جانا تھا۔ تاہم ان کی پر اسرار حالات میں موت پر اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد مقامی پولیس نے جانچ پڑتال شروع کی تھی۔

اطالوی وزیرِ خارجہ اینجلو الفانو نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ’فرح آخرکار اٹلی لوٹ آئی ہیں اور اب محفوظ جگہ پر ہیں۔‘ اینجلو الفانو نے پاکستانی حکام کے تعاون کی تعریف بھی کی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق فرح کا خاندان 2008 میں ویرونا منتقل ہوا تھا۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کی ملاقات ان کے موجودہ منگیتر سے ہوئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔

فرح نے پہلی بار حکام سے ستمبر میں رابطہ کیا تھا اور انھیں خواتین کے مقامی شیلٹر نے تحفظ دیا ہوا تھا۔ ان کے والد کو برے سلوک کے حوالے سے مقامی حکام کے پاس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم بعد میں ان کی اپنے خاندان کے ساتھ صلح ہو گئی تھی اور وہ اس خیال سے ان کے ساتھ پاکستان گئی تھیں کہ ان کے بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔

جب ویرونا میں ان کی ساتھی طلبا نے اپنی ٹیچرز سے رابطہ کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سماجی امور کی ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے دستاویزات چوری کر لیے گئے تھے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ فرح اطالوی شہری نہیں ہیں اس لیے اٹلی کی وزارتِ خارجہ اور ویرونا پولیس نے پاکستانی حکام سے مدد مانگی جنھوں نے اسلام آباد میں فرح کا گھر تلاش کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے انٹرنیٹ صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ آئی ایس پی آر کے نام سے ملنے والی جعلی ای میل سے ہوشیار رہیں۔

انٹر نیٹ صارفین میں ایک پیغام گردش کر رہا تھا کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اپنے مداحوں سے ملنا چاہتے ہیں اس لیے ملنے کے خواہشمند invite@ispr.press کے ای میل پتہ پر درخواستیں بھیجیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں خبردار کیا کہ یہ ایک جعلی ای میل ہے اور اس کا آئی ایس پی آر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر انٹرنیٹ صارفین کو اس طرح کی کوئی ای میل موصول ہو تو اسے نہ کھولیں اور اس کے بارے میں رپورٹ کر دیں۔

انھوں نے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر غلطی سے یہ ای میل کھل جائے تو اس میں موجود کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں۔ کیونکہ اس پر کلک کرنے کی صورت میں آپ کے کمپیوٹر یا فون کی سکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

فوج کے ترجمان نے اپنی ٹویٹ کے آخر میں صارفین کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان کا آفیشل ڈومین ispr.gov.pk ہے اور ان کا کسی بھی اور ڈومین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل میجر جنرل آصف غفور نے اہنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ سوابی سے آنے والے اپنے ایک مداح سے مل کر کافی خوش ہوئے ہیں اور ایسی ملاقات کے لیے اکثر درخواستیں ملتی رہتی ہیں۔

ان کا اُس ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’مجھے مداحوں سے ملاقات کے لیے ایک دن طے کرنے دیں۔ آپ کی محبت اور حمایت کا بہت شکریہ۔‘

ان کی اس ٹویٹ کے بعد ہی یہ جعلی ای میل ایڈرس بھی گردش کرنے لگا اور لوگوں کو ای میل بھی موصول ہوئیں۔

انڈیا اور پاکستان کے منجمد رشتوں کے درمیان انڈیا کے خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کے لیے انڈیا کو پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دینی چاہيے۔

اے ایس دُلت نے یہ بات انڈیا کے ایک سرکردہ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر ایک بات چیت کے دوران کہی۔

جب ان سے پو چھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہیں، رشتے منجمد ہیں اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیے؟ تو دُلت نے جواب دیا کہ کچھ عرصے پہلے ٹریک ٹو کی ایک میٹنگ میں یہ صلاح دی گئی تھی کہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر کو لاہور بلایا جائے۔ لیکن پاکستان میں کسی نے اس مشورے کو اہمیت نہیں دی۔ کسی نے بصیرت نہیں دکھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں بہت پر امید ہوں، وقت بہت بدل چکاہے۔ دونوں کوریا ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔ کسی نے سوچا تھا کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ہوگی؟ ہمیں بھی بڑا سوچنا چاہیے۔ ریڈ کارپٹ بچھائیے۔ جنرل باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دیجیے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔'

ٹی وی پر اس بات چیت میں پاکستان کی خفیہ سروس کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی بھی سکائپ کے ذریعے شامل تھے۔

دولت اور جنرل درانی نے انڈیا اور پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں مشترکہ طور پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان 'سپائی کرونکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس' ہے۔

دونوں سابقہ جاسوسوں نے کتاب کا بیشتر حصہ دبئی، استنبول اور کٹھمنڈو میں لکھا ہے۔ یہ کتاب باضاطہ طور پر اسی ہفتے ریلیز ہونی تھی لیکن جنرل درانی ویزا نہ ملنے کے سبب ابھی تک دلی نہیں آ سکے ہیں۔

اے ایس دُلت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ ایک مشترکہ کتاب لکھتے ہیں یہی ایک غیر معمولی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن مشکل ضرور ہے لیکن اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے پروازیں بڑھائی جانی چاہییں اور 'دونوں ملکوں کو کرکٹ کے روابط فوری طور پر بحال کرنے چاہییں۔'

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی اور ان کے انڈین ہم منصب، 'را' کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کی انڈین مصنف ادتیا سنہا کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب 'دا سپائی کرانیکلز : را، آئی ایس آئی اینڈ الُوژنز آف پیس' نے سرحد کے دونوں جانب بحث مباحثے کے نئے در کھول دیے ہیں۔

اس کتاب میں دونوں جاسوسوں نے اپنے اپنے کیرئیر اور دونوں ممالک کے درمیان تلخ تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے اور ماضی کے کئی اہم واقعات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ مستقبل میں امن حاصل کرنے کے لیے روڈ میپ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔

اس کتاب کے لیے دونوں افسران اور ادتیا سنہا نے بنکاک، استنبول اور کھٹمنڈو میں 2016 اور 2017 میں چار مختلف مواقعوں پر ملاقاتیں کیں۔

تقریباً 350 صفحات پر مبنی اس کتاب کے چند اقتباسات قارئین کے زیر نظر ہیں۔

کیا پاکستانی وزیر اعظم آئی ایس آئی سے خوفزدہ ہوتے ہیں؟

پاکستان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے کہا کہ پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے لیتی ہے اور ہمیں اس کے لیے فوج کو یا حکومت کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آئی ایس آئی اور انڈیا میں اس کی شہرت

را کے سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کہتے ہیں کہ 'اگر آئی ایس آئی اتنی موثر تنظیم نہ ہوتی تو ہر روز انڈیا میں اس پر الزام نہیں لگ رہا ہوتا۔ جب بھی کوئی انڈیا میں کوئی واقعہ ہوتا ہے اس کا الزام آئی ایس آئی پر لگتا ہے۔ یہ دنیا بھر کی تمام خفیہ ایجنسیوں میں سے سب سے دلچسپ ایجنسی ہے۔ مجھ سے ماضی میں ایک پاکستانی ٹی وی چنیل نے آئی ایس آئی کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ اگر میں اس کا سربراہ بن جاؤں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔'

آئی ایس آئی یا را، بہتر کون؟

اس سوال پر کہ دونوں ایجنسیوں میں بہتر کون ہے، اسد درانی کہتے ہیں کہ دس سال قبل ایک ویب سائٹ پر مختلف فہرستیں سامنے آئیں جن میں دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں کی فہرست میں آئی ایس آئی پہلے نمبر پر تھی۔

اسی بارے میں اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ را کا قیام آئی ایس آئی سے تقریباً 20 سال کے بعد آیا اور یہ مناسب نہیں ہو گا کہ دونوں تنظیموں کا موازنہ کیا جائے۔ ساتھ ساتھ انھوں نے کہا کہ را اور انڈین اداروں نے کئی ایسے کام کیے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو علم نہیں ہے اور نہ ہی انھیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

اسد درانی نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ کا آپ کا نمبر کون سا ہو۔ 'اصل بات یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنا کام موثر طریقے سے کریں اور خاموش رہیں، جیسے انڈیا والوں نے مکتی باہنی کے ساتھ کیا تھا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج تک کسی جاسوس نے اپنی ہمددردیاں نہیں بدلیں اور نہ ہی رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

آئی ایس آئی اور را کی بڑی ناکامیاں کیا ہیں؟

اسی حوالے سے اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے جاسوس کو نہ گرفتار کرنا نہ اس کی ہمدردیاں تبدیل کرانا را کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب اسد درانی نے آئی ایس آئی کی ناکامیوں کے حوالے سے کہا کہ 'جب کشمیر کے مسئلے شروع ہوتا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس قدر سنجیدہ اور طویل معاملہ بن جائے گا۔ یہ سب چیزیں جب شروع ہوتی ہیں تو وہ چھ ماہ، سال بھر چلتی ہیں لیکن جب وہ لمبی ہو گئی تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا اور کشمیری بغاوت پر ہمارا کنٹرول اتنا کامیاب نہیں رہا۔

حافظ سعید کامعاملہ کیا ہے؟

اے ایس دُلت کتاب میں سوال کرتے ہیں کہ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید پاکستان کی کس طرح مدد کرتے ہیں۔ اس بارے میں اسد درانی نے کہا کہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان حافظ سعید کے بارے میں کیا کر سکتا ہے۔

اس بارے میں انھوں نے مزید کہا: 'اگر ہم حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی کریں تو الزام لگے گا کہ یہ انڈیا کے ایما پر کیا جا رہا ہے اور وہ معصوم ہے۔ ایسے کسی بھی عمل کا سیاسی نقصان بہت زیادہ ہے۔ حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔'

کلبھوشن جادھو کا کیا ہوا؟

انڈین نیوی کے اہلکار کلبھوشن جادھو کے بارے میں بات کرتے ہوئے اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ 'آپ اپنی بحریہ کے کسی سینئیر افسر کو کیسے کھل عام بلوچستان یا چمن بھیج سکتے ہیں۔ وہ کیا کر رہے تھے وہاں پر؟'

انھوں نے کہا کہ جاسوسوں کا پکڑے جانے کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی وضاحت دی گئی ہے۔

'اس معاملے میں آئی ایس آئی کی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ انھوں نے جاسوس کو فوراً ٹی وی کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ ویسے ہی تھا جب کارگل کی جنگ میں ہم نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو ریکارڈ کی اور سامنے لے آئے۔'

کارگل کی جنگ

سال 1999 میں پاکستان اور انڈیا کے مابین کارگل کے مقام پر ہونے والی جنگ کے بارے میں اے ایس دُلت نے سوال کیا کہ وہ جنگ کیسے شروع ہوئی اور اس کے پیچھے کیا عوامل تھے۔

اس پر جنرل اسد درانی جواب میں کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا جنون تھا۔

پاکستان کے پاس کچھ علاقے تھے جو کے سٹریٹیجک طور پر اہمیت کے حامل تھے لیکن 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان ان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے فوجی سربراہ کی یہ حماقت تھی کہ وہ کھلی لائن پر باتیں کر رہے تھے اور اگر انڈینز نے وہ گفتگو ریکارڈ کر لی تو وہ اپنا کام کر رہے تھے۔

اسامہ بن لادن کا معاملہ

اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر سوال کے جواب میں جنرل اسد درانی نے کہا کہ 'میں یہ ٹی وی پر پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ شاید ہم نے ان کو چھپا کے رکھا تھا یا ہمیں بعد میں علم ہو گیا تھا کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں اور آئی ایس آئی نے فیصلہ کیا کہ امریکہ سے مشترکہ معاہدے کے بعد انھیں وہاں سے لے جایا جائے۔ دوسری جانب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کو کہا ہو کہ آپ اسامہ کو لے جائیں اور ہم اس بارے میں ناواقفیت کا بہانہ کر لیں گے۔'

اے ایس دُلت نے اس پر کہا کہ 'را' کے اندازے کے مطابق ایسا ہی ہوا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کیا ہے۔

اسی بارے میں مزید بات کرتے ہوئے اسد درانی نے سوال کیا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوا۔

'ہمیں ناکارہ کارکردگی پر دھتکارا گیا، کہا گیا کہ ہم دوغلا پن کر رہے ہیں، اور ہمیں کیا ملا ان سب الزامات سے؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں۔'

اس پر اے ایس دُلت نے سوال اٹھایا کہ اسامہ بن لادن کی موت سے کچھ ہی دن قبل اُس وقت کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کسی اہم امریکی فوجی افسر سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا گیا جس سے یہ ملاقات کافی معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔

جس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ جنرل کیانی نے امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات کی تھی۔

کیا شکیل آفریدی نے امریکیوں کی مدد کی تھی؟

'را' کے سابق سربراہ نے اسد درانی سے سوال کیا کہ پشاور کے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اسامہ بن لادن کے معاملے میں کیا کردار تھا۔

اس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ انھوں نے جعلی پولیو کے قطرے کے پروگرام کی مدد سے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

'میرا خیال ہے کہ امریکیوں کو شکیل آفریدی سے اسامہ کے بارے میں معلومات ملیں لیکن وہ واحد ذریعہ نہیں تھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک سابق پاکستانی فوجی افسر جو کہ خفیہ اداروں سے منسلک تھا، اس نے امریکیوں کو اسامہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکوں گا اور نہ ہی میں اس کو کوئی مشہوری دلوانا چاہتا ہوں۔'

چند ہفتے پہلے میں نے دھوتی کُرتا پہنے ایک ادھیڑ عمر شخص کو ایک دکان سے قلفی لے کر کھاتے دیکھا۔ وہ قلفی اسے کچھ پسند نہیں آئی لیکن پندرہ روپے کی قلفی پھینکنے کی بجائے اس نے اپنے پیچھے کھڑے گن مین کو پکڑا دی۔

وہ شخص بحریہ ٹاؤن کا مالک ملک ریاض حسین تھے جن پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کو کروڑوں روپے بطور ’تحفہ‘ ہی دے دیتے ہیں۔

ملک ریاض حسین کبھی ایک کلرک ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ کھرب پتی بن چکے ہیں اور ان کا دولت کمانے کا سفر جاری ہے۔

تریسٹھ سالہ ملک ریاض ایک ٹھیکے دار کے گھر پیدا ہوئے اور والد کے کاروبار میں خسارے کے بعد میٹرک پاس ملک ریاض حسین کو کلرک کی نوکری کرنا پڑی۔ بعد میں فوج میں ایک نچلے درجے کے ٹھیکے دار کی حثیت سے کاروبار کیا۔

یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔ وہ اپنے تقریباً ہر انٹرویو میں اپنے اس دور کی تکالیف ضرور بیان کرتے ہیں۔ ان تکالیف میں بچی کے علاج کے لیے گھر کے برتن فروخت کرنا، خود قلعی یعنی سفیدیاں کرنا اور سڑکوں پر تارکول لگانا جیسے واقعات شامل ہیں۔ وہ اپنی مرحوم بیوی کی اس حسرت کا بھی اظہار کرتے ہیں جو ایک پانچ مرلے کی مالکانہ حقوق پر مشتمل تھی۔

پاکستان میں نوے کی دہائی میں جب جمہوری حکومتیں گرائی جارہی تھیں تب ملک ریاض نے یہ بھانپ لیا تھا کہ کاروبار میں فوج کا ساتھ بہت سود مند ثابت ہوگا۔

اب اسے چالاکی کہا جائے یا ذہانت جیسا مثبت لفظ استعمال کیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معمولی تعلیم اور دیہاتی حلیے والے اس آدمی نے بڑے بڑے فوجی افسروں کو پیسے کمانے کے منصوبے پیش کیے۔

ملک ریاض کے خلاف مقدمات کا پیروی کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں ملک ریاض اور اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل فصیح بخاری کے ساتھ معاہدوں کی تصدیق شدہ نقول عدالت میں داخل کرائی ہیں۔

معروف عسکری تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کے بعض فوجی افسروں نے زمینیں خریدنے میں ملک ریاض کی بے حد مدد کی ہے اور اس کے عوض ان افسروں کو طے شدہ حصہ ملا۔

کامیابی کا پہلا بڑا قدم وہ تھا جب نیوی نے راولپنڈی کے ہاؤسنگ پراجیکٹ سے توہاتھ کھینچ لیا لیکن وہ اپنا نام اس رہائشی سکیم سے واپس نہ لے سکی۔

ملک ریاض کا تیز دماغ ایک کے بعد ایک منصوبہ بناتا چلا گیا۔ ہاؤسنگ سکیم کے کسی بھی فیز یا سیکٹر کا اعلان ایسی صورت میں کیا جاتا رہا کہ اس سکیم کا زمین پر وجود ہوتا نہ کوئی نقشہ تک ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود صرف درخواست فارم خریدنے کے لیے لوگ دیوانوں کی طرح لائن میں لگتے دھکم پیل کرتے اور لاٹھی چارج اور آنسوگیس کے باوجود ہٹنے کو تیار نہ ہوتے۔

ایک پیسے پیسے کو محتاج شخص پندرہ سے بیس سال کے عرصے میں کھرب پتی بن چکا ہے۔

اس عرصے میں ملک ریاض پر مختلف مقدمات درج ہوئے جن میں غریب اور کم زور لوگوں کو قتل کرانے، ان کی زمینوں پر قبضے کرنے، لڑائی جھگڑے، دھوکہ دہی سمیت بہت سے مقدمات ہیں جو مختلف عدالتوں میں زیر سماعت اور بہت سے مقدمات سے وہ بری ہوچکے ہیں۔

وہ ملک ریاض جو معمولی سا ٹھیکہ لینے کے لیے دو دو روز تک کسی کیپٹن یا میجر کے دفاتر کے باہر بیٹھا رہتا تھا اب ان سے کہیں بڑے فوجی افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ملک ریاض کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔

حزب اختلاف مسلم لیگ نون کے مطابق انہوں نے نو سابق جرنیلوں کو اپنا ملازم بنا رکھا ہے۔

اس بات کا میں خود شاہد ہوں کہ ایک بہت بڑے عہدے سے ریٹائر ہونے والے سابق فوجی افسر کی ملک ریاض سے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے گھگی بندھی ہوئی تھی۔

خود مجھے جب ملک ریاض کے بارے میں معلومات درکار تھیں تو مجھے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر سے رابط کرنا پڑا جنہوں نے صرف اس وجہ سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا کہ بتانے میں ان سے کہیں کوئی غلطی ہی نہ ہوجائے۔

ملک ریاض کے قریبی ساتھی ان کی ایک خوبی یا خامی یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک نظر میں پہچان جاتے ہیں کہ ان کا مخاطب کس درجے کا لالچی ہے اور وہ اسی کے مطابق اس سے ڈیل کرلیتے ہیں۔

ملک ریاض ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جن کے حیرت انگیز طور پر بیک وقت پاکستان کے موجودہ سابق اور مستقبل کے ممکنہ حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

سنہ ننانوے میں ان پر نیب کے بے شمار مقدمات تھے لیکن ایک وقت آیا کہ وہ مشرف کے دوست بن گئے۔ صدر زرداری سے ان کی اسیری کے وقت میں کی گئی دوستی آج بھی ملک ریاض کے کام آرہی ہے۔ چودھری برادران کا کوئی کام ہو یا تحریک انصاف کے جلسے کے فنڈز درکار ہوں چلتی ہوا کا رخ پہچان جانے والے ملک ریاض پیچھے نہیں رہتے۔

سیاسی حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ جب پنجاب میں گورنر راج لگا تو پیپلز پارٹی کے حق میں ملک ریاض نوٹوں کے اٹیچی لے کر گورنر ہاؤس میں موجود رہے لیکن اس کے باوجود ان کا کمال یہ ہے کہ ان کے مسلم لیگ نون کے میاں برادران سے بھی قریبی تعلقات بھی ہیں۔

یہ بات اب پاکستانی میڈیا میں آچکی ہے کہ صدر آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان معاہدہ بھوربن کروانے والی شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ ملک ریاض ہی تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک ریاض نے پاکستان کی مڈل کلاس کی ضروریات کو فوکس کیا اور ان کےلیے ایسی رہائشی سکیمیں بنائیں جو دیگر کے مقابلے میں بہت اعلیٰ معیار کی اور نسبتاً سستی ہیں۔

وہ بے شمار لوگوں کی مالی امداد، غریبوں کے علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بہت سے غریب بچے ان کے تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں لوگوں کو مفت کھانا کھلانے کے لیے بحریہ دسترخوان لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ان کے مخالف وکیل کا کہنا ہے کہ یہ سب ’حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ ہے‘۔

وکیل صاحب کا جملہ معترضہ ہے کہ ناجائز طریقے سے کمائی دولت کا معمولی حصہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کالا دھن سفید نہیں ہوجاتا۔

امریکی شہر ہیوسٹن کے ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ کے والد نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کے چھوٹی عمر میں ہی بڑے بڑے خواب تھے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سبیکا کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج کے تحت ہیوسٹن کے سانٹافے سکول میں گذشتہ سال اگست میں پڑھنے گئی تھیں۔

سبیکا کے والد عبدالعزیز نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'سبیکا تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ اسے نو جون کو کراچی پہنچ جانا تھا۔

اس واقعے کی خبر ملتے ہی لوگ کراچی میں سبیکا کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔

سبیکا کے والد نے کہا کہ فائرنگ کی اطلاع انھیں میڈیا سے ملی۔ پھر انھوں نے سبیکا کے نمبر پر فون کیا، لیکن وہاں سے جواب نہیں آیا۔ پھر سکول کے رابطہ کار سے رابطے سے پتہ چلا کہ سکول میں فائرنگ ہوئی ہے۔ تین چار گھنٹے بعد اس نے تصدیق کی کہ سبیکا بھی فائرنگ کی زد میں آ گئی ہیں۔

انھوں نے سبیکا کے بارے میں بتایا کہ وہ 'کراچی پبلک سکول کی طالبعلم تھی۔ چھوٹی سی عمر میں اس کے بڑے خواب تھے۔ غیر معمولی ذہین اور باصلاحیت بچی تھی۔ وہ پاکستان کی فارن سروس میں جانا اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔

'مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میری بیٹی چلی گئی ہے۔'

سبیکا کی چھوٹی بہن نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بڑی بہن کے آنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں اور اس کے لیے افطار پارٹیوں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ایک دن پہلے سبیکا سے بات ہوئی تھی جنھوں نے کہا تھا کہ وہ سب کے لیے تحائف لے کر آئیں گی۔

سبیکا کی میت پاکستان منتقل کرنے کے لیے پاکستانی سفارت خانے نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

سفیر اعزاز چوہدری نے بتایا کہ کچھ ضروری کارروائیاں بھی باقی ہیں جن میں وقت لگتا ہے۔ لیکن کوشش ہے کہ جتنا جلد ہو سکے، سبیکا کی میت کو پہنچا دیا جائے۔

’نوجوان سفیر‘

امریکی محکمۂ خارجہ نے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج پروگرام 2002 میں قائم کیا تھا جس کے تحت بالخصوص مسلمان اکثریتی ملکوں سے طلبہ کو ایک تعلیمی سال کے لیے امریکہ بلایا جاتا ہے تاکہ مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو آپس میں میل جول کا موقع مل سکے۔

ان طلبہ کو 'نوجوان سفیر' کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ان کے کاموں میں ایک یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں لوگوں کو بتا سکیں۔ وہ ایک امریکی خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اور امریکی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ہر سال 80 کے قریب طلبہ کو مدعو کیا جاتا ہے اور اب تک اس پروگرام کے تحت 1120 پاکستانی طلبہ کو امریکہ میں تعلیم حاصل کا موقع مل چکا ہے۔

 

سبیکا شیخ کے والد عبدالعزیز نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں واقع ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی خبر نیوز چینل سی این این پر سنی تھی۔

’افطار سے فارغ ہو کر میں نے 8 بجے ٹی وی چینل کھولا تھا جب میرا دھیان ایک خبر پر گیا۔ اُس پوری خبر میں دو لفظ میرے سامنے ابھر کر آ رہے تھے۔ ٹیکساس اور سکول۔ مجھے یکدم اپنی بیٹی کا خیال آیا اور میں نے اسے فون کیا۔‘

ہفتے کے روز بی بی سی سے اپنے گھر میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے سبیکا کو فون ملایا ہو اور اس نے فون نہیں اٹھایا ہو یا اس کا فورا میسج نہ آجائے کہ بابا میں آپ کو بعد میں فون کرتی ہوُں، لیکن اس دن ایسا نہیں ہواـ‘

سبیکا کے والد نے پھر ان کی دوستوں کو فون ملایا لیکن وہاں سے بھی جواب موصول نہیں ہوا۔

سکول کی انتظامیہ اور پروگرام کوآرڈینیٹر کو فون کرنے پر معلوم ہوا کہ سکول کو چاروں طرف سے پولیس نے بند کر دیا ہے اور اس وقت ان کو کچھ بھی وثوق سے نہیں بتایا جا سکتا کہ کیا ہوا ہے۔

’اس وقت تک یہاں پر ساڑھے نو دس بج چکے تھے جب مجھے سکول سے فون آیا۔ فون پر وہ لوگ روپڑے۔ مجھے پتا چل گیا کہ میری بیٹی نہیں ہے اب ـ ـ ـ ‘

فرح اور عبدالعزیز کی بیٹی سبیکا شیخ ایک سال قبل ٹیکساس کے سینٹا فے ہائی سکول میں سکالرشپ پر پڑھنے گئی تھیں۔ جمعے کی صبح وہاں پر ایک 17 سالہ لڑکے کے فائرنگ کرنے سے اب تک 10 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں سبیکا بھی شامل ہیں۔

ہفتے کے روز پاکستانی میڈیا سبیکا کے گھر کے باہر موجود تھا۔ ان کے چچا سے لے کر خاندان کے باقی افراد میڈیا کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ تعزیت کے لیے سبیکا کے گھر آنے والوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے عارف علوی بھی شامل تھے جو سبیکا کے چچا جلیل شیخ کو پاک سرزین کے علاقائی کوآرڈینیٹر کے طور پر جانتے ہیں۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ پاکستانی کونصلیٹ کی عائشہ صاحبہ ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اب تک ان کے رشتہ دار بھی ہیوسٹن پہنچ رہے ہیں۔

پہلے ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ ہمارا وہاں کوئی نہیں ہے لیکن بہت سے لوگ مدد کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ میری بیٹی کی لاش پیر یا منگل تک پاکستان پہنچا دی جائے گی۔‘

میڈیا اور باقی لوگوں سے دور سبیکا کی والدہ فرح شیخ نے اپنی بیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی پبلک سکول کی طالبہ ہوتے ہوئے اس کو بہت لوگ باہر پڑھنے کا کہتے تھےـ

’میری بیٹی بالکل آخری مراحل میں جا کر اس سکالرشپ کے لیے منتخب ہوئی تھی کیونکہ فارم جمع کرنے کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع ہوئی تھی۔ میں اپنی بیٹی کو ایک کامیاب اور نیک دل انسان کے طور پر یاد رکھنا چاہتی ہوں۔‘

ہیوسٹن کے سینٹا فے میں جمعے کی صبح ہونے والا واقعہ امریکہ کے سکولوں میں فائرنگ کا پہلا واقعہ نہیں ہےـ اس سے پہلے بھی اسی سال میں مختلف سکولوں میں فائرنگ کی تعداد میں اب تک 22 سکول شامل ہیں

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سبیکا کے والد نے کہا کہ ’وہاں کی حکومت کو سنجیدگی سے ان بڑھتے ہوئے حادثات کا نوٹس لینا چاہیے۔ اس طرح سے تو ماں باپ بچوں کو سکول بھیجنے سے بھی گھبرائیں گے۔‘

18 سالہ سبیکا شیخ کا تعلق کراچی کے گلشنِ اقبال کے علاقے سے تھاـ ان کی والدہ فرح نے بتایا کہ ان کے پاکستان آنے میں صرف 20 دن رہ گیے تھے۔ ’مجھے روز بتاتی تھی کہ مما آج 45 دن رہ گئے ہیں، پھر 35 دن رہ گئے ہیں ـ ابھی پرسوں ہی اس نے مجھے فون پر بتایا کہ مما اب صرف 19 دن رہ گئے ہیں اور پھر میں واپس آجاؤں گی ـ اپنی مرضی کے کھانے بتاتی رہتی تھی کہ مما میرے لیے افطاری میں یہ کھانا بنائیے گا۔ یہ واقع تو ہم سب کے لیے ایک سانحہ بن کر رہ گیا ہے، میری بیٹی اب واپس نہیں آئے گی ۔۔‘

میرے والدین کہتے تھے کہ من میت تم بہت غلط راستے پر جا رہی ہو، تم باہر گھومو گی اور یہ ایک خاتون کے لیے اچھا نہیں ہے لیکن جب انھوں نے میری پہلی رپورٹ دیکھی تو سب بہت خوش تھے اور فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔‘

یہ کہنا ہے پشاور کی رہائشی 24 سالہ من میت کور کا، جو پاکستان میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون صحافی ہیں۔ من میت نے حال ہی میں اپنی نشریات کا آغاز کرنے والے پاکستانی نیوز چینل ’ہم نیوز‘ میں بطور رپورٹر کام شروع کیا ہے۔

جب میں من میت سے ملنے پہنچا تو وہ نیوز روم میں دیگر رپورٹرز کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھیں اور ساتھ ساتھ اپنے ایک ٹی وی پیکج کے لیے سکرپٹ بھی لکھ رہی تھیں۔

پشاور یونیورسٹی سے سوشل سائنسز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ من میت کا میڈیا میں کام کرنے کا یہ پہلا تجربہ ہے اور ان کے مطابق ایک ٹی وی چینل میں کام کرنے کے سلسلے میں انھیں دو چیلنج درپیش تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک چیلینج تو یہ تھا کہ وہ پاکستان میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایک خاتون بھی ہیں جن کا کسی ادارے میں ملازمت کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

من میت کور کے مطابق عموماً ان کی کمیونٹی میں تعلیم کا رجحان بہت کم رہا ہے اور ان کے خاندان کے بہت کم مردوں اور خواتین کو باہر نوکری کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

لیکن من میت کور نے یہ دونوں چیلنج قبول کرنے کا عزم کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب ہم نیوز پاکستان میں لانچ ہو رہا تھا تو انھوں نے اس میں ملازمت کے لیے درخواست دی اور کچھ ہی دن بعد انھیں کال آ گئی کہ وہ انٹرویو کے لیے آفس آ جائیں۔

من میت کے مطابق جب انھوں نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا کہ انھیں ایک ٹی وی میں بطور رپورٹر کام کرنے کے لیے انٹرویو کے لیے بلایا گیا ہے تو گھر والوں نے مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین کو راضی کرنے کے لیے انھوں نے بہت کوشش کی اور اس سلسلے میں انھیں اپنے بیورو چیف اور ماموں کی مدد حاصل رہی جن کی کوششوں سے ان کے والدین مان گئے۔

من میت کا کہنا تھا کہ اسی نوکری کے لیے ان کے مقابلے میں ایک سکھ لڑکا بھی تھا لیکن سکروٹنی کے بعد ان کا انتخاب کر لیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اپنی پہلی رپورٹ کے بارے میں اپنے والدین کو بتایا اور ان کے والدین نے وہ رپورٹ دیکھی تو سب بہت خوش تھے اور فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔

من میت کور سے جب پوچھا گیا کہ وہ میڈیا میں آ کر کیا کرنا چاہتی ہیں، تو انھوں نے بتایا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی رپورٹنگ سے اقلیتوں کے مسائل اجاگر ہوں گے کیونکہ وہ خود اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے مسائل بہتر جانتی ہیں۔

ان کے مطابق ان کی کمیونٹی کے لوگوں کو ایک قسم کی حوصلہ افزائی بھی ملتی ہے جب ان کے اپنے کسی ٹی وی میں کام کرتے ہوں اور ان کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔

من میت کور کا کہنا ہے کہ خواتین کا تعلق اقلیتی برادری سے ہو یا نہ ہو، اگر ان میں ٹیلنٹ ہو تو انھیں سامنے آنا چاہیے کیونکہ خواتین کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا اور وہ دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں خواتین کی کمی

پاکستان میں خواتین کی میڈیا تناسب مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بالخصو ص اقلیتوں کے لیے نوکریوں میں کوٹے پر بھی درست طریقے سے عمل درامد نہیں ہورہا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ایک سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 380 مرد صحافیوں کے مقابلے میں صرف 20 خواتین پریس کلب یا یونین کی رکن ہیں۔

اسی سروے کے مطابق بلوچستان میں صرف دو خواتین صحافی جبکہ مرد صحافیوں کے تعداد 133 ہیں، جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں کوئی بھی خاتون صحافی موجود نہیں ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں خاتون رپورٹرز موجود نہیں ہیں۔ سروے کے مطابق اس کی بڑی وجہ خواتین کو اس شعبہ میں آنے کے لیے گھر سے اجازت نہ ملنا شامل ہے۔

پشاور میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رادیش ٹونی عرصہ دراز سے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام رہے ہیں۔ رادیش ٹونی نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اقلیتوں کے لیے سرکاری دفاتر میں تین فیصد کوٹہ مقرر ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا اگر کچھ ہورہا ہے تو اس میں صرف مردوں کو نوکری دی جاتی ہے اور خواتین کی اس میں حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جبکہ میڈیا میں تو اقلیتی برادری سے خواتین نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پاکستان میں بدھ کو ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جو کہ سائبر بُلنگ کے متعلق ہے۔

#SayNoToCyberBullying  کس نے شروع کیا اور یہ بدھ کو کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اس کے متعلق تو پتہ نہ چل سکا لیکن لوگوں کے ٹویٹ دیکھ کر اور کل ہی بی بی سی اردو کی رپورٹ کو، جس میں لاہور میں انسانی حقوق کی کارکن دیپ سعیدہ کا سائبر بلنگ کے حوالے سے انٹرویو کیا گیا تھا، سامنے رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سائبر بُلنگ پاکستان میں بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

لیکن ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے ’پرانے ٹوئٹر‘ کی بات بھی کی اور اسے کسی نہ کسی طرح سائبر بُلنگ سے جوڑا ہے۔ آخر لوگ اتنے 'نوسٹالجک' کیوں ہیں اور کیوں ماضی یاد کیا جا رہا ہے۔

سنا تو یہ تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب/ چھین لے مجھ سے حافضہ میرا۔ لیکن ٹوئٹر پر ٹرینڈ تو کچھ الٹا ہی نظر آ رہا ہے۔ آئیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی ٹوئیٹس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

سنا تو یہ تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب/ چھین لے مجھ سے حافضہ میرا۔ لیکن ٹوئٹر پر ٹرینڈ تو کچھ الٹا ہی نظر آ رہا ہے۔ آئیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی ٹوئیٹس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

Ammara.@ammarayyy

#SayNoToCyberBullying

ایک ٹوئٹر صارف عمارا لکھتی ہیں کہ 'سائبر ٹرولنگ پاکستانی معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے۔ اسے فوراً روکنا چاہیے کیوں کہ یہ حدیں پار کر چکی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو خدو خال اور شکل کی وجہ سے ٹرول کرتے ہیں جو کہ کسی طور قبول نہیں۔'
FAIQA. @Faiqaaheree
فائقہ کے مطابق 'سوشل سائٹس آج کل لوگوں کو ہراس کرنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹول ہے۔ انٹرنیٹ کو رابطے اور معلومات کے لیے استعمال کرنا چاہیے، دوسروں کو آزار پہنچانے کے لیے نہیں۔'
umar.@UmarHehe
ایک اور صارف عمر ٹوئٹر کا گزرا ہوا زمانہ یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 'میں ٹوئٹر کا وہ زمانہ یاد کرتا ہوں جب یہ بس ایک مزہ تھا اور لوگ اسے دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔'
Annie@ParhLeNalaik
اینی لکھتی ہیں کہ 'ایک زمانہ تھا کہ جب سب ٹوئٹر کا اچھا استعمال کرتے تھے لیکن اب سبھی اس پر نفرت پھیلاتے ہیں اور سستی ٹرولنگ اور اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔'

ایک اور صارف قادری بھی ٹوئٹر کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا وقت تھا جب لوگوں کو 'سائبر بلی' نہیں کیا جاتا تھا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ’ٹوئٹر ایک اچھی جگہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ 'لائکس' اور 'ری ٹویٹس' کے لیے دوسروں کی بے عزتی کرتے ہیں۔'

Tayyab Memon@TayyabMemon
طیب میمن لکھتے ہیں کہ 'سائبر بُلنگ بھی اتنا ہی دکھ دیتی ہے جتنا اصل بُلنگ۔ اسے ہر حال میں رکنا چاہیے۔'

سدرا سائبر بلنگ کی وجہ سے اپنے ڈپریشن کے متعلق لکھتی ہیں کہ 'جب میں میٹرک میں تھی تو میری تصاویر لیک کی گئی تھیں۔ مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایسا کیسے ہوا اور اسے کس نے کیا لیکن جو مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت میرے دماغ میں خود کشی واحد راستہ دکھائی دیتا تھا۔'

#SayNoToCyberBullying  کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

بی بی سی اردو نے یہ جاننے کے لیے کہ یہ ہیش ٹیگ بدھ کو کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اور سائبر بلنگ پاکستان میں کتنا بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن سے وابستہ شمائلہ خان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ آن لائن ہراساں کرنا پاکستان میں ایک مسئلہ ہے اور یہ کافی زیادہ شروع ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر عورتوں اور بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور ایسے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اُس سال انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کی 1551 شکایات سنیں اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انھیں شکایات کالز، ای میلز اور فیس بک پیغامات کی شکل میں ملیں اور شکایات کرنے والوں میں 67 فیصد نے خود کو خواتین جبکہ 45 فیصد نے مرد بتایا۔

رپورٹ کے مطابق وہ پلیٹ فارم جس پر سب سے زیادہ ہراساں کیا گیا وہ فیس بک ہے۔ تقریباً 45 فیصد کالرز نے بتایا کہ انھیں فیس بک پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہراس کرنے کے طریقوں میں جعلی فیس بک پروفائل، بغیر اجازت کے معلومات افشا کرنا، بلیک میلنگ اور بغیر اجازت کے پیغامات بھیجنا شامل ہے۔

  • 1

جب ایک اٹھارہ سالہ لڑکی اور بیس سالہ لڑکے کے شادی ہوتی ہے تو 

دوسرے ہی دن لڑکی بیوی , بھابھی, چاچی, مامی, تائی, اور سب سے خطرناک رشتہ #بہو میں بندھ جاتی ہے ,سال ڈیڑھ سال میں نمانی ماں کے رتبے کو بھی حاصل کرکے اپنی زندگی تیاگ دیتی ہے

لیکن

اسی شادی کے بعد لڑکا صرف مرد میں بدل کے ایک حیثیت کے دائرہ میں آجاتا ہے " داماد" اب وہ صرف داماد اور شوہر ہے ,جس کے اختیار میں ایک لڑکی آچکی ,وہ جیسے چاہے اس سے سلوک کرے،

اٹھارہ سالہ لڑکی شادی کے دو چار دن ( زیادہ لکھ دیئے) بعد ہی رشتوں کی نزاکتوں کو سمجھنے پہ مجبور ہوجاتی ہے اور اپنی عمر سے چھ آٹھ سال آگے بڑھ جاتی ہے

اٹھارہ سالہ لڑکی, انیس سال میں ماں بن کے اچانک تیس چالیس سال کی تجربہ کار عورت میں بدل جاتی ہے جو راتوں کو بچوں کے ساتھ, اور دن میں خاندان کے ہر ایک رشتے کے حساب سے چلتی ہے اور شوہر کے بدلتے موڈ کو بھی مدِنظر رکھ کے اپنی عزت بچاتی ہے،،،،

جیسے ہی بچے اسکول جانے کے قابل ہوتے ہیں, اب وہ چوبیس پچس سال کی لڑکی / عورت صرف ایک " کان " بن جاتی ہے جس میں بچوں کی اسکول, ٹیوشن, قاری صاحب, دوستوں کی باتیں جاتی ہیں یا میاں کی کاروباری ٹیشن, آفس کے مسائل, سیاست کی کہانیاں انڈیلی جاتی ہیں ساتھ ساتھ سسرالی رشتے داروں یعنی تنی ہوئی رسی پہ چلنا بھی اولین فرض ہے،

وہ اٹھارہ سال کی لڑکی جو اپنی بےفکری کی زندگی جی چکی یعنی پورے اٹھارہ سال جس میں سے چودہ سال اگر اسکول کالج کے نکال دیں تو اس نے اپنی شاندار زندگی پیدائش سے چار سال کی عمر تک بھرپور جی لی ہوتی ہے

وہ اب ایک بہترین کْک ہے, ماسی ہے برتن دھونے والی،،،بچوں کی آیا ہے, نرس ہے, ڈاکٹر ہے, ڈرائیور ہے, گھر کی چوکیدار ہے, کیشیئر ہے, بجٹ بنانے والی ہے, بینک ہے, دھوبن ہے

پریس کرنے والی ہے, ٹیلر ہے, استانی ہے, کونسلنگ کرنے والی ہے, الارم ہے, اور سب سے بڑھ کے وہ صرف ایک " کان " ہے

جہاں زمانے بھر کی باتیں جاتی ہیں

اور کوئی نہیں سوچتا شادی سے پہلے جو لڑکی گھومنے کی شوقین,،،، کھانے پینے کی رسیا,،،،پڑھنے کی لت میں مبتلا, خوشبوؤں میں بسنے والی,،،،میٹھا بولنے والی,،،، دھیما چلنے والی کہاں گم ہو جاتی ہے،

وہ کیوں زبان کی تلخ, کپڑے لتے سے بے فکر, جو ملا کھالیا, ہر وقت کی جلدی میں کیوں رہتی ہے،،،،نک سک سے تیار رہنے والی حال سے بے حال ہوکے صرف خاندانی شادیوں اور دعوت میں ہی تیار کیوں ہوتی ہے

کیا وہ شادی سے پہلے کوئی ٹریننگ حاصل کرتی ہے بچے پالنے اور پیدا کرنے کی کیا وہ شادی ان ساری زمہ داریوں کو لینے کے لیے کرتی ہے،

کیا وہ شادی گھر کے کاموں کے لیے کرتی ہے کیا وہ شوہر کے اشاروں پہ چلنے کے لیے اپنے ماں باپ چھوڑتی ہے

کیا وہ سسرالی رشتے داروں کے طعنے کھانے شادی کرتی ہے کیا وہ ڈھیر جہیز لینے کے لیے شادی کرتی ہے ساتھ اگر شوہر بعد میں پھنسے تو اپنے ماں باپ سے مدد کروانے پہ بھی تیار رہتی ہے،

اگر نہیں تو

وہ بھی صرف چاہے جانے, سراہنے, ناز ونخرے اٹھوانے کے لیے شادی کرتی ہے جیسے ایک لڑکا کرتا ہے

جب ایک لڑکا ایک دن کے بچے, کو اٹھاتے ڑرتا ہے تو یقین جانیں وہ لڑکی بھی ڈرتی ہے

جب ایک لڑکا اپنے سسرال میں جا کے " ایزی " فیل نہیں کرتا تو اسکا بھی یقین رکھیں وہ انجان لڑکی بھی ایک قیامت سے گزرتی ہے

پورے سسرال کے مزاج کو سمجھنے میں جب ایک لڑکا اپنی معاشی ذمہ داریوں سے گھبرا جاتا ہے تو یقین مانیئے وہ لڑکی بھی ایک جیسی روٹین, گھر کے کاموں کی زمہ داریوں سے اوب جاتی ہے

جب وہ لڑکا بچوں کی تعداد یا ان کے اسکول کالج کی فیس سے ٹینشن میں آتا ہے تو ایسا کیسے ممکن ھے وہ لڑکی جو چوبیس گھنٹے گھر میں رہتی ہے وہ ٹیشن نا برداشت کرے

جب لڑکا اتوار کو دن چڑھے سوتا ہے تو لڑکی کا دل نہیں کر سکتا ایک دن کی چھٹی مل جائے کچن سے

جب لڑکا اتوار کے دن دوستوں میں جاسکتا ہے تو اس لڑکی کا دل پتھر کا تو نہیں بنا جو شادی کے بعد پچھلے سارے رشتے ناطے تیاگ ڈالے

بات صرف احساس کی ہے, وہ رفتہ رفتہ ختم ہوتا ہے ہر رشتہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے

  • 1

میں اتنی دنیا پھری پر جھنگ بازار کی مائی جھنڈی کے سوا کوئی ایسا نہیں ملا جو ٹھوک بجا کر کہتا ہو کہ اسنے اللہ کو دیکھا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ مائی جھنڈی کون تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافر، پاگل، جاہل یا پھر کوئی مجذوب۔ پر میں نے اسے بڑے یقین سے، بار بار کہتے سنا ہے کہ اسنے اللہ کو دیکھا ہے۔ وہ کہتی

"میں نے اللہ کو دیکھا۔ اللہ نے مجھے دیکھا اور وہ ہنس پڑا"

وہ پرانا دور تھا۔ لوگوں کا علم کم پر دل بہت بڑا تھا۔ اتنا بڑا کہ کیا خبر اس میں واقعی اللہ پاک رہتا بھی ہو۔ ان کا دل اتنا بڑا تھا کہ مولوی صاحب کی بڑبڑاہٹوں کے باوجود محلے کے لوگ مائی جھنڈی کو قبول کئے ہوئے تھے۔ بھلے ان میں سے شائید سبھی یہ سمجھتے ہوں کہ مائی سٹھیا گئی ہے،بھلے ان میں سے چند ایک کو شک بھی گذرتا ہو کہ کہیں مائی کے یہ جملے کفر کی زد میں تو نہیں آ جاتے مگر پھر بھی ان کا دل نہیں مانتا تھا کہ اللہ پاک کا نام اتنی محبت سے لینے والے کو دل میں بھی برا جان لیں۔

جھنگ بازار میں ایک پرانے مندر کے احاطے کے بیچوں بیچ برگد کا ایک درخت تھا جس کے قریب بہت سی جھاڑیاں بھی تھیں۔ شائید انہی جھاڑیوں کے قریب بیٹھنے کی وجہ سے اسے مائی جھنڈی کہا جاتا تھا۔ مائی صبح تڑکے برگد کے درخت تلے آن بیٹھتی جہاں اسکے بیٹے کا کولہو تھا اور سارا دن سرگوشیوں میں بیل سے باتیں کئے جاتی۔ ہم نے کئی بار کان لگا کرسننے کی کوشش بھی کی کہ وہ کیا بولتی ہے پر کبھی سمجھ نہیں پائے۔ اس سے پوچھتے تو کہتی کہ بیل کو سمجھاتی ہوں، حوصلہ دیتی ہوں۔ بیچارا بڑا اکیلا ہے۔ میں باتیں کرتی رہوں تو بیل تیز چلتا ہے، گھبراتا نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس کی بات کو جانچنے کا کوئی زریعہ نہیں تھا کہ ہم نے اسے ہمیشہ وہیں بیٹھے بیلوں سے باتیں کرتے ہی سنا۔ وہ اپنے اس کام کو بڑی لگن اور بڑی ذمہ داری سے کرتی تھی۔ کئی بار تو بخار میں تپتی، سردی سےٹھٹھرتی، پاگلوں کی طرح کانپتی رہتی مگر اس موڑھے سے نہ اٹھتی۔ اسکے بیٹے بہو نے بڑی بار اسے محبت سے، تنگ آ کر، غصے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ دھندے کی جگہ چھوڑ وہ گھر میں آرام کرے پر وہ کسی کی نہ سنتی اور ہر صبح بڑے التزام سے وہاں پہنچ جاتی۔

بیلوں کے ساتھ ہر آنے والے گاہک سے بات کرنا بھی نہ بھولتی۔ وہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ ضرور کہتی۔ کوئی دعا، کوئی سوال، کوئی چبھتا ہوا جملہ۔ لگتا تھا جیسے بیلوں کی طرح اسکا گاہکوں سے بات کرنا بھی ضروری ہو۔ گاہکوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے۔ جیسے وہ گاہکوں سے باتیں کرتی رہے گی تو اسکے بیٹے کا دھندہ زیادہ چلے گا۔

اسکے بیٹے اور بہو نے اب اسکے ساتھ سر کھپانا چھوڑ دیاتھا۔ وہ دونوں محنتی سے لوگ تھے۔ برگد کے نیچے کولہو میں سارا دن بیل گھومتا تھا اور وہ بوریوں سے الجھے رہتے۔ انہیں گاہکوں کی فکر تھی، آنے والے موسموں کی فکر تھی، ان بچوں کے بیاہ کی فکر تھی جنہیں ابھی ٹھیک سے اپنی ناک صاف کرنی بھی نہیں آتی تھی، رات کی روٹی کھاتے تو صبح کے ناشتے کی فکر تھی۔ بس انہیں فکر نہیں تھی تو اپنے بیل کی فکر نہیں تھی۔ میں نے اسے کبھی بیل کو مارتے یا زبردستی چلاتے نہیں دیکھا کہ وہ تو مائی جھنڈی کی سرگوشیوں پر تیز چلنے لگتا تھا۔

نانی کہتی تھیں کہ وہ پہنچی ہوئی ہے اور گھر میں اگر کوئی اچھی چیز بناتیں تو بڑے التزام سے چھوٹی پلیٹ میں رکھ کر اسے صاف کپڑے سے ڈھک کر مجھے دیتیں تاکہ میں انہیں دے آوں۔ مائی جھنڈی بھی جیسے اس کی عادی ہو گئی تھی میرے ہاتھ میں پلیٹ دور سے دیکھ کر نعرہ لگاتیں کہ "دیکھیں آج میرے اللہ پاک نے میرے لئے کیا بھیجا ہے"۔ شروع شروع میں میں چڑ جاتی اور تلملا کر کہتی کہ "یہ نانی نے بھیجا ہے۔ صفیہ خاتون جو چوبارے والے گھر میں رہتی ہیں۔ " اور مائی جھنڈی مسکراتی "ہاں ہاں کیوں نہیں۔ پربھلا صفیہ خاتون کو کس نے بھیجا ہے؟" میں جھنجھلا جاتی۔ بھلا یہ کیسا سوال تھا؟ تب مجھے لگتا تھا جیسے مائی جھنڈی مجھے بچی سمجھ کر میرا مذاق اڑانے کی کوشش کرتی تھی مگر پھر میں نے دیکھا کہ اسکی تو ہر بات ہی اللہ سے شروع ہوتی تھی۔ ہوا چلتی تو شکر کرتی کہ "میرے اللہ نے کیا ٹھنڈی ہوا چلائی ہے"۔ اسکی بہو غصے میں آ کر اسے کوسنے دیتی تو کہتی "اللہ پاک آج مجھ سے ناراض ہے"۔ بیمار پڑ جاتی تو کہتی "اللہ کی چٹھی آئی ہے کہ مائی جھنڈی ہمیں بھول تو نہیں گئی"۔ چڑیا گاتی تو کہتی "ثبحان اللہ"۔ گدھا بولتا تو اسکی طرف مسکرا کر دیکھتی اور کہتی " تیرے سا خوش قسمت کون ہو گا بھلا جس کا ذکر خود اللہ نے اپنی پاک کتاب میں کیا ہے"۔

مائی جھنڈی اتنا اللہ اللہ کرتی کہ الجھن ہونے لگتی۔ میں تو اس گھر سے تھی جس میں اللہ کی کتاب کو بھی زریں غلاف میں لپیٹ کر الماری کے سب سے اونچی خانے میں رکھی رحل میں رکھا جاتا تھا۔ ہمارا اللہ بہت بڑا تھا، بہت زبردست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کوئی بہت بڑا شہنشاہ ہو پر مائی جھنڈی کے قریب آ کر جیسے اللہ ایک کھلنڈرے دوست میں بدل جاتا تھا جو اسے دیکھ کر مسکراتا تھا، اسکے ساتھ کھیلنے کو مچلتا تھا، اونچے درختوں پر لگی کچی امبیاں توڑنے سے نہیں گھبراتا تھا۔ ہمارا اللہ تو پورے جہان کا مالک تھا جسے پوری کائنات کا نظم و نسق چلانا ہوتا تھا اور مائی جھنڈی کے اللہ کو تو جیسے کوئی دوسرا کام ہی نہیں تھا۔ وہ تو بس اگر ساری دنیا کی کلیں گھما رہا تھا تو صرف اس لئے کہ مائی جھنڈی کہ چہرے پر مسکراہٹ لے آئے۔ ہمارا اللہ مائی جھنڈی کے اللہ سے بہت جدا تھا اسی لئے مجھے ہمیشہ مائی جھنڈی کے قریب جانے سے الجھن ہوتی۔ پر نانی جب بھی کوئی کھانے کی چیز دیتیں تو مجھے جانا ہی پڑتا۔ اسکی دعائیں سننی پڑتیں۔ اسکا جھریوں زدہ ہاتھ اپنے سر پر پھروانا پڑتا۔ ہاں البتہ مزے کی بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مجھے اپنے کھانے میں شریک بھی کر لیتی۔ اور یوں میں گھر میں تو اپنا حصہ کھاتی ہی مگر مائی جھنڈی کے ساتھ بھی خوب مزے سے کھاتی۔

مائی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا پر کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ وہ بس اتنا کہ کر خاموش ہو جاتی کہ "یہ بات بس میں جانوں یا پھر میرا اللہ جانے"۔ اور کہتی بھی بڑے عجیب انداز میں۔ جب وہ "میں جانوں" کہتی تو انگلی سے آسمان کی طرف انگلی اٹھاتی اور "میرا اللہ جانے" کہتی تو انگلی اپنے دل پر رکھ لیتی۔ اور ایسا کرتے ہوئے اسکے آنکھیں یوں جمی رہیتیں جیسے کسی غیر مرئی شئے کو تکتی ہوں۔ شروع میں تو لوگوں نے اسے ایک اتفاق ہی سمجھا اور کچھ نے شائید اسکی توجہ دلانے کی کوشش بھی کی مگر وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی رہی اور اب اگر میں اسے سوچنے جاوں تودل میں ایک پھانس سی پڑ جاتی ہے کہ نجانے کیوں وہ جانتے بوجھتے ایسا کرتی تھی۔

میں ہمیشہ مائی سے چڑتی ہی رہی۔ کوشش کرتی کہ میں اسکی بے سروپا باتوں پر زیادہ نہ سوچوں مگر ایک دن میرے کان کھڑے ہو گئے جب وہ میری خالہ سے بات کر رہی تھی۔ خالہ نئی نئی یونیورسٹی گئی تھیں اور فسلفہ پڑھتی تھیں اسلئے سارا دن علمی بحثوں میں الجھنا ان کا شوق تھا۔ اس دن انہوں نے بڑی تحقیر کے انداز میں مائی جھنڈی سے پوچھا "مائی تجھ میں اور تیرے اس بیل میں بھلا کیا فرق ہے"۔

"فرق تو ہے بیٹا۔ ہیں تو دونوں اللہ کی مخلوق پر فرق تو ہے۔ فرق ہماری ٹانگوں، دماغ یا پھر بولنے کا نہیں بلکہ کسی اور شئے کا ہے۔ دنیا دیکھنے کیلئے جانوروں کو شیشے کا ٹکڑا ملا ہے اور ہمیں عدسہ ملا ہے۔ تو بھی سوچتی ہو گی کہ بھلا شیشے کے ٹکڑے اور عدسے میں کیا فرق ہے؟ مائی نے بھی کہاں کا ٹکڑا کہاں لگا دیا ہے پر فرق ہم میں اتنا ہی ہے۔
شیشے کے ٹکڑے سے دنیا دیکھو تو کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں بس منظر تھوڑا دھندلا ہو جاتا ہے۔ شیشہ رنگدار ہو تو عجیب سے رنگ بھر جاتے ہیں اور اگر دنیا کا سب سے شفاف شیشہ بھی مل جائے تو بس منظر کو ہوبہو ویسا دکھا دیتا ہے جیسے کہ وہ ہے۔ پر میرے اللہ سوہنے نے تو کہ دیا ہے کہ دنیا دھوکہ ہے پھر اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ بھی لو تو کیا ملے گا؟ جانور شیشے کے اس ٹکڑے سے دنیا دیکھتے ہیں اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتے ہیں۔ دھوکے میں مل کر خود بھی دھوکہ ہو جاتے ہیں۔ 
پر انسان کی بات دوسری ہے۔ انسان کو دیکھنے کے واسطے شیشہ نہیں طرح طرح کے عدسے ملے ہیں۔ ہر عدسہ مختلف ہے۔ کوئی چیزوں کو چھوٹا کر کے دکھاتا ہے، کوئی دور کر دیتا ہے، کوئی الٹا کر دیتا ہے کوئی مکھی کو اتنا بڑا کر کے دکھاتا ہے کہ وہ ہاتھی جیسی لگنے لگے۔ عدسہ ہمیں دنیا نہیں دکھاتا بلکہ عکس دکھاتا ہے۔ عکس جو ہمیں رلاتے ہیں، ہنساتے ہیں، غصہ دلاتے ہیں۔ دنیا دھوکہ ہے پر عکس سچا ہے کہ وہ ہمارے ذہن میں بنتا ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑی مہربانی کی جو ہمیں یہ نظر دی ہے اور ایک ہم ہیں جو عکس چھوڑ کر شیشے کے ٹکڑوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت ڈھونڈتے ہیں جو کہیں ہے ہی نہیں۔ حیقیقت کوئی نہیں اور اگر ہے بھی تو اسکے اتنے رنگ ہیں جتنے اللہ پاک کے بندے ہیں۔ ہم دو جمع دو چار کرتے ہیں اور بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے سچ ڈھونڈ لیا پر دو تیری آنکھیں اور دو میری آنکھیں مل کر چار تو نہیں ہوتی نہ۔ انہیں جتنا بھی جمع کر لو پر سچ یہی ہے کہ دو آنکھیں تیری رہیں گی اور دو میری۔ تیری دو آنکھیں کبھی اس محبت سے میرے بیل کو دیکھ سکیں گی جس سے میری آنکھیں دیکھتی ہیں؟

جانور کے سامنےاسکا بچہ مر جاتا ہے پر وہ روتا نہیں، جانور کے سامنے اسکا پورا جنگل جلا دو پر اسے سمجھ نہیں آتی کہ اسکا کیا چھن گیا ہے۔ یہ ہماری نظر ہے جس سے ہم چیزوں کوسمجھتے ہیں۔ اللہ پاک کی حکمت کو سمجھتے ہیں۔ اس سے باتیں کرتے ہیں۔ جب جب ہم روتے ہیں تو سمجھو کہ وہ ہم سے بات کر رہا ہے۔ ہم ہنستے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ ہے۔

شیشے کے ٹکڑے سے دیکھو گے تو آر پار نظر آئے گا اور عدسے سے دیکھو گے تو عکس نظر آئے گا۔ دنیا اصل نہیں ہے دنیا عکس ہے۔"

میں نے خالہ کو اتنا خاموش کبھی نہیں دیکھتا تھا۔ اس دن مجھے لگا جیسے کیا پتہ مائی نے واقعی اللہ کو دیکھا ہو۔ ایک دن دوپہر کو جب مائی سستانے کو تھوڑی دیر کو زمین پر لیٹ گئی تو میں نے آہستگی سے پوچھا۔ 
"مائی کیا تو نے واقعی اللہ کو دیکھا ہے؟"
"تجھے یقین کیوں نہیں آتا۔ اللہ کوئی بڑا بادشاہ تو ہے نہیں جو کسی دور دراز آسمانوں پہ رہتا ہے۔ اللہ تو ہر شئے میں ہے۔ اب جو ہر شئے میں ہے اسے دیکھ لینے پر ہم سب اتنے حیران کیوں ہوتے ہیں؟ ہاں اگر کوئی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا تو ہمیں اس غریب پر افسوس کرنا چاہیے۔ ہر شئے کے دو روپ ہیں۔ ایک ظاہر اور ایک باطن کا۔ ظاہر کا روپ دنیا ہے اور باطن کا روپ اللہ ہے۔ جب کوئی نظر باطن کا روپ دیکھ لیتی ہے تو پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔"

"مائی اللہ کیسا ہے؟"

مائی ہنس پڑی۔ "یہ بات بس میں جانوں یا میرا اللہ جانے"۔

مائی نے تو جیسے مسکرا کر سوال ٹال دیا پر میں چھوڑنے والی نہیں تھی۔ محلے کی ہر بوڑھی عورت سے میرا ایک ہی سوال ہوتا کہ مائی جھنڈی نے اللہ کو کہاں دیکھا۔ کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر ایک دن میں ایک بوڑھی عورت اپنے بیٹے کے ساتھ تانگے میں بیٹھ کر مائی جھنڈی کے پاس آئی اور دونوں وہیں زمین پر بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتی رہیں۔ میں ایک پلیٹ میں کچھ لے کر آئی تو مائی جھنڈی نے بتایا کہ وہ اسکی بچپن کی سہیلی ہے۔ تب کی جب وہ لوگ میری عمر کے ہوتے تھے۔ مجھے لگا کہ جیسے اب وہ موقع آ گیا ہے۔ میں نے نانی سے کہ کر ہمارے چوبارے پر انکا اور انکے بیٹے کا بستر لگوا دیا۔ وہ لوگ کافی دور سے آئے تھے اور مائی جھنڈی کے چھوٹے گھر میں ان کے سونے کا انتظام تو ہو نہیں سکتا ہے۔

رات وہ بستر پر لیٹیں توانکا بیٹا تو لیٹتے ہی سو گیا مگر میں ان کے پاس بیٹھ گئی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی اور پھر پوچھا کہ کیا مائی جھنڈی ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں یا پھر اس وقت بدلیں جب انہوں نے اللہ کو دیکھا۔ وہ مسکرائیں

"مجھے نہیں پتہ کہ اسنے اللہ کو دیکھا یا نہیں۔ پر وہ ایسی نہیں تھی۔ دلی میں تو ہم دونوں تو شیطان کے چرخے تھے۔ پورا محلہ ہماری شرارتوں سے تنگ تھا۔ پھر پاکستان آنے کی ڈھنڈیا پڑی تو ہماری جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ ہم دونوں ایک ہی ٹرین پر پاکستان کو چلے پر مختلف ڈبے تھے۔ راستے میں کہیں ٹرین آہستہ ہوئی تو بہت سے بلوائی پچھلے ڈبوں پر چڑھ آئے اور لوگوں دل دہلانے والی چیخیں ہمارے ڈبے تک آتی تھیں۔ میں نے لوگوں کے چہروں پر اتنا خوف کبھی نہیں دیکھا۔ مائیں دونوں ہاتھوں سے بچوں کے کان بند کرتی تھیں کہ وہ ڈر نہ جائیں مگر میرے کان ان چیخوں کے بیچ اپنی سہیلی کی آواز کھوجتے تھے۔ چیخیں قریب آتی گئیں اور پھر شور مچا کی اسٹیشن کی روشنیاں نظر آ گئیں۔ اسٹیشن پر شائید فوج کے بندے تھے تھی بلوائی اس سے پہلے ہی بھاگ گئے۔ فوجیوں نے آدھی ٹرین کٹی دیکھی تو انہوں نے اسے روکے بنا اسی طرح آگے بھیج دیا۔

پاکستان میں اسٹیشن پر اترے تو عجیب منظر تھا۔ ڈبوں کے دروازوں سے خون رستا تھا۔ میں بھاگی بھاگی اسکے ڈبے تک پہنچے تولاشیں دروازے تک آ گئی تھیں اور میں وہیں کھڑی رہ گئی۔ میرے اردگرد بچے کچھے لوگ اپنے بچے، بوڑھے اور سامان لئے کیمپ کی طرف جاتے تھے اور ایسے میں میں نے اسے دیکھا جو ایک نوجوان لڑکی کی لاش اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ڈبے سے اتر رہی تھی۔ اسکا پورا جسم خون میں ڈوبا تھا پر پھر بھی وہ بڑے سکون سے چل رہی تھی۔ میری سہیلی جب پاکستان کی سرزمین پر اتری تو اسکا اثاثہ بس ایک لاش تھی۔ اسے بہت سے لوگوں نے سمجھایا کہ لاش چھوڑ دو۔ کسی نرس نے اسکے جسم سے رستے خون پر مرہم لگانے کی کوشش بھی کی مگر اسنے سب کے ہاتھ جھٹک دیے۔ کیمپ کے باہر جب لاش کو دفنایا گیا تو وہ تین دن تک اس قبر کے سرہانے بیٹھی رہی اور پھر چپ چاپ خیمے میں آ گئی۔ پر وہ خیموں میں کسی مہاجر کی طرح نہیں بیٹھ بلکہ پہلے ہی دن سے کام کرنے لگی، خدمت کرنے لگی۔ ہر وہ کام جو کوئی دوسرا نہ کرتا میری دوست کرتی۔

ایک دن ہم دونوں سونے کو لیٹے تواسنے کھوئے کھوئے لہجے میں مجھے بتایا

" پتہ ہے میں نے اللہ کو دیکھا۔ اسنے مجھے دیکھا اور وہ ہنس پڑا"

مجھے لگا جیسے وہ سٹھیا گئی ہے پر وہ بولتی رہی

"انسان بڑی کملی مخلوق ہے۔ ہاتھ سے تلوار نیزے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمارے ڈبے میں جب شور اٹھا اور مرد دروازے کی طرف بڑھے تو وہاں کوئی نہیں تھا بس ہوا میں تیرتی ہوئی تلواریں تھیں، بھالے تھے۔ کوئی ہوتا تو وہ اسے روکتے بھی اب بھلا کوئی خالی ہاتھ تلوار کو کیسے روکے۔ لوگ کٹ کٹ کر گرتے تھے۔ کونوں میں سمٹتے رہے۔ پر سیدھی سی ٹرین میں بھلا کونے ہی کتنے تھے؟ مجھے بھی برچھی لگی۔ میں گری اور میرے اوپر ایک دوسری لڑکی گر گئی کچھ ایسے کہ اسکی بڑی بڑی آنکھیں مجھے دیکھتی تھیں۔ آنکھیں جن میں تکلیف تھی۔ خوف تھا۔ آنکھیں جو سہمی ہوئی بلی کے بچے کی طرح اپنے ہی جسم میں سمٹ جانا چاہتی تھیں۔ چیخیں اب کم ہوتی جا رہی تھیں۔ تلواریں اب لاشوں کے بیچ سانس لیتے جسم ڈھونڈتے تھے۔ جہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی دکھائی دیتی تو سینے میں چاقو کا پورا پھل گھسیٹر دیتے۔ ایسے میں کسی نے اس لڑکی کے جسم میں ایک برچھی ماری۔ میں نے اسکی آنکھوں میں اتنی اذیت دیکھی کہ جس کے سامنے پوری دنیا کی تکلیفیں چھوٹی پڑ جائیں۔ اذیت جس کے بعد آپ کا اپنے جسم پر، سانس لینے پر، زندہ رہنے پر کوئی دعوی نہیں رہتا۔ دعوی رہتا ہے تو بس ایک چیخ پر جو اتنی اذیت کے بعد تو آپ کا حق بن جاتا ہے۔ حق جسے ظالم سے ظالم قاتل بھی دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔ وہ آنکھیں اتنی پھیل گئی کہ انکے کونے سے خون کی لکیر نکلنے لگی لیکن وہ چیخی نہیں۔ شائید جانتی تھی کہ اگر چیخی تو سب متوجہ ہو جائیں گے۔ وہ اب اپنے آپ کو تو نہیں بچا سکتی تھی پر اگر وہ اپنا آخری حق چھوڑ دیتی تو شائید قاتل مجھے بھول جاتے۔

وہ چپ رہی اور اسنے ایسا دم سادھا کہ کہ مجھے خوف آنے لگ۔ اور پھر میں نے اس کی پھیلتی ہوئی پتلیوں کے بیچ اللہ پاک کو دیکھا جو اس لڑکی کو لینے خود آیا تھا۔ اسنے بڑی محبت سے لڑکی کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور ایک لمحے میں میری نظر اس سے ملی۔ میں نے اسے دیکھا۔ اسنے مجھے دیکھا اور پھر وہ ہنس پڑا۔ وہ ہنس پڑا کہ اسنے میری سوچ پڑھ لی تھی۔ کہ بھلا میں اتنی اہم کب سے ہو گئی کہ مجھ پر مہربانی کرنے والی لڑکی کو لینے خود اللہ آیا تھا۔ وہ ہنس پڑا جیسے کہتا ہو کہ میں تو ہمیشہ سے تیرے پاس ہی تھا پر تو نے کبھی مجھے دیکھا ہی نہیں۔"

ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بولتی رہیں۔

"میری سہیلی کہتی تھی کہ۔ ہر شئے کے دو روپ ہیں۔ ایک ظاہر اور ایک باطن کا۔ ظاہر کا روپ دنیا ہے اور باطن کا روپ اللہ ہے۔ جب کوئی نظر باطن کا روپ دیکھ لیتی ہے تو پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ اسنے بھی باطن کا روپ دیکھ لیا اور پھر اسنے کبھی نظر نہ جھپکی"۔

اگلے دن بوڑھی اماں چلی گئیں۔ مائی جھنڈی کی زندگی ویسے ہی چلتی رہی۔ وہ بیلوں سے باتیں کرتی، کہتی کہ اسنے اللہ کو دیکھا ہے، لوگوں کی اوٹ پٹانگ باتوں پر جھنجھلاتی نہیں۔ وہ ویسی ہی رہی پر میں بدل گئی۔ اب میں ہر شام بڑے التزام سے اپنے حصے میں سے بچا کر اسکے لئے پلیٹ بھر کر کچھ کھانے کو لاتی اور بڑی دیر اسکے پاس بیٹھ کر اللہ کی باتیں سنتی۔

میں نے پڑھنے کو شہر چھوڑا تو جیسے سب کچھ چھوٹ گیا اور پھر بہت سالوں کے بعد لوٹی تو بہت کچھ بدل گیا تھا۔ جھنگ بازار میں برگد کا پیڑ کٹ گیا تھا۔ اسکے نیچے کوئی کولہو نہیں چلتا تھا۔ ایک دکان تھی جس میں ایک مشین لگی تھی جس میں مائی جھنڈی کا بیٹا منہ پر رومال رکھے کام کر رہا تھا۔ مائی جھنڈی جا چکی تھی۔ دل میں آیا کہ پوچھوں بھلا مائی جھنڈی گئی تو بیلوں نے تیز چلنا چھوڑ دیا تھا اسلئے مشین لگا لی یا کوئی اور بات ہے؟ پر پھر یہ سوچ کر رک گئی کہ بھلا اس غریب کو کیا پتہ کہ مائی جھنڈی کون تھی؟ اتنی بڑی دنیا ہے اور میں نے مائی جھنڈی کے سوا کوئی نہ دیکھا جو ٹھوک بجا کر کہتا ہو کہ اسنے اللہ کو دیکھا ہے۔

 

گھر میں داخل ھوا تو دیکھا ، بیوی بیٹھی رو رھی ھے ۔۔
کیا ھوا ۔ میں نے پوچھا ۔۔ یہ آنکھیں کیوں لال کر رکھیں ھیں ۔۔ سب خیریت تو ھے نا ۔۔
آج ، اس کمینے نے ، بیوی کے کہنے پہ اس بڑھیا کو پھر مارا ھے ۔۔ وہ پھر ھچکیوں سے رونے لگی ۔۔
تمہیں کیا ۔ وہ اس کی ماں ھے ، تمہاری نہیں اور پھر بڑھیا ، زبان چلاتی ھو گی ۔ بہو کے معاملت میں دخل دیتی ھوگی ۔۔ میں نے اس کا غم غلط کرنے کے لیے کہا ۔
زبان چلاتی ھو گی ۔۔؟ معاملات میں دخل دیتی ھوگی ۔۔؟ آپ کو کچھ پتا بھی ھے ، اس بیچاری کو فالج ھے ۔ اٹھنے بیٹھنے کے لیے سہارے کی محتاج ھے ۔ اٹک اٹک کر اپنی بات پوری کرتی ھے ۔ بیوی نے تلخی سے جواب دیا ۔۔
پہلے تم نے کبھی بتایا نہیں کہ اس کو فالج ھے ۔۔ میں نے انجان بنتے ھوۓ کہا ۔۔
ھزار دفعہ تو بتایا ھے ۔ مگر آپ کو کپڑوں کے علاوہ کچھ یاد رھے نا ۔۔ بیوی بولی
اچھا چھوڑو ۔۔ ھم کر بھی کیا سکتے ھیں ؟ ۔۔ میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔۔
میرا دل کرتا ھے کہ بڑھیا کو اپنے گھر لے آؤں کچھ دنوں کے لیے ۔۔ میری بیوی نے کہا
کیا ۔۔ کیا کہا ۔؟ ۔۔ پاگل ھو گئ ھو ۔۔ پرائ مصیبت اپنے گلے ڈالو گی ۔۔ مجھے اس کی سوچ پہ غصہ آگیا ۔۔
صرف ھفتے بھر کے لیے ۔۔ اس نے میرے غصے کو نظر انداز کرتے ھوۓ کہا ۔۔ شاید وہ پہلے سے ھی سب پلان بنا کے بیٹھی تھی ۔۔
نہیں ، نہیں ۔۔ یہ ناممکن ھے ۔۔ اور پھر وہ کیوں دینے لگا اپنی ماں ھم کو ۔۔ میں نے کہا ۔
اس کی بیوی کئ مرتبہ کہہ چکی ھے کہ بڑھیا ، کہیں دفع تو ھو نہیں سکتی ، کتے کی سی جان ھے ، مرتی بھی نہیں ۔۔ بیوی نے کہا 
اچھا ، یہ کہتی ھے وہ ۔۔ میں نے بیوی کا دل رکھنے کے لیے کہا ۔۔
بس اب آپ مان جائیں اور اس کو اپنے گھر لے آئیں ۔۔ یہ کہتی ھوۓ وہ میرے پہلو میں آ بیٹھی ۔۔ اور یہی اس کا خطرناک حملہ ھوتا ھے ، اپنی بات منوانے کا ۔۔۔
اچھا جی اب اس بڑھیا کو گھر لانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال رھی ھو ۔ اور یہ تو سوچو کہ تم اس کوسنبھال بھی لو گی ؟ ۔۔ میں نے کہا 
اپنے بچے تو ھیں نہیں ، میں بھی گھر میں سواۓ ٹی وی دیکھنے کے اور کیا کرتی ھوں ۔۔ چلو وہ آ جاۓ گی تو میرا دل بھی بہلا رھے گا ۔ اس نے اداسی سے کہا
ھماری شادی کو دس سال ھو گۓ تھے ۔۔ مگر اولاد سے محرومی تھی ۔۔ 
میں نے سوچا -- چلو بات کر کے دیکھنے میں حرج نہیں ھے ۔ 
کونسا ، وہ اپنی ماں ، ھمیں دینے پہ راضی ھو جاۓ گا ۔۔ 
اگر راضی ھو گیا تو ۔۔؟ میں نے سوچا
پھر بھی ایک ھفتے کی ھی تو بات ھے ۔۔۔ 
اگر بعد میں اپنے ھی گلے پڑ گئ تو ۔۔ اچانک مجھے خیال آیا ۔۔۔
اگر وہ بڑھیا مستقل گلے پڑ گئ تو ۔۔ میں نے اپنے خدشے کا اظہار ، بیوی سے کیا ۔۔
یہ تو اور اچھی بات ھے ۔۔ اس نے خوش ھوتے ھوۓ کہا ۔۔
سچ کہتے ھیں ۔۔ عورت بے وقوف ھوتی ھے ۔۔ میں نے دل میں سوچا ۔۔

اگلے دن شام کو کافی سوچ بچار کے بعد میں ان کے گھر گیا ۔ کچھ بات کرنے کے بہانے ، ڈرائنگ روم میں بیٹھا ۔ اس نے جھوٹے مونہہ بھی چاۓ کا نہیں پوچھا تو میں نے اپنے پلان کے مطابق اس سے کہا کہ میری بیوی ، فالج کا علاج قران پاک سے کرنا جانتی ھے ۔ اور وہ آپکی والدہ کا علاج کرنا چاھتی ھے ۔ 
یہ سن کر اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا ۔ تو میں نے بات جاری رکھی ۔۔ کہ اس میں مسئلہ یہ ھے کہ آپ کی والدہ کو ھفتہ بھر ھمارے ھی گھر پر رھنا ھو گا ۔۔ آپ فکر نہ کریں ، ھم ان کا اچھے سے خیال رکھیں گے ۔۔ یہ سن کر اس کے چہرے پہ شرمندگی اور خوشی کے ملے جلے اثرات پیدا ھوۓ ۔۔ 
اس نے تھوڑی سی بحث کے بعد اجازت دے دی ۔ میں نے اٹھتے ھوۓ کہا کہ علاج میں پندرہ بیس دن بھی لگ سکتے ھیں۔ اس نے اور بھی خوشی محسوس کی ۔ 
کہنے لگا ۔۔ سلیم صاحب ، میں تو چاھتا ھوں کہ میری ماں ٹھیک ھو جاۓ ، بھلے مہینہ لگ جاۓ ۔۔
اور یوں ، اس طرح ، اماں ، مستقل ھماری ھی ھو کے رہ گئیں اگلے دن ، وہ بڑھیا ھمارے گھر منتقل ھو گئ ۔ بس وہ بڑھیا کیا تھی ۔۔ سفید روئ کا گالہ سی تھی ۔ نور کا اک ڈھیر سا تھا ۔ لاغر سی ، کمزور سی ۔ جیسے زمانے بھر کے غم ، اس کے نورانی جھریوں بھرے چہرے پہ تحریر تھے ۔ آنکھوں کے بجھتے چراغ ۔ کپکپاتے ھونٹ ۔ 
مناسب خوراک اور دیکھ بھال نہ ھونے کی وجہہ سے حالت اور زیادہ خراب تھی ۔۔ 
میری بیوی تو تن ، من ،دھن سے اس کی سیوا میں جٹ گئ ۔ اس کے لیے ھر چیز نئ خریدی گئ ۔۔ بستر ، کمبل ، چادریں ، کپڑے ۔۔ 
اچھی خوراک ، اور خدمت سے اماں کے چہرے پہ رونق آنے لگی ۔۔
پتا ھی نہ چلا ،مہینہ گزر گیا ۔۔ پہلے اس کی بہو ھر دو دن بعد آتی رھی ۔ پھر چار دن کا وقفہ ھوا ، پھر ھفتہ ھونے لگا ۔ اماں کو واپس لے جانے کی بات نہ اس نے کی ، نہ ھم نے ۔۔
دوسرا مہینے میں وہ ایک ھی دفعہ آئ ۔ گھر کی مصروفیت کا رونا روتی رھی ۔ تیسرے مہینے کے بعد ، اس نے آنا بند کر دیا ۔۔ میں نے بیوی سے کہہ دیا کہ اب اماں ، تمہاری ذمہ داری بن گئ ھے ، اب تم سنبھالو ۔ بیوی نے خوشی کا اظہار کیا ۔
یہ غالبن ساتواں مہینہ تھا کہ اس آدمی کو اس کی بیوی نے قتل کردیا اور بعد میں وہ خود بھی پکڑی گئ ۔ 
اور یوں ، اماں ، صرف ھماری ھی ھو کے رہ گئیں ۔
ادھر جیسے جیسے اماں کی توانائ بحال ھورھی تھی اور چہرے پہ رونق ، مسکان آنے لگی تھی ۔ ویسے ویسے ، میرا کاروبار ترقی کرنے لگا ۔ ایسے لگتا تھا جیسے مجھ پر دھن برسنے لگا ھو ۔ سال بھر میں میری تین دکانیں ھو چکیں تھیں ۔ تیسرے سال ھم تینوں ، میں ، بیوی اور اماں نے حج کی سعادت حاصل کی ۔ گلستان جوھر میں پانچ سو گز کا بنگلہ خرید کر وھاں شفٹ ھو گۓ ۔
اماں ، ھمارے ساتھ سات سال رھیں ، ھر پل ان کا ھمیں دعائیں دیتے گزرتا ۔اور ھم میاں بیوی ، خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔ 
۔ عجیب کرامت یہ ھوئ کہ اماں کی برکت اور دعاؤں سے ، اللہ رب العزت نے مجھے اولاد سے نوازا ۔۔
آج وہ ھمارے درمیاں نہیں ، مگر ان کی کمی شدت سے محسوس ھوتی ھے ۔ جیسے کوئ اپنا کہیں کھو گیا ھو ۔ ھم نے بھی کبھی ان سے ان کا نام تک نہ پوچھا ۔ بس ان سے اک خلوص کا رشتہ تھا ۔۔
پچھلے دنوں ، میری بیوی بہت خوش تھی ۔ وجہہ پوچھی تو کہنے لگی ۔ میں نے ایک خواب دیکھا ھے ۔۔
کیسا خواب ۔۔؟
میں نے دیکھا ۔ کہ محشر کا دن ھے ۔ اور سب حیران و پریشان کھڑے ھیں ۔ ان میں ، میں بھی کھڑی ھوں کہ اتنے میں ، اماں آئیں اور میرا ھاتھ پکڑ کر کہنے لگیں ۔ منیرہ ، ادھر آ ، میرے ساتھ ، تجھے پل صراط پار کرا دوں ۔ میں ان کے ساتھ چلی ، ھم ایک باغ سے گزرے ، تھوڑی دیر میں باغ ختم ھوا تو ایک بڑا سا میدان آگیا تو اماں کہنے لگیں ، بس ھو گیا پل صراط پار ۔۔ میں حیران ھوئ ۔ تو وہ بھی زور سے ھنسے لگیں ۔ پھر میری آنکھ کھل گئ ۔۔
مبارک ھو بھئ ۔۔ بہت اچھا خواب ھے مگر تمہیں میرا خیال نہ آیا ۔ ؟
قسم سے میں اتنی پریشان تھی کہ ۔۔ 
چلو ۔ خیر ھمیں بھی کوئ نہ کوئ مل ھی جاۓ گا جو پل صراط پار کرا دے ۔۔
آمین ۔۔ بیوی نے جیسے دل کی گہرائیوں سے کہا ۔۔
اور پھر اس کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا خواب میں بھی دیکھ چکا ھوں بس فرق یہ تھا کہ اماں نے میرا ھاتھ پکڑتے وقت کہا تھا ، چلو ، تمہیں منیرہ کے پاس لے چلوں وہ پل صراط کے پار ، تمہارا انتظار کر رھی ھے.

بخارا کا ایک بادشاہ کسی مرض میں مبتلا ہو گیا۔
شاہی طبیب نے بہت علاج کیا لیکن مرض کی شدت میں کمی نہ آئی۔چنانچہ شاہی طبیب نے اعلان کرادیا کہ جو شخص بادشاہ کا علاج کرے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ اعلان سُن کر بہت سے لوگ علاج کرنے کی غرض سے آئے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر ایک دن سترہ سال کی عمر کا لڑکا دربار میں حاضر ہوا،اس نے بادشاہ کا علاج کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ شاہی طبیب اسے دیکھ کر بولا:" بڑے بڑے حکیم بادشاہ کا علاج کر کے تھک گئے تم تو ابھی لڑکے ہو۔" یہ سُن کر لڑکے نے کہا:" میں تو اتنا جانتا ہوں کہ کوئی مرض لا علاج نہیں۔"آخر اسے علاج کی اجازت مل گئی۔علاج شروع ہوا۔
لڑکے کے علاج سے بادشاہ کے مرض میں کمی آتی گئی۔یہاں تک کہ وہ بالکل تندرست ہو گیا۔ وہ بہت خوش ہوا اس نے لڑکے سے کہا: مانگو کیا مانگتے ہو:
اب ہر شخص کے ذہن میں تھا کہ یہ لڑکا ہیرے جواہرات مانگے گا، یا آدھی سلطنت کا مطالبہ کرے گا۔ لیکن لڑکے نے کہا:
" بادشاہ سلامت ! آپ مجھے اپنی لائبریری سے چند عظیم کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیں۔" لڑکے کی خواہش سن کر سب حیران رہ گئے۔یہ سترہ سال کا لڑکا بعد میں عظیم مشہور طبیب " بو علی سینا " بنا۔
یہ ہمارا بو علی سینا تھا جس پر.ہمیں فخر تھا مگر آج اہل مغرب کے پاس بہت سے بو علی سینا ہیں کیون کہ انہیں پتہ چل گیا کہ بو علی سینا کیسے بنتے ہیں اس لیے انہوں نے کتاب کی محبت کو عام کر دیا آج ان کی کامیابی کا راز ہی یہ ہےکہ وہ لوگ کتاب سے محبت کرتے ہیں .ہماری نسل نو کتاب سے دور ہوتی جا رہی ہے.ہمارے بوعلی سینا سینما اور انٹر نیٹ کی نذر ہوتے جا رہے ہیں ہمارا البیرونی کہیں سوشل میڈیا کے اندھیروں میں گم گیا ہے ہمارا نیا ابن الہیشم أنکھ پر کام کیا کرے گا اس کی بصارت دنیا کی رنگینی میں کھو گیی ہے کیوں ایسا کیوں ہے . تو سنیے .عمومی طور پر کچھ احباب کو یہ کہتے سنا ہے کہ کتاب خرید کر کیا کرنا ہے انٹرنیٹ پر ہر قسم کا مواد کتاب موجود ہے لیکن جب میں ان سے پوچھتا ہوں آپ نے سیرت رسول پاک کی ایک کتاب بھی مکمل پڑھ لی ہے تو ان کا جواب نفی میں ہوتا ہے . دراصل ہمارا نصاب تعلیم اور تعلیم کی پالیسیاں ہی ایسی بنی ہیں کہ بچپن میں نمبر اور کالج میں گریڈ یونیورسٹی میں سی جی پی اے ہم ان کے حصول کے لیے پڑھتے ہیں اور پڑھ کر پیپر دے کر سب پڑھے کو اللہ حافظ کہہ دیتے ہیں .مدارس کے طلباء کا بھی یہ ہی حال ہے بزم ادب کی تقاریر تیار کی اور بس جتنا نصاب میں بخاری مسلم کو پڑھا باقی نہیں .ایسی صورتحال میں کوی ابن سینا کہاں سے پیدا ہو .میں فیصل مسجد ایک میٹنگ کے سلسلہ میں بک شاپ کے مالک جواد رسول صاحب کے پاس بیٹھا تھا.تو ہماری نظروں کے سامنے ایک عورت نے اپنے ایک بچے کو گیند لے کر دی اور دوسرا بچہ بضد تھا کہانی کی کتاب کے لیے اس پر اسے زور دار طمانچہ پڑا .اس عمل نے ہمیں حیرت میں مبتلا کر دیا .گیند اس کتاب سے مہنگی ہونے کے باوجود اپنا مقام رکھتی ہے ایسے حالات میں کتابیں فٹ پات پر بکتی ہیں اور جوتے شیشے کی دکان میں تو یہ کوی تعجب کی بات نہیں. والدین خود مصروف ہیں .اساتذہ کو کتاب کی لکھی عبارات کے سوا تربیت کا حق نہیں دیا جا رہا اور بتایا جا رہا ہے کہ آپ نوکر ہیں نوکری کریں بچے کے باپ مت بنیں تو ایسے میں کتاب ایک آخری اچھی دوست ہے ورنہ انٹرنیٹ اور میڈیا سے سیکھا بچہ ماں باپ کے پانی مانگنے پر ایک ہی جملہ بولے گا ..دیکھ نہیں رہے میں تھکا ہوا ہوں خود اٹھ کر پانی پی لیں. اپنے بچوں کو کامیابی پر کتاب تحفہ کیا کریں.اچھی کتاب.آسان کتاب.جو پڑھ کر بچہ مزید کتاب مانگے .اگر آپ کا انتخاب اچھا ہوا تو یقین جانیے .جس أخلاق .کردار اور عظمت کی آج کمی ہے وہ سب کتاب سے پوری ہو جاے گی آپ کا بچہ بھی معاشرے کابو علی سینا بن سکتا ہے. آپ کا.بچہ بھی ایک اچھا لکھاری بن سکتا ہے جس کے قلم کا سوز و ساز کسی بھٹکے ہوے کو اپنے رب کی بارگاہ میں لا کھڑا کر سکتا ہے. آپ خود بھی کتاب سے دوستی کریں .اچھی کتاب دنیا کے ایک ہزار دوستوں سے بہتر ہے جو آپ کے وقت کی قدر نہیں کرتے .یورپ نے نشاۃ ثانیہ کے بارے میں خواہ کتنے ہی جھوٹے دعوے کئے جائیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آداب زندگی اسلام نے سکھائے ، یورپ کا نشاۃ ثانیہ اسلامی علوم ہی کا مرہون منت ہے ۔ اس جانب حضرت اقبال کا اشارہ ہےکہ اپنے آباو اجداد کی وہ کتابیں ، وہ تصانیف ، وہ ایجادات وہ تحقیق و تجسس جو علم و حکمت کے بیش بہا موتی تھے انھیں یورپ میں دیکھ کر (ان سے استفادہ کرکے) آج مغربی ممالک نے ترقی کے تمام منازل طے کرلئے ہیں ۔ دوسری طرف عالم اسلام پر نظر ڈالیں توہمیں سخت مایوسی ہوتی ہے ۔ ہم نے کتنا بڑا اثاثہ کھودیا ۔ آج ہم کشکول گدائی لئے پھررہے ہیں ۔ علامہ اقبال کی زبانی یہ درد کچھ یوں ہے .
مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

  • 1

شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں ۔۔۔ دلہن کیلئے شہر کے مہنگے بوتیک سے کپڑے آڈر کئے جا رہے تھے ۔۔۔
میک اپ کیلئے معروف آرٹسٹ کو بلوایا گیا ۔۔۔۔
مہندی کی رات دور دراز سے آنے والے گلوکاروں نے موسیقی کی دھن پر خوب ناچ گانا کیا ۔۔۔۔ مسلسل تین راتیں رقص و سرور کی محفل سجی رہی ۔۔۔ اعلی معیار کی شراب اور پروفیشنل ڈانسرز بلوا کر محفل کو مزید گرمایا گیا ۔۔۔۔
غرض شادی کے موقع پر کوئی ایک ایسی شیطانی خواہش نہ تھی جو پوری نا کی گئی ہو ۔۔
رخصتی والے دن بارات جب دلہن کو لیکر جانے لگی تو اچانک مجمع سے کسی نے یاد کروایا " قرآن کہاں ہے ؟ " دلہن کے سر پر تو رکھا نہیں ۔۔۔
وہاں موجود لوگ وہیں رک گئے اور پریشانی میں سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں سے قرآن پاک منگوایا جائے ۔۔۔ کیونکہ قرآن پاک کے سائے کے بغیر دلہن کو روایہ کرنا اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا ۔۔۔
اتنے میں ایک نوجوان کو قریب کی مسجد میں بھیجا گیا کہ جاو مولوی صاحب نے قرآن پاک لے آو کہو کہ بارات رکی ہوئی ہے ۔۔۔
مولوی صاحب ۔۔۔۔ مولوی صاحب ۔۔۔ جلدی سے قرآن پاک دیجیے ۔۔۔
کیوں بیٹا کیا ہوا ؟؟ کیا پوچھنا ہے پوچھو ۔۔
نہیں مولوی صاحب ۔۔ ایک بارات رکی ہوئی ہے قرآن پاک کی رسم باقی ہے ووری کرنی ہے ۔۔۔
جلدی ہی واپس دے جاوں گا ۔۔
قرآن پاک کی رسم !!! انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔
معاف کرنا بیٹا ۔۔۔ قرآن پاک رسمیں ادا کیلئے نہیں دیا جاتا ۔۔
جب اس شخص کا اصرار بڑھا تو مولوی صاحب نے حجرے سے عام سی کوئی کتاب غلاف میں لپیٹ کر دے دی ۔۔
اور حیرت کی بات کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ شخص آیا اور واپس کرتے ہوئے شکریہ ادا کرنے لگا ۔۔
ایک دفعہ پھر مولوی صاحب نے منہ سے " انا للہ وانا الیہ راجعون " نکلا ۔۔ کہ فقط رسم ادا کرنے کا اتنا جنون کہ کھول کر دیکھنا بھی گوارا نا کیا کہ اندر کیا ہے ۔۔
اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ رسم کیلئے قرآن پاک نا دیکر اس پاک کتاب کا وقار بلند رکھا 

کلاس شروع ہونے میں ابھی پندرہ منٹ تھے نورین اپنی سہیلی صاعقہ کے ساتھ خوشں گپیوں میں مگن تھی کہ اچانک کالی وہاں نورین پر نظریں ڈالتے ہوئے گزرا...نورین بولی دیکھو ہم پر کیسے نظریں ڈالتے ہوئے گزرا ہے رنگ دیکھا ہے اس کا کتنا کالا ہے بلکل توے جیسا دل کرتا ہے اسی توے پر دو روٹیاں پکا کر اسے ہی کھلادوں... صاعقہ نے یہ سن کر ایک قہقہہ لگایا اور بولی میڈم وہ ہم پر نہیں تم پر نظریں ڈالتے ہوئے گزرا ہے عاشق جو ہے تمھارا.... پھر وہ گانا شروع کردیتی ہے... ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں ... ہم تیرے تیرے تیرے چاہنے والے ہیں.. ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں..... نورین بولی: ارے بند کرو اپنی بھونڈی آواز.... کیا بھونڈی آواز !! ارے اگر یہ گانا میں ابھی فیس بک پر ڈالوں تو کیسی لائک اور کمنٹس کی برسات ہوتی ہے ..یہ کہہ کر وہ ایک زور دار قہقہہ لگاتی ہے...نورین بولی: ارے اور لڑکوں کا کام کیا ہے لڑکیوں کی پوسٹ پر تو ایسا جھپٹتے ہیں جیسے کوئی شکاری اپنے شکار پر...اور یہ جو تم کالی کے بارے میں بات کررہی ہو ایسے دل پھینک تو ہزاروں ملیں گے یونیورسٹی میں....ہاں کہتی تو تم بلکل ٹھیک ہو...پر کوئی ایک تو ہوگا تو تمھاری زندگی میں تمھارے خوابوں کا شہزادہ بن کر آئے گا... جب آئے گا جب دیکھا جائے گا ابھی تو فی الحال اٹھو کلاس کا ٹائم شروع ہونے والا ہے ...دونوں نے اپنی کتابیں اٹھائیں اور اپنی کلاس روم کی طرف چل دیں

*****************************

کالی جس کا اصل نام مراد تھا پر اپنے کالے رنگ کی وجہ سے پوری یونیورسٹی میں کالی کے نام سے مشہور تھا کالی نورین کو بے انتہا پسند کرتا تھا پر آج تک اس نے اسکا اظہار اس سے نہیں کیا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا جواب سوائے انکار کے اور کچھ نہ ہوتا...اس لئے بس وہ اسے دیکھ کر اپنی نگاہوں کو تسکین کا سامان مہیا کردیتا..

****************************
آج موسم کافی خوشگوار تھا صبح سے ہی فضا میں ٹھنڈی ہواوں کا راج تھا .. نورین اپنے بھائی کے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھی یونیورسٹی آرہی تھی..عمیر آج موسم کتنا پیارا ہے ناں..نورین اپنے بھائی سے بولی...ہاں پیارا تو ہورہا ہے .. کہی یونیورسٹی سے چھٹی کا ارادہ تو نہیں ہورہا... نہیں نہیں بھلا چھٹی کیوں کرونگی لگتا ہے تمھارا اردہ ہورہا ہے دفتر سے چھٹی کا... نہیں بھئی دفتر میں کام بہت ہے میں تو ویسے بھی چھٹی نہیں کرسکتا.....یونیورسٹی آچکی تھی نورین نے اسکوٹر سے اتر کر اسے خدا حافظ کہا اور یونیورسٹی میں جیسے ہی داخل ہوئی اچانک اس کی نظر ایک لڑکے پر گئ جو اچانک اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور بولا : جی میں اس یونیورسٹی میں نیو ایڈمیشن ہوں مجھے کلاس کا معلوم کرنا تھا... جی کس کلاس کا معلوم کرنا ہے اس نے کلاس کا بتایا تو وہ بولی ارے اتفاق سے میری بھی یہی کلاس ہے... اوہ گریٹ یہ تو اچھا ہوگیا پھر دونوں کلاس روم کی طرف چلدئے

*************************
اس کا نام سفیر تھا سفیر اس کو پہلی ہی نظر میں بھا گیا اس نے اس کا اظہار صاعقہ سے کیا تو وہ اچھل پڑی... ارے واہ تو آخر کارفائنلی میڈم کو بھی عشق کے بخار نے لپیٹ لیا لیکن دیکھو خیال رہے یہ بخار بڑا خطرناک ہوتا ہے جو سیدھا دل اور دماغ پر چڑھ جاتا ہے اور پھر اترتا بڑی مشکلوں سے ہے اور اس کا تو ابھی تک علاج بھی دریافت نہیں ہوا ہے...صاعقہ بولے جارہی تھی.. نورین اسے گھورتے ہوئے بولی...بس تمھاری بکواس ختم ہوگئی...کیوں اب آپ نے شروع کرنی ہے.. صاعقہ کی بچی اب تو میرے ہاتھوں سے پٹے گی..اور یہ جو تو بکواس کررہی ہے ایسا کچھ نہیں ہے بس ایسے ہی اچھا لگا تھا وہ.... میڈم بس یہی کافی ہے.. کہ بس اچھا لگا تھا پھر کچھ دنوں بعد بس یہی سب کچھ ہے...کیوں صحیع کہا ناں میں نے...صاعقہ کی بچی تو ایسے نہیں مانے گی ٹہر میں تجھے بتاتی ہوں ...یہ کہہ کر وہ اسے مارنے کے لئے اٹھی اور صاعقہ ہنستے ہوئے بھاگ کھڑی ہوئی

***********************
سنیں اگر آپ برا نہ مانے تو مجھے آپ کی ہیلپ چاہیئے ....سفیر نورین سے بولا ...جی مجھ سے ہیلپ؟ پر کیسی ہیلپ ؟ دراصل آپ کو تو معلوم ہے کہ میں نیا آیا ہوں مجھے کچھ نوٹس چاہیئے اگر ممکن ہو تو عنایت فرمادیں گی...جی ٹھیک ہے میں نوٹس ایک دو دن میں دے دونگی...جی بہت شکریہ ...
نورین نے نوٹس کیا دئیے یہی سے ان کی دوستی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔۔۔۔
ایک دن ان کی کلاس کے پروفیسر صاحب نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی کی طرف سے ایک پکنک کا پروگرام بنایا جارہا ہے جو اسٹوڈینٹ جانے کے خواہش مند ہوں وہ کل تک نام لکھوادیں ...یہ سن کر پوری کلاس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی..
*******************
امی ہماری یونیورسٹی پکنک کا پروگرام بنا رہی ہے آپ ابو سے اجازت دلوادیں ...نورین اپنی امی کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی...اچھا ٹھیک ہے شام کو تمھارے ابو آئینگے تو ان سے بات کرتی ہوں..لیکن بیٹا خیال رکھنا یوں لڑکیوں کا اس طرح باہر نکلنا بھی مناسب نہیں ہوتا....ارے امی زمانہ بدل گیا ہے..اب تو عورت مرد کے شانہ بشانہ چل رہی ہے دفتروں میں کالج و یونیورسٹی میں لڑکا لڑکی ساتھ ساتھ ہیں اب ایسی کوئی معیوب والی بات نہیں سمجھی جاتی ...ٹھیک ہے زمانہ ترقی کرگیا ہے لیکن بیٹا لڑکی کو اپنی حدیں معلوم ہونا چاہئیے اور کبھی بھی اسے پار 
کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئیے بس اتنا خیال ہر لڑکی کو ضرور رکھنا چاہئیے....جی امی آپ کی نصیحتیں تو میرے لئیے مشعل راہ ہے..آپ فکر نہ کرئیں مجھے اپنی حدیں اچھی طرح معلوم ہے ......چلیں میں آپ کو اچھی سی چائے پلاتی ہوں.....ارے ہاں چائے کی تو ویسے بھی مجھے طلب ہورہی تھی...نورین چائے بنانے کے لئیے کچن کی طرف چل دی.....
********************

پکنک پر جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی آہستہ آہستہ تمام طلبا اس میں بیٹھنے لگے تھوڑی دیر میں بس اپنی منزل کی طرف چل دی...بس میں ایک ہلہ گلہ مچا ہوا تھا کہ اچانک ایک لڑکے کی آواز گونجی...Hey girls and boys ہم چاہتے ہیں کہ یہ سفر انجوائے کرتے ہوئے گزرے تو گانا ہوجائے پھر کچھ دیر تک گانے کا سلسلہ چلتا رہا پھر اچانک وہ ہی لڑکا بولا..اب سفیر ہمیں ایک نظم سنائیں گے ..نورین نے فورا پیچھے مڑ کر دیکھا تو سفیر کو مسکراتے پایا یہ دیکھ کر صاعقہ نے نورین کو کہنی ماری ...سفیر نے نظم پڑھنا شروع کی...
کاش میں تیرا موبائیل سام سنگ ہوتا
شام و سحر اسی بہانے تیرے سنگ ہوتا....
واہ واہ... پوری بس واہ واہ سے گونج اٹھی.
کاش میں تیرا موبائیل سام سنگ ہوتا
شام و سحر اسی بہانے تیرے سنگ ہوتا
سجا سنوار کے رکھتی بڑی چاہت سے مجھ کو
ہر روز مجھ میں ایک نیا رنگ ہوتا
نازک انگلی کے پوروں سے جب چھوتی مجھ کو
اپنی قسمت پر میں تو بس دنگ ہوتا
لگاتی مجھ کو سماعت سے بات کرنے کے لئیے
میرے انگ انگ میں اک جلترنگ ہوتا
سکھا دیا تو نے اپنا کر سلیقہ جینے کا
تو نہ اپناتی تو پھر میں بے ڈھنگ ہوتا
واہ واہ تمام لڑکے سفیر کی نظم کو داد دینے لگے جب کہ لڑکیاں مسکرا کر رہ گئی ..صاعقہ نے نورین کے کان میں کہا... لو موصوف تو عشق میں شاعر ہوگئے ہیں اور اپنے شعروں کہ ذریعے کیا خوبصورت خراج تحسین پیش کیا ہے آپ کو....یہ سن کر نورین شرما کر رہ گئی....یونہی ہلے گلے میں سفر خوب کٹا اور پھر ان کی پکنک کا پوائینٹ آگیا۔۔وہ جگہہ سی سائیڈ تھی لائین سے ہٹ بنے ہوئے تھے ایک ہٹ ان کا بھی بک تھا وہاں سب نے اپنے اپنے سامان رکھے اور پھر لڑکیوں نے الگ اور لڑکوں نے الگ ٹولیاں بنا کر انجوائے منٹ شروع کردی...نورین اور صاعقہ ننگے پاوں ساحل پر سیر قدمی کرتے ہوئے خوش گپیوں میں مگن تھی..اچانک اس کے موبائیل پر میسیج آیا اس نے دیکھا تو میسیج سفیر کا تھا.......لکھا تھا ...اب اپنی سہیلی کا پیچھا چھو ڑ کر کچھ ٹائم ہمیں بھی دے دیں میں پاس ہی وائیٹ رنگ والے ہٹ کے پاس ہوں....کس کا میسیج ہے؟ صاعقہ نے پوچھا.....سفیر کا ہے....او تو اچھا موصوف نے بلایا ہوگا جائیں مل لیں میں کباب میں ہڈی نہیں بنتی ہوں......ارے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے....نہیں ایسی ہی بات ہے جاو مل لو ورنہ بیچارا سمندر میں کود کر کہی جان ہی نہ دے دے....صاعقہ تم بھی نہ....اچھا میں ابھی آتی ہوں... یہ کہہ کر وہ وائٹ ہٹ کی طرف چلدی جہاں سفیر اس کا انتظار کر رہا تھا.....شکر ہے آگئ ورنہ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ پکنک پر آنے کا مطلب ہی فوت ہوگیا ہے....اچھا ایسی بات ہے....وہ بولی.....جی... سفیر اس سے باتیں کرتے ہوئے ہٹ میں داخل ہوگیا.....اسی دوران ایک شخص بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے ہٹ میں داخل ہوا....ارے یہ کس کا ہٹ ہے اور ہم یہاں کیوں آگئے چلیں یہاں ہمیں کوئی دیکھ لے گا تو خواہ مخواہ باتیں کرئے گا..نورین بولی...ارے پریشان نہ ہو یہ ہٹ میرے ایک دوست کا ہے بس یہاں بیٹھ کر سکون سے بات کرتے ہیں پھر چلے جائیں گے فکر کیوں کرتی ہے...یہ کہہ کر اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا...ارے ہاتھ تو چھوڑیں کیا کررہے ہیں...کیوں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے....ڈر کی بات نہیں ہے پر یوں ہاتھ پکڑنا مناسب نہیں ہے ...اچانک نورین کو اپنی ماں کے الفاظ یاد آنے لگے.....دیکھو بیٹا جب تنہائی میں دو نامحرم ملتے ہیں تو تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے وہ شیطان جس نے حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو بہکا کر جنت سے نکلوادیا تھا تو ہماری کیا حیثیت اس لئے کسی نامحرم سے تنہائ میں نہ ملنا........اس نے فورا ہاتھ چھڑایا اور جانے لگی کہ اچانک سفیر نے اس کا راستہ روکا اور بولا..ایسے کیسے چلی جاوگی اتنی مشکلوں سے تو مچھلی جال میں آئی ہے یوں ہی چھوڑ دو.. یہ کہہ کر اس نے اس کو اپنی طرف کھینچھا اس سے پہلے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی زبردستی کرتا اچانک ایک مکا سفیر کے منھ ہر پڑا..سفیر نے غصے سے پلٹ کر دیھا تو وہاں کالی کھڑا تھا جو پیچھا کرتے ہوئے ان کے پیچھے آیا تھا۔کالی کو دیکھ کر نورین ہکا بکا رہ گئی ..کالی چیخاخبردار جو تم نے ایک قدم آگے بڑھایا اور نورین پر بری نظر ڈالی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا چلیں آپ ...اس نے نورین سے کہا..پھر دونوں باہر آگئے...دیکھیں نورین یہ جو بھی سب کچھ ہوا ہے اس کا تذکرہ کسی سے مت کیجئے گا جو ہوا بھول جائیں کیونکہ آپ نے کسی سے کچھ کہا تو بدنامی آپ ہی کی ہوگی جو مجھے کسی طور گورارہ نہیں ...نورین اس سے کافی شرمندہ نظر آرہی تھی اور سوچنے لگی کہ جس کو ہمیشہ سے دھتکارا آج اسی نے اس کی عزت بچا لی انسان کا رنگ روپ کوئی معنی نہیں رکھتا بس انسان کا دل خوبصورت ہونا چائیے.......
***************
نورین نے آخر کالی سے شادی کا فیصلہ کرلیا اور پھر دونوں کی شادی ہوگئی .........
ان دونوں کی زندگی اسی طرح ہنسی خوشی سے گزرنے لگی اور چھ مہینے پلک جھپکتے گزر گئے پھر ایک روز وہ ہوا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا.....
نورین اور کالی دونوں کمرے میں بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اچانک کالی کا موبائیل فون بجا اس نے نمبر دیکھا پریشانی اس کے چہرے پر نمودار ہوئی..اس نے نورین سے کہا ذرا ایک گلاس پانی لانا..نورین فورا اٹھ کر پانی لینے چلی گئی...کالی نے فون رسیو کیا...ہیلو سفیر کہاں غائب ہوگئے ہو ؟ تم تو فورا ہی یونیورسٹی چھوڑ کر چلےگئے تھے ویسے تم نے میرے ساتھ دوستی خوب نبھائی..جب میں نے دیکھا کہ تم نورین میں کوئی دلچپسی نہیں رکھتے تو میں نے تمھارے ساتھ پلان بنایا پکنک ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوا پلان کے مطابق تم نے اسے بلایا اور میں بھی پیچھے چلا آیا پھر تم نے اس کے ساتھ زبردستی کی اور میں فلمی ہیرو کی طرح موقعہ پر پہنچ کر اس کی عزت بچا کر اس کے دل می جگہہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوا..بڑا نخرہ تھا کیسے قابو میں آئی....اچھا اب بعد میں بات کرتے ہیں وہ پانی لینے گئی ہے آجائے گی....یہ کہہ کر اس نے موبائیل بند کردیا.....نورین جو دروازے کی اوٹھ میں پانی کاگلاس لئے کھڑی سب کچھ سن چکی تھی ...یہ سن کر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے گرا..اور شیشے کے گلاس کی طرح اس کا دل بھی کرچی کرچی ہوچکا تھا.

ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﮨﯽ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ۔ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ﺣﺎﺗﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﺒﺎﻟﻐﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺿﺮﺏ ﺍﻟﻤﺜﻞ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﮨﮯ،ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻭﺯﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻄﯿﺎﺕ ﻭﺳﺨﺎﻭﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﮭﯿﻼﺅ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ” ﻃﮯ “ ﻧﺎﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ۔
ﺍِﺳﯽ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﺣﺎﺗﻢ ﻃﺎﺋﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻭﮦ ﯾﻤﻦ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ۔ﯾﻤﻦ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻋﺮﺏ ﺳﮯ ﺟﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ﻋﺮﺏ ﭘﺮ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻧﻮﻓﻞ ﻧﺎﻣﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺗﮭﯽ۔ﻭﮦ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺾ ﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍُﺱ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍُﺳﮑﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﻣﺤﺾ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﺮ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺍ۔ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺣﺎﺗﻢ ﻃﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺫﺍﺗﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻭﮦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ،ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍُﺳﮑﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﺍُﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ۔ﺟﺐ ﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ﺍﯾﮏ ﻣﻼﺯﻡ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ” ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺁﺝ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺎﺯﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺕ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻟﻦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﮨﯽ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮑﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺍ،ﺣﺎﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﺮ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯼ ﺗﮭﯽ۔ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ۔ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺍُﺳﮑﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﻮﺍﺯﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺷﮩﺮﺕ ﺳﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﺮﺩﮮ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮨﻮﺍ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻌﺰﺯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﯾﺪﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﺸﯿﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺫﺑﺢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎ ﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺣﺎﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﺳﺨﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﻧﺮﻡ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻼﻝ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﺮﻡ ﺩﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﮔُﻦ ﮔﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻼﮔﯿﺎ۔
ﺍﺩﮬﺮ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻧﻮﻓﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﻮﮒ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮨﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍُﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﮮ،ﺍﺳﮑﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﯿﮏ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ ،ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﺕ ﺟﺐ ﺁﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺁﺋﯿﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﺍﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﻮﻓﻞ ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺳﻮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ﻭﮦ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺑﮕﺎﮦ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮯ ﺣﺎﺗﻢ ﮔﮩﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺧﻨﺠﺮ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﻭﺍﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻋﯿﻦ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﺎﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺮﮔﯿﺎ۔ﺣﺎﺗﻢ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﮐﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ﮐﯿﺎ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﻮﺍﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ؟
ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻧﮯ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍََ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﮮ۔ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻼﺯﻡ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ “ ۔ﺳﭙﺎﮨﯽ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﭘﮑﮍ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﺣﺎﺗﻢ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﮟ،ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ۔ﺣﺎﺗﻢ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍُﺳﮯ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺋﮯ..

ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﮑﺎﭨﺮﺳﭧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ , ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﮧ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﻟﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ , ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﯾﺎ , ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ .. ؟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺯﺭﺍ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ .. ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺌﮯ ﭼﺖ ﻟﯿﭩﺎ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﮭﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺳﺐ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺷﯿﻦ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﭽﺮﺍﺭ ﺗﮭﯽ , ﺑﭽﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ , ﺍﻣﺎﮞ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ , ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﮯ ﭨﺮﯾﭩﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ , ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﻭﺭﮎ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ , ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ , ﺍﻥ ﮨﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻧﻮﺷﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ... ﺳﻨﺌﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺎﺻﯽ ﮈﺳﭩﺮﺑﻨﺲ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ , ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎ ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻨﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ , ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺑﻮ ﮐﯽ ﮈﯾﺘﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺎﻝ ﭘﻮﺱ ﮐﺮ ﺑﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺟﺰﺑﺎﺗﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺴﯿﻮﮞ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮨﯿﮟ , ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮯ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺍﻭﻟﮉ ﮨﻮﻡ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺠﻤﮧ , ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﻭﻟﮉ ﮨﻮﻡ ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺁﺋﯿﮟ ,,, ﺍﭼﮭﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﻮﺍﺱ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺩﻭ ,, ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﯿﻨﮏ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻣﺎﻍ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﮨﯽ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﻟﯿﮑﺮ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﻮﺵ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﺗﮭﺎ , ﮔﺎﮌﯼ ﭘﺎﺭﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺷﮑﻮﮦ ﺑﻨﮕﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺯ ﭘﮧ ﺑﻨﯽ ﺍﺱ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ , ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﯿﺎ , ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮔﮭﻮﻡ ﭘﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮨﯽ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻨﺖ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ , ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﻣﺎﺣﻮﻝ , ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻻﻥ , ﭘﺮﺷﮑﻮﮦ ﮈﺳﭙﻨﺴﺮﯼ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻃﻌﯿﻨﺎﺕ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ , ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭ ﺍﯾﻨﻤﺒﻮﻟﯿﻨﺴﺰ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ , ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺳﮯ ﻓﯿﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﭼﻮﺩﮦ ﻃﺒﻖ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ , ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻟﮕﮯ , ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ , ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮭﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ , ﺍﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼُﭗ .. ﺳﻤﺠﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﮞ ﯾﮧ ﻣﺸﮑﻞ ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ ,, ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ! ﺟﯽ ﺑﺲ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ , ﮐﯿﺴﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮨﮯ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ , ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ , ﺑﺲ ﯾﮧ ﮐﻤﺒﺨﺖ ﻣﺎﺭﺍ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ , ﺍﻣﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﺳﮯ ۔۔ ﺑﻮﻟﻮ ﺑﯿﭩﺎ !!! ﺍﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﮑﻼﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ , ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ , ﻭﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﮨﯿﮟ , ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﮨﮯ , ﻭﮨﺎﮞ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ , ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﮨﮯ , ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺭﻗﺼﺎﮞ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺗﮭﻢ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ , ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺑﻞ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﮟ , ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﮈﺳﭩﺮﺏ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ , ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ , ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻌﻞ ﺧﻮﺵ ﻭﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ , ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﺗﮭﺎ ﭼﻮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺿﻤﯿﺮ ﺍﺱ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ , ﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ , ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺗﺎ , ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﮑﺮ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﺲ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ , ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ , ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻧﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺎ , ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻭﮦ ﻣﻨﺤﻮﺱ ﺩﻥ ﺁ ﮔﯿﺎ .. ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ , ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ , ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﻠﻒ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭨﮭﺎﺭﮦ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ , ٍﮈﯾﮉ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ , ﺍﭼﮭﺎ .... ؟ ﻭﺍﮦ ﺷﺎﺑﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﮈﯾﮉ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺍﯾﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، ﺍﭼﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﻮ ! ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ .... ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .... ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮﮔﯿﺎ , ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﭩﯿﺮﻧﮓ ﭘﮧ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺟﻢ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ , ﺁﺝ ﺳﻨﮉﮮ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮔﺮﯾﻨﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﻧﮓ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ .............. ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻤﻠﮯ ﭘﮧ ﮨﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ , ﺍﺳﮑﮯ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﭼﮭﭙﺎ ﺗﮭﺎ , ﻣﯿﺮﯼ ﻭﮦ ﻓﺼﻞ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﭨﻨﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ , ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ... ........ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﺑﻞ ﺍﺑﻞ ﮐﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ , ﺍﯾﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﮈﺍﻧﭧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﺗﺎ ﮨﻮﺍ , ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ , ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺠﻠﯽ ﮔﺮﯼ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﻗﺒﻞ ﮨﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﺳﮯ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ .. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺗﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﭼﮍﭼﮍﺍ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ , ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ , ﺑﻼﻭﺟﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭩﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ , ﺍﮐﺜﺮ ﭼﮭﭩﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻥ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ , ﻧﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮨﯽ ﻧﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ , ﺑﮯ ﺁﺭﺍﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﺎﮔﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻓﯿﺾ ... ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﺭﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﺎ ﺁﺋﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ , ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ , ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ... ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﺍﺳﮑﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﻭ , ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪﮪ ﮔﺌﯿﮟ , ﺍﻭﺭ ﮔﻠﻮﮔﯿﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ , ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻡ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﺍﺭﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺟﺎ ﮐﮩﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ۔ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ! ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ........ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺭﺍﮨﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ


بابا جی! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً سو احباب ہونگے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا،
بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
"کتنے پیسے دے سکتے ہو"
مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،
مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی،
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے،
بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے،
وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو، کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا،
میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔
وہ کون ہے آپکی ؟؟
میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے،
وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں، جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا، پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے۔
تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا۔
"اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں، صرف بھوک ہے بھوک"
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا، یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے، میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے۔
بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی؟
اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا، اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے،
اے کاش، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں

جوہرچوک سے رکشہ پر کلفٹن جانے کا اتفاق ہوا،
رکشہ والے نے گاڑی کے شیشہ پر "یہ سب میری ماں کی دعا ہے
کا اسٹیکر آویزاں کررکھا تھا۔ دیکھ کر ہنسی آئی
پھر اس سے پوچھا کہ رکشہ چلانے کو اپنی والدہ کی دعا قرار دے رہے ہو
کیا یہ اتنی بڑی فضیلت ہے؟
رکشہ والا مسکرا کربتانے لگا کہ صاحب میرا تعلق مظفر گڑھ سے ہے
والدکا حادثے میں انتقال ہوگیا تو سگے تایا نے مکان جائیداد پر قبضہ کرکے
والدہ اور ہم چھے بہن بھائیوں کو گھر سےنکال دیا۔
ماں ہمیں اپنے بھائی کے پاس لے کر کرکراچی آگئی،
چند دن بعد بیگم کے کہنے پر ماموں نے بھی معذرت کرلی
تو ساتھ والے محلے میں بیٹھک کرائے پر لے کر والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا
اور رات گئے تک سلائی مشین پر محلے والوں کے کپڑے سینا شروع کردئے،
تعلیم کا تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اسی لئے چھوٹی عمر سے سبزی منڈی جانا شروع کردیا،
سبزی اور پھلوں کی لوڈنگ انلوڈنگ کرواتے اور ٹوکری پر پھل فروٹ بیچتے
نوجوان ہوئے، پھر کنڈیکٹری شروع کردی،
اس فیلڈ میں استادوں اور ڈرائیوروں کی مار کھاتے کھاتےجوان ہوئے
اور پھر کسی کا رکشہ چلانا شروع کیا، پیسے اکٹھے کئے،کمیٹی ڈالی،
پھر قسطوں پر اپنا رکشہ لیا، اس کی قسطیں ختم ہوئیں تو دو رکشے قسطوں پر لئے
اور بھائیوں کو بھی سبزی منڈی سے ہٹاکر ساتھ لگالیا۔ تینوں بھائی مل کر کماتے رہے
والدہ سے سلائی مشین چھڑوائی، چھوٹے بھائی کو پڑھاتے رہے
کہ جو ہم نہیں بن پائے ، اسے بنادیں،بھائی نے ایم بی اے کیا، اسے بینک میں نوکری مل گئی،
اس نے جس ماہ بینک سے گاڑی لیز کروائی
اسی ماہ اپنی کولیگ سے شادی کی اور ہمیں چھوڑ کر چلا گیا
اب کبھی کبھار آتا ہے۔ ہم تین بھائی رکشہ چلاتے ہیں، دوبہنوں کی شادیاں کردی ہیں۔
میرے تین رکشے مزید ہیں، جو کرائے پر دے رکھے ہیں،
سرجانی ٹاون میں گزشتہ برس اپنا چھوٹا سا گھر بنایا ہے،
والدہ نے اپنی پسند سے میری شادی کردی ہے۔ ہم سب اکٹھے رہتے ہیں،
اب ہم تینوں بھائیوں نے ایک پلاٹ تاڑرکھا ہے،
اسے خرید کر اس پر ایک اورگھر بناکر
اگلے دوسالوں تک دوسرے بھائی کی شادی کرنے کا سوچ رکھا ہے۔
چونکہ والدہ ساتھ رہتی ہیں اور ان کی دعائیں ساتھ ہیں تو امید ہے کہ
اگلے دوسال میں چھوٹے بھائی کا گھر اور اسکی شادی دونوں ہوجائینگی۔
یہ سب ماں کی دعا نہ سمجھوں تو کیا ہے۔
باقی کا سفر خاموشی میں کٹا اور میں سوچتا رہا کہ
مجھے اپنی والدہ کی دعا کے باعث جتنا زیادہ اللہ پاک نے بنا محنت کے دے دیا،
اس سے کہیں کم کسی کو ان تھک محنت کے بعد حاصل ہوا۔
اپنے ناشکرے پن پر ہزاربار توبہ استغفار کی-
بے شک ماں کی دعا اور موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے۔ مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں۔ میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے۔

یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے ، اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا۔ مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا ! میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا۔ میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کردیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے۔ یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئیں تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ ‘بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، الله انہیں کیسے رزق دیتا ہے’ میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو الله کی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ ندامت سے میرا سر جھک گیا۔ انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں۔ جیسے جمشید بدل کر ‘جم’ بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ‘ ٹم ‘ رہ جاتا ہے وغیرہ ۔۔ ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھا کہ سب گورے میرے ایک دوست محمد کو ‘مو’ کہہ کر بلا رہے ہیں۔ مجھے شدید تکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کرڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہو جائے؟ ۔۔ اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں۔ واپس گھر آگیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا۔

میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل کر ‘مو’ کر دیا ، ایسا نہ کرو ! ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ‘عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام ‘مو’ لکھوا دیا تاکہ یہ ‘مو’ کو گالی دیں ، ‘محمد’ﷺ کو نہیں 

یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا۔ وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسولﷺ کا اعلی نمونہ تھی۔ میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ(سورہ الحجرات ١٢) ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو۔

This just in – cheese could be the secret to living a long, healthy life. You’ll want to stop whatever it is you’re doing to hear us out here.

I’ve never met cheese I didn’t like, whether it’s on my burger, my salad, or just a little block straight from the fridge or deli.

New research, straight from Nature Medicine, an academic research journal, suggests that eating cheese may actually help you live longer. You heard it straight from the horse’s mouth folks – cheese may be the secret to immortality. That delicious parmesan on your pasta, the mozzarella in your fried cheese stick, the cheddar on your turkey sandwich – all of them could lead to you living a longer, healthier life.

The study shows that consuming spermidine, a compound found in aged cheese, can help you to live longer. Originally tested on rats and mice, spermidine was found to increase their average lifespan.

Then, they surveyed 800 Italians about their diets (which is full of delicious, delicious cheese), and discovered that those who have a higher intake of the compound were found to have lower blood pressure and lower risks of heart failure – by about 40%, so that’s pretty stellar. They also found that those who consume higher intakes of cheese have reduced risk of developing other cardiovascular diseases. Basically, eating cheese, according to the study, reduces the risk of high blood pressure or heart failure, both of which are leading causes of death in men and women.

One thing to remember, however, before you feast on an epic cheese board, is that cheese does tend to be high in fat. This would actually cancel out the spermidine, which can also be found in healthier foods.

Other foods that contain high levels of spermidine include: peas, corn, whole grains, and soybeans, all of which are not cheese, but are probably significantly healthier. (Just don’t go putting peas and soybeans on your pizza, we’re not barbarians).

سوڈان میں عدالت نے ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر ریپ کرنے والے اپنے ہی شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔

اومدرمن میں جج نے نورا حسین کے شوہر کے رشتہ داروں کی جانب سے مالی حرجانہ قبول کرنے سے انکار کے بعد سزائے موت کی تصدیق کی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نورا حسین جن کی عمر اب 19 برس ہے کی 16 سال کی عمر میں زبردستی شادی کرائی گئی تھی، جس کے بعد انھوں نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ نورا حسین اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتی تھیں اور استانی بننا چاہتی تھیں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کی توجہ اس مقدمے پر مرکوز ہے اور ٹوئٹر پر #JusticeforNoura کے نام سے ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

نورا حسین نے وہاں سے فرار ہونے کے بعد اپنی آنٹی کے گھر پناہ لی لیکن تین سال بعد ان کے بقول انھیں اپنے گھر لے جانے کے بہانے سے ان ہی کے خاندان والوں نے شوہر کے حوالے کر دیا گیا۔

ان کے مطابق چھ روز بعد ان کے شوہر نے اپنے چند کزنوں کو بلایا جنھوں نے مبینہ طور پر انھیں پکڑا اور ان کے شوہر نے انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جب ان کے شوہر نے مبینہ طور پر دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کی تو نورا حسین نے چھری کے ساتھ ان پر حملہ کیا اور انھیں مار ڈالا۔

اس کے بعد وہ وہاں سے فرار ہو کر اپنے والدین کے پاس چلی گئیں جنھوں نے انھیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

شریعہ عدالت نے گذشتہ ماہ نورا حسین کو جان بوجھ کر اپنے شوہر کو قتل کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا اور جمعرات کو انھیں باقاعدہ طور پر پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کے وکیل کے پاس اپیل کرنے کے لیے 15 دن کا وقت ہے۔

  • 1

لڑکی کافی دیر سے اصرار کر رہی تھی ۔۔وہ چاھتی تھی کہ مجھ سے محبت کرنے والا لڑکا مجھے بتاۓ کہ وہ کیوں مجھے پسند کرتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 لڑکا بار بار یہی کہتا "" ڈارلنگ مجھے تم سے محبت ھے۔۔۔۔۔ اور بس ھے ۔۔۔۔ اسکی کیا وجہ ھے۔۔ میں بتانا بھی چاھوں تو نہیں بتا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 کیونکہ خود مجھے بھی یہ معلوم نہیں ھے۔۔۔

میں تم سے محبت کرتا ھوں۔کیوں کرتا ھوں ۔مجھے کچھ پتا نہیں۔۔یوں سمجھو میں تمھارے جسم سے نہیں بلکہ تمھاری روح سے محبت کرتا ھوں۔۔۔۔

لڑکی کا اصرار مگر بڑھتا ھی گیا۔۔۔۔۔وہ کہتی " دیکھو ۔۔۔ میری سہیلی کا محبوب میری سہیلی سے بہت محبت کرتا ھے ۔ اور اسکو بتاتا ھے کہ وہ کیوں اس سے محبت کرتا ھے ۔تم مجھے کیوں نہیں بتا سکتے۔میں تمھارے منہ سے وجہ سننا چاھتی ھوں

لڑکے کا ھر بار وہی جواب ھوتا۔"" جانو میں بغیر کسی وجہ کے تم سے محبت کرتا ھوں۔ کیا ضروری ھے کہ محبت کسی غرض سے۔۔۔کسی وجہ سے ھی کی جاۓ۔۔۔۔۔کیا بے لوث محبت نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔ کیا محبت میں وجوھات کا جاننا ضروری ھے۔۔ ۔۔۔ کیا محبت جسم کی محتاج ھے۔۔

لڑکی اسکی ان فلسفیانہ باتوں پر الجھ سی جاتی۔۔۔ اس کا دل یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ کوئ مرد کسی عورت کے ساتھ اس طرح کی محبت بھی کر سکتا ھے۔۔۔جسکی وجہ عورت کا جسم نہیں بلکہ روح ھو۔۔۔۔۔۔۔وہ تو بس یہ سمجھتی تھی کہ مرد عورت کی خوبصورتی کو دیکھ کر محبت کرنے لگتا ھے۔۔۔۔ وہ عورت کی اداؤں پر دل ھار بیھٹتا ھے۔۔۔۔۔وہ عورت کے جسمانی نشیب و فراز دیکھ کر گھائل ھو جاتا ھے۔۔۔یہ پہلا مرد تھا جو ان سب چیزوں کو چھوڑ کر صرف روح سے محبت کر بیٹھا ھے۔

لڑکا کہتا ۔۔۔""" ھاں میں تمھارے جسم سے نہیں تمھاری روح سے محبت کرتا ھوں۔۔اور تمھیں میرا یقین کرنا ھی پڑے گا۔۔ البتہ اگر تم کہو تو میں اپنی محبت کو ثابت کر سکتا ھوں۔
""" نہیں مجھے ثبوت نہیں چاھیے۔۔۔مجھے وجہ معلوم کرنا ھے۔۔۔آخر تم نے میرے اندر ایسی کیا چیز دیکھ لی ھے۔۔۔۔۔ جو اسطرح مجھ سے محبت کرنے لگے ھو۔۔"""" لڑکی ضد کرتی

آخر لڑکے نے ھار مان لی ۔وہ تھکے ھوۓ لہجے میں بتانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔"سنو۔۔۔۔۔ جب تم ہنستی ھو ۔۔۔ تو ایسا محسوس ھوتا ھے ۔۔۔۔جیسے باغوں میں کوئل بول رہی ھے ۔۔۔ میں اس وجہ سے تمہیں پسند کرتا ھوں۔۔۔۔۔۔۔میں تمھاری خوبصورت آنکھوں کی وجہ سے تمہیں محبت کرتا ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔تم ایک خیال رکھنے والی لڑکی ھو۔۔۔۔۔۔میں اس لیۓ تمیں محبت کرتا ھوں۔۔۔۔۔۔تمھاری آواز بہت سریلی ھے۔۔۔۔تمھاری سوچ بہت اچھی ھے ۔۔۔۔ میں اس وجہ سے تم سے محبت کرتا ھوں۔۔۔تمھارے گلاب جیسے گال۔۔۔تمھارا کتابی چہرہ۔۔۔۔۔۔۔تمھارا سرو قد سراپا۔۔۔۔۔۔تمھارے سیاہ بال جس سے رات بھی شرماتی ھے۔۔۔۔۔تمھاری ناک اور اس میں پڑی نتھلی نے مجھے پاگل کر دیا ھے۔۔۔تمھاریے چلنے کا انداز ۔۔۔۔ ہرنی بھی جس سے شرما جاۓ۔۔۔۔۔تمھارے مرمریں پیر۔۔۔۔۔۔تمھاری مخروطی انگلیاں۔۔۔۔۔۔تمھاری۔۔۔۔۔تمھاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکا بولتا رہا اور لڑکی سر شاری کے عالم میں سنتی رہی۔۔۔۔

اب لڑکی خوش ھوگئ۔۔۔۔وہ اب مطمئن نظر آنے لگی ۔۔۔۔۔ کیونکہ اس کے محبوب نے اسے محبت کرنے کی وجہ بتا دی تھی ۔ ۔۔۔۔۔

پھر چند دن بعد ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ۔کسی گاڑی والے نے لڑکی کو ایسی چوٹ پہنچا دی کہ لڑکی بے ھوش ھو گئ۔۔۔ اب وہ ھسپتال کے ایک بستر پر بے حس و حرکت پڑی ھوئ تھی ۔۔۔ڈاکٹر اس کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔۔گاڑی کی ٹکر سے لڑکی کے دل کو ایسی چوٹ لگی کہ اب وہ بہت آہستہ دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ڈاکٹر مایوس تھے ۔۔کیونکہ لڑکی کا دل کام کرنا چھوڑ رہا تھا۔۔
پھر اس کا محبوب لڑکا اس کے پاس پہنچا۔۔لیکن لڑکی اسکی طرف۔۔۔ نہ دیکھ سکتی تھی۔۔۔ ۔نہ اسکی بات سن سکتی تھی۔۔۔۔وہ اسکی آمد سے بےخبر پڑی تھی ۔
لڑکا سُن ھو کر رہ گیا۔۔ڈاکٹر نے بتایا کہ لڑکی کی زندگی بچانے کا ایک ھی راستہ رہ گیا ھے۔۔۔۔۔ اور وہ یہ ھے لڑکی کو کسی دوسرے کا دل لگا دیا جاۓ۔۔
 لڑکا کچھ سوچنے لگا۔۔ ۔اس کے دل میں ہلچل مچی ھوئ تھی ۔اسکی محبوبہ اب زندہ لاش کی طرح اس کے سامنے پڑی تھی۔۔۔۔۔ اس نے ایک کاغذ لیا اور کچھ لکھ کر لڑکی کے سرھانے رکھ دیا۔اور چلا گیا۔ ۔۔۔۔کاغذ پہ لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
" میری پیاری محبوبہ ۔
۔۔میں نے تمھاری سریلی آواز کی وجہ سے تم سے محبت کی۔۔۔۔۔۔۔اب تم بول نہیں سکتی۔۔۔۔ ۔اس لیۓ میں بھی اب تم سے محبت نہیں کر سکتا۔۔۔
مجھے تمھاری مسکراہٹ اچھی لگتی تھی۔۔۔۔ ۔مگر اب تم مسکرانے کے قابل نہیں ھو۔۔۔۔۔ اس لیۓ اب میں بھی تم سے مزید محبت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔تم میرا بڑا خیال رکھتی تھیں ۔۔۔۔۔۔لیکن اب تو تم اپنا خیال رکھنے کے قابل بھی نہیں رہی۔۔۔۔۔۔لہذاہ اب میرے پاس کوئ وجہ نہیں رہی کہ میں تم سے محبت کر سکوں۔۔وہ ساری وجوھات ختم ھوگیئں۔ جن کو تم محبت کے لیۓ ضروری سمجھتی تھی۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔۔ کہ میں تم سے محبت بغیر کسی وجہ کے کرتا ھوں۔۔۔میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔ کہ میں تمھاری روح سے محبت کرتا ھوں۔۔۔۔۔۔۔تمھاری ھنسی ختم ھو گئ ھے۔۔۔۔۔۔تمھاری آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی ھے۔۔۔۔تمھاری گالوں کی سرخی مدھم ھو چکی ھے۔۔تمھارا سراپا زرد پتے کی طرح سوکھ چکا ھے۔۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری روح اب بھی موجود ھے۔۔۔تم اب بھی وہی ھو۔۔۔۔۔۔۔۔میرے لیۓ پہلے بھی تمھارے جسم کی کوئ اہمیت نہ تھی ۔۔۔۔اور اب بھی نہیں ھے۔۔۔۔۔

لھذا میری محبت اب بھی قائم ھے۔
میں نے کہا تھا کہ میں اپنی محبت ثابت کر سکتا ھوں۔۔۔۔۔۔مجھے امید ھے کہ جب تم یہ خط پڑھ رہی ھو گی ۔۔۔۔۔۔
 تو تمھیں میری محبت کا ثبوت مل چکا ھوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں میری محبت کا یقین آگیا ھو گا۔۔۔۔۔۔
فقط تمھارا محبوب۔۔۔۔۔
چند دن بعد جب لڑکی یہ خط پڑھ رہی تھی تو آنسو اسکی آنکھوں سے لڑئیوں کی طرح جاری تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ والے بیڈ پر سفید کفن میں لپٹا لڑکے کا مردہ جسم پڑا تھا۔۔۔۔۔۔اپنا دل دے کر اس نے اپنی محبت کا ثبوت دے دیا تھا

  • 1

والد صاحب جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں دکان کیا کرتے تھے. تھوڑی سی آمدنی تھی۔ بہت پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن سیانے تھے اور بیٹیوں کی تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ساری بیٹیوں کو خوب پڑھایا۔ ایک بیٹی ڈاکٹر بن گئی۔ وہ سارے گھر کا فخر تھی۔ گھر میں چونکہ بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی تھی اس لیے بیٹیاں پر اعتماد تھیں اور اپنی حفاظت کر سکتی تھیں۔ ڈاکٹر بیٹی پانچ سال لاہور میں میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں رہی اور مزید تگڑی ہو گئی۔ اپنی ذمے داریوں اور حقوق کو سمجھتی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ کو محکمہ صحت پنجاب میں نوکری مل گئی اور پوسٹنگ بھی لاہور ہی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ہو گئی۔

ڈاکٹر بیٹی کی شادی ایک ڈاکٹر صاحب سے ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس کوئی خاص نوکری نہیں تھی۔ وہ اپنا کلینک کرتے تھے جس سے تھوڑی بہت آمدنی ہو جاتی تھی۔ البتہ ڈاکٹر صاحب کے والد صاحب بہت اچھی جاب پر تھے اور گھر میں ایک معقول انکم آتی تھی۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں گھر بھی اپنا تھا۔ گھر میں کام کاج کرنے کے لیے نوکر چاکر موجود تھے۔ مالی آسودگی بہت واضح طور پر نظر آتی تھی۔

شادی کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کی زندگی مزید اچھی ہو گئی۔ نوکری اور گھر دونوں ہی بہت اچھے چل رہے تھے۔ لیکن کوئی ایک آدھ سال اچھا گزرنے کے بعد آہستہ آہستہ ساس بہو میں چپقلش شروع ہو گئی۔ چپقلش میں ظاہر ہے کہ ہر فریق دوسرے فریق کو نیچا دکھانا چاہتا ہے۔ ساس نے اپنی ڈاکٹر بہو کو نیچا دکھانے کی بہت کوشش کی لیکن انہیں کچھ خاص کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔ بہو تگڑی تھی۔ والدین نے بااختیار بنایا تھا، پڑھی لکھی تھی، ملازمت اور اپنی ماہانہ آمدنی بھی۔ ساس کو اندازہ ہوا کہ بہو کی طاقت کا اصلی سورس تو نوکری ہے۔ اگر اس کی نوکری نہ رہی تو پھر میں اس کو اپنے قدموں پر جھکا سکتی ہوں۔ چنانچہ ساس نے مطالبہ کر دیا کہ بہو کو نوکری کی کوئی ضرورت نہیں۔ گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ کیا ضرورت ہے ایک نئی روایت ڈالنے کی۔ گھر پر رہے اور اپنے میاں اور گھر کا خیال رکھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کچن میں کام کرنے والی نوکرانی کو بھی نوکری سے نکال دیا۔

نوکرانی کو نوکری سے نکالنا تو جیسے کشتیاں جلانے کے برابر تھا۔ ساس نے کہا کہ نوکرانی بھی نہیں اس لیے اب تو کچن میں کام کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ اور کچن چونکہ فل ٹائم کام ہے اس لیے بہو کا نوکری چھوڑنا مزید ضروری ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر بہو نے بھی واضح کر دیا کہ نوکری کرنا میرا حق ہے اور میں اپنے اس حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گی۔ ساس نے آخری ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس گھر میں رہنا ہے تو نوکری چھوڑنا ہو گی۔

ڈاکٹر بہو نے پھر بھی دباؤ میں آ کر کوئی سمجھوتا نہ کیا۔ یہاں تک اسے گھر چھوڑ کر لاہور ہی کے ایک ورکنگ وومن ہاسٹل میں شفٹ ہونا پڑا لیکن وہ اپنے جاب کرنے کے حق سے دستبردار نہیں ہوئی۔ کوئی سال دو سال ہاسٹل میں رہنے کے بعد جب شوہر کے کلینک کی آمدنی بہتر ہو گئی تو “ڈاکٹر جوڑے” نے اپنے لیے ایک گھر لے لیا اور اچھی زندگی کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔

اس بات کو دو دہائیاں گزر گئی ہیں۔ میں اس فیملی کو قریب سے جانتا ہوں اور ان کے حالات سے آگاہ رہتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحبہ کو زندگی میں ایک دفعہ بھی نوکری کی بجائے گھر چھوڑنے پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ اگر وہ اس وقت ساس کے دباؤ میں آ کر نوکری چھوڑ دیتیں تو ہمشہ پچھتاتیں۔ کیونکہ نوکری چھوڑنے کے بعد جب گھر چھوڑنا پڑتا تو کہیں کی نہ رہتی۔

اس طرح کی کامیابی کی کہانیاں بہت کم ہوتی ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر کیسز میں سسرال کے مطالبے کو پورا کرنے کی خاطر بہت سی خواتیں اپنے جاب کرنے کے بنیادی حق سے دستبردار ہو جاتی ہیں اور نوکری چھوڑ دیتی ہیں کہ شاید ایسے گھر بس جائے۔ لیکن ایسا غیر انسانی سمجھوتا کرنے سے جاب اور آمدنی کا ذریعہ بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور گھر کے حالات بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ کیونکہ سسرال آپ سے نوکری اس لیے نہیں چھڑوا رہے ہوتے کہ انہیں آپ کی نوکری سے کوئی تکلیف ہوتی ہے۔ انہیں تو اصل میں آپ کی طاقت اور آزادی سے چڑ ہے۔ انہیں اس بات سے چڑ ہے کہ آپ اپنی آمدنی اور گھر سے باہر جا سکنے کی آزادی کی وجہ سے ان کے قابو میں نہیں ہو۔ اس لیے وہ آپ سے نوکری چھوڑنےکا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب آپ نوکری چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں آپ کی آمدنی ختم ہو جاتی ہے اور آپ کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ آپ کے دکھوں میں اصل اضافہ ہونا شروع ہوتا ہے۔ اب آپ ان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اب وہ آپ کو اپنے قابو میں لا چکے ہوتے ہیں اور آپ کے ساتھ غلاموں والا سلوک کرتے ہیں۔

میرے پاس بہت سی مثالیں ایسی ہیں جب بہو نے سسرال کے دباؤ میں آ کر جاب چھوڑی اور پچھتائی۔ آپ یقین کریں آپ کی جاب چھڑانے کی کوئی مثبت وجہ نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی آپ سے پیار کرتا اور آپ کا خیال رکھتا ہے تو وہ آپ کو طاقت ور دیکھنا چاہے گا نہ کہ کمزور۔ اس لیے جونہی کوئی آپ سے یہ مطالبہ کرے کہ آپ نوکری چھوڑ دیں تو آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ آپ کے ساتھ بھلائی نہیں بلکہ دشمنی ہے۔ اگر آپ سے نوکری چھوڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا تو اپنے آس پاس کچھ ایسی خواتین سے ضرور مشورہ کر لیں جنہوں نے سسرال کے دباؤ میں آ کر نوکری چھوڑی تھی۔ وہ ساری کی ساری پچھتا رہی ہوں گی اس لیے وہ آپ کو ٹھیک مشورہ دے سکیں گی۔

تمام والدین کو بھی چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ لینے کی بجائے دینے والی ہوں۔ تاکہ وہ اپنا خیال رکھ سکیں، اپنے آپ کو تشدد سے بچا سکیں۔ ایک اچھی اور آزاد زندگی گذار سکیں۔ یہ سب انسانوں کا بنیادی حق ہے۔ اپنی بیٹی کو اس حق سے محروم نہ کریں

  • 1